وجود

... loading ...

وجود

بحریہ ٹاؤن نواب شاہ کے لیے سندھ حکومت کے خزانے کو سوا چار ارب روپے کا چونا لگا دیاگیا

منگل 17 نومبر 2015 بحریہ ٹاؤن نواب شاہ کے لیے سندھ حکومت کے خزانے کو سوا چار ارب روپے کا چونا لگا دیاگیا

malik riaz and zardari

ملک ریاض اور آصف علی زرداری میں کافی چیزیں مشترک ہیں۔ اس لئے دونوں کی ساجھے داری ہر جگہ خوب نبھ رہی ہے۔ ملک ریاض کے نواب شاہ میں اعلان کئے گئے منصوبے کو اگر سندھ کے لوگ ’’زرداری ٹاؤن ‘‘ کہتے ہیں تو کچھ اتنا غلط بھی نہیں کہتے۔ کیونکہ وجود ڈاٹ کام کے موثق ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں خودپیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرادی پچاس فیصد حصے کے شراکت دار ہیں۔

ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے بعد دوسال قبل ایک دوسرا پراجیکٹ نواب شاہ میں اعلان کیا تھا۔ جس کا اب ایک روز قبل اخباری اشتہارات کے ذریعے نئے سرے سے ڈھنڈورا پیٹا گیا ہے۔

Bahria-Town-Nawabshah-Registration-Started

دو ہزار ایکڑ رقبے پر محیط بحریہ ٹاؤن، نواب شاہ شہر سے تیرہ کلو میٹر پرے ہے۔ جو نواب شاہ کے مغربی حصے قاضی احمد روڈ پر، علی حسن زرداری گاؤں کے قریب واقع ہے۔ اگرچہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے لئے تو سرکاری زمینوں پر قبضے کئے گئے تھے۔اوراس کے لئے آصف علی زرداری نے پوری سندھ حکومت کو ملک ریاض کی خدمت پر مامور کردیا تھا۔ جو ملک ریاض کی مرضی سے کراچی میں اس طرح بروئے کار تھے جیسے مفتوحہ علاقوں میں مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔لیکن اس کے برعکس بحریہ ٹاؤن نواب شاہ کی زمین نجی مالکان سے خریدی گئی ۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق علی حسن زرداری جو سندھ کے محکمہ آبپاشی کے غیراعلانیہ وزیر سمجھے جاتے ہیں ، ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن نواب شاہ کے منصوبے کے انچارج ہیں۔ محکمہ ریونیو کے ذرائع کے مطابق علی حسن زرداری نے زمین کے نجی مالکان سے جو زمین پانچ سے دس ہزار روپے میں خریدی تھی ، وہ ملک ریاض کو دس دس لاکھ میں فروخت کی ہے۔ علی حسن زرداری وہی شخص ہیں جن کا نام سندھ میں بدعنوانیوں کے بہت سے معاملات میں پہلے سے ہی لیا جارہا ہے۔ جن میں تازہ ترین معاملہ سرکاری ایمبولینسز کوپبلک ٹرانسپورٹ میں تبدیل کرکے تجارتی مقاصد سے استعمال کرنے کا بھی شامل ہے۔ ایف آئی اے کی ایک ٹیم نے رینجرز کے ساتھ نواب شاہ میں اُن کے گاؤں جاکر ایک چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے سات ایمبولینسز بھی برآمد کی تھیں۔ علی حسن زرداری کے اثرورسوخ کا اندازا اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ سندھ گورنمنٹ کے ایک بارسوخ ملازم آفاق حیدر شاہ نے سرکاری ملازم ہونے کے باجود ایک روزنامہ سوبھ خریدا تھا۔ سرکاری ملازمت میں ہوتے ہوئے اخبار خریدنے کا معاملہ اگرچہ ایک غیر قانونی عمل تھا مگر علی حسن زرداری اس اخبار کو اُن سے ہتھیانا چاہتے تھے، آفاق حیدر شاہ کسی معمولی پس منظر کے سرکاری ملازم نہیں۔

پیپلز پارٹی کے سندھ پر تسلط کے باعث ملک ریاض بھی سندھ پرمسلط ہوگئے ہیں۔ جوا یک طرف سندھ کے وسائل کو زرداری کے ساتھ مل کر بے دردی سے لوٹ رہے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کی امداد کے نام پر ہمدردی بھی سمیٹتے رہتے ہیں۔

وہ سندھ کے وزیر خزانہ مراد علی شاہ کے قریبی رشتے دار بتائے جاتے ہیں۔ آفاق حیدر شاہ کے ایک بھائی آصف حیدر شاہ اس وقت بھی حیدرآباد کے کمشنر ہیں۔ مگر ان میں سے کسی کی بھی علی حسن زرداری کے سامنے ایک نہ چلی۔ علی حسن زرداری ، آصف علی زرداری سے اپنی قربت کے باعث اس قدر طاقت ور سمجھے جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ اسی قربت کے باعث بحریہ ٹاؤن نواب شاہ کے منصوبے کے جہیز میں ملک ریاض کے حصے میں آئے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن نواب شاہ کے منصوبے کو قابل استعمال بنانے کے لئے قومی خزانے کو تقریباً سوا چار ارب کا نقصان پہنچایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق روہڑی کینال کے تیرہ کلومیٹر ایریا کو (جو ملک ریاض منصوبے بحریہ ٹاؤن کے پاس سے گزرتا ہے) سیم و تھور سے بچانے اور ملک ریاض کے منصوبے کو سود مند بنانے کے لئے سندھ کے محکمہ آبپاشی کو استعمال کیا گیا۔ جس نے ایک انتہائی بدعنوان اور بدنام زمانہ ٹھیکیدار سکندر جتوئی کی کمپنی ڈی بلوچ کو اس کا ٹھیکہ دیا۔ جس کے لئے قانونی تقاضے تک پورے نہیں کئے گئے۔ جس میں کھلی بولی، اشتہار اور دیگر سندھ پیپرا (PEPRA) کے قوانین کا لحاظ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ کے سالانہ بجٹ میں کہیں پر بھی اس منصوبے کا ذکر نہیں تھا۔ صرف ملک ریاض کے پر اجیکٹ کو فائدہ پہنچانے کے لئے بجٹ سے باہر ہونے کے باوجود اس منصوبے کو سندھ کی دیگر مدات سے پورا کیا گیا۔

اس ضمن میں دوسری بڑی بدعنوانی کا مظاہرہ سڑکوں کو تعمیر کی صورت میں کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق تیرہ کلومیٹر پر محیط روہڑی کینال کے دونوں جانب دونوں طرف کی دو دو رویہ سڑکیں بھی سرکاری خرچے سے تعمیر کی جارہی ہے جس کا واحد مقصد بحریہ ٹاؤن کے مذکورہ منصوبے کو فائدہ پہنچانا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سندھ پر تسلط کے باعث ملک ریاض بھی سندھ پر مسلط ہوگئے ہیں۔ جوا یک طرف سندھ کے وسائل کو زرداری کے ساتھ مل کر بے دردی سے لوٹ رہے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کی امداد کے نام پر ہمدردی بھی سمیٹتے رہتے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن نواب شاہ کا منصوبہ اگرچہ ملک ریاض کا ایک نجی منصوبہ ہے ۔ مگر عملاً یہ سندھ کے سرکاری اخراجات پر پوراکیا جارہا ہے۔ اور سندھ کے حقوق کی آواز اُٹھانے والے تمام جغادری اس پر اپنی زبانیں منہ میں ڈالے خاموش بیٹھے ہیں۔


متعلقہ خبریں


حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان وجود - جمعه 19 جون 2026

پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط وجود - جمعه 19 جون 2026

امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ وجود - جمعه 19 جون 2026

جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال وجود - جمعه 19 جون 2026

شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش وجود - جمعه 19 جون 2026

موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

مضامین
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

یادوں کی نیلامی وجود جمعه 19 جون 2026
یادوں کی نیلامی

نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر وجود جمعه 19 جون 2026
نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر

مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر