... loading ...
حاصل مطالعہ
عبد الرحیم
نیو یارک ٹائمز کے رائٹر تھامس ایل فرائیڈ مین کے کالم کا ایک اقتباس: اوائل میں ٹرمپ نے یو کرائن کو مجبور کیا کہ وہ روسی فوج جو اسے کچلنے کی کوشش کررہی تھی،کے خلاف مدد کے بدلے امریکہ کواہم معدنیات تک رسائی فراہم کرے۔ یہی در حقیقت ٹرمپ ڈاکٹرائن ہے:” امریکہ کی مخالفت کرو، میں تم پر ٹیرف عائد کر دونگا۔امریکہ پر بھروسہ کرو تو میں بڑی چڑھی قیمت ( بھتہ )وصول کرونگا”۔ جیو پولیٹیکل کنسلٹنگ فرم میکرو ایڈوائزری پارٹنرز کے چیف ایگزیکٹو اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے سابق سینئر مشیر نادر موسوی زادہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے حلیفوں کیلئے واحد معقول جواب مزاحمت کرنا اور تنوع پیدا کرنا ہے،اور اگر ٹرمپ یہ رویہ اپنے پورے چار سال برقرار رکھتے ہیں تو کوئی نیٹو رہنما امریکی ٹیکنالوجی،امریکی دفاعی نظام یا مالی نظام پر دوبارہ اتفاق نہیں کرے گا جنہیں نیٹو ممالک نے طویل عرصے تک سچ مان لیا تھا ۔قصہ مختصر ایک صدر کمانڈر ا ن تھیف کا رویہ اختیار کرتا ہے،نہ کہ کمانڈر انچیف کا، وہ ملک میں اور بیرون ملک امریکیوں کو بے پناہ نقصان پہنچا رہا ہے۔امریکی صدارت کی یہ بے راہ روی اس اتحادی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے جس نے دو عظیم جنگیں اور سرد جنگ جیتی اور امن و خوشحالی کا تاریخ کا ایک طویل ترین دور قائم کیا۔اگر ہم ہر روزایسا رویہ برداشت کرتے ہیںتوہم اپنے بچوں کا مستقبل خطرہ میں ڈالتے ہیں۔
جنگ، دبئی تارکین وطن پر اثر انداز ہو رہی ہے
بھرپور جدوجہد کے دوران ذہنی دبائو کی روک تھام کے سلسلے میں ایک کلاس سکون کے لمحات فراہم کرتی ہے۔ اتوار کی ایکحالیہ صبح کو لکشمی پاریکھ نے دبئی میں رہائشی کمپائونڈکے کیفے ٹیریا میں پینٹرز، کارپینٹرز اور الیکٹریشنز سے خطاب کیا اور ذہنی دبائو سے نمٹنے پر گفتگو کی۔ غیر منفع بخش تنظیم اسمارٹ لائف سے وابستہ رضاکار 59 سالہ لکشمی پاریکھ نے ان مردوں سے پوچھا،”کون جانتا ہے یہاں گزشتہ43 دنوں سے کیا ہو رہا ہے”؟ فرنٹ لائن میں بیٹھا ایک شخص چلایا، حالت جنگ۔28 فروری کوایران سے امریکہ اسرائیلی جنگ کے بعد سے ایران نے کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات کی طرف زیادہ میزائلز اور اور ڈرونز فائر کئے جن کے نتیجہ میں کم از کم 10 سویلیز ہلاک اور230 زخمی ہوئے جن کی اکثریت تارکین وطن کی تھی۔لکشمی پاریکھ نے 40 کے قریب اجتماع سے پوچھا، آپ میں سے کتنے خوفزدہ ہیں جن میں سے بہت سوں کاتعلق بھارت ، پاکستان اور نیپال سے تھا ۔ ایک آدمی نے کہا، ایک منٹ کیلئے بھی نہیںجبکہ دوسرے نے کہا،آپ خوف کو اجاز ت نہیں دے سکتے کہ وہ آپ کو کنٹرول کرے۔ایک اور نے کہا کہ کس سے خوفزدہ؟ اپنے سیشنز میں لکشمی پاریکھ ذہنی دبائو سے نمٹنے کیلئے گْر پیش کرتی ہے جن میںفضائی حملوں کے سائرنز کے دورانیکساں سانس لینا،روزانہ کا معمول برقرار رکھنا اور پیچھے وطن میںپریشان فیملیز سے پْر سکون انداز میں بات کرنا شامل ہے۔بھارتی شہر سیون کے47سالہفور مین گوپل شرما نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہم وطن واپس جائیں تو ہمیں کون کام دے گا جو اس قدر ادائیگی کرے جو ہمیں یہاں مل رہی ہے؟ پاکستان میں اٹک سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ڈیلیوری ڈرائیور اذان طاہر کا کہنا ہے کہ آپ کو اس جاب میںپْرسکون رہنا ہے۔جنگ کی صورتحال بدلتی رہتی ہے لیکن ہماری ضروریات نہیں بدلتیں۔ ہمیں یہاں کما نا ہے۔
وی آئی پی حج کی جھلکیاں
حج میں دنیاوی امتیازات ختم ہو جاتے ہیں۔امیرغریب،کالے گورے،طاقتور اور کمزور اسٹیٹس سے خالی سادہ کپڑوں میں ملبوس ہو کر سب اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔اس کے بجائے لگژیکمرے، خصوصی ائیر کنڈیشنڈ خیمے،اچھے کھانے،نجی ٹرانسپورٹ، پہرہ دار کی خدمات اور پریمیم پیکیجزجن کی لاگت ہزاروں ڈالر ہے۔معمر افراد یا کمزوروں کیلئے سہولیات تو سمجھ میں آتی ہیں۔لیکن جو ہو رہا ہے ، وہ ضرورت سے زیادہ ہے۔یہ اشیائے صرف سے فائدہ اٹھانا، برانڈنگ اورطبقاتی نظام مراتب کے عالمی کلچر کا آئینہ دار ہے جسے جدید زندگی میں بالادستی حاصل ہے۔یہ ایک وسیع تر رجحان کا بھی آئینہ دار ہے جو عالمی سرمایہ داری کے دور میں بہت سی مذہبی روایت کو درپیش ہے۔ روحانیت کی اشیاء یا خدمات کے استعمال میں تبدیلی۔عقیدہ پرودکٹ بن گیا ہے۔حج صنعت بن گیا ہے۔مقدس سفر لگژری مارکٹیں بن گئی ہیں۔معاشروں میں اقتصادی عدم مساوات بڑھ گئی ہے۔روحانیت کا بر ملا اظہار رنجشوں میں اضافہ کر رہا ہے ا ور مذہب کی اخلاقی ہمہ گیریت کو کمزور کررہا ہے۔ مسلمانوں کو مشکل سوالات پوچھنے چاہئیں کہ جدید دور کا حج کیا صورت اختیار رہا ہے؟
آبنائے ہرمز بند ہے لیکن دنیا نہیں رکے گی
جتنی دیر دنیا خلیج فارس کے تیل کے بغیر رہے گی،اسے اس کے تیل کی اتنی کم ضرورت ہوگی۔ ہر گزرتے دن دنیا خلیج کے سمندری راستے بر آمدات کے بغیر رہنا سیکھ رہی ہے۔ مارکیٹیں فعال ہیں اور ہمیشہ جواب دیتی ہیں۔اول، کچھ تیل پہلے ہی خلیج سے کچھ جہازوں سے امریکی حفاظت میں یا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پائپ لائنوں کے ذریعہ خلیج سے باہر جا رہا ہے۔ان پائپوں میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ سمندر کے ذریعہ جانے والے تیل کے ایک چوتھائی کی جگہ لے سکے۔
٭٭٭