وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

’’معاملات ٹھن گئے‘‘

منگل 08 دسمبر 2015 ’’معاملات ٹھن گئے‘‘

urdu words

عدالتِ عظمیٰ کے منصفِ اعظم جناب انور ظہیر جمالی نے گزشتہ منگل کو ایوانِ بالا سے بڑی رواں اور شستہ اردو میں خطاب کرکے نہ صرف عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی لاج رکھی بلکہ یہ بڑا ’’جمالی‘‘ خطاب تھا اور اُن حکمرانوں کے لیے آئینہ جو انگریزی کے بغیر لقمہ نہیں توڑتے۔ حالانکہ عدالتِ عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر پہنچنے والوں کا تو اوڑھنا، بچھونا ہی انگریزی ہوتا ہے۔ قانون کی تعلیم، وکالت اور پھر عدالتوں میں دائر درخواستیں پڑھنا، جو عموماً انگریزی میں ہوتی ہیں۔ ایک عام جج بھی میاں نوازشریف سے زیادہ انگریزی پڑھ اور سمجھ لیتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ اس وہم میں مبتلا ہیں کہ انگریزی بولے بغیر وہ پڑھے لکھے نہیں سمجھے جائیں گے۔ بعض لوگ تو شمالی علاقوں کے زلزلہ زدگان کو بھی انگریزی میں سمجھانے کی کوشش کررہے تھے۔

یہ خطاب سننے کے بعد اب ہم کامران خان کے ’’ماروائے‘‘ کہنے پر اپنا اعتراض واپس لیتے ہیں کہ اب اسے عدالتی توثیق حاصل ہوگئی ہے اور اعتراض توہینِ عدالت سمجھا جائے گا۔

منگل کو ایک کثیرالاشاعت اخبار میں بڑی دلچسپ سرخی دیکھی، ’’سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان معاملات ٹھن گئے‘‘۔ خبر کے مطابق ’’معاملات کے ٹھن جانے کا ایک اور معاملہ سامنے آگیا۔‘‘

’’معاملات کا معاملہ‘‘ بالکل نئی چیز ہے اور جہاں تک معاملات ٹھن جانے کا تعلق ہے تو یہ بھی نیا محاورہ ہے۔ ہمارے خیال میں تو اردو میں ایسے اضافے ہوتے رہنے چاہئیں۔ ویسے ’’سندھ حکومت اور رینجرز میں ٹھن گئی‘‘ لکھنے میں کیا قباحت تھی! معاملات کا ذکر ضروری تھا تو ’’معاملات خراب ہوگئے‘‘ سے کام چل سکتا تھا۔ لیکن لگتا ہے کہ ’ٹھن‘ صوتی اعتبار سے اچھا لگا اس لیے معاملات بھی ٹھنا دیے گئے۔ ویسے ٹھن اور ٹھن جانا اردو ہی کے الفاظ ہیں اور اس کے کئی معانی ہیں، مثلاً گھنٹے کی آواز، شورغل۔ ٹھناٹھن یا ٹھن ٹھن کا مطلب ہے: گھڑیال یا گھنٹے کی مسلسل آواز، دھات کے برتن پر ضرب لگنے کی آواز، جھنکار وغیرہ۔ عام طور پر دو برتنوں کے ٹکراؤ کی آواز سے دو افراد یا اداروں میں ٹھن جانے کا محاورہ بن گیا ہے۔ میاں، بیوی میں بھی کسی بات پر ٹھن جاتی ہے اور معاملات خراب ہوجاتے ہیں لیکن معاملات نہیں ٹھنتے۔

پچھلے شمارے میں ہم نے آشوبِ شہر، آشوبِ آگہی وغیرہ کو ’’مشتقات‘‘ لکھ دیا تھا۔ اسلام آباد سے جناب عبدالخالق بٹ نے توجہ دلائی ہے کہ انہیں مشتقات نہیں، مرکبات کہتے ہیں۔ بٹ صاحب، بہت شکریہ۔ انہیں بھی زبان و بیان سے بڑی دلچسپی ہے بلکہ عبور ہے۔ ہماری تصحیح تو جناب منظر عباسی کرتے رہتے تھے، وہ کئی ماہ سے منظر سے غائب تھے لیکن اب امریکہ، کینیڈا کا سفر کرکے واپس آگئے ہیں۔ مشتق کا مطلب ہے: نکلا ہوا، وہ لفظ جو کسی دوسرے لفظ سے بنایا جائے، وہ صیغہ جو مصدر سے بنا ہو۔

عام طور پر دو برتنوں کے ٹکراؤ کی آواز سے دو افراد یا اداروں میں ٹھن جانے کا محاورہ بن گیا ہے۔ میاں، بیوی میں بھی کسی بات پر ٹھن جاتی ہے اور معاملات خراب ہوجاتے ہیں لیکن معاملات نہیں ٹھنتے۔

جناب منظر عباسی کا ذکر ہوا تو اس کے ساتھ ہی ان کا خط بھی موصول ہوگیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’میں 20 جولائی 2015ء کو ہیوسٹن (امریکہ) اپنی بیٹی کے پاس گیا ہوا تھا، پھر ٹورانٹو میں اپنے بیٹے کے پاس چلا گیا، مگر ’’اردو ہے جس کا نام‘‘ لکھنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے یہ موقر مضامین سنڈے میگزین میں شائع ہوتے ہیں۔ آتے ہی انہوں نے گرفت کی ہے کہ ’’23 اکتوبر کے مجلہ جمعہ میں صفحہ 42 پر دوسرے کالم میں پروفیسر غازی علم الدین صاحب کی تحریر میں جہاں علامہ اقبال کا مصرع ’’گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے‘‘ آیا تو آپ نے فوراً بریکٹ میں لکھ دیا پذیر ’ذ‘ سے نہیں ’ز‘ سے ہے‘‘۔ محترم، ذرا توجہ سے دیکھیے، ہم نے یہ تحریر سہ ماہی ’بیلاگ‘ سے عزیز جبران کے حوالے سے دی تھی۔ اب ہم کیا کریں کہ کچھ اور لوگ بھی ہم سے متفق ہیں۔ اس حوالے سے منظر عباسی نے جو دلائل دیے ہیں وہ بار بار شائع ہوچکے ہیں۔ چنانچہ ان کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ’ز‘ اور ’ذ‘ کا جھگڑا ایسا سنگین تو نہیں۔ آپ ’ذ‘ سے لکھتے رہیے۔

ہمارے ایک اور مربی اور ماہر لسانیات جناب شفق ہاشمی، مقیم اسلام آباد، استیصال لکھنے پر معترض ہیں۔ یہی اعتراض جناب منظر عباسی کو رہا ہے جس کا ذکر وہ اپنی تحریروں میں کرتے رہے ہیں۔ اتفاق سے دونوں ہی ہاشمی ہیں۔ چنانچہ ہم ہی پس پا ہوجاتے ہیں۔ ویسے بھی ہمارے نزدیک یہ ایسا معاملہ نہیں کہ ’’ٹھن‘‘ جائے۔

پچھلے شمارے میں محاوراتِ غالب سے ایک بانگی دکھائی تھی۔ کچھ قارئین کو شکوہ ہے کہ ’’خس بدنداں گرفتن‘‘ سمجھ میں نہیں آیا۔ یہ تو شاید غالب کو بھی سمجھ میں نہ آیا ہو اسی لیے منظوم ترجمہ کرکے سمجھا۔ چلیے، ایک آسان سا محاورہ ’’مرغوب آنا، مرغوب ہونا‘‘…… اس کو غالب نے یوں استعمال کیا کہ ’’مرغوب‘‘ بھی بھاگ نکلے گا، کہتے ہیں:

شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا

مرزا غالب کی یہ پوری غزل ان کی مشکل پسندی کی غماز ہے، اور کسی نے تبصرہ کیا تھا کہ اگر ’آیا‘ کی جگہ ’آمد‘ کردیا جائے تو پوری غزل فارسی میں ہوگی مثلاً یہ شعر دیکھیے:

ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہری قاتل
کہ انداز بخوں غلطیدن بسمل پسند آیا

اسی مضمون کو مرزا نے سہل زبان میں بھی باندھا ہے:

انہیں منظور اپنے زخموں کا دیکھ آنا تھا
اٹھے تھے سیر گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی

اب اس غزل کے مطلع میں لوگ معانی تلاش کرتے رہیں، اور غالب ’’دام شنیدن بچھانا‘‘ کو شعر میں استعمال کرتے ہوئے خود اعتراف کرتے ہیں کہ:

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

اب جو شخص خود اعتراف کرے اس کو کیا کہیں!
ہمارے ایک قاری اکثر فون پر گفتگو کرتے ہیں، ہمیں ان کو ٹوکنا اچھا نہیں لگا کہ ’’الفاظوں‘‘ کی جگہ الفاظ سے کام چل سکتا ہے۔
ہم چاے پیتے ہیں لیکن نئے املا کے تحت اب چائے کی ’ے‘ سے ہمزہ غائب ہوگیا جس سے مزے میں تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن یوں لگا جیسے چائے دان کی ٹونٹی غائب ہوگئی۔ ایک تحقیق کے مطابق چائے بھی ہماری نہیں۔ چائے اور Tea دونوں کی اصل ایک ہے۔ یہ چینی لفظ ہے۔ چینی زبان کی مختلف بولیاں ہیں۔ سب سے اہم مندرین بولی ہے، اس بولی میں چائے کو ’’چا‘‘ کہتے ہیں (عجیب بات ہے کہ پنجابی میں بھی ’’چا‘‘ کہتے ہیں)۔ اسی طرح چین کے جنوب مشرق میں واقع AMOY شہر کی بولی میں ’’تے‘‘ کہتے ہیں۔ انگریزی میں ابتدا میں اس کو CHAW کہتے تھے۔ 1616ء کی عبارت میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے A Silver Chaw Pot ۔ برعظیم میں تو انگریزوں نے زبردستی چائے پلانی شروع کی۔


متعلقہ خبریں


املا مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - هفته 13 اگست 2016

اسلام آباد میں جا بیٹھنے والے عزیزم عبدالخالق بٹ بھی کچھ کچھ ماہر لسانیات ہوتے جارہے ہیں۔ زبان و بیان سے گہرا شغف ہے۔ ان کا ٹیلی فون آیا کہ آپ نے ’’املا‘‘ کو مذکر لکھا ہے، جبکہ یہ مونث ہے۔ حوالہ فیروزاللغات کا تھا۔ اس میں املا مونث ہی ہے۔ دریں اثنا حضرت مفتی منیب مدظلہ کا فیصلہ بھی آگیا۔ گزشتہ منگل کو جسارت میں ان کا مضمون ’’دُم پر پاؤں‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کی پہلی سطر ہے ’’اس لفظ (پاؤں) کی صحیح املا پانو ہے‘‘۔ مفتی صاحب کے فتوے کے مطابق بھی املا مونث ہے۔ ان کے فتوے پر تو ہم روز...

املا مذکر یا مونث؟

تلفظ کا بگاڑ اطہر علی ہاشمی - جمعه 05 اگست 2016

اردو میں املا سے بڑا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ متعدد ٹی وی چینل کھُمبیوں کی طرح اگ آنے کے بعد یہ مسئلہ اور سنگین ہوگیا ہے۔ اینکرز اور خبریں پڑھنے والوں کی بات تو رہی ایک طرف، وہ جو ماہرین اور تجزیہ کار آتے ہیں اُن کا تلفظ بھی مغالطے میں ڈالنے والا ہوتا ہے۔ مغالطہ اس لیے کہ جو کچھ ٹی وی سے پیش کیا جاتا ہے نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے اور صحیح ہونے پر اصرار کرتی ہے۔ اب ان تجزیہ کاروں اور چینلی دانشوروں کی اصلاح تو ہو نہیں سکتی، یہ ممکن نہیں کہ گفتگو سے پہلے ان کے تلفظ کا امتحان لیا ...

تلفظ کا بگاڑ

تلفظ میں زیر و زبر اطہر علی ہاشمی - پیر 01 اگست 2016

ہم یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اخبارات املا بگاڑ رہے ہیں اور ہمارے تمام ٹی وی چینلز تلفظ بگاڑ رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کا بگاڑ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان پر جو تلفظ پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے۔ بڑا سقم یہ ہے کہ ٹی وی پر جو دانشور، صحافی اور تجزیہ نگار آتے ہیں وہ بھی اس بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے غلط تلفظ کو فروغ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر کئی الفاظ کو ’’زیروزبر‘‘ کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بہت سینئر صحافی، جو بہت عمدہ اردو لکھتے ہیں اور ہم ن...

تلفظ میں زیر و زبر

گیسوئے اردو کی حجامت اطہر علی ہاشمی - هفته 23 جولائی 2016

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’...

گیسوئے اردو کی حجامت

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘ اطہر علی ہاشمی - هفته 04 جون 2016

پچھلے شمارے میں ہم دوسروں کی غلطی پکڑنے چلے اور یوں ہوا کہ علامہ کے مصرع میں ’’گر حسابم را‘‘ حسابم مرا ہوگیا۔ ہرچند کہ ہم نے تصحیح کردی تھی لیکن کچھ اختیار کمپوزر کا بھی ہے۔ کسی صاحب نے فیصل آباد سے شائع ہونے والا اخبار بھیجا ہے جس کا نام ہے ’’ لوہے قلم‘‘۔ دلچسپ نام ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ اس میں ’کا‘ رہ گیا ہے‘ یعنی ’لوہے کا قلم‘ ہوگا لیکن سہوِ کاتب سے ’کا‘ رہ گیا۔ روزنامہ کی لوح پر لکھا ہے ’’عوام کے ہر مسائل پر نظر‘‘۔ ’ہر‘ کے ساتھ اگر ’مسئلے‘ لکھ دیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔...

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘

اعلیٰ یا اعلا اطہر علی ہاشمی - اتوار 03 اپریل 2016

سب سے پہلے تو جناب رؤف پاریکھ سے معذرت۔ ان کے بارے میں یہ شائع ہوا تھا کہ ’’رشید حسن خان اور پاکستان میں جناب رؤف پاریکھ کا اصرار ہے کہ اردو میں آنے والے عربی الفاظ کا املا بدل دیا جائے۔‘‘ انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود رشید حسن خان سے متفق نہیں ہیں۔ چلیے، اس طرح ان سے فون پر گفتگو کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رؤف پاریکھ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں جن سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ رشید حسن خان نے اردو کے لیے بہت کام کیا ہے، املا پر ان کی ایک وقیع کتاب ہے۔ ...

اعلیٰ یا اعلا

فِحش یا فحش؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 22 فروری 2016

لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ’’اوپر سے‘‘ سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی ا...

فِحش یا فحش؟

استیصال کا دلیرانہ استعمال اطہر علی ہاشمی - اتوار 07 فروری 2016

’’زبان بگڑی سو بگڑی تھی‘‘…… کے عنوان سے جناب شفق ہاشمی نے اسلام آباد کے اُفق سے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’دیرپائیں کے رفیق عزیز کا چار سالہ بچہ اپنے والد سے ملنے دفتر آیا تو لوگوں سے مل کر اسے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ آخر بولتے کیوں نہیں ہیں۔ ایک حد تک وہ یقینا درست تھا کہ یہاں پشتو بولنے والا اسے کوئی نہ ملا۔ وہ بچہ اپنا نام ’’خان بابو‘‘ بتاتا تھا، جس پر ہمارے دل میں آیا کہ ہم اپنے مقتدر استادِ فن کو ’’علی خان بابو‘‘ کہیں۔ یہ تو خیر ابتدائیہ معترضہ تھا۔ اب آتے ہیں فکاہی...

استیصال کا دلیرانہ استعمال

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق اطہر علی ہاشمی - پیر 30 نومبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال، نامور شاعر ظفر اقبال کے ماہتاب ہیں۔ اردو سے خاص شغف ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر زبان کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ پروگرام مزاحیہ ہے، چنانچہ ان کی اصلاح بھی کبھی کبھی مزاح کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ گزشتہ اتوار کو ان کا پروگرام دیکھا جس میں انہوں نے بڑا دلچسپ انکشاف کیا کہ جس کو شہر یعنی City کہا جاتا ہے، یہ دراصل عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’مہینہ‘ جیسے شہرِ رمضان۔ پہلے تو ہمیں گمان ہوا کہ وہ شاید اپنے پروگرام کی نسبت سے مزاح فرما رہے ہیں، لیکن پھر...

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ اطہر علی ہاشمی - منگل 24 نومبر 2015

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قول ِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن ...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ

اردو میں لٹھ بازی اطہر علی ہاشمی - بدھ 11 نومبر 2015

چلیے، پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ سنڈے میگزین (4 تا 10 اکتوبر) میں صفحہ 6 پر ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے لیکن اس میں زبان و بیان پر پوری توجہ نہیں دی گئی۔ مثلاً ’لٹھ‘ کو مونث لکھا گیا ہے۔ اگر لٹھ مونث ہے تو لاٹھی یقینا مذکر ہوگی۔ لٹھ کو مونث ہی بنانا تھا تو ’’لٹھیا‘ لکھ دیا ہوتا۔ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جس (لٹھ) کے ٹاپ پر گھنگرو اور پیتل کی گھنٹیاں‘‘۔ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے نفاذِ اردو کے حکم کے بعد ’’ٹاپ‘‘ کا استعمال توہین عدالت کے مترادف ہے، وزیراعظم کے انگریزی میں خطاب پر ...

اردو میں لٹھ بازی