... loading ...

طالبان نے افغان شہر قندوز پر قبضہ کرلیا ہے۔ صوبہ قندوز کادارالحکومت قندوز شمالی افغانستان کا ایک انتہائی اہم شہر سمجھاجاتا ہے۔ یہ علاقہ تزویراتی اعتبار سے انتہائی اہمیت رکھتاہے۔صرف قندوز شہر کی آبادی تین لاکھ چار ہزار چھ سو ہے۔ جو افغانستان کا کابل، قندھار، ہرات اور مزار شریف کے بعد بلحاظِ آبادی پانچواں بڑا شہر ہے۔
تفصیلات کے مطابق طالبان اورافغان فورسز کے درمیان گھمسان کی جھڑپ کے بعد طالبان نے شہر پر قبضہ کرلیا جب کہ جھڑپوں میں درجنوں افراد کے ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ افغان طالبان نے شمالی شہرقندوز پر تین اور بعض اطلاعات کے مطابق مختلف اطراف سے متعدد مقامات پر بیک وقت حملہ کر کے اہم عمارتوں پر قبضہ کرلیا۔ جس کے بعد افغان سیکورٹی فورسز کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب کہ شہری علاقہ چھوڑ کرفرارہونے لگے۔ طالبان نے شہر کے مرکزی حصے میں موجود تقریباً تمام سرکای عمارتوں پر سفید پرچم لہرادیے۔ جیل پر قبضہ کرکے سینکڑوں قیدی چھڑا لئے۔ یہاں تک کہ گورنر ہاؤس سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر ایک مرکزی چوک پر اپنا پرچم لہراکر نعرے لگایے۔ شہر میں موجود ایک افغان صحافی نے رات گیے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاروں طرف طالبان کو پولیس کی گاڑیوں میں گشت کرتے ہوئے بچشم خود دیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف خود سرکاری حکام نے بھی بعد ازاں تصدیق کی کہ طالبان نے پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرتے ہوئے ملک کی مرکزی خفیہ ایجنسی کے دفترکو بھی آگ لگا دی۔ قندوز پولیس کے ترجمان سید سرور حسینی کا کہنا ہے کہ طالبان نے شہر کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اُنہیں حکومت کی طرف سے فوری کمک پہنچانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد نہ صرف افغان فورسز اور اُن کے اہلِ خانہ بلکہ عام شہریوں نے بھی افغان فورسز کی گرفت میں واحد بچ رہنے والے ہوائی اڈے (ائیر پورٹ) کارخ کیا۔ مگر ہوائی اڈے پر بے پناہ اژدحام کے باعث افغان فورسز نے شہریوں کو واپس دھکیل دیا۔ جس پر عام شہری خاصے ناراض تھے۔
طالبان کے لیے قندوز پر قبضے کی ایک تاریخی اہمیت بھی ہے۔ وہ اس اہم ترین تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے کو بھی اپنے ظہور کے ایام میں بہت اخیر میں فتح کر پائے تھے۔ تاریخی طور پر طالبان نے 1997 میں بھی اس علاقے پر اپنا قبضہ ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں ہی مستحکم کیا تھا۔ طالبان نے اپنے تازہ ترین حملے سے قبل اس علاقے پر اپنا قبضہ حاصل کرنے کے لیے دو حملے پہلے بھی کیے تھے۔ مگر تازہ ترین حملہ افغان صدر کی مدت صدارت کے ٹھیک پہلے سال کی تکمیل پر کیا گیا۔ نوگیارہ کے بعد طالبان مزاحمت کے آغاز میں قندوز پر امن رہا اور طالبان نے یہاں پر خود کو مزاحمت سے دوررکھاتھا۔ خود اتحادی افواج کی جانب سے یہاں پر زیادہ تر مدت تک کمانڈ کے لیے امریکا اور برطانیا کے بجائے دوسرے ممالک کی افواج کے کمانڈروں کی تعیناتیاں ہوتی رہیں جو امریکی اور برطانوی افواج کے مقابل طالبان سے لڑنے میں کم دلچسپی رکھتے تھے۔ چنانچہ طالبان نے یہاں پر اپنی منظم کارروائیوں 2009ء میں شروع کیں۔
وجود ڈاٹ کام کو افغانستان سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان حکومت قندوز میں موجود فورسز کو تازہ کمک جلد پہنچانے میں مکمل ناکام ہوگئی تھی جس سے فورسز میں خاصی بددلی تھی۔ تاہم یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہوائی اڈے پر موجود فورسز کو نئی کمک فراہم کیے جانے کے بعد کسی بھی وقت قندوز میں طالبان پر ایک جوابی حملہ کیا جائے گا اور اُن سے قندوز کا قبضہ چھڑانے کی کوشش کی جائے گی۔ مگر دوسری طرف طالبان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق خود طالبان قندوز کے ہوائی اڈے پر ہی ایک زبردست جوابی حملے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
اس دوران میں طالبان سربراہ ملا اختر منصور نے طالبان کو قندوز شہر پر قبضہ کرنے پر مبارکباد دی ہے۔ واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی اتحادی حکومت کے قیام کو ایک سال مکمل ہوا ہے جس پر طالبان نے اُنہیں کوئی خوشگوار پیغام نہیں دیا ہے۔
ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...
فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...
غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رق...
جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے،ایران ناکہ بندی ختم کرنے سے ٹرمپ کادباؤ کم ہو جائے گا ، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ...
تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...
ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...
بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...
عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...
تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...
پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...
نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...
متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...