وجود

... loading ...

وجود

اے آر وائی کے اینکر اقرارالحسن اسٹنگ آپریشن کے ڈرامے میں ڈرامائی طور پر گرفتار

هفته 30 اپریل 2016 اے آر وائی کے اینکر اقرارالحسن اسٹنگ آپریشن کے ڈرامے میں ڈرامائی طور پر گرفتار

iqrar

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اُس وقت عجیب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب اے آر وائی نیوز چینل کے اینکرپرسن اقرار الحسن اپنی ٹیم کے ہمراہ پستول لے کر اسمبلی کے اندر پہنچ گئے۔جس کے بعد اینکر اور اُس کی ٹیم کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس پورے واقعے کی دستیاب کسی بھی ویڈیو سے آشکار ہوتا ہے کہ سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران میں اے آر وائی نیوز چینل کے پروگرام “سرعام “کے میزبان اقرار الحسن اپنی ٹیم کے ایک شخص سے پستول برآمد کرکے اسمبلی اسٹاف کے حوالے کرتے ہیں، جسے اسپیکرآغا سراج درانی کے ڈیسک پر پہنچا دیا جاتا ہے، آغا سراج درانی نے پستول سے میگزین نکال کر دیکھا کہ اس میں گولیاں موجود ہیں، تاہم میگزین میں کوئی گولی موجود نہیں تھی۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے اسمبلی میں اتنی آسانی سے کسی شخص کے اسمبلی میں پستول کے ساتھ داخل ہونے پر سوال اُٹھایا ۔ اُنہوں نے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جبکہ اسمبلی کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا جاچکا ہے اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے بھی دھمکیاں دی گئی ہیں، اسمبلی سے پستول برآمد ہونا ایک المیہ ہے۔ جب اسمبلی ہی محفوظ نہیں تو باقی لوگ کس طرح محفوظ ہوں گے۔اسپیکر اسمبلی نے اپوزیشن اراکین کے تحفظات کا جواب دینے کے بجائے وزیر داخلہ سہیل انور سیال کو اس معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔

چنانچہ سہیل انور سیال نے کہا کہ تحقیقات سے پہلے اسمبلی میں اسلحہ لانے والے شخص اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کیا جائے گا۔اس پر خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ جب اسمبلی کی کوئی سیکیورٹی ہی نہیں ہے تو انھیں گرفتار کون کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کتنا بڑا مذاق ہے کہ ایک شخص اسلحہ لے کر تسلی سے اسمبلی میں بیٹھا ہوا ہے۔جب وہ یہ بات کررہے تھے تو اینکراور اُس کی ٹیم کو مضحکہ خیز انداز میں مسکراتا ہو ا دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ سرعام نامی پروگرام اور اُن کے میزبان چنگھاڑتے ہوئے موضوعات کے حوالے سے مشہور ہے۔ جس میں اکثر پروگرام کا میزبان اپنے پروگرام کے طریقہ کار کو اسٹنگ آپریشن کا تعارف دیتے ہیں ۔ جو بھیس بدل کر اداروں یا افراد کو بے نقاب کرنے کا ایک معروف صحافتی طریقہ کار ہے۔

بظاہر اینکر اقرارالحسن اور اُن کی ٹیم نے سندھ اسمبلی کے حفاظتی انتظامات کو بے نقاب کرنے کے لیے اپنی اس “حرکت” کو بھی صحافت کے مسلمہ اُسلوب یعنی “اسٹنگ آپریشن ” کا ہی نام دیا۔ جس کا مقصد اسمبلی کے حفاظتی انتظامات کے ناکافی ہونے کو بےنقاب کرناتھا۔ مگردرحقیقت صحافیوں کی عظیم اکثریت نے اسے اسٹنگ آپریشن تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ کے یو جے کے تینوں گروپوں نے اس حوالے سے کوئی بھی بیان جاری نہیں کیا۔ درحقیقت صحافی برادری یہ سمجھ رہی ہے کہ پروگرام کے اینکر اور اُن کی ٹیم نے دراصل سندھ اسمبلی کی انتظامیہ کے ساتھ صحافیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ اینکر اقرارالحسن نے اسٹنگ آپریشن کے تقاضے پورے نہیں کیے۔ جس میں مذکورہ شخص دراصل کسی مسئلے کو بے نقاب کرنے کے لیے اپنی شناخت چھپاتا ہے ۔ یہاں تو اقراالحسن نے اپنی شناخت چھپانے کے بجائے اپنی شہرت کا فائدہ اُٹھایا ہے۔ اُنہیں اسمبلی میں اس لیے داخل ہونے دیا گیا کہ انتظامہ اُنہیں اچھی طرح جانتی تھی اور عام طورپر معروف صحافیوں کو سندھ اسمبلی میں اُن کی شناخت پہلے سے موجود ہونے کے باعث داخل ہونے میں کسی رکاؤٹ کا سامنا نہیں ہوتا۔ یہی کچھ اقرار الحسن کے ساتھ بھی ہوا۔ اقرار الحسن کو پہلے سے جاننے کے باعث اسمبلی کے اندر داخل ہونے دیا گیا۔ اور اُن کے ساتھ اسمبلی میں داخل ہونے والے شخص کو جب انتظامیہ نے روکا تو خود اقرار رکاؤٹ بن گیے اور اُنہوں نے کہا کہ وہ اُن کے ساتھ ہے ۔ اس طرح اپنے ساتھ اقرار الحسن جس شخص کو لے کر داخل ہوئے اُن سے ہی اسلحہ بر آمد کروالیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک اسٹنگ آپریشن کے تقاضے کہاں پورے ہوئے؟ اقرار جنہیں لے کر اسمبلی کے اندر داخل ہوئے اُس کی ذمہ داری خود اُنہوں نے اُٹھائی ۔ اور اس میں بھیس بدل کر نہیں بلکہ اپنی شناخت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تلاشی کی زحمت سے بچا گیا۔ یہ وہ نکات ہیں جس پر صحافی برادری اقرارالحسن کے ساتھ کسی بھی قسم کی ہمدردی محسوس نہیں کررہی۔ اور اس اقدام کی دبے لفظوں میں مذمت کررہی ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ وجود - منگل 05 مئی 2026

یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت وجود - منگل 05 مئی 2026

بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان وجود - منگل 05 مئی 2026

سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

مضامین
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب وجود منگل 05 مئی 2026
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب

آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں! وجود منگل 05 مئی 2026
آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں!

سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر