وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

جمعه 12 جون 2026 ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

حاصل مطالعہ
عبد الرحیم

نیو یارک ٹائمز کے رائٹر تھامس ایل فرائیڈ مین کے کالم کا ایک اقتباس: اوائل میں ٹرمپ نے یو کرائن کو مجبور کیا کہ وہ روسی فوج جو اسے کچلنے کی کوشش کررہی تھی،کے خلاف مدد کے بدلے امریکہ کواہم معدنیات تک رسائی فراہم کرے۔ یہی در حقیقت ٹرمپ ڈاکٹرائن ہے:” امریکہ کی مخالفت کرو، میں تم پر ٹیرف عائد کر دونگا۔امریکہ پر بھروسہ کرو تو میں بڑی چڑھی قیمت ( بھتہ )وصول کرونگا”۔ جیو پولیٹیکل کنسلٹنگ فرم میکرو ایڈوائزری پارٹنرز کے چیف ایگزیکٹو اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے سابق سینئر مشیر نادر موسوی زادہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے حلیفوں کیلئے واحد معقول جواب مزاحمت کرنا اور تنوع پیدا کرنا ہے،اور اگر ٹرمپ یہ رویہ اپنے پورے چار سال برقرار رکھتے ہیں تو کوئی نیٹو رہنما امریکی ٹیکنالوجی،امریکی دفاعی نظام یا مالی نظام پر دوبارہ اتفاق نہیں کرے گا جنہیں نیٹو ممالک نے طویل عرصے تک سچ مان لیا تھا ۔قصہ مختصر ایک صدر کمانڈر ا ن تھیف کا رویہ اختیار کرتا ہے،نہ کہ کمانڈر انچیف کا، وہ ملک میں اور بیرون ملک امریکیوں کو بے پناہ نقصان پہنچا رہا ہے۔امریکی صدارت کی یہ بے راہ روی اس اتحادی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے جس نے دو عظیم جنگیں اور سرد جنگ جیتی اور امن و خوشحالی کا تاریخ کا ایک طویل ترین دور قائم کیا۔اگر ہم ہر روزایسا رویہ برداشت کرتے ہیںتوہم اپنے بچوں کا مستقبل خطرہ میں ڈالتے ہیں۔
جنگ، دبئی تارکین وطن پر اثر انداز ہو رہی ہے
بھرپور جدوجہد کے دوران ذہنی دبائو کی روک تھام کے سلسلے میں ایک کلاس سکون کے لمحات فراہم کرتی ہے۔ اتوار کی ایکحالیہ صبح کو لکشمی پاریکھ نے دبئی میں رہائشی کمپائونڈکے کیفے ٹیریا میں پینٹرز، کارپینٹرز اور الیکٹریشنز سے خطاب کیا اور ذہنی دبائو سے نمٹنے پر گفتگو کی۔ غیر منفع بخش تنظیم اسمارٹ لائف سے وابستہ رضاکار 59 سالہ لکشمی پاریکھ نے ان مردوں سے پوچھا،”کون جانتا ہے یہاں گزشتہ43 دنوں سے کیا ہو رہا ہے”؟ فرنٹ لائن میں بیٹھا ایک شخص چلایا، حالت جنگ۔28 فروری کوایران سے امریکہ اسرائیلی جنگ کے بعد سے ایران نے کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات کی طرف زیادہ میزائلز اور اور ڈرونز فائر کئے جن کے نتیجہ میں کم از کم 10 سویلیز ہلاک اور230 زخمی ہوئے جن کی اکثریت تارکین وطن کی تھی۔لکشمی پاریکھ نے 40 کے قریب اجتماع سے پوچھا، آپ میں سے کتنے خوفزدہ ہیں جن میں سے بہت سوں کاتعلق بھارت ، پاکستان اور نیپال سے تھا ۔ ایک آدمی نے کہا، ایک منٹ کیلئے بھی نہیںجبکہ دوسرے نے کہا،آپ خوف کو اجاز ت نہیں دے سکتے کہ وہ آپ کو کنٹرول کرے۔ایک اور نے کہا کہ کس سے خوفزدہ؟ اپنے سیشنز میں لکشمی پاریکھ ذہنی دبائو سے نمٹنے کیلئے گْر پیش کرتی ہے جن میںفضائی حملوں کے سائرنز کے دورانیکساں سانس لینا،روزانہ کا معمول برقرار رکھنا اور پیچھے وطن میںپریشان فیملیز سے پْر سکون انداز میں بات کرنا شامل ہے۔بھارتی شہر سیون کے47سالہفور مین گوپل شرما نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہم وطن واپس جائیں تو ہمیں کون کام دے گا جو اس قدر ادائیگی کرے جو ہمیں یہاں مل رہی ہے؟ پاکستان میں اٹک سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ڈیلیوری ڈرائیور اذان طاہر کا کہنا ہے کہ آپ کو اس جاب میںپْرسکون رہنا ہے۔جنگ کی صورتحال بدلتی رہتی ہے لیکن ہماری ضروریات نہیں بدلتیں۔ ہمیں یہاں کما نا ہے۔
وی آئی پی حج کی جھلکیاں
حج میں دنیاوی امتیازات ختم ہو جاتے ہیں۔امیرغریب،کالے گورے،طاقتور اور کمزور اسٹیٹس سے خالی سادہ کپڑوں میں ملبوس ہو کر سب اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔اس کے بجائے لگژیکمرے، خصوصی ائیر کنڈیشنڈ خیمے،اچھے کھانے،نجی ٹرانسپورٹ، پہرہ دار کی خدمات اور پریمیم پیکیجزجن کی لاگت ہزاروں ڈالر ہے۔معمر افراد یا کمزوروں کیلئے سہولیات تو سمجھ میں آتی ہیں۔لیکن جو ہو رہا ہے ، وہ ضرورت سے زیادہ ہے۔یہ اشیائے صرف سے فائدہ اٹھانا، برانڈنگ اورطبقاتی نظام مراتب کے عالمی کلچر کا آئینہ دار ہے جسے جدید زندگی میں بالادستی حاصل ہے۔یہ ایک وسیع تر رجحان کا بھی آئینہ دار ہے جو عالمی سرمایہ داری کے دور میں بہت سی مذہبی روایت کو درپیش ہے۔ روحانیت کی اشیاء یا خدمات کے استعمال میں تبدیلی۔عقیدہ پرودکٹ بن گیا ہے۔حج صنعت بن گیا ہے۔مقدس سفر لگژری مارکٹیں بن گئی ہیں۔معاشروں میں اقتصادی عدم مساوات بڑھ گئی ہے۔روحانیت کا بر ملا اظہار رنجشوں میں اضافہ کر رہا ہے ا ور مذہب کی اخلاقی ہمہ گیریت کو کمزور کررہا ہے۔ مسلمانوں کو مشکل سوالات پوچھنے چاہئیں کہ جدید دور کا حج کیا صورت اختیار رہا ہے؟
آبنائے ہرمز بند ہے لیکن دنیا نہیں رکے گی
جتنی دیر دنیا خلیج فارس کے تیل کے بغیر رہے گی،اسے اس کے تیل کی اتنی کم ضرورت ہوگی۔ ہر گزرتے دن دنیا خلیج کے سمندری راستے بر آمدات کے بغیر رہنا سیکھ رہی ہے۔ مارکیٹیں فعال ہیں اور ہمیشہ جواب دیتی ہیں۔اول، کچھ تیل پہلے ہی خلیج سے کچھ جہازوں سے امریکی حفاظت میں یا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پائپ لائنوں کے ذریعہ خلیج سے باہر جا رہا ہے۔ان پائپوں میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ سمندر کے ذریعہ جانے والے تیل کے ایک چوتھائی کی جگہ لے سکے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر