وجود

... loading ...

وجود

پی ایم ڈی سی انتخابات 2015 ء دھاندلی کی لپیٹ میں!

بدھ 09 دسمبر 2015 پی ایم ڈی سی انتخابات 2015 ء دھاندلی کی لپیٹ میں!

pmdc10

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے 5 دسمبرکو ہونے والے انتخابات پنجاب میں ہائی کورٹ کے حکم امتناع اور سندھ میں دھاندلی کی نذر ہوگئے۔ پی ایم ڈی سی کو تباہی کے دہانے پر لے جانے والے ڈاکٹر عاصم حسین گروپ نے انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی کے باوجود اپنی شاطرانہ چالوں سے نہ صرف پی ایم ڈی سی کے ارباب اختیار کو ایک بارپھر مشکل حالات سے دوچار کردیا ہے تو دوسری جانب پی ایم ڈی سی کو مثالی ادارہ بنانے کی پرخلوص کوششیں کرنے والے لوگوں کے عزم و حوصلے کو بھی متزلزل کرکے رکھ دیا ہے۔ سندھ میں سرکاری میڈیکل کالج کی نشست پر وزیر اعلیٰ سندھ کی صاحبزادی پروفیسر ڈاکٹر نصرت شاہ اپنے مدمقابل اصل حریف پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق شیخ سے برتری حاصل کرنے کے باوجود ڈینٹسٹ ڈاکٹر ناصر خان سے 9 ووٹوں سے انتخاب ہار گئیں۔باخبر ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عبدالرزاق شیخ کو درپردہ گورنر سندھ کی بھی حمایت حاصل تھی‘ لیکن ڈاکٹر عاصم حسین گروپ نے 2003 ء کی طرح اس بار بھی قواعد کے برعکس کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے نوجوان نووارد ڈاکٹر ناصر خان کو پورے سندھ سے صرف ایک پولنگ اسٹیشن عباسی شہید اسپتال کے ذریعے کامیاب کروا کر پی ایم ڈی سی کے شفاف انتخاب پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین تو دہشت گردی کے ہائی پروفائل کیس میں حالتِ اسیری میں ہیں‘ لیکن طب و صحت کے باخبر حلقوں کے مطابق ڈاکٹر عاصم کے دست راست ڈاکٹر مسعود حمید ایک بار پھر گورنر سندھ کی مہربانی سے ڈاؤ یونیورسٹی کے متنازع قائم مقام وائس چانسلر کی حیثیت سے براجمان ہیں۔ پی ایم ڈی سی کے انتخابات برائے 2015 ء کو دھاندلی زدہ بنانے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ گو کہ ڈاکٹر مسعود حمید کو ایک بار پھر ڈاؤ یونیورسٹی میں معمول کے امور سر انجام دینے کے علاوہ پالیسی ساز فیصلوں سمیت سینڈیکٹ کا اجلاس طلب کرنے سے سندھ ہائی کورٹ نے روک دیا ہے۔ ضمناً بتاتے چلیں اس سے قبل بھی فاضل عدالت کے اسی نوعیت کے حکم کے وہ بالواسطہ حکم عدولی کے مرتکب بتائے جاتے ہیں جس کا تفصیلی ذکر کسی اور موقع پر کیا جائے گا۔تاہم سندھ سے جنرل نشست پر مضبوط امیدوار پروفیسر ڈاکٹرعطاء الرحمن پورے سندھ سے 409 ووٹ حاصل کرنے کے باوجود ڈاکٹر مسعود حمید کے غیر اعلانیہ حمایت یافتہ ڈاکٹر جمال الدین شیخ سے 35 ووٹوں سے غیر سرکاری نتائج کے مطابق شکست کھا گئے ہیں۔ سندھ سے پی ایم ڈی سی کے انتخابات میں ہارنے والے دونوں امیدواروں نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کامیاب امیدواروں پر سنگین دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے اور دھاندلی کامرکز عباسی شہید اسپتال کراچی کے پولنگ اسٹیشن کو قرار دیا ہے۔ اس کا پس منظر یہ بھی ہے کہ جب میڈیا نے عباسی شہید اسپتال میں تعینات پریزائیڈنگ آفیسر سے وہاں ہونے والی بے قاعدگیوں کے بارے میں بات کرنا چاہی تو انہوں نے تسلی بخش جواب کے بجائے معاملہ پی ایم ڈی سی پر ڈال دیا اور جب دوران پولنگ پی ایم ڈی سی کی خاتون میڈیا ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے برابر میں بیٹھے کسی شخص سے بات کرکے کراچی کی پولنگ کو قانون کے مطابق قرار دے کر مزید بات کرنے کے بجائے فون بند کردیا اور جب پی ایم ڈی سی کی انتخابی کمیٹی کے سیکریٹری امداد علی وگن سے سندھ کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی اور امیدواروں کے الزام کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے باضابطہ شکایت آنے پر قانون کے مطابق کارروائی کا عندیہ دیا ۔

ڈاکٹر مسعود حمید انتخابی منظر پر نہ ہوتے ہوئے اپنے پیادوں کے ذریعے نہ صرف انتخابی نتائج پر چھا گئے بلکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو بھی چاروں شانے چت کرگئے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پی ایم ڈی سی نے خود اتنے بڑے انتخاب کی براہ راست نگرانی کیوں نہیں کی تو انہوں نے کسی بریگیڈیئر صاحب کی تعیناتی کا بتاتے ہوئے مقامی پولنگ اسٹیشنوں کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری چیف سیکریٹری سندھ پر عائد کردی اور کہا کہ انہیں بذریعہ خط پی ایم ڈی سی کی انتخابی کمیٹی نے آگاہ کردیا تھا جبکہ مذکورہ متنازع انتخاب پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے دو ٹوک انداز میں عباسی شہید اسپتال کے پولنگ اسٹیشن پر ہونے والے انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں جو کچھ ہوا ہے اسے عقل تسلیم نہیں کرتی ہے۔

اس متنازع انتخاب کا اگر اجمالی جائزہ لیا جائے تو پی ایم ڈی سی کی انتخابی کمیٹی اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ پی ایم ڈی سی کی انتخابی کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر) طارق پرویز کی تقرری چیف جسٹس آف پاکستان نے کی ہے‘ لیکن کیا اس انتخابی کمیٹی میں شامل ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر مسعود حمید کی باقیات موجود نہیں ہے۔ اگر یہ مافیا موجود ہے تو اس کی موجودگی میں غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کیسے ممکن ہیں جبکہ کونسل کے سابق ارکان پر مذکورہ انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرکے جہاں انتخابی کمیٹی نے انتخاب میں حقیقی مقابلے کی فضا کی راہ ہموار کرنے کے بجائے بدعنوان مافیا کی زیر زمین سرگرمیوں کی راہ کو خود ہموار کردیا۔ باالفاظ دیگر سازشی مافیا کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کردیا۔ پی ایم ڈی سی میں ڈاکٹر مسعود حمید اور ڈاکٹر عاصم کے لوگ سازشی مافیا سے رابطے میں رہے اور بالآخر ڈاکٹر مسعود حمید انتخابی منظر پر نہ ہوتے ہوئے اپنے پیادوں کے ذریعے نہ صرف انتخابی نتائج پر چھا گئے بلکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو بھی چاروں شانے چت کرگئے۔ پی ایم اے ڈاکٹر جمال الدین شیخ کی صورت میں ڈاکٹر مسعود حمید کے جال میں فی الحال ایسی پھنسی ہے جس میں سے فی الحال اس کا نکلنا مشکل نظر آرہا ہے۔ پاکستان کی ڈاکٹر برادری نے سندھ سے جنرل نشست پر پی ایم اے کے بلند قامت باکردار امیدوار ڈاکٹر مرزا علی اظہر کے مقابلے میں خراب شہرت کے حامل ڈاکٹر جمال شیخ کے حق میں دستبرداری کے غیر مدبرانہ فیصلے کو تاحال دل اور دماغ سے قبول نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل نشست پر سندھ میں پی ایم اے کے ووٹرز کا ووٹ پروفیسر عطاء الرحمن جیسے درویش صفت امیدوار کے حق میں استعمال ہوا جو فی الحال پی ایم اے کی قیادت کی آنکھ کھول دینے کے لئے کافی ہے‘ لیکن آخری سطور تحریر کرتے وقت کی اطلاعات یہ ہیں کہ پی ایم اے مزید کسی بڑی غلطی کا ارتکاب کرنے جارہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ایم ڈی سی کی انتخابی کمیٹی دھاندلی زدہ انتخابات کو شفاف غیر جانبدار اور منصفانہ بنانے کے لئے کیا اقدامات عمل میں لاتی ہے۔

ڈاکٹر جمال الدین شیخ کی ڈاکٹر نصرت شاہ کو کامیاب بنانے کی پیشکش

ڈاکٹر ناصر خان کے 15 ووٹ ہارنے والی امیدوار کو دینے کا فیصلہ‘ ریٹائرڈ جج کی عزت کو داؤ پر لگا دیا گیا

 

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے انتخابات 2015 ء میں سندھ میں ہونے والی انتخابی دھاندلی چھپانے کے لئے ایک اور نئے دھاندلی کے منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔ سیل بند متنازع انتخابی ریکارڈ اسلام آباد بھجوانے کے بجائے اس میں ردوبدل کے لئے سیاسی جماعتوں کی طرز پر ڈاکٹر رہنماؤں نے آپس میں جوڑ توڑشروع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق پی ایم ڈی سی کی انتخابی کمیٹی اس صورتحال سے لاعلم ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سندھ کی خوشنودی کے لئے کمیٹی کے سربراہ ریٹائر جسٹس کی عزت کو داؤ پر لگا دیا گیا ۔

باخبر ذرائع کے مطابق 5 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں جنرل نشست پر سندھ سے دھاندلی کے ذریعے کامیاب ہونے والے امیدوار ڈاکٹر جمال الدین شیخ نے اپنی نشست بچانے کے لئے پی ایم اے کے رہنماؤں سے سرکاری میڈیکل کالج کی نشست پر دھاندلی کے ذریعے ناکام ہونے والی امیدوار پروفیسر ڈاکٹر نصرت شاہ کو کامیاب بنانے کی پیشکش کردی ہے جس پر پی ایم اے کے رہنما وزیر اعلیٰ سندھ کی خوشنودی کے حصول کے لئے ڈاکٹر جمال شیخ کی پیشکش کو قبول کرنے کے لئے تیار بتائے جاتے ہیں جس کے مطابق کے ایم ڈی سی سے ڈاکٹر ناصر خان کے 15 ووٹ ڈاکٹر نصرت شاہ کے حق میں ڈلوانے کے لئے تیار ہوچکے ہیں جبکہ ہفتہ کے روز ڈاکٹر نصرت شاہ نے اس دھاندلی کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا تھا لیکن اتوار کو انہوں نے پیشکش کے بعد اپنا فون ہی بند کرلیا ہے ۔ یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ڈاکٹر ناصر خان خود ڈینٹل ڈاکٹر ہوتے ہوئے میڈیکل کی نشست پر انتخاب لڑنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ڈاکٹر نصرت شاہ کا کیس اتنا مضبوط تھا کہ پہلی تاریخ میں ہی وہ مقدمہ جیت سکتی تھیں لیکن باخبر ذرائع کے مطابق ڈاکٹر جمال شیخ نے اپنی دھاندلی زدہ نشست بچانے کے لئے ایک منصوبے کے تحت ڈاکٹر ناصر خان کو وزیر اعلیٰ کی صاحبزادی کے مدمقابل امیدوار بنا کر سامنے لائے تھے جبکہ مذکورہ صورتحال سے انتخابی کمیٹی لاعلم بتائی جاتی ہے ، یوں انتخابی کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر) طارق پرویز کی عزت کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر