وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جاپان، ایک تہائی خواتین کو جنسی ہراسگی کا سامنا

جمعه 04 مارچ 2016 جاپان، ایک تہائی خواتین کو جنسی ہراسگی کا سامنا

japan-public

جاپان میں ایک تہائی خواتین کو اپنے دفتر یا کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور دو تہائی ایسی ہیں جو خاموشی سے یہ ظلم برداشت کرتی ہیں۔

جاپان کی وزارت صحت، محنت و بہبود کی جانب سے جاری کردہ سروے کے نتائج ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وزیر اعظم شنزو ایبے نے خواتین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کی مشکلات سے دوچار معیشت کو سہارا دینے کے لیے آگے آئیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں جاپان کو اچھی تعلیم یافتہ لیکن بے روزگار خواتین کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی، جو عمر رسیدہ اور کم ہوتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ملک کو درپیش مسائل کا خاتمہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ لیکن اس تازہ سروے نے پہلے سے روزگار سے وابستہ جاپانی خواتین کو درپیش مسائل کو نمایاں کردیا ہے۔ اس سروے میں کل وقتی اور جز وقتی کام کرنے والی 25 سے 44 سال کی خواتین جوابات طلب کیے گئے اور 10 ہزار خواتین نے اس میں حصہ لیا۔ گزشتہ سال ستمبر و اکتوبر کے درمیان تین ہفتے میں کیے گئے اس سروے کے مطابق کل 30 فیصد خواتین نے کہا کہ انہیں کام کی جگہ پر ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کل وقتی خواتین ملازمین میں یہ شرح اور زیادہ بڑھ کر 35 فیصد ہو جاتی ہے۔

جنسی طور پر ہراساں کی جانے والی خواتین کی نصف سے زیادہ تعداد نے بتایا کہ مرد ساتھی ان کی شکل و صورت اور حلیہ، عمر اور جسمانی خدوخال کے بارے میں تبصرہ کر جاتے ہیں۔ 40 فیصد خواتین نے کہا کہ انہیں ان کو ناگوار انداز میں چھوا گیا۔

سروے نے یہ بھی بتایا کہ 38 فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں جنسی نوعیت کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

زیادہ سنجیدہ معاملات وہ ہیں جن میں خواتین ملازمین پر جنسی تعلقات کے لیے دباؤ ڈالا گیا یا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن سروے میں شامل 63 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اس استحصال پر خاموش رہیں۔ سروے میں بھی اس کی کوئی وجہ نہیں پوچھی گئی۔ 10 میں سے صرف ایک خاتون ایسی پائی گئیں جنہوں نے اس معاملے پر آواز اٹھائی لیکن ان کا کہنا تھا کہ بولنے پر انہیں نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔

گو کہ جاپان میں کم تنخواہ کے جز وقتی کاموں میں خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن 3600 بڑے اداروں میں خواتین ایگزیکٹو افسران کی تعداد بہت کم ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کے عالمی صنفی تفریق اشاریہ 2015ء کے مطابق جاپان 145 ممالک میں 101 ویں نمبر پر ہے، یعنی سرینام اور آذربائیجان جیسے ممالک سے بھی پیچھے۔


متعلقہ خبریں


جاپان میں ہوائی اڈوں کی بہتات بھی درد سر بن گئی صبا حیات - منگل 04 اکتوبر 2016

جاپان کے کوبے ایئر پورٹ کے افتتاح کو کم وبیش7 سال ہوگئے ہیں ۔اب اس ایئر پورٹ کی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ یہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی جہاز اتر یا پرواز کررہا ہوتا ہے ، جبکہ متعدد طیاروں کو پرواز کے لیے باقاعدہ قطار لگا کر انتظار کرنا پڑتا ہے ۔جاپان کی شہری ہوابازی کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 3 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے گئے کوبے ایئر پورٹ پر پہلے ہی ہفتے سے یہ عالم تھا کہ اس ایئر پورٹ پر پرواز کے لیے تیار طیاروں کو اجازت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ قطار میں کھڑا ہونا پڑ اتھا...

جاپان میں ہوائی اڈوں کی بہتات بھی درد سر بن گئی

امریکا کے مشہور اسکول کے اساتذہ "جنسی درندے" نکلے وجود - اتوار 04 ستمبر 2016

امریکا کا مشہور بورڈنگ اسکول سینٹ جارج ان درجنوں طلبہ کے لیے "جہنم" جیسا تھا جنہوں نے 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں یہاں تعلیم حاصل کی اور اساتذہ اور عملے کے دیگر اراکین کے بدترین برتاؤ اور جنسی استحصال کا شکار بنے۔ ایک آزاد تفتیش کار نے اس اسکینڈل کی تحقیقات کے بعد ایک رپورٹ جاری کی ہے جس نے گزشتہ روز سے تہلکہ مچا رکھا ہے۔ 1970ء کی دہائی میں یہاں تعلیم حاصل کرنے والی ہر پانچ میں سے ایک لڑکی کو ایتھلیٹک ٹرینر کی جانب سے جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا اور کئی دیگر لڑکیاں بھ...

امریکا کے مشہور اسکول کے اساتذہ

کینیڈین فوج میں جنسی حملوں میں 22 فیصد اضافہ وجود - جمعرات 01 ستمبر 2016

کینیڈا کی مسلح افواج میں جنسی حملوں کی شکایات میں رواں سال 22 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک "مثبت اشارہ" ہے کہ اب شکار بننے والی خواتین آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہ رپورٹ "آپریشن آنر" نامی منصوبے کے سلسلے کی دوسری رپورٹ ہے جو دراصل 2015ء میں ایک بیرونی تحقیق کے بعد مسئلے کے حل کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ مغرب میں افواج میں جنسی تشدد کے معاملات بہت عام ہیں اور امریکا نے مئی میں کہا تھا کہ اب بھی ایسے حملوں کی اطلاع حکام بالا کو نہیں دی جاتی۔ رپورٹ کے ...

کینیڈین فوج میں جنسی حملوں میں 22 فیصد اضافہ

لندن، زیر زمین ریل گاڑیوں میں جنسی حملوں میں 41 فیصد اضافہ وجود - جمعرات 18 اگست 2016

پولیس نے لندن کے زیر زمین سفری نظام کو استعمال کرنے والے خواتین کی جانب سے جنسی حملوں کی تعداد میں یکدم اضافہ دیکھا ہے اور کہا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 1961 پرتشدد اور جنسی جرائم ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے یہ تازہ ترین اعداد و شمار گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 41 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جب 1389 ایسے جرائم ریکارڈ کیے گئے تھے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس پرتشدد اور جنسی جرائم کی تمام اقسام سے نمٹنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ پو...

لندن، زیر زمین ریل گاڑیوں میں جنسی حملوں میں 41 فیصد اضافہ

اوباما ہیروشیما کا دورہ کریں گے، معافی نہیں مانگیں گے وجود - منگل 10 مئی 2016

براک اوباما رواں ماہ جاپان کے شہر ہیروشیما کا دورہ کرکے امریکا کے پہلے صدر بن جائیں گے، جن کے قدم دوسری جنگ عظیم میں امریکا کے ایٹم بم حملے میں تباہ ہونے والے شہر پر پڑیں گے لیکن یہ بات ابھی سے واضح کردی گئی ہے کہ اوباما تاریخ کی اس بدترین دہشت گردی پر معافی نہیں مانگیں گے۔ اوباما کو 2009ء میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے لیے خدمات پر نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔ اب وہ 27 مئی کو دنیا کے پہلے ایٹم بم حملے کا نشانہ بننے والے شہر ہیروشیما پہنچیں گے جہاں جاپانی وزیر اعظم شن...

اوباما ہیروشیما کا دورہ کریں گے، معافی نہیں مانگیں گے

جاپان میں انگلیوں کے نشانات بطور کرنسی استعمال ہوں گے وجود - هفته 09 اپریل 2016

رواں سال موسم گرما سے حکومت ایک ایسے سسٹم پر تجربات شروع کررہی ہے جس میں غیر ملکی سیاح اپنی شناخت کے ساتھ ساتھ صرف اپنی انگلیوں کے نشانات استعمال کرکے ہی خریداری بھی کر سکیں گے۔ حکومت جاپان کو امید ہے کہ غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس سسٹم کو استعمال کرکے جرائم سے محفوظ رہے گی اور انہیں نقد یا کریڈٹ کارڈ رکھنے کی ضرورت سے بھی چھٹکارا ملے گا۔ تجربات کا مقصد 2020ء کے ٹوکیو اولمپک کھیلوں تک اس نظام کو مکمل طور پر حقیقت بنانا ہے۔ تجربے کے لیے آنے والے سیاحوں کو ہو...

جاپان میں انگلیوں کے نشانات بطور کرنسی استعمال ہوں گے

حجاب پر فرانسیسی وزیر کا متنازع بیان وجود - جمعرات 31 مارچ 2016

فرانس کی وزیر برائے حقوق نسواں نے اسلامی حجاب لینے والی خواتین کو امریکا کے ان سیاہ فاموں سے تشبیہ دی ہے جو کبھی غلامی کے حق میں تھے۔ ان کے اس عجیب و غریب تقابل اور نسل پرستانہ جملے نے ایک نیا ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ لارنس روسینول نامی خاتون وزیر نے فرانس کے ایک ٹیلی وژن چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوران ایچ اینڈ ایم، مارکس اینڈ اسپینسر اور ڈولچ اینڈ گیبانا جیسے معروف اداروں پر تنقید کی کہ جنہوں نے مسلمان خواتین کے لیے حجاب سمیت دیگر مصنوعات پیش کی ہیں۔ انہوں نے اداروں کو "غ...

حجاب پر فرانسیسی وزیر کا متنازع بیان