وجود

... loading ...

وجود

بھکاری مافیا نے شہریوں سے کروڑوں روپے بٹورلیے

منگل 25 اپریل 2023 بھکاری مافیا نے شہریوں سے کروڑوں روپے بٹورلیے


ایک اندازے کے مطابق اس سال رمضان المبار ک اور عید کے دوران صرف کراچی کے شہریوں نے جذبہ خدا ترسی کے تحت کم وبیش 10 کروڑ روپے ملک کے کم وسیلہ اور لاچار خاندانوں اور افراد کی امدادواعانت پر خرچ کئے اور اس رقم کا بڑا حصہ اندرون ملک سے آئے ہوئے پیشہ وربھکاری لے اڑے۔
یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ اس ملک میں دوسرے مافیاؤں کی طرح ”بھکاری مافیا“ بہت ہی منظم اور اثر و رسوخ والا ہے۔ بلکہ پورے ملک میں ایک چین ہے جس کا تعلق دوسرے ممالک سے بھی ہے۔ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ایک دو بار بھکاریوں کی یلغار کی خبر چھپی اور نشر ہوئی پھر ٹھنڈ ہو گئی حالانکہ حالات یہ ہیں کہ کراچی شہر کی کوئی بھی سڑک یا مصروف گزر گاہ اور چوراہا ایسا نہیں تھا،جہاں بھکاریوں کے غول کے غول موجود نہیں ہوتے تھے اور یہ حضرات گزرنے والوں خصوصاً اشارے پر کھڑے حضرات کی گاڑیوں کے شیشے بجا بجا کر ان کو متوجہ کرتے تھے۔ اگر جائزہ لیاجائے تو اندازہ ہوتاہے کہ یہ کام باقاعدہ منظم طریقے سے شفٹوں میں ہوتا ہے صبح سے دوپہر تک بچوں والی خواتین، وائپر والی لڑکیاں اور لڑکے اور کچھ بزرگ نما لوگ نظر آتے ہیں۔ دوپہر کے وقت ذرا صحت مند قسم کے بھکاری ہوتے ہیں اور شام کی شفٹ میں خواجہ سراؤں کے ساتھ بوڑھے افراد پائے جاتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ بے شمار معذور ملیں گے جن کے بازو یا پاؤں خراب ہوتے ہیں اور احساس ہوتا ہے کہ پولیو کے باعث ان کا یہ حال ہواہے۔ حالانکہ حقیقت مختلف ہے ان کے علاوہ ایک ٹانگ یا ایک بازو کٹے ہوئے بھکاری بھی جابجا نظر آتے ہیں، رمضان المبارک شروع ہونے سے قبل ہی کراچی پر بھکاریوں کی یلغار کا سلسلہ شروع ہوگیاتھا۔ یہ سب اپنی جگہ آج کل ایک اور پریشانییہ تھی کہ گھر میں افطار سے کچھ دیر پہلے جو رمضان المبارک کے دوران انتہائی مصروفیت کا وقت ہوتا ہے ہر کوئی اپنی اپنی بساط کے مطابق تیاری میں مصروف ہوتا ہے کہ افطار تسلی سے کی جائے۔ گھر میں اس مصروفیت کے وقت اچانک گھنٹی بجتی تھی اہل خانہ کو خیال ہوتاتھا کہ شاید کوئی محلے دار ہو، جب دروازہ کھولا جاتا تو کوئی نہ کوئی بھکاری کھڑا پایا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا، ان لوگوں کو افطار کے وقت کا تو کجا کسی کی نماز یا گھر والوں کے آرام کا بھی کوئی احساس نہیں ہوتا تھا،عموماً یہ افراد ایسے دلدوز انداز سے فریاد کرتے ہیں کہ دل پسیج ہی جاتا ہے۔ گھروں کے چکر لگانے والوں میں ایسی خواتین بھی ہیں جو چھوٹے بچوں کو ساتھ لئے ہوتی اور ان کو یتیم ظاہر کر کے بھیک مانگتی تھیں۔ یوں یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتاتھا اور شاپنگ سینٹرز میں تو ان کی تعداد میں کسی بھی وقت کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ایک سے زیادہ بار یہ انکشاف ہو چکا کہ مافیا والے بچوں کے اغوا میں ملوث ہوتے ہیں۔ کراچی سے بچہ اغوا کر کے پشاور مافیا کے پاس بھیج دیا جاتا اور لاہور والا کراچی میں بک جاتا ہے یہ لوگ ان معصوم بچوں کو خود معذور بناتے اور ان کو مشین کا نام دیا جاتا ہے۔ ان سب کے درمیان سیاست دانوں کی طرح لڑائی نہیں ہوتی اور یہ علاقے بانٹ کر یہ دھندا کرتے ہیں جہاں تک شفٹوں کا تعلق ہے تو کسی بھی بڑے چوراہے پر کچھ وقت گزار کر دیکھ لیں کہ مافیا والے باقاعدہ گاڑیوں میں یہ ”مشینیں“ لا کر ٹھکانے پر بٹھاتے اور شفٹ پوری ہونے پر لے بھی جاتے ہیں۔اور یہ تمام کام ہماری معزز اور فرائض کی بجاآوری میں ہمہ وقت چوکس پولیس کے سامنے ہورہاہوتاہے،شاپنگ سینٹرز میں ان پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں ہٹی کٹی بھکاری عورتیں شاپنگ کیلئے آنے والی خواتین کے دوپٹے گھسیٹ رہی ہوتی تھیں لیکن کیا مجال کے فرائض کی انجام دہی میں مصروف پولیس اہلکار ان کو ٹوک دیں حالانکہ قانون کے مطابق بھیک مانگنا جرم ہے اور ان کو گرفتار کرکے سزا دی جانی چاہئے لیکن فرائض کی بجاآوری میں مصروف پولیس اہلکاروں کو چونکہ بھکاری مافیا کی جانب سے بھی مبینہ طورپر ایک معقول نذرانہ پیش کیاجاتاتھا، اس لیے یہ ان لوگوں کی حفاظت کو بھی اپنے فرائض کا ایک حصہ تصور کرتے ہوئے شاپنگ کیلئے آنے والوں کے بجائے ان ہٹے کٹے بھکاریوں کے تحفظ کا فرض انجام دیتے نظر آتے تھے،یہی وجہ ہے کہ پورے رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو تنگ کرنے اور حقیقی معنوں میں مستحقین کا حق مارنے والی اس بھکاری مافیا کے کسی ایک فرد کو بھی اینٹی بیگری ایکٹ کے تحت گرفتار کرنے کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی جبکہ اسکوٹر پر بچوں کو شاپنگ کے لیے لے جانے والے سیکڑوں افراد کے چالان کرکے پولیس اپنا فرض پورا کرتی نظر آئی، ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر چالان کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ہی اگر اس بھکاری مافیا کے خلاف کوئی نمائشی ہی کارروائی کی جاتی سیکڑوں نہیں بلکہ درجنوں ہی صحیح جعلی معذوروں اور ہٹے کٹے بھکاریوں کو کم از کم رمضان کے دوران ہی پابند سلاسل کردیاجاتاتو شاید شہریوں کو ان بھکاریوں کی طوفان بدتمیزی کا اتنا زیادہ سامنا نہ کرنا پڑتا، یہ صحیح ہے کہ ہماری انتظامیہ اور پولیس کے پاس بہت بکھیڑے ہیں لیکن جب حکومت باقاعدہ اعلان کر رہی ہے کہ بھیک جرم ہے تو پھر اس کے سد باب کے لیے بھی کچھ تو کرنا چاہئے۔


متعلقہ خبریں


سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

مضامین
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

قیامت کا پتھر وجود منگل 30 جون 2026
قیامت کا پتھر

ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ وجود منگل 30 جون 2026
ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ

شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر