... loading ...
محسن داور اور علی وزیر کو اُن کے حال پر چھوڑتے ہیں!! ابھی خڑ کمار چیک پوسٹ پر حملے کا قضیہ رہنے دیجیے!! ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہیں۔نوگیارہ کے بعد پاکستان کے اندر جو حالات برپا تھے، وہ مملکت کی شناخت اور جواز کے درپے ہو گئے تھے۔ امریکی ہیبت سے دم بخود اور اپنی سرگرمیوں میں بے خود جنرل پرویز مشرف دھما چوکڑی میں مصر...
زندگی اے زندگی!!!کیا ہمارا کوئی سراغ ملتا ہے؟ ہم آخر کون ہیں؟گہرے معانی کے سمندر میں غرقاب دراصل لایعنیت کے شکار! چیکو سلواکیہ کا ممتاز ادیب کافکا اچانک مطلع ذہن پر اُبھرتا ہے۔جس کی تخلیقات میں لایعنیت اور امید کی لہریں گاہے گڈ مڈ ہوجاتیں تھیں۔ ایک احمق کی کہانی ایسے ہی تو نہیں ...
ایک مزاح نگار نے لکھا تھا: پاکستانی افواہوں کی سب سے بڑی”خرابی“ یہ ہے کہ سچ نکلتی ہے۔ایک بات کہنے سے رہ گئی، پاکستانی خبروں کی سب سے بڑی”خوبی“یہ ہے کہ اکثر جھوٹ نکلتی ہے۔ بات مکمل ہوئی، مگر کہاں؟ وطن عزیز کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں ماضی دُہراتے دُہراتے ایسے تحیر خیز حالات مہی...
ابھی اس انوکھے لاڈلے کو چھوڑیئے! جو معصوم بچوں کے درمیان ہمیں تعلیم کرتا تھا کہ اگر کوئی کرپشن کرتا ہے تو کرنے دیں، پانچ سال بعد عوام اُن کا احتساب خود کریں گے۔ قانون و انصاف کو ایسی انوکھی تعبیر دینے والے حمزہ شہباز کو اگلے زمانوں میں کوئی پاکستان کے مونٹیسکو سے کیوں نہ یاد کرے ...
بھارت میں عام انتخابات اپریل اور مئی میں متوقع ہے۔ مودی حکومت پانچ ریاستوں کے انتخابات ہارنے کے بعد تیزی سے اپنی مقبولیت کھورہی ہے۔ چنانچہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی (جنہیں گجرات کا قصاب بھی کہا جاتا ہے )ایک بار پھر گجرات کی وہی بوسیدہ وفرسودہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے پورے بھا...
بدترین تعصب اور بے پناہ لالچ نے ہمارا تماشا بنا دیا۔ مرعوب لوگوں کی دانائی بھی مضحکہ خیز ہوتی ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کامیاب دورے کے بعد رخصت ہوئے مگر اس دورے کو ناکام دیکھنے کے خواہشمندوں کا ماتم ختم نہیں ہورہا۔ کیسے لوگ ہیں ہم؟ تعصبات نے جنہیں اندھا کردیا۔ گروہی نفسیات کے سام...
پاکستان میں طاقت کے سب سے عالی مرکز پر جلوہ افروز شخصیت کے خیالاتِ عالیہ کا یہ نکتہ تمام بڑے حلقوں میں زیرِ گردش ہے کہ ’’وہ ایک نارمل پاکستان چاہتے ہیں‘‘۔ متوازی طور پر ایک اور تصورِ پاکستان سے بھی ہمیں سابقہ ہے۔ یہ ریاست مدینہ کا تصور ہے جو ہمارے پیارے وزیراعظم عمران خا ن کا ہے۔...
انحہ ساہیوال دل میں برچھی بن کر اُترتا ہے۔ زندگی ہم سے روٹھ گئی ۔ ہمار اطرزِ فکر تباہی کو دعوت دیتا ہے۔ یہ تبدیلی سرکار کا امتحان ہے، کڑا امتحان!!!کہا جاتا ہے ، جنگ میں بوڑھے بچوں کے لاشے اُٹھاتے ہیں جبکہ امن میں بچے بوڑھوں کو دفناتے ہیں۔پاکستان میں زمانہ امن و جنگ کی تمیز مشکل ہ...
صحافی کو ہمیشہ باسی روٹی اور تازہ سفر درپیش رہتا ہے۔ اسلام آباد کا سہ روزہ قیام غیر معمولی حالات کی تفہیم میں نہایت معاون رہا۔ سی پی این ای کے پاکستان میڈیا کنونشن نے مالکان ومدیران کے کان کھڑے کیے۔ اخبارات وجرائد جن مصائب کے شکار ہیں، مدیران اس کا سامنا کرنے کے لیے کمربستہ ہوچکے...
ابھی تو بلاول بھٹو نے اپنی سیاست کا آغاز کیا ہے! مگر یہ کیا ،وہ اپنے انجام کو گلے لگانے کے لیے اتنے اُتاؤلے کیوں ہوگئے؟ الیگزینڈر پوپ نے 1711ء میں ایک نظم’’An Essay on Criticism‘‘ لکھی جس کے ایک جزوِ فقرہ نے انگریزی زبان کو ایک کہاوت دینے میں مدد دی: ’’Fools rush in where angels...
بھٹو رجحان کے متعلق تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرنے والی ہے۔ مسلم سرزمین پر کبھی علم کے مینار دنیا کو شرماتے تھے۔ اندلس کو یاد کرتے ہیں جہاں عظمت ٹوٹ کر برستی تھی۔ مسلم دینا کے بڑے دماغ جہاں اکٹھے ہوئے۔ عظیم مفسر امام قرطبی ؒ یہیں قرطبہ میں 1214 میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ مغرب کا وہی شہر ...
گردش لیل ونہار میں پاکستان کے زمین وآسمان بدل رہے ہیں۔ عمران خان اگر ناکام بھی ہوئے تو بھی ہر آن تغیر پزیر حقائق نہیں بدل سکیں گے۔گردوپیش کا پرانا پن لوٹ نہ سکے گا۔ عوامی ذہن کا اجتماعی سانچہ پُرانی ساخت سے اوبھ گیا ہے ۔ رہنماؤں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس تبدیلی سے آگاہ نہیں۔عوامی ذ...
وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو سو دن ہوئے!ان سو دنوں میں عمران خان نے پوری محنت کی کہ اُن کی رہی سہی حمایت بھی باقی نہ رہے۔ اُنہوں نے خود پر اعتماد کے چراغ اپنی بے تدبیریوں کی پھونکوں سے ایک ایک کرکے بجھائے۔ یہ سودن نئے پاکستان کا دیباچہ تھے، اب شاعر کی زبان میں پوچھ رہے ہیں کہ ...
پاکستان نے اپنی آزادی کی حقیقت کو ہی نہیں سمجھا۔ یہ برہمن ذہن سے ناقابلِ نباہ یقین سے پھوٹی تھی۔ انگریز سے بغاوت ہمارے تصورات کا لازمی نتیجہ تھا۔ مگر ہندوؤں سے دوری تو اُن کے برتاؤ سے پیداہوئی تھی۔ اس کی سب سے بڑی مثال قائداعظمؒ تھے۔ وہ ایک دانا اور مثالی عملیت پسندتھے۔وہ ہندو مس...
چینی قونصلیٹ پر حملے نے پاکستان کے اندر بھارت کو سمجھنے کے لیے کچھ نئی راہیں کشادہ کردی ہیں۔ بھارت کی برہمن ذہنیت نسلی برتری کے ساتھ کس پست طریقے سے بروئے کار آتی ہے، اس کی تفہیم پاکستان میں ریاستی سطح پر ہی نہیں دانشوروں کی سطح پر بھی دشوار رہی ہے۔ افسوس ناک طور پر پاکستان میں ب...
یوٹرن’’ اچھے‘‘ ہوتے ہیں جیسے صابن فروشوں کے لیے داغ، جیسے اداکاراؤں کے لیے اسکینڈلز۔ جیسے سنی لیون کے لیے۔ ۔۔۔ ارے چھوڑیے!!! یہ بھی کوئی بحث ہے۔عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بڑے بہت ہوگئے ہیں۔اُن کے موضوعات کی فہرست دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ کانٹ ، ہابس اور ہیگل کو ہی ز...
متحدہ قومی موومنٹ پر ہرگزرتاد ن تنگ سے تنگ ہوتا جارہا ہے۔ بانی متحدہ کے خود کش حملے نے اسے ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ۔ ایم کیوایم کے ساتھ اب وہی کچھ ہورہا ہے جو کبھی ایم کیوایم نے کراچی اور اہلِ کراچی کے ساتھ کیا تھا۔ ہر ایک کا سانس بند کرنے اور ہر ایک پر زمین تنگ کردینے والی متحدہ ا...
دیکھیئے! حضرت علامہ اقبال کا دن کب طلوع ہوتا ہے، جب ماہ ربیع الاول ہمارے دلوں کی دہلیز پردستک دے رہا ہے۔ کبھی وہ دن تھے جب لطف اللہ خان شہر قائد میں اپنے آواز خزانے کے ساتھ رونق بڑھاتے تھے۔ گاہے اُن کی خدمت میں حاضر ہوتا ، اور قدیم ادوار کی عمیق آوازوں میں گداختہ گم ہوجاتا۔ ہائے ...
یہ ایک نئے عہد کی کتاب ہے، جس کا ابھی دیباچہ بھی نہیں لکھا جاسکا۔ مگر لوگ اتنے اُتاؤلے ہو گئے کہ ابھی سے اس کا تتمہ پڑھنے کو بے تاب ہیں۔ پاکستانی سیاست کا بارہواں کھلاڑی اب پہلا بلے باز بن چکا ہے، یہاں تک کہ قومی سیاست کا کپتان بھی۔ دوسری طرف پہلے بلے بازی کرنے والے دونوں سیاسی ...
وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد صحافت کے’’ سیونگلیوں‘‘ نے اپنا کھیل شروع کردیا ہے۔ سیونگلی بھی کیا زبردست کردار ہے۔ ذرا جان لیجیے!انیسویں صدی کے کارٹونسٹ اور ناول نگار جارج ڈو موریئر اپنے زبردست ناول ٹرلبائی (Trilby) کے حوالے سے بہت مقبول ہوا۔ سیونگلی اُسی ناول کا ایک افسانوی...
ترک شاعر اور ناول نگار ناظم حکمت نے کہا: ’’غرض کہ یہ سب دل کا معاملہ ہے‘‘۔ رومانوی انقلابی کہلانے والے ناظم حکمت کا انتقال جون1963 ء کو ہوا، اُن کا سابقہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے ’’جغادریوں ‘‘ سے نہیں پڑا، وگرنہ وہ کہتے: ’’غرض کہ یہ سب پیٹ کا معاملہ ہے‘‘۔ ابھی ابھی ایک تحریر ن...
موضوع شہبا زشریف کی گرفتاری ہی ہے، مگر کم بخت علی مختارنقوی مقطع میں سخن گسترانہ بات کی طرح آٹپکے ہیں! علی مختار نقوی بائیں بازو کی سیاست کرتے تھے، سیاست میں جھکولے کھاتے رہے، اُبھر سکے نہ کہیں باریابی پاسکے۔ کسی نے سمجھایا کہ جیل جانے کی صورت نکالیں ، کامیابی قدم چومنے لگے گی۔ ...
بساطِ خاک سے ہم اٹھتے ہیں!!یہ سرشار کردینے والے لمحات ہیں۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب فرمایا ۔ اللہ اکبر ! یہ خطاب نہیں، پاکستان نے اقوام عالم میں اپنا سر اُٹھایا ہے۔ایسے تاریخ ساز لمحات کو سیاسی تعصبات کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہئے۔وزیر خارجہ...
ایک بے گناہ کی پھانسی کے ہنگام کسی نے جلاد سے پوچھا کہ اُسے کیامحسوس ہو رہا ہے؟اُس نے فوراً کہا کہ صاحب پیٹ کی بات اور ہے اور دل کی بات اور!!!قومی صحافت کا ماجرا بھی مختلف نہیں۔ ہمارے تجزیہ کار روسی دانشور لیمو نوف کی طرف منقسم ہیں۔ مگر ان میں لیمونوف کی مانند دانش بھی نہیں چھلکت...