وجود

... loading ...

وجود

پیرس حملوں کی 5 من گھڑت داستانیں

پیر 23 نومبر 2015 پیرس حملوں کی 5 من گھڑت داستانیں

France Paris Attacks

پیرس حملوں کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاست دانوں اور اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے خواہشمند افراد اپنی اپنی پٹاریاں کھول کر بیٹھ گئے ہیں اور ان حملوں کی آڑ میں اپنے الو سیدھے کرنے کی کوششوں میں شامل ہیں۔لیکن ان کے دعووں میں کتنی حقیقت ہے، آئیے دیکھتے ہیں۔

بڑے پیمانے پر نگرانی

امریکا کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی (این ایس اے) اور دیگر جاسوس ادارے کہہ رہے ہیں کہ پیرس حملوں کے بعد وقت آ گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر عوامی نگرانی کی جائے۔ لیکن نیو یارک ٹائمز نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ یہ نگرانی دہشت گردی کے مقابلے میں تحفظ دینے میں بالکل مدد نہیں دے رہی۔ اخبار کہتا ہے کہ:

جیسا کہ انسداد دہشت گردی کے ایک فرانسیسی ماہر اور سابق دفاعی عہدیدار نے کہا ہے کہ یہ ظاہر کرتا ہے “ہماری انٹیلی جنس دراصل بہت اچھی ہے لیکن قدم اٹھانے کی صلاحیت بہت محدود ہے۔” بالفاظ دیگر مسئلہ ڈیٹا اور اعداد و شمار کی کمی کا نہیں بلکہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر حکام کی جانب سے عملی قدم اٹھانے میں ناکامی تھی۔

درحقیقت، بہت بڑی مقدار میں لیکن بے ربط ڈیٹا کی موجودگی سرے سے کارآمد نہیں۔ دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا، دنیا این ایس اے کے ڈیٹا کلیکشن پروگرام کے بارے میں جانتی ہے اور انٹیلی جنس ادارے تک یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ اس پروگرام نے کسی دہشت گرد حملے کو ناکام بنایا ہو۔ سالوں سے انٹیلی جنس حکام اور کانگریس اراکین بارہا ایسے دعوے کرکے عوام کو گمراہ کر چکے ہیں کہ نگرانی موثر ثابت ہو رہی ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ معروف سیکورٹی ماہرین تک نے قبول کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر نگرانی نے ہمیں مزید دہشت گردوں کے رحم و کرم پر کر دیا ہے۔ اصل میں تو خود این ایس اے بھی ماضی میں کہہ چکا ہے کہ وہ دہشت گرد حملوں کو روکنے کے لیے ضرورت سے کہیں زیادہ معلومات اکٹھی کررہا ہے۔

انکرپشن پر حملے

جاسوس ادارے یہ بھی ظاہر کررہے ہیں کہ انکرپشن نے دہشت گردوں کو روکنا ناممکن بنا دیا ہے۔ لیکن ٹیک ڈرٹ (Tech Dirt) لکھتا ہے کہ
“دہشت گردوں کے درمیان زیادہ تر رابطہ غیر انکرپٹ شدہ ونیلا ایس ایم ایس کے ذریعے ہوتا ہے: پیرس سے آنے والی خبریں بتاتی ہیں کہ داعش کے دہشت گرد نیٹ ورک آپس میں مکمل رابطے میں تھے اور ان کے اسمارٹ فونز کا ڈیٹا انکرپٹ شدہ بھی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ جنوری میں بیلجیئم میں داعش پر ہونے والے چھاپے میں بھی یہ بات ثابت ہوئی تھی۔

یورپی ذرائع ابلاغ خبریں دے رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانے کا پتہ ایک موبائل فون سے چلایا گیا تھا جو ممکنہ طور پر ایک حملہ آور کا تھا اور پیرس کے بتاکلان کنسرٹ ہال کے باہر کوڑے کے ایک ڈبے سے ملا تھا۔ فرانسیسی اخبار لے موندے کا کہنا ہے کہ تحقیق کرنے والوں کو اس فون پر موجود تمام ڈیٹا تک کھلی رسائی تھی، جس میں کنسرٹ ہال کا تفصیلی نقشہ بھی تھا اور ایک ایس ایم ایس بھی کہ “ہم نکل پڑے ہیں؛ ہم کام شروع کر رہے ہیں۔” پولیس کو تمام نقل و حرکت تک بھی رسائی حاصل تھی، یعنی فون انکرپٹ شدہ نہیں تھا۔

خبریں بتاتی ہیں کہ دس ماہ قبل بیلجیئم میں ناکام ہونے والے حملے اور اب پیرس حملے دونوں کے “ماسٹر مائنڈ” عبد الحمید عبودنے کبھی انکرپشن استعمال نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ داعش انکرپشن استعمال نہیں کرتی، یا وہ آگے نہیں کرے گی۔ ہر کوئی انکرپشن استعمال کرتا ہے۔ لیکن اس وقت یہ دلیل دینا، انکرپشن کو برا بھلا کہنا، نگرانی کو مزید بڑھانے پر زور دینا اور پس پردہ قانون سازی کے لیے دباؤ ڈالنا عوام کوغیر محفوظ بنا دے گا اور یہ اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ حملے۔

حملہ آور شناسا تھے

نائن الیون، بوسٹن میراتھن بم دھماکے اور دیگر حالیہ حملوں کی طرح حکومت نے ہمیشہ یہی ظاہر کیا ہے کہ اسے اندازہ نہیں تھا کہ ایسا حملہ ہوگا۔ لیکن سی بی ایس رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ 7 میں سے 8 حملہ آوروں کے بارے میں امریکی و فرانسیسی انٹیلی جنس حکام پہلے سے معلومات رکھتے تھے۔ نیو یارک ٹائمز تصدیق کرتا ہے کہ:
پیرس حملہ کرنے والے بیشتر افراد پہلے ہی فرانس اور بیلجیئم میں انٹیلی جنس حکام کی نظروں میں تھے، جبکہ متعدد حملہ آور تو پولیس اسٹیشن سے محض چند سو گز کے فاصلے پر مقیم تھے۔

داعش کے خلاف جنگ کو وسعت دینا واحد امید نہیں

داعش کا خاتمہ ضرور کریں لیکن امریکا اور اس کے قریبی اتحادیوں کی جانب سے داعش کی حمایت پر بھی نظر رکھیں۔ دراصل اس وقت انہیں اسلحہ، مال و اسباب اور نقل و حمل کی سہولیات کی فراہمی بند کرنا زیادہ ضروری ہے۔

کوئی دہشت گرد شامی نہیں تھا

پیرس حملوں میں ملوث کوئی فرد شامی نہیں تھا۔ یہ سب یورپی شہریت رکھتے تھے۔ جرمن وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مقام پر ملنے والی شامی پاسپورٹ داعش کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے ہو سکتا ہے تاکہ یورپ کے ممالک مزید مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں بند کردیں۔
پھر بھی ہمیں مہاجرین کی صورت میں دہشت گردوں کی آمد کے مسئلے کو بہت سنجیدہ لینا ہوگا، جیسا کہ ٹیلی گراف کہتا ہے کہ :
پیرس حملوں کا ماسٹر مائنڈ شامی مہاجرین کے ساتھ یورپ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا تھا، اور پولیس سمجھتی ہے کہ وہ ہزاروں مشتبہ افراد کی نگرانی کرنے کے قابل نہیں۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ عبود، اور کم از کم دو پیرس حملہ آوروں نے، یونان سے مہاجرین کے زیر استعمال راستہ منتخب کیا اور یہ خطرہ ہے کہ دہشت گرد باآسانی مہاجرین کے بحران کی آڑ میں یورپ میں داخل ہو سکتے ہیں۔

لیکن پیرس میں حملہ کرنے والے افراد کی بڑی تعداد یورپ ہی کی شہریت رکھتی تھی ، وہ شام میں داعش کی جانب سے لڑنے کے لیے گئے اور پھر مہاجرین کی صورت میں یورپ دوبارہ واپس آ گئے۔ اس لیے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شام سے جنگ اور ظلم و ستم سے فرار ہونے والے تمام افراد دہشت گرد ہیں، اسی طرح غلط ہیں جس طرح دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر