وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پیر 16 نومبر 2015 یہ وطیرہ کیا ہے؟

urdu words

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا کرتے ہیں۔ بطور مثال ہم نے غَلط کا لفظ نہیں لکھا، کیونکہ یہ عجب تماشا ہے کہ غلط کو ضبط کے وزن پر اور ضبط کو غلط کے وزن پر بولا جارہا ہے۔ جناب پرویز رشید تو کبھی پی ٹی وی کے افسرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ جانے وہاں غلط تلفظ پر وہ کیا کرتے ہوں گے۔ اور کچھ نہیں تو سعد رفیق ہی سے اصلاح لے لی ہوتی۔

بڑے سینیر قسم کے کالم نگار بھی لاپروائی (یا بے پروائی) کو لاپرواہی لکھ رہے ہوں تو ہم نوجوان صحافیوں کو کیا سمجھائیں جو اپنی غلطیوں کے جواز میں سینیر صحافیوں کی تحریر پیش کردیتے ہیں۔

7 اکتوبر کے اخبار میں ایک پروفیسر صاحب کا مضمون پڑھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’تربیتِ آقا میں ڈھلنے کے لیے مغرب کو ’’پسارتی‘‘ ہیں۔ وہ نئی نسل پر طنز کررہے تھے جو مغرب کا رخ کررہی ہے۔ لیکن ’’پسارتی‘‘ کا یہ استعمال پروفیسر صاحب ہی کا خاصہ ہے۔ پسارتی کا مطلب ہرگز بھی وہ نہیں جس معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ شاید انہوں نے ’’پاؤں پسارنا‘‘ سنا ہو۔ پسارنے کا مطلب پھیلانا‘ کھولنا‘ پھاڑنا، (پاؤں کا) لمبا کرنا وغیرہ ہے۔ ان میں سے کوئی بھی ’’مغرب کو پسارتی‘‘ کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ ممکن ہے وہ ’’سدھارتی‘‘ لکھنا چاہتے ہوں۔ پسا ہوا کا ایک مطلب مصیبت کا مارا ہوا ہے۔ ایک مصرع ہے:

قدموں سے لگا پسا ہوا وہ

جماعت اسلامی کی ایک خبر میں دیکھا ’’عوام جماعت اسلامی پر اعتماد کرتی ہے‘‘۔ عوام کو مونث بنانے کی یہ خرابی یہاں تک سرایت کرگئی ہے تو طوطی کو خاموش ہی ہوجانا چاہیے۔

ایک اور تماشا عموماً اخبارات میں نظر آرہا ہے اور برقی ذرائع ابلاغ بھی اس سے محروم نہیں۔ وہ ہے ’’سندھ کی صوبائی حکومت‘ پنجاب کی صوبائی حکومت‘‘۔ ارے بھائی! کیا کسی صوبے کی مرکزی یا وفاقی حکومت بھی ہوتی ہے؟ صرف سندھ کی حکومت یا پنجاب وغیرہ کی حکومت لکھنے اور کہنے سے کیا بات واضح نہیں ہوجاتی! صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ کہنے سے شاید شان بڑھ جاتی ہے۔

ایک طرف تو ’’اتائی‘‘ میں ’ع‘ اور ’ط‘ شامل کرکے اسے عطائی بنالیا گیا‘ دوسری طرف ’’وتیرہ‘‘ وطیرہ ہوگیا، اور مزے کی بات یہ ہے کہ ’’وتیرہ‘‘ عربی ہی کا لفظ ہے اور اس میں ’ط‘ نہیں ہے۔ مطلب ہے عادت‘ دستور‘ شیوہ‘ روش‘ طریقہ وغیرہ۔ ہم نے ایک عربی لفظ ہی کو ’’معرب‘‘ کرلیا ہے۔ ’ط‘ سے وطیرہ لکھنے سے غالباً عربی دانی کا اظہار ہوتا ہو۔

جسارت کی ایک خبر میں ’’کالی سیاہی‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ خورشید قصوری اپنی کتاب کی رونمائی کرانے کے لیے ممبئی گئے تھے جہاں اُن کے میزبان کے منہ پر سیاہی پوت دی گئی اور خبر میں کئی بار یہ کالی سیاہی سامنے آئی۔ شاید پروف ریڈر نے بھی توجہ نہیں دی کہ سفید یا نیلی‘ پیلی سیاہی کون سی ہوتی ہے۔ خبر جاری کرنے والوں کو صرف سیاہی کہنے یا لکھنے میں مزا نہیں آیا۔ سیاہی تو سیاہ یعنی کالی ہی ہوتی ہے۔ کبھی سیاہی کے لیے روشنائی کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ تب کالی یا نیلی روشنائی کہا جاتا تھا۔

8 اکتوبر کے ایک اخبار کی آرمی چیف کے بیان کی جلی سرخی تھی ’’پیشہ وارانہ معیار ضروری ہے‘‘۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب دیوانہ وار‘ مردانہ وار، امیدوار‘ قصوروار‘ سزاوار وغیرہ وغیرہ ہوسکتا ہے‘تو پیشہ وار اور پیشہ وارانہ لکھنے میں کیا حرج ہے۔ پھر ’’دیدہ وار‘‘ بھی صحیح ہوگا۔

’ور‘ اور ’وار‘ دونوں فارسی کے الفاظ ہیں، لیکن ان کا استعمال الگ الگ ہے۔ فارسی صفت ’ور‘ دراصل آور کا مخفف ہے۔ اور مطلب ہے: والا‘ صاحب‘ خداوند‘ رکھنے والا‘ قبضے میں رکھنے والا۔ یہ حرفِ ربط بھی کہلاتا ہے۔ چنانچہ جب ہم پیشہ ور کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے پیشہ رکھنے والا‘ صاحبِ پیشہ وغیرہ۔ اور ’وار‘ فارسی لاحقہ ہے۔ کثیرالمطلب ہے۔ بوجھ‘ دقت‘ باری‘ صاحب‘ رکھنے والا‘ پانے والا‘ بھرا ہوا جیسے امیدوار‘ قصوروار‘ لائق‘ مناسب‘ موزوں جیسے سزاوار‘ مثل‘ مانند‘ بموجب‘ موافق۔ کلمہ نسبت جیسے بزرگوار۔

ور اور وار میں ’’رکھنے والا‘‘ مشترک ہے۔ اردو لغت میں پیشہ وار/ ور/ والا تینوں ہیں، لیکن ’’پیشہ وار‘‘ عموماً نہیں لکھا اور کہا جاتا۔ اب اگر پیشہ وارانہ صحیح ہے تو پیشہ وار بھی ہونا چاہیے۔ بہرحال پیشہ کے ساتھ’ور‘ ہی درست ہے۔

ہم نَقاب کے ’ن‘ کو بالفتح یعنی زبر کے ساتھ پڑھتے اور کہتے رہے ہیں۔ شایداور بھی بہت سے یہی کہتے ہوں۔ لیکن لغت والے ہم سے متفق نہیں۔ دیکھا تو نقاب کے نون کے نیچے زیر ہے یعنی نِقاب۔

نفاذِ اردو کے عدالتی حکم کے بعد اب کئی حروف اردو میں بدلنے لگے ہیں۔ اس ضمن میں ایک لطیفہ یہ ہوا کہ ایک ٹی وی چینل پر آرمی چیف کی جگہ ’’فوج کا سپہ سالار‘‘ کہا گیا۔ سپہ سالار سن کر تو خوشی ہوئی لیکن فوج کا سپہ سالار سن کر اندازہ ہوگیا کہ خبر دینے والی کو سپہ کا مطلب نہیں معلوم یا شاید صرف سپہ سالار کہنے سے گستاخی کا خدشہ تھا۔ یہ تو معلوم ہی ہے کہ ’سپہ‘ فوج ہی کو کہتے ہیں۔ وزیراعظم کی طرف سے بجلی پیدا کرنے کے ایک منصوبے کے افتتاح کی خبر اسی چینل کی خاتون نے اس طرح دی کہ وزیراعظم نے منصوبے کا سنگِ میل رکھ دیا۔ دیکھا جائے تو اگر بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ’’نندی پور‘‘ نہ بنے تو واقعی یہ سنگِ میل ہوگا۔

چلتے چلتے برسبیل تذکرہ۔ ہم نَقاب کے ’ن‘ کو بالفتح یعنی زبر کے ساتھ پڑھتے اور کہتے رہے ہیں۔ شاید اور بھی بہت سے یہی کہتے ہوں۔ لیکن لغت والے ہم سے متفق نہیں۔ دیکھا تو نقاب کے نون کے نیچے زیر ہے یعنی نِقاب۔ دل تو نہیں مانتا اور ممکن ہے کہ نِقاب کہیں تو لوگ ٹوک دیں۔ ممکن ہے یہ وہ نِقاب ہو جس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے کہ

سرکتا جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں خطاب کرتے ہیں ،یہ معاملہ صرف بڑی طاقتوں کا ہی نہیں ہے ایران کی رہنما بھی عالمی فورمز پر اظہار خیالات کیلئے فارسی کا ہی سہارا لیتے ہیں، جبکہ عرب لیڈر بالعموم عربی میں ہی خطاب کرتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی وجود - پیر 25 جولائی 2016

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی نے قومی زبان اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ کے حوالے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس میں صرف بیورو کریسی ہی رکاوٹ نہیں بلکہ اس سلسلے میں عدالتی فیصلے کے نفاذ کے خلاف مختلف وزراء بھی ہیں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے زیراہتمام قومی نفاذ اردو کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قومی زبان تحریک کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ ہر صوبے میں اردو اور علاقائی زبان پڑھائی...

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل آباد کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’گندم کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہوگئی، بروقت کٹائی کا انتظام کرلیں‘‘۔ اسی طرح لاہور سے محکمہ زراعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’چنے کی فصل برداشت ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرنے کی سعیٔ نامشکور کرتے ہیں وہی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور طعنہ ہمیں سننا پڑتا ہے۔ ’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نا...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی کتاب باغ و بہار میں بھی دونوں ٹکڑوں میں ’ت‘ پر تشدید ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق جو لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کہتے ہیں، یہ بھی درست ہے۔ ایک جملہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے ’’لگ گیا تیر، نہیں تو تکّا‘‘...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے ...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ اُن کی شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کبھی ’’ذمے وار‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا کہ انہیں ٹوکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کافی ہیں۔ ایک بہت پڑھے لکھے صحافی جناب خورش...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا علی منظر - منگل 19 جنوری 2016

آج بہت دنوں بعد کسی کو خط لکھنے کے لئے قلم اٹھایا، تو خیال آیا کہ ہمیں دوست کا پتہ ہی معلوم نہیں ۔ سستی، بے پروائی اور وقت کی کمی کے بہانے تو پہلے بھی تھے، پھر بھی ہم طوعاً وکرہاً خط لکھ ہی لیا کرتے تھے۔ برق گرے اس ای میل پر جب سے ہم اپنے کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوئے ہیں، ہمیں دوستوں کا پتہ نہیں اُن کا برقی پتہ محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اور موبائل کی آمد کے بعد سے تو گویا قلم و کاغذ سے رہا سہا تعلق بھی جا تا رہا۔ خط و کتابت اب ماضی بعید کا قصہ بن چکا ہے۔ کورے کاغذ کی خوشب...

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

پڑھتے کیوں نہیں؟ ارشاد محمود - جمعه 11 دسمبر 2015

ایک دوست کی فرمائش پر اردوڈائجسٹ خریدنے اسلام آبادکے ایک کتاب گھر جانا ہوا۔ غیر ارادی طور پرمالک سے گپ شپ شروع ہوگئی۔ کہنے لگا کہ ابھی بھی اردو ڈائجسٹ کے کافی قارئین ہیں لیکن سب معمر افراد ہیں۔ نوجوانوں میں خال خال ہی کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے حتیٰ کہ سب رنگ اور خواتین ڈائجسٹ کے بھی نئے خریدار بن نہیں رہے ۔ بتانے لگا کہ کسی زمانے میں انگریزی کی ریڈرز ڈائجسٹ دُکان پر دو سوکے لگ بھگ آتی اور ہاتھوں ہاتھ نکل جاتیں۔ طلبہ اورکم آمدنی والے نوجوان پرانے شمار ے سستے داموں فراہم کرنے ...

پڑھتے کیوں نہیں؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے زیبا ہے کہ جو چاہے کہے۔ البتہ جن کا تعلق صحافت سے ہے اور بہت پرانا ہے، انہیں دوبارہ اردو پڑھ لینی چاہیے۔ ٹی وی چینل ڈان کے نمائندۂ حیدرآباد جناب علی حسن بڑے سینئرصحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ایک قدیم ع...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

لالچ مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - جمعرات 05 نومبر 2015

آئیے، آج ایک بچے کے خط سے آغاز کرتے ہیں جو غالباً بچوں کے رسالے ’ساتھی‘ کا قاری ہے۔ برخوردار نے لکھا ہے کہ ’’انکل‘ آپ ہمیں تو سمجھاتے ہیں کہ ’’لالچ‘‘ مونث نہیں مذکر ہے، لیکن سنڈے میگزین (6 تا 12 ستمبر) میں ایک بڑے قلمکار نے صفحہ 6 پر اپنے مضمون میں کم از کم چھ بار لالچ کو مونث لکھا ہے۔ اس سے اگلے صفحے پر دوسرے مضمون نگار نے بھی لالچ کو مونث ہی ثابت کیا ہے (بہشت کی لالچ)۔ اب آپ ہی بتائیے، ہم کس کی بات مانیں؟ ہماری تو اپنے دوستوں سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ لالچ مذکر ہے، مونث نہیں۔ ...

لالچ مذکر یا مونث؟