وجود

... loading ...

وجود

جاپان میں ہوائی اڈوں کی بہتات بھی درد سر بن گئی

منگل 04 اکتوبر 2016 جاپان میں ہوائی اڈوں کی بہتات بھی درد سر بن گئی

kobe-airport

جاپان کے کوبے ایئر پورٹ کے افتتاح کو کم وبیش7 سال ہوگئے ہیں ۔اب اس ایئر پورٹ کی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ یہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی جہاز اتر یا پرواز کررہا ہوتا ہے ، جبکہ متعدد طیاروں کو پرواز کے لیے باقاعدہ قطار لگا کر انتظار کرنا پڑتا ہے ۔جاپان کی شہری ہوابازی کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 3 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے گئے کوبے ایئر پورٹ پر پہلے ہی ہفتے سے یہ عالم تھا کہ اس ایئر پورٹ پر پرواز کے لیے تیار طیاروں کو اجازت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ قطار میں کھڑا ہونا پڑ اتھااور یہی نہیں بلکہ ایئر پورٹ پر اترنے والی پروازوں کی بحفاظت لینڈنگ کو یقینی بنانے کی غرض سے پرواز کے لیے تیار طیاروں کو ایک دائرے کی شکل میں کھڑا کردیا گیا تھا تاکہ ہوائی اڈے پر طیارے کے اترنے کے لیے وافر جگہ مل سکے اور اترنے کے دوران اس طیارے کی ایئر پورٹ پر کھڑے ہوئے کسی طیارے سے ٹکر نہ ہوجائے ۔

جاپان میں کوبے کا نیا ایئر پورٹ صرف 25 میل کے فاصلے پر اپنی نوعیت کا تیسرا بڑا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے ۔جاپان کے شہر اوساکا میں آسمان پر نظر ڈالی جائے تو آسمان پر لاتعداد طیارے نظر آئیں گے جن میں کچھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوں گے اور کچھ ایئر پورٹ پر اترنے یعنی لینڈنگ کے لئے سگنل کے منتظر ہوں گے ۔جاپان میں ہوائی اڈوں اور ان ہوائی اڈوں پر اترنے اور پرواز کرنے والے طیاروں کی اس بہتات کی وجہ سے شہری ہوابازی کے عالمی ماہرین اب جاپان سے گزرنے سے احتراز کرنے کامشورہ دیتے ہیں ،کیونکہ ان کے خیال میں اب جاپان میں طیاروں کی لینڈنگ اور پرواز دونوں ہی غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔یہی نہیں اب خود جاپانی حکام بھی یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ جاپان کتنے ہوائی اڈوں کی دیکھ بھال مناسب انداز میں کرسکے گا ؟

فی الوقت جاپان میں 97 ہوائی اڈے ایسے ہیں جہاں بڑے طیارے آسانی سے اترسکتے ہیں اور پرواز کرسکتے ہیں ۔جاپان میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران مندی کے رجحان کے باجودبڑی تعداد میں نئے ہوائی اڈے تعمیر کرائے گئے ہیں اور گزشتہ ایک عشرے کے دوران جتنے ہوائی اڈوں کا افتتاح کیا گیا ہے دنیا میں اس کی مثال کم ہی ملے گی۔اس عشرے کے دوران جاپان کی بلدیہ اور دیگر اداروں کے سربراہ مستقل طور پر ہوائی اڈوں کے افتتاح کے لئے فیتے کاٹتے رہے ہیں ۔جاپان میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران جن ہوائی اڈوں کا اضافہ ہوا ہے ان کی تعمیر کا منصوبہ ایک عشرہ قبل بنایا گیا تھایہ وہ زمانے تھا جب جاپانی کی معیشت عروج پر تھی ،اس طرح جاپان میں ہوائی اڈوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ۔ لیکن اس ضمن میں سب سے اہم اور خاص بات یہ ہے کہ جاپان میں ہوائی اڈوں اور فضائی ٹریفک میں نمایاں اضافے کے باوجود جاپانی عوام کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ۔جاپان کے 12 کروڑ 60 لاکھ باشندے تیزی سے سفر کرتے رہنے کے عادی ہیں ،لیکن ہوائی اڈوں کی بہتات اور ان ہوائی اڈوں کی وجہ سے مختلف مقامات پر آمدورفت کرنے والے مسافروں کی تعداد میں نمایاں اضافے کے باوجود جاپان کے عوام کوان سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔اور جاپان میں اب بھی سفر کرنا بہت ہی مہنگا ہے جاپان میں سفر کرنے کے لئے وافر رقم کی ضرورت ہوتی ہے ۔جاپان میں کم کرائے والی کوئی ایئر لائن نہیں ہے اور کوئی ایسی ایئر لائن ان کے پاس ایسی نہیں ہے جو جاپان کی سرکاری جاپان اور آل نپن ایئر ویز کا مقابلہ کرسکے ،جاپان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں بڑی تعداد میں ایئر پورٹس کی تعمیر کا مقصد جاپان کے عوام کو سہولت بہم پہنچانا نہیں تھابلکہ اس کا مقصد مقامی سیاستدانوں کی خواہش پوری کرنا تھا جو کہ جاپان کے صحافیوں کے مطابق اپنے گھر کے پچھواڑے بھی ایک ہوائی اڈہ بنوانے کے خواہاں نظر آتے ہیں ۔جاپان میں فضائی کرایہ بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے جاپان میں لوگ ریل سے سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔کیونکہ جاپان میں ریلوے کا نظام بہت ہی شاندار اور منظم ہے ،جاپان میں ریل کے ذریعے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بین الاقوامی سفر بھی ممکن ہے ۔جس کی وجہ سے اب جاپان کی شہری ہوابازی کا شعبہ شدید مالی مشکلات کا شکار رہتا ہے ۔

انٹر نیشنل ایئرٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے ترجمان انتھونی کاکہنا ہے کہ جاپان کے سیاستداں ہر اچھی چیز کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ ایسے خیالات کو وہ ہائی جیک کرلیتے ہیں ،جاپان کی انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی کونسل کو فضائی ٹرانسپورٹ کے بارے میں 17 سالہ تجربہ ہے اس کونسل کاکہنا ہے کہ اب جاپان کی ضرورت نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر نہیں بلکہ ناریتا ایئر پورٹ کی گنجائش میں اضافہ کرنا اور اس ہوائی اڈے کو بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ ناریتا ایئر پورٹ پر بآسانی پہنچنے کے ذرائع کو ترقی دینا ہے تاکہ جاپان کا یہ 22 سالہ قدیم ایئر پورٹ اپنی سابقہ ساکھ قائم رکھ سکے کیونکہ فی الوقت یہ ہوائی اڈہ ٹوکیو کی 3 کروڑ کی آبادعی کی ضرورت پوری کررہا ہے ، اس ہوائی اڈے کی حالت بہت ہی دگرگوں ہے اور اگر اس پر توجہ نہیں دی گئی تو یہ ہوائی اڈہ اپنا وجود کھو بیٹھے گا۔

ماہرین کاکہنا ہے کہ اس وقت بھی ناریتا ایئر پورٹ کوئی خاموش یا بیکار ہوائی اڈہ نہیں ہے بلکہ اس ہوائی اڈے پر بھی اترنے اور پرواز کرنے والے طیاروں کی قطار لگی رہتی ہیں۔ناریتا ایئر پورٹ پر گنجائش کی بھی کمی محسوس کی جارہی ہے لیکن ناریتا ایئر پورٹ پر گنجائش کی کمی کو جواز بناکر کوئی نیا ایئر پورٹ تعمیر کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ناریتا ایئرپورٹ کی گنجائش میں اضافہ کرکے اسے زیادہ جدید آلات سے آراستہ کرنا ہے ۔

ایک طرف ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ جاپان کو اب نئے ایئر پورٹس کی ضرورت نہیں ہے ،لیکن دولت کی ریل پیل کی وجہ سے علاقائی سطح پر ایئر پورٹ کی تعمیر کی ترغیب ملتی ہے اس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ ٹوکیو اور اوساکا کے درمیان واقع شہر نگویا کوبھی گزشتہ سال اپنا ایئر پورٹ مل گیا اور نیا کوبے ایئر پورٹ بھی اب نیا نہیں رہا کیونکہ اس سال مارچ میں کیٹاکی یوشا میں ایک نئے ایئر پورٹ کا افتتاح کیا گیا ہے ۔جبکہ شی زواکو میں بھی ایک ہوائی اڈہ زیر تعمیر جو عنقریب مکمل ہوجائے گا۔

جاپان کے کوبے ایئر پورٹ کی تعمیر کاایک سبب یہ ہے کہ کوبے سے ٹوکیو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرنا ممکن ہوگیا ہے ،اور یہ سفر جاپان کی بلٹ ٹرین کے مقابلے میں زیادہ کم قیمت اور دھوئیں سے پاک ہوتا ہے ۔نئے نگویا ایئر پورٹ کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس ہوائی اڈے سے سفر کرنے والے طیارے کے انتظار کے دوران اگر کوئی پسند آگیا تو ایئر پورٹ پر ہی موجود گرجا گھر میں ہمیشہ کے لئے شادی کے بندھن میں بندھ سکتے ہیں ۔ہوائی اڈوں کے ناقدین کاکہنا ہے کہ جاپان کو اس وقت طیاروں اور ٹرینوں کے درمیان مقابلے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یکجہتی کی ضرورت ہے تاکہ یہاں مسافروں کی بھیڑ جمع ہوسکے اور انھیں یہاں سے چھوٹے بڑے دیگر شہروں میں پہنچایا جاسکے

اس ضمن میں ایک خوش کن بات یہ ہے کہ جاپان کی حکومت نے اعلان کردیا ہے کہ شی زواکو میں زیر تعمیر ہوائی اڈہ جاپان کے چھوٹے شہروں کا آخری ہوائی اڈہ ہوگا اس کے بعد اب جاپان کے چھوٹے شہروں میں کوئی نیا ہوائی اڈہ تعمیر نہیں کیا جائے گا۔جاپان کے وزیر اعظم جونیچی رو کوزومی نے بھی نئے ایئر پورٹس کی تعمیر روکنے کی تائید کی ہے اور نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر کو عوام کی دولت کا زیاں قرار دیا ہے ۔لیکن جاپان کے ماہرین کاکہنا ہے کہ جاپان کے سیاستداں حکومت کی اس پابندی کو زیادہ دنوں تک خاطر میں نہیں لائیں گے اور کسی نہ کسی بہانے نئے ایئر پورٹس کی تعمیر شروع کرادی جائے گی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ جاپان کی حکومت نئے ایئر پورٹس کی تعمیر روکنے میں کس حد کامیاب ہوتی ہے اور اس پابندی پر عمل سے جاپان کوکتنا فائدہ پہنچتا ہے ۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر