وجود

... loading ...

وجود

طالبان نے پانچویں بڑے صوبے قندوز پر قبضہ کر لیا، افغان فوج مکمل ناکام

منگل 29 ستمبر 2015 طالبان نے پانچویں بڑے صوبے قندوز پر قبضہ کر لیا، افغان فوج مکمل ناکام

afghan-taliban

طالبان نے افغان شہر قندوز پر قبضہ کرلیا ہے۔ صوبہ قندوز کادارالحکومت قندوز شمالی افغانستان کا ایک انتہائی اہم شہر سمجھاجاتا ہے۔ یہ علاقہ تزویراتی اعتبار سے انتہائی اہمیت رکھتاہے۔صرف قندوز شہر کی آبادی تین لاکھ چار ہزار چھ سو ہے۔ جو افغانستان کا کابل، قندھار، ہرات اور مزار شریف کے بعد بلحاظِ آبادی پانچواں بڑا شہر ہے۔

تفصیلات کے مطابق طالبان اورافغان فورسز کے درمیان گھمسان کی جھڑپ کے بعد طالبان نے شہر پر قبضہ کرلیا جب کہ جھڑپوں میں درجنوں افراد کے ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ افغان طالبان نے شمالی شہرقندوز پر تین اور بعض اطلاعات کے مطابق مختلف اطراف سے متعدد مقامات پر بیک وقت حملہ کر کے اہم عمارتوں پر قبضہ کرلیا۔ جس کے بعد افغان سیکورٹی فورسز کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب کہ شہری علاقہ چھوڑ کرفرارہونے لگے۔ طالبان نے شہر کے مرکزی حصے میں موجود تقریباً تمام سرکای عمارتوں پر سفید پرچم لہرادیے۔ جیل پر قبضہ کرکے سینکڑوں قیدی چھڑا لئے۔ یہاں تک کہ گورنر ہاؤس سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر ایک مرکزی چوک پر اپنا پرچم لہراکر نعرے لگایے۔ شہر میں موجود ایک افغان صحافی نے رات گیے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاروں طرف طالبان کو پولیس کی گاڑیوں میں گشت کرتے ہوئے بچشم خود دیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف خود سرکاری حکام نے بھی بعد ازاں تصدیق کی کہ طالبان نے پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرتے ہوئے ملک کی مرکزی خفیہ ایجنسی کے دفترکو بھی آگ لگا دی۔ قندوز پولیس کے ترجمان سید سرور حسینی کا کہنا ہے کہ طالبان نے شہر کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اُنہیں حکومت کی طرف سے فوری کمک پہنچانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد نہ صرف افغان فورسز اور اُن کے اہلِ خانہ بلکہ عام شہریوں نے بھی افغان فورسز کی گرفت میں واحد بچ رہنے والے ہوائی اڈے (ائیر پورٹ) کارخ کیا۔ مگر ہوائی اڈے پر بے پناہ اژدحام کے باعث افغان فورسز نے شہریوں کو واپس دھکیل دیا۔ جس پر عام شہری خاصے ناراض تھے۔

شہر میں موجود ایک افغان صحافی نے رات گیے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاروں طرف طالبان کو پولیس کی گاڑیوں میں گشت کرتے ہوئے بچشم خوددیکھ رہے ہیں

طالبان کے لیے قندوز پر قبضے کی ایک تاریخی اہمیت بھی ہے۔ وہ اس اہم ترین تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے کو بھی اپنے ظہور کے ایام میں بہت اخیر میں فتح کر پائے تھے۔ تاریخی طور پر طالبان نے 1997 میں بھی اس علاقے پر اپنا قبضہ ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں ہی مستحکم کیا تھا۔ طالبان نے اپنے تازہ ترین حملے سے قبل اس علاقے پر اپنا قبضہ حاصل کرنے کے لیے دو حملے پہلے بھی کیے تھے۔ مگر تازہ ترین حملہ افغان صدر کی مدت صدارت کے ٹھیک پہلے سال کی تکمیل پر کیا گیا۔ نوگیارہ کے بعد طالبان مزاحمت کے آغاز میں قندوز پر امن رہا اور طالبان نے یہاں پر خود کو مزاحمت سے دوررکھاتھا۔ خود اتحادی افواج کی جانب سے یہاں پر زیادہ تر مدت تک کمانڈ کے لیے امریکا اور برطانیا کے بجائے دوسرے ممالک کی افواج کے کمانڈروں کی تعیناتیاں ہوتی رہیں جو امریکی اور برطانوی افواج کے مقابل طالبان سے لڑنے میں کم دلچسپی رکھتے تھے۔ چنانچہ طالبان نے یہاں پر اپنی منظم کارروائیوں 2009ء میں شروع کیں۔

وجود ڈاٹ کام کو افغانستان سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان حکومت قندوز میں موجود فورسز کو تازہ کمک جلد پہنچانے میں مکمل ناکام ہوگئی تھی جس سے فورسز میں خاصی بددلی تھی۔ تاہم یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہوائی اڈے پر موجود فورسز کو نئی کمک فراہم کیے جانے کے بعد کسی بھی وقت قندوز میں طالبان پر ایک جوابی حملہ کیا جائے گا اور اُن سے قندوز کا قبضہ چھڑانے کی کوشش کی جائے گی۔ مگر دوسری طرف طالبان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق خود طالبان قندوز کے ہوائی اڈے پر ہی ایک زبردست جوابی حملے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اس دوران میں طالبان سربراہ ملا اختر منصور نے طالبان کو قندوز شہر پر قبضہ کرنے پر مبارکباد دی ہے۔ واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی اتحادی حکومت کے قیام کو ایک سال مکمل ہوا ہے جس پر طالبان نے اُنہیں کوئی خوشگوار پیغام نہیں دیا ہے۔


متعلقہ خبریں


اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

مضامین
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی وجود پیر 23 مارچ 2026
بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی

ایرانی ایٹم بم وجود پیر 23 مارچ 2026
ایرانی ایٹم بم

ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی ! وجود پیر 23 مارچ 2026
ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر