وجود

... loading ...

وجود

اسٹیبلشمنٹ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ڈھونگ اب بند کرے ،مولانا فضل الرحمن

پیر 19 اگست 2024 اسٹیبلشمنٹ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ڈھونگ اب بند کرے ،مولانا فضل الرحمن

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ میں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کا ڈھونگ اب ختم کردو، تم امریکا کی پیروی میں پاکستان اور قبائل کے اندر جنگ کی کیفیت اس لیے پیدا کرنا چاہتے ہو تاکہ ہمارے مالی اور معدنی وسائل پر قبضہ کر سکو۔لکی مروت میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس طرح معاملات نہیں چلیں گے کہ صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور ہمارے قبائل بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہوں، ان کے بچے اور خاندان محفوظ نہ ہوں، اپنے اور اسٹیبلشمنٹ بتائے کہ اس سرزمین پر امن کیسے آ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تو آپ کا ساتھ دیا، اس خطے اور پاکستان کے لیے امن کی بھیک مانگی تھی اور یہ مشن لے کر الیکشن سے پہلے افغانستان چلا گیا تھا، وہاں کی قیادت سے بات کی اور کامیاب ہو کر واپس آیا لیکن آج اس کامیابی کو ناکامی میں کس نے بدل دیا۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ کہ تم نے الیکشن کرائے لیکن ہمیں یہ الیکشن اور اس کے نتائج قبول نہیں ہیں، ہم دھاندلی کی بنیاد پر منتخب لوگوں کو عوام کا نمائندہ تصور نہیں کر سکتے ، تم نے عوام ووٹ کے حق سے محروم رکھا لیکن ایسا نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ میں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کا ڈھونگ اب ختم کردو، تم دہشت گردی کی بنیاد پر صرف امریکا کی تقلید کررہے ہو، امریکا دہشت گردی کے خلاف کوئی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ وہ دہشت گردی کا خالق ہے ، اس نے پوری دنیا میں جنگ چھیڑی ہوئی ہے تاکہ اپنی فوجیں وہاں بھیجنے کا جواز پیدا کر سکے اور تم امریکا کی پیروی میں پاکستان اور قبائل کے اندر جنگ کی کیفیت اس لیے پیدا کرنا چاہتے ہو تاکہ مالی اور معدنی وسائل تک تمہاری رسائی ممکن ہو سکے اور میرے وسائل پر تم قبضہ کر سکو۔انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اس سرزمین پر پشتون کا کیا حق ہے ، میں جانتا ہوں کہ ہمارے مجبور اور محکوم علاقوں پر قبضہ کس کا ہے لیکن ہم اپنے وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے، یہ حق ہماری نسلوں اور آنے والے بچوں کا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ تمام قوم پرست جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ہمارے حقوق پر کسی کو قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ آج عالمی قوتیں میرے ملک کی مذہبی شناخت کو بھی ختم کرنا چاہتی ہیں، وہ اپنی معاشی جنگ پاکستان کی سرزمین پر لڑنا چاہتی ہیں اور جب میرے صوبے اور بلوچستان سے سی پیک جیسی عالمی تجارتی شاہراہ گزر رہی ہے تو آپ کس عالمی قوت کے اشارے پر چین کی اتنی بڑی سرمایہ کاری کو ضائع کر رہے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنے دوستوں کو گنوایا، آج چین ہم پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں، سعودی عرب جیسا دوست اور متحدہ عرب امارات ہم پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں، کوئی ہمیں پیسہ دینا نہیں چاہتا تو پاکستان کی اقتصاد کس کے ہاتھ میں ہے ، یہ بداعتمادی کیوں پیدا ہوئی، ہم نے دنیا کو اپنے سے کیوں دور رکھا ہے اور عالمی برداری کی تائید و حمایت کیوں حاصل نہیں کر سکے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو بُرا بلا کہیں گے ، لیکن یہ نہیں دیکھیں گے کہ بھارت کیوں ترقی کرررہا ہے اور ہم کیوں پیچھے رہ گئے ہیں، صرف بھارت ہی نہیں بلکہ افغانستان جو 3 سال ہوئے آزاد ہوا، وہاں امارات اسلامیہ کی حکومت ہے ، ان کا ڈالر مستحکم ہے لیکن ہمارا پیسہ نیچے کی طرف جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران بھی ترقی کررہا ہے لیکن صرف پاکستان تباہ ہورہا ہے اور آج ہم ملک بچانے نکلے ہیں، پہلے بھی ہم نے پاکستان کو بچانے کے لیے کردار ادا کیا اور آج بھی تیار ہیں لیکن یہ لوگ تو سنجیدہ ہوں، ان کی کرسی پر قبضہ ہے ، ان کی اتھارٹی پر قبضہ ہے ، ملک ویران ہے ، بیرونی سرمایہ کاری آج ملک میں نہیں ہے ، یہ لوگ کس کو دھوکے میں رکھ رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ لوگ امریکا کو بولتے ہیں کہ مطمئن رہیں، علاقے میں بدامنی ہے چین یہاں سرمایہ کاری نہیں کرے گا لیکن چین کو بول رہے ہیں پیسے اور ڈالر دیں تاکہ ہم آپ کے راستے کی چوکیداری کریں، ایک کو بھی جھوٹ بول رہے ہیں اور دوسرے کو بھی، انہوں نے معیشت بھی تباہ کردی اور میرا مذہب بھی تباہ کررہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ دینی مدارس نے ایسا کون سے گناہ کیا ہے کہ آپ روزانہ مدارس پر چڑھائی کر دیتے ہیں، مدارس کے طلبہ قرآن اور حدیث پڑھتے ہیں، تم ان کو قتل کی دھمکیاں دیتے ہو، تم نے مدارس کی رجسٹریشن بند کی ہوئی ہے اور کہتے ہو کہ مدارس رجسٹریشن نہیں کرا رہے ، جھوٹ کیوں بولتے ہو۔ان کا کہنا تھا کہ آج یہودی صہیونیوں نے ہمارے بیت المقدس پر قبضہ کیا اور اکتوبر سے آج تک 40ہزار سے زائد بے گناہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جس میں اکثریت بچوں اور ماؤں بہنوں کی ہے ، 40 ہزار تو وہ ہیں جن کو فلسطینی اپنے ہاتھ سے دفنا چکے ہیں، 10 ہزار سے زائد شہدا آج بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ہم اپنے غزہ کے بہن بھائیوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتے ، ان کے شانہ بشانہ نہیں لڑ سکتے لیکن یہاں سے ان کی حمایت میں آواز تو بلند کر سکتے ہیں اور ان کی مالی مدد کر سکتے ہیں، ہماری سیاسی اور اخلاقی حمایت ان کے ساتھ ہے ۔


متعلقہ خبریں


ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

  ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

مضامین
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام وجود هفته 28 مارچ 2026
کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام

جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ وجود هفته 28 مارچ 2026
جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ

قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات وجود هفته 28 مارچ 2026
قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات

بھارت میں توانائی کابحران وجود جمعه 27 مارچ 2026
بھارت میں توانائی کابحران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر