... loading ...
محمد آصف
قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی ۖ کا مطالعہ ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے ۔ یہ وہ سرچشمۂ ہدایت ہیں جن کے بغیر ہم اصل اسلام
سے جڑ ہی نہیں سکتے ۔ اسلام محض ایک مذہبی شناخت کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے ، اور اس ضابطے کو سمجھنے کے لیے براہِ راست
قرآن و سنت سے تعلق ناگزیر ہے ۔ ہر شخص اپنی علمی و ذہنی استعداد کے مطابق ان مقدس مصادر سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے ۔ کوئی عام فہم
آیات سے اخلاقی سبق لیتا ہے ، کوئی احادیث سے روزمرہ زندگی کے آداب سیکھتا ہے ، اور کوئی ان میں غور و فکر کر کے ایمان کی تازگی حاصل
کرتا ہے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دین کے بعض مسائل نہایت دقیق، گہرے اور اجتہادی نوعیت کے ہوتے ہیں جن کے لیے وسیع
علم، عربی زبان پر عبور، اصولِ فقہ سے واقفیت اور ہزاروں احادیث پر نظر درکار ہوتی ہے ۔ یہ کام ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال کافی ہے ۔ اگر کسی کو معمولی نزلہ، زکام یا بخار ہو جائے تو عموماً وہ پیناڈول کی گولی استعمال کر لیتا
ہے ۔ یہ ایک عمومی اور آسان علاج ہے جس سے وقتی افاقہ ہو جاتا ہے ۔ لیکن اگر معاملہ ہارٹ سرجری، دماغی امراض یا کسی مہلک اور پیچیدہ
بیماری کا ہو تو کیا ہم خود علاج کرنے بیٹھ جائیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ ہم فوراً کسی ماہر اور سرٹیفائیڈ ڈاکٹر سے رجوع کریں گے جو برسوں کی تعلیم،
تجربے اور مہارت کے بعد اس قابل ہوا ہے کہ پیچیدہ مسائل کا درست حل تجویز کر سکے ۔ اسی طرح دین کے سادہ اور بنیادی مسائل تو ہر شخص
قرآن و سنت سے سمجھ سکتا ہے ، لیکن جب مسئلہ اجتہادی نوعیت اختیار کر جائے ، مختلف دلائل میں تطبیق درکار ہو، یا بظاہر متعارض نصوص کو جمع
کرنا ہو، تو ہمیں اعلیٰ پایہ کے علماء کرام کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ جیسے ایک ہی بیماری کے بارے میں مختلف ڈاکٹروں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے ، اسی طرح
ایک ہی علمی یا فقہی مسئلے پر مختلف علماء کی آراء بھی مختلف ہو سکتی ہیں۔ میڈیکل سائنس میں اگر دو ماہرین کسی علاج کے طریقے پر اختلاف
کریں تو وہ ایک دوسرے کو میڈیکل سائنس سے خارج نہیں کرتے ، بلکہ ہر ایک اپنے علم، تحقیق اور تجربے کی بنیاد پر رائے دیتا ہے ۔ یہی
حال فقہی اختلاف کا ہے ۔ ائمہ اور مجتہدین کا اختلاف دراصل علمی وسعت اور تحقیق کا مظہر ہے ، نہ کہ تفرقہ یا گمراہی کی علامت۔ ان کا
اختلاف ہمارے لیے آسانی اور وسعت پیدا کرتا ہے ۔ اگر ایک رائے پر عمل مشکل ہو تو دوسری رائے میں سہولت مل جاتی ہے ، اور یوں
شریعت کا حسن نمایاں ہوتا ہے ۔بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی خاص عالم یا فقہ کی پیروی کرتا ہے تو گویا وہ ایک انسان
کی رائے پر عمل کر رہا ہے ۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ ایک مستند اور متقی عالم کی رائے دراصل قرآن و سنت ہی سے ماخوذ ہوتی ہے۔ وہ اپنی طرف سے کوئی نیا دین ایجاد نہیں کرتا بلکہ نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں مسئلے کا حل پیش کرتا ہے ۔ عام مسلمان چونکہ براہِ راست
دلائل کے استنباط کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے وہ ایک ماہر عالم کی رہنمائی قبول کرتا ہے ۔ گویا وہ عالم کی ذات کی نہیں بلکہ قرآن و سنت کی تعبیر کی پیروی کر رہا ہوتا ہے ۔ جیسے میڈیکل سائنس میں وقت کے ساتھ ساتھ نئے مسائل سامنے آئے اور ان کے حل کے لیے نئے شعبہ جات قائم ہوئے ، اصول و ضوابط مرتب کیے گئے ، اور تخصصات وجود میں آئے ، اسی طرح علمِ دین میں بھی باقاعدہ اصول تشکیل دیے گئے ۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر فقہ کے مختلف مکاتب فکر وجود میں آئے ، جیسے فقہ حنفی، فقہ مالکی، فقہ شافعی، فقہ حنبلی اور فقہ جعفریہ۔ ان سب کی بنیاد قرآن و سنت ہی پر ہے ، البتہ اصولِ استنباط میں کچھ اختلافات کی وجہ سے جزوی مسائل میں فرق پایا جاتا ہے ۔ یہ اختلاف دراصل علمی تنوع ہے ، نہ کہ تضاد۔
ان فقہی مکاتب کی بنیاد رکھنے والے ائمۂ کرام ہمارے لیے باعثِ احترام اور قابلِ تقلید ہیں۔ وہ نہ صرف حافظِ قرآن تھے بلکہ لاکھوں احادیث کے حافظ اور ماہر بھی تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگیاں علمِ دین کے حصول اور اس کی تدوین میں صرف کیں۔ ان کی تقویٰ، دیانت اور اخلاص کی گواہی تاریخ دیتی ہے ۔ لہٰذا اگر آج کوئی شخص کسی بھی معتبر فقہ کی پیروی کرتا ہے تو درحقیقت وہ قرآن و سنت ہی کی پیروی کر رہا ہوتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں ”صراط الذین انعمت علیھم” یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ نے انعام فرمایا، اختیار کرنے کی دعا سکھائی گئی ہے ۔ مفسرین کے مطابق اس میں انبیائ، صدیقین، شہداء اور صالحین شامل ہیں۔ ائمۂ مجتہدین بھی انہی صالحین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے دین کو سمجھنے اور سمجھانے میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں بعض ایسے لوگ بھی سامنے آتے ہیں جن کا علم ناقص ہوتا ہے ، مگر وہ دین کے بڑے بڑے مسائل میں رائے
زنی شروع کر دیتے ہیں۔ وہ اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے اسے جھگڑے اور الزام تراشی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ نتیجتاً نوجوان نسل
کنفیوژن کا شکار ہو جاتی ہے ۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص خود کو مفتی اور مفسر سمجھنے لگا ہے ، حالانکہ دین کا علم باقاعدہ محنت، اساتذہ کی
صحبت اور سالہا سال کی ریاضت سے حاصل ہوتا ہے ۔ ایسے افراد سے محتاط رہنا چاہیے جو امت کو تقسیم کرنے اور علماء کی توہین کرنے میں
مصروف رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل کامیابی نہ تو محض مناظروں میں ہے اور نہ ہی دوسروں کو غلط ثابت کرنے میں، بلکہ اصل کامیابی
دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرنے اور حضور نبی اکرم ۖ کی سچی محبت کو بسانے میں ہے ۔ جب دل میں تقویٰ اور عشقِ رسول ۖ ہوگا تو
انسان خود بخود اعتدال، برداشت اور احترام کا راستہ اختیار کرے گا۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بنائے گا بلکہ اسے علمی وسعت سمجھے گا۔ وہ اپنے
مسلک پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے مسلک کا احترام کرے گا۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اپنی
استطاعت کے مطابق دین سیکھیں، اور جہاں معاملہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہو وہاں مستند علماء کی طرف رجوع کریں۔ جیسے ہم اپنی جان کے
معاملے میں ماہر ڈاکٹر پر اعتماد کرتے ہیں، ویسے ہی اپنی آخرت کے معاملے میں ماہر علماء پر اعتماد کریں۔ اختلاف کو فتنہ نہ بنائیں بلکہ اسے
رحمت سمجھیں۔ ائمہ کرام کی خدمات کا اعتراف کریں اور ان کے قائم کردہ اصولوں کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں۔ اگر ہم اس توازن کو
قائم کر لیں یعنی براہِ راست قرآن و سنت سے تعلق بھی ہو اور مستند علماء کی رہنمائی بھی تو ہم نہ صرف فکری انتشار سے بچ سکتے ہیں بلکہ امتِ
مسلمہ کے اتحاد اور اعتدال کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اصل اسلام سے جوڑتا ہے ، اور یہی وہ طرزِ
فکر ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے ۔
٭٭٭