... loading ...
ڈاکٹر جمشید نظر
سورج کے مدار میں ہر دو سال میں ایک دیو ہیکل اور خطرناک ترین سیارچہ(خلاء میں گھومنے والی بڑی چٹان) اپنا چکر مکمل کرتا ہے جس کی چوڑائی
1608 فٹ ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں نے اس سیارچہ کو ایک مخصوص کوڈ388945 نمبر دے رکھاہے جسے (TZE-2008) بھی کہا جاتا
ہے۔یہ خطرناک اس لئے سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا مدار زمین کے راستے سے گذرتا ہے۔ خوش قسمتی سے خلاء میں گھومتی ہوئی یہ خطرناک اوربڑی چٹان 16مئی 2022کو 2بجکر 48منٹ پر بغیر کوئی نقصان پہنچائے زمین کے قریب سے تقریبا25لاکھ میل کے فاصلہ سے گزرگئی۔
اس سیارچہ یا چٹان کے زمین کے پاس گزرنے سے قبل دنیا بھر کے میڈیا میںیہ خبریںگردش کرتی رہیں کہ ایک دیو ہیکل سیارچہ زمین کو تباہ کرنے کے لئے بڑھ رہا ہے بلکہ کئی آسٹرالوجسٹ،نجومیوں اور پنڈتوں نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے بعد دنیا فنا ہوجائے گی لیکن سب
پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں اورسیارچہ خاموشی سے زمین کے پاس سے گزر گیا۔ اگرچہ سیارچہ کا فاصلہ زمین سے کافی دورتھا لیکن خلائی فاصلہ کی
مناسبت سے یہ فاصلہ کافی کم ہے۔ناسا کے سائنس دانوں کے مطابق یہی سیارچہ سن 2020میں بھی زمین کے نزدیک ترین فاصلہ 1.7ملین میل
سے گزرا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیارچہ زمین کے پاس گزرتے ہوئے درمیانی فاصلہ تبدیل کرتا ہے۔ اگرخدانخواستہ یہ درمیانی فاصلہ بالکل ختم ہوگیا تو سیارچہ سیدھازمین سے ٹکرا جائے گا۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ سیارچہ شاید دنیا کو فنا کرنے کے لئے ہی سورج کے مدار میں زمین کے پاس گھوم رہا ہے۔
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس سے قبل بھی ڈائنو سار کے دور میں ایسے ہی سیارچہ زمین کی جانب بڑھے اور دنیا ختم ہوگئی ۔دسمبر 2024 میں بھی اپالو کلاس سے تعلق رکھنے والا ایک خلائی سیارچہ دریافت ہوا جسے YR4-2024کا نام دیا گیا۔ یہ خلائی سیارچہ پندرہ منزلہ عمارت کے برابر یعنی 220 فٹ کا ہے۔ناسا کے سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ 22دسمبر2032کو یہ خلائی سیارچہ زمین سے ٹکرا سکتا ہے جس کے گرنے کی شدت 8میگا ٹن کے برابر ہوگی یعنی ہیروشیما پر گرنے والے ایٹم بم سے 500گنا زیادہ ہوسکتی ہے جو خدانخواستہ کسی بھی بڑے شہر کو ملیا میٹ کرسکتا ہے تاہم ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی ESAکا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ خلائی سیارچہ زمین سے ٹکرانے کی بجائے اس قدر قریب سے گزرے گا کہ اربوں لوگ اس کو دیکھ سکیں گے۔
محققین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خلاء میں اڑتی ہوئی یہ خلائی چٹانیں ایک دن زمین کو فنا کردیں گی کیونکہ کروڑوں سال پہلے جب زمین پر ڈائنو سار سمیت کئی دیوہیکل جانوروں کا مکمل راج تھاجب ان دیو ہیکل جانوروں اور پرندوں نے زمین پر بربریت شروع کردی تو پھراچانک آسمان سے پراسرار آفت نازل ہوئی اور تمام دیوقامت جانوراور پرندے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔آسمان سے زمین پر نازل ہونے والی وہ پراسرار آفت سیارچہ تھا ۔برطانوی ادارے بی بی سی کی ایک تازہ ترین ڈاکیومینٹری میں پیش کئے جانے والے نظریے نے ساری دنیا کو حیران کردیا ہے۔ ڈاکیومینٹری”The Day The Dinosaur Died”میں اس راز سے پردہ فاش کیا گیا ہے کہ کروڑوں سال قبل زمین پر نو میل لمبا شہاب ثاقب جسے سیارچہ بھی کہتے ہیں، گرااور زمین پر بسنے والے ڈائنو سار سمیت دیوہیکل جانوروں اور پرندوں کا کرہ ارض سے مکمل صفایا کردیا۔ماہرین فلکیات نے اندازہ لگایا گیا ہے کہ شہاب ثاقب جب زمین پر گراتو ہر طرف راکھ کے گہرے بادل چھا گئے جس کی وجہ سے سورج کی روشنی زمین تک پہنچنا بند ہوگئی ۔ایک رپورٹ کے مطابق دس سال تک زمین پر راکھ کے گہرے بادل چھائے رہے اور سورج کی روشنی سے محروم رہی ، اس کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا گیااور ہر طرف برف ہی برف جم گئی جس کے نتیجے میں زمین پر اُگنے والی نباتات کا بھی خاتمہ ہوگیا اور ان نباتات کو کھا نے والے دیگر جانور بھی مارے گئے۔
ناسا کی حالیہ ریسرچ کے مطابق زمین کے گرد ایسے ہی 36ہزارخلائی سیارچہ موجود ہیں جو کسی بھی وقت زمین کی تباہی اور بربادی کا سبب بن سکتے ہیںچنانچہ اسی بات کا شعور لوگوں میں اجاگر کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے زیراہتمام ہر سال30جون کو خلائی سیارچہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ دنیا کو خبردار کرتے ہوئے آگاہ کیا جاسکے کہ اگر خدانخواستہ کسی خلائی سیارچہ نے دنیا کی جانب رخ کیا تو ہمیں کیا اقدامات کرنا ہوں گے۔زمین سے ٹکرانے والے سیارچہ کے موضوع پرہالی وڈ کی کئی فلمیں بھی بن چکی ہیں جن میں ناسا کی ٹیم اس سیارچہ کو خلاء میں ہی تباہ کردیتی ہے جو زمین کو تباہ کرنے کے لئے بڑھ رہا ہوتا ہے ۔ دنیا کوخلائی سیارچوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر وقت تیاررہنا ہوگا۔
٭٭٭