... loading ...

جنرل راحیل شریف 27 جنوری کو کراچی آئے تو وہ اپنے سر پر سے مدت ملازمت میں توسیع کا بوجھ اُتار چکے تھے۔ کافی دنوں سے کراچی آپریشن میں سست روی اور تھکاوٹ کے واضح اشاروں میں وہ ایک گرمجوشی پیدا کرنے نہیں آئے تھے، بلکہ اُن کی آمد اس کے علاوہ کچھ اور چیزوں کے بھی اشارے دے رہی تھی۔اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے ساتھ پاک فوج کے ترجمان کے ٹوئٹر ہینڈل سے اُنہوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا تھا کہ وہ آپریشن کو پورے عزم کے ساتھ اپنے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ یہ دراصل اگلے دس ماہ کے لئے اُن کا ایک ایجنڈا تھا۔ کورکمانڈر کراچی کے دفتر میں پانچ گھنٹوں سے زائد کا اجلاس سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ پہلی ہلچل کہیں اور نہیں کراچی میں پیدا کرنے جارہے ہیں ۔ جہاں بہت سے پیچیدہ اور گنجلک مسائل اُن کا انتظار کر رہے ہیں۔ جوفوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں تو سیع کی وضاحت سے پہلے کہیں پسِ منظر میں دھکیلے جاچکے تھے۔
ابھی کچھ دون پہلے ہی ایپیکس کمیٹی کا اجلاس کسی تنازع کے بغیر ختم ہو گیا تھا جس میں رینجرز اور فوج کے ذمہ داروں نے اپنے مسائل اور آپریشن کی راہ میں سندھ حکومت کی طرف سے حائل دشواریوں پر چپ سادھے رکھی تھی۔ تب بات دوسری تھی۔ اسی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے ایک روز پہلے کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار نے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے ایک ملاقات کی تھی ۔ سندھ حکومت کے ایک اہم مشیر نے اس ملاقات کے حوالے سے وجود ڈاٹ کام کو اندر کی بات یہ بتائی تھی کہ دراصل کورکمانڈر کی یہ خواہش تھی کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ خوش اسلوبی سے اس مرتبہ حل ہو جائے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس میں ابھی تک بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ اور اب فوجی سربراہ کی طرف سے اپنے عزم کو مصمم طریقے سے دہرانے کے بعد اس معاملے نے ایک نئی کروٹ لے لی ہے۔ جو فوجی سربراہ کی طرف سے کراچی آمد اور اُن کی سرگرمیوں پر آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کی گئی خبر سے مزید واضح ہو جاتی ہے۔اگر آئی ایس پی آر کے بیان کو غور سے دیکھا جائے تو وہ اُن کے آئندہ کے عزائم کو پوری طرح واضح کرتا ہے۔ جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ “محفوظ اور دہشت گردی سے پاک کراچی کے لئے وہ کسی بھی حد تک جائیں گے۔”
ظاہر ہے کہ پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے خبر کی تفصیل جاری کرتے ہوئے”کسی بھی حد تک “کے الفاظ پر پوری طرح غو ر کیا گیا ہوگا۔ بدقسمتی سے کراچی میں “کسی بھی حد تک” کا مطلب طالبان یا اس نوع کی دیگر قوتیں نہیں بلکہ “سیاسی قوتیں” یا اُن میں موجود وہ عناصر سمجھے جاتے ہیں جو بندوق سے سیاسی طاقت حاصل کرتے ہیں یا پھر سیاست سے بندوق کی حفاظت کرتے ہیں۔ بہت کم دنوں میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ کراچی آپریشن کی اس نئی جہت اور فوجی عزائم میں اس نئے ولولے کے اظہار کا مطلب دراصل کراچی میں کیا ہے؟ سب سے پہلے جس مسئلے کا سامنا وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کو ہو گا ، وہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا ہے۔ سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات میں مشروط توسیع چاہتی ہے۔ اور اگر اُسے اس کی ضمانت نہیں دی گئی تو وہ بھی کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ ایسی صورت میں سارا بوجھ وفاقی حکومت پر پڑے گا۔ جہاں چوہدری نثار پہلے سے ہی منہ پھلائے بیٹھے ہیں۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع نے وجود ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ فوجی سربراہ کی کراچی آمد پر پانچ گھنٹے کے طویل اجلاس میں آپریشن کے نئے پہلووؤں اور مستقبل کے ارادوں پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ جس میں متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کے بعض اعلی رہنماوؤں کے نام بھی بعض مقدمات کے لئے سامنے آئے ہیں۔ یہ ایک نہایت نازک موقع ہو گا جب کراچی آپریشن ایک سخت لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا جب کہ رینجرز کو اختیارات کے لئے خود اُن ہی لوگوں کی اجازت بھی درکار ہوگی۔ یہی وہ رکاوٹیں ہیں جو اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں وزیراعظم نوازشریف کی میز پر رکھی ہونگیں اور وہ فوجی سربراہ کے ساتھ ایک اہم ملاقات کرر ہے ہوں گے۔ کورہیڈکوارٹر میں ہونے والے پانچ گھنٹے طویل اجلاس میں اُن تمام رکاوٹوں پر بھی بات ہوئی جو اُنہیں اب تک درپیش ہیں۔ ان میں پراسیکوٹرز کی مطلوبہ تعداد میں کمی، جےآئی ٹی کی تشکیل میں سندھ حکومت کی عدم دلچسپی اور انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے مزید قیام میں تساہل جیسے مسائل پر بھی بات ہوئی۔ مگر ان تمام رکاوٹوں کے باوجود اس اجلاس میں اہم بات آئندہ کے وہ اقدامات تھے جو کچھ بڑی گرفتاریوں کے لئے ممکنہ طور پر اُٹھائے جانے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اور ڈی جی ایم آئی بھی موجود تھے۔
نوازشریف کی لندن سے ملک واپسی کے بعد اُنہیں یکے بعد دیگرے ایسے کئی مسائل سے نمٹنا ہوگا جس میں اُنہیں فوجی عزائم اور سیاسی قوتوں کے درمیان واضح فاصلے نظر آئیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ اُن کے لئے پہلا بحران سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع اور نئی گرفتاریوں کی صورت میں سندھ حکومت کے خاتمے یا پھر اس صورت حال سے بچنے کی جدوجہد کا ہو۔ کیونکہ اگلے کچھ دنوں میں یہ مسائل اپنی آخری حدوں کو چھونے لگیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...
اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...
آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...
ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...