وجود

... loading ...

وجود

ایم کیو ایم کی ہڑتال ناکام مگر مکمل نہیں!!!!!!

اتوار 13 ستمبر 2015 ایم کیو ایم کی ہڑتال ناکام مگر مکمل نہیں!!!!!!

karachi-strike

ایم کیوایم کی اپیل کے باوجود کراچی میں مکمل ہڑتال نہیں ہوسکی ۔شہر کی تاریخ میں بارہ ستمبر دوہزار پندرہ ایک اہم دن کے طور پر یاد رہے گا کہ جب شہر سے پارلیمانی نمائندگی رکھنے والی جماعت کی جانب سے کی گئی ہڑتال کی اپیل ایسی موثر نہیں رہی جیسی ماضی میں ہوا کرتی تھی ۔ہڑتال کس قدر کامیاب تھی اور کتنی ناکام؟ اس کو جانچنے کے پیمانے سب کے ہی مختلف ہیں ۔البتہ شہر پر مکمل گرفت رکھنے والی ایم کیوایم اورقانون کی مکمل عملداری کے دعوے کرنے والوں کے لیے بارہ ستمبر بہت سے سوال چھوڑ کر جارہاہے ۔

ہڑتال کا دیگر پہلوؤں سے بھی جائزہ لیا جائے گا۔پہلے بات کرتے ہیں تازہ ترین اطلاع پر ۔۔ رینجرز کے افسران خیرسگالی کے لیے متحدہ کے زخمی رہنما رشید گوڈیل کی عیادت کےلیے اُن کے گھر پہنچے اور خوبصورت الفاظ ہی نہیں خوش رنگ پھول بھی ساتھ لے کر آئے ۔۔رشید گوڈیل کو مسکراہٹ چہرے پر سجاکر ان کا استقبال کرتے ہی بنی ۔سیاسی مبصرین اور ناقدین کے لیے یہ عجیب منظر تھاکہ ایم کیوایم کی فعال قیادت رینجرز کے خلاف شعلے اُگل رہی تھی اور موت کے منہ سے بخیرو عافیت واپس آنے والے ان کے بلند آہنگ رہنما ان کے شکر گزارتھے یہ وہی رشید گوڈیل ہیں جن کی زبان ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کی عملی قیادت کرنے والی مسلم لیگ ن کے خلاف شمیشیر برہنہ تھی۔ وہ جب بولتے تو پیرا ملٹری فور س ہو یا اس کی مدرآرگنائزیشن کسی کو نہ بخشتے۔

اب ہڑتال کی طرف آتے ہیں۔ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی اکثریت نے ہڑ تال کی اپیل کو غیر موثر قرار دیا ہے ۔کراچی کی نبض پر ہاتھ رکھنے والی متحدہ قومی موومنٹ کی پہلے بھی کئی ہڑتالیں غیر موثر رہی ہیں مگر ذرائع ابلاغ میں اس کے اثر ورسوخ اور بائیں ہاتھ کے کھیل نے اس تاثر کو مستحکم نہیں ہونے دیا کہ متحدہ کی ہڑتال ناکام یا بے اثر رہی ۔ متحدہ نے اس سےپہلے دس اگست کو ہڑتال کی اپیل حالات کی نزاکت کے باعث واپس لےلی تھی ۔بعض مبصرین کی اس پر یہی رائے تھی کہ ڈی جی رینجرز کی یقین دہانی تومحض بہانہ ہےحقیقی منظر نامہ کچھ اور ہے غالباً ہڑتال کی وہ اپیل بھی ایسے ہی غیر موثر رہتی جیسی ایک ماہ دودن بعد رہی ،مگربات مفروضے پرنہیں ہونی چاہیےتھی اس لیے نہیں کی گئی ۔

اس معاملے کا مگر ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔ایم کیوایم مخالف سیاسی قوتیں ہوں یا قانون نافذ کرنے والے ادارے ہڑتال کی ناکامی پرانہیں بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ایم کیوایم کی اس ہڑتال کے بے اثر ہونے کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ اب وہ شہر کی مقبول یا نمائندہ جماعت نہیں رہی ۔۔ایم کیوایم سے ہمدردی رکھنے والے بعض مبصرین کا کہناہے کہ قانون نافذکرنے والےادارے کسی خوش فہمی میں نہ رہیں ،بارہ ستمبر کا احتجاج جس قدر بھی موثر رہامگر اس نے یہ تاثر ضرور گہر ا کردیاہے کہ لاپتہ کارکنوں کےماورائے عدالت قتل کا الزام بہت زیادہ غلط بھی نہیں کیونکہ متحدہ کی جانب سے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر مبینہ مقابلوں میں ہلاک کارکنوں کی تصاویر جاری کی گئیں ،وہ یقینا ً سوال تو اٹھاتی ہیں ۔ایسے لاپتہ کارکن جن کی بازیابی کےلیے عدالتوں سے رجوع کیا جاچکا ہو ،ان کی مقابلوںمیں ہلاکت کئی سوالوں کو جنم دیتی ہے ۔پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر نیوز اینکر کا وجودڈاٹ کام سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے یہ کہناتھاکہ قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے سابقہ ادوار میں ہونے والے آپریشنز سے بہت کچھ سیکھاہے اور اپنی غلطیوں کا اعادہ نہیں کررہے مگراب بھی ایم کیوایم کی جانب سے اٹھائے گئے بعض سوال بہت منطقی ہیں ان کے جواب دیے بنا آپریشن کو غیرجانبدارنہ یا غیر سیاسی نہیں کہاجاسکتا۔

ایم کیوایم نے شایداسی لیے ہڑتال کی ناکامی کے خدشات کے باوجود اس کی اپیل کی اور اسے کامیاب بنانے کےلیے وہ حربے بھی اختیار نہیں کیے جو وہ ماضی میں کرتی رہی مگر اس نے یہ تاثر ضرور دے دیا کہ اسے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔رینجرز اوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جمعہ کی شب ضلع وسطی کے علاقوں میں بھاری بھرکم فلیگ مارچ کرکےطاقت کا مظاہرہ تو کیامگروہ مثبت تاثر دینے سے قاصر رہا۔ اور اس نے یہ تاثر مستحکم کیا کہ ایک ایم کیوایم سے سیاسی بصیرت اور خالص قانونی اہلیت سے نمٹنے کے بجائے شہریوں میں ایک دوسرے خوف کو جنم دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خوف کی یہ دوطرفہ ترسیل شہریوں کے لئے ایک ہی جیسی صورتِ حال کا ہم معنی بن چکی ہے۔

rashid-godial-rangers


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اگر موت کہانی سنانے لگے ! وجود اتوار 21 جون 2026
اگر موت کہانی سنانے لگے !

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں ! وجود اتوار 21 جون 2026
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر