... loading ...

تین ماہ کی متعین مدت کے لئے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھانے اور پھر وقت کے آمر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کا منصب شوکت عزیز کو سونپنے والے چوہدری شجاعت حسین نے ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے لوگ ہماری اکیڈیمی کے تربیت یافتہ ہیں ۔ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے ارکانِ اسمبلی ممبر نہیں رہے ۔ چوہدری شجاعت حسین پنجاب کی اُس سیاسی اشرافیہ کے ترجمان ہیں جنہوں نے ہمیشہ سول و ملٹری بیوروکریسی کی چھتری تلے سیاست کی دُکان سجائے رکھی اور اصولی سیاست کی بجائے ’’فائدے ‘‘ کا مال بیچا ۔
جنرل ضیاء الحق کی ’’نیاز مندی ‘‘ سے گجرات کے چوہدریوں کی ’’ بلند اقبالی ‘‘ کا سفر شروع ہوا ۔ 1985 ء کے عام انتخابات کے بعد ’’ٹیسٹ ٹیوب مسلم لیگ ‘‘ میں وہ جنرل ضیاء الحق اور پیر صاحب آف پگارو کے ساتھی رہے ۔ بعدازاں جب مسلم لیگی طاقت شریف برادران کے کنٹرول میں چلی گئی تو ان کی سیاست کا رُخ بھی ماڈل ٹاؤن کی طرف مُڑ گیا ۔ اکتوبر1999 ء میں پرویز مشرف کے جرنیلی استبداد کا سورج طلوع ہو ا تو ’’چوہدری برادارن ‘‘ کی سیاست بھی سورج مُکھی کا پھول ثابت ہوئی ۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا منصب اس خاندان کے حصے میں آیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اس خاندان کی دیرنیہ خواہش تھی جو شریف برادران کے ساتھ رہ کر کبھی پوری نہیں ہو سکتی تھی ۔ چوہدری شجاعت حسین کی ملٹری بیورکریسی سے محبت اس قدر گہری ہوئی کہ وہ اُس دور میں مسلم لیگ کے تمام ’’ برانڈ ‘‘ اکٹھے کرکے ایک بڑا ’’ سیاسی سُپر اسٹور ‘‘ کامیابی سے چلاتے رہے ۔ اسی دور میں منفرد نوعیت کی سہ ماہی وزارتِ عظمیٰ کا تاج انہوں نے اپنے سر پر سجایا ۔سیاست میں نظریں منزل پر رکھنے کے عادی اس خاندان نے جنرل مشرف کی رُخصتی کے ساتھ ہی اُنہیں اشاروں کنایوں میں بتا دیا تھا کہ ’’ مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ ‘‘۔
2008 ء کے انتخابات کے بعد چوہدری برادران نے پیپلز پارٹی سے معاملات سیدھا کرنا شروع کر دیئے تھے۔ ماضی کی سیاست میں بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے چوہدریوں کی سیاست دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پیپلز پارٹی کے اس ’’دورِ چہارم ‘‘ میں چوہدری خاندان کو ایسی ابتلاو آزمائشوں کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا جس قسم کی مشکلات کا سامنا بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو جنرل ضیاء الحق اور میاں نواز شریف کے اولینِ دورِ حکومت میں کرنا پڑا تھا ۔ لیکن جس طرح دوستوں کو چوہدری شجاعت حسین کی آواز سمجھ نہیں آتی اسی طرح ان کی سیاست کی بھی سمجھ نہیں آتی اور وہ بھٹو مرحوم اور محترمہ بے نظر بھٹو کے بدترین مخالف ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کے دورِ چہارم میں’’ چھوٹے چوہدری ‘‘ کو ڈپٹی وزیر اعظم بنوانے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔ عمران خان اور طاہر القادری کے حوالے سے بھی انہوں نے فرما دیا ہے کہ وہ حکومت کو کمزور کرنے اور سیاسی فائدہ اُٹھانے کے لئے دھرنے کے دوران ان کے قریب ہوئے تھے۔
چوہدری شجاعت حُسین کا یہ انٹرویو ان کے اپنے خلاف ایک چارج شیٹ معلوم ہوتا ہے ۔لہذا تمام سیاسی جماعتوں کے لیئے صائب مشورہ یہی ہے کہ مستقبل میں چوہدری برادران خصوصاً بڑے چوہدری صاحب کی سیاست کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ورنہ وہ پھر کوئی نہ کوئی ایسا فائدہ اُٹھا جائیں گے جس کا قوم کو نقصان ہو گا !!!!
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...
وزیراعلیٰ نے نئے مالی سال کے 48 ارب خسارے کا بجٹ پیش کردیا، کم ازکم تنخواہ 45 ہزار کرنے کی تجویز اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے، سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 27-2026 کا دو ہزار 122 ارب روپے ...
پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...
امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...
جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...
شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...