وجود

... loading ...

وجود

جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے، مریم نواز

بدھ 08 مارچ 2023 جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید نے 2 سال مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے اور 4 سال عمران حکومت کی حمایت کے ذریعے ملک تباہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے، ان کا کورٹ مارشل کیا جانا چاہیے، ہائبرڈ نظام لانے والوں کو سب سے بڑی سزا ووٹ کو عزت دو کی شکل میں عوامی آگاہی مہم سے ملی ہے، عمران خان کی ریٹائرڈ آرمی چیف پر تنقید بزدلی کی نشانی ہے، ہم آج بھی حاضر سروس کا کھلے عام نام لیتے ہیں، ثاقب نثار اب بھی متحرک ہیں، ججز کی آڈیو لیک سے سچائی پر مہر ثبت ہوگئی ہے، ججز کا محاسبہ کیسے ہوگا؟ جب جنرل باجوہ آرمی چیف بنے تو وزیراعظم ہاؤس میں ان کی فیملی کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی ۔ ایک انٹرویومیں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا کہ غیر آئینی کردار ادا کرنے پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو نشانِ عبرت بنانا چاہیے تاکہ آئندہ پھر کسی کو اس قسم کی جرآت نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جب جنرل فیض حمید حاضر سروس ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو وہ ان کے خلاف عدالت گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے درخواست جمع کرائی تھی اور ثبوت پیش کیے تھے جس میں سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ جنرل فیض اس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی صاحب کے گھر گئے تھے اور ان کو کہا تھا کہ نواز شریف اور مریم کو آپ نے سزا دینی ہے اور ضمانت نہیں دینی اور آپ کو یاد ہوگا کہ انہوں نے آن کیمرہ بیان دیا اور کہا کہ آپ کو کیسے پتا کہ سزا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 2 سال کی محنت ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ دو2 سال جو وہ (جنرل فیض) محنت کرتے رہے اور اس کے بعد جو عمران کو لانے کے بعد 4 سال اس ملک کو تباہ و برباد کرنے کی محنت کی ہے اس پر نہ صرف ان کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے بلکہ ان کو نشانِ عبرت بھی بنانا چاہیے تاکہ آئندہ پھر کسی کو اس قسم کی جرات نہ ہو۔ مریم نواز نے کہا کہ ہائبرڈ نظام’ لانے والوں کو سب سے بڑی سزا ‘ووٹ کو عزت دو’ کی شکل میں عوامی آگاہی مہم سے ملی ہے۔  مریم نواز نے اکتوبر 2020 میں گوجرانوالہ جلسے سے نواز شریف کے خطاب کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لمحے کو فخر سے دیکھتی ہیں جب نواز شریف نے نام لے کر ایک پیج کو للکارا تھا اور پورا اسٹیڈیم ایک کونے سے دوسرے کونے تک عوام کے نعروں سے گونج اٹھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن سے جو آگاہی عوام میں بیدار ہوئی اور جو عمران کی حکومت ختم ہوئی اس میں نواز شریف کی بہادری اور اس جرات کا بہت اہم کردار تھا جو حاضر سروس لوگوں کے خلاف کی تھی۔ مریم نواز نے کہا کہ آج بھی ہم کھلے عام نام لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اب بھی حاضر سروس لوگوں کے نام لیے ہیں اور میں نے ان کی تصاویر بھی لوگوں کو دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ میں نے یہ کام تب نہیں کیا جب کوئی جانے والا کمزور ہو جاتا ہے، ایسا تو کوئی بزدل شخص ہی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو مسائل پاکستان کی سیاست یا پاکستان کے نظام کو لاحق ہیں ان کی نشاندہی مسلم لیگ نے تب کی جب ایسے عناصر پوری طاقت اور اختیار میں تھے۔ مریم نواز نے کہا کہ ٹرک کی جو کہانی آڈیو لیک میں آئی ہے وہ صرف ٹرک کی کہانی نہیں بلکہ اس کا ایک پس منظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پرویز الہٰی صاحب کی آڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں وہ جج کا نام لے کر کہہ رہے ہیں کہ اس کے سامنے ہمارا کیس لگوا دو اور ان کو یہ کہہ رہے ہیں کہ میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں تو اس سے یہ ظاہر ہورہا تھا کہ وہ مراسم بہت پرانے بھی ہیں اور بہت مضبوط بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بات صرف ٹرک، ملاقات یا بینچ فکسنگ کی نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ اس معاملے نے صرف اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے مہر لگائی ہے جو بہت دیر سے عوام کے سامنے ہے۔ مسلم لیگ (ن) یہ کہتی ہے کہ جب بھی مسلم لیگ کی کوئی درخواست دائر ہوتی ہے یا پارٹی کا کوئی مقدمہ آتا ہے تو اس میں وہی بینچز بنتے ہیں اور یہ بات اب زبان زدِ عام ہوچکی ہے کہ جب بینچ بنتا ہے تو بینچ بنتے ساتھ ہی لوگوں کو پتا ہوتا ہے کہ فیصلہ کیا آئے گا تو اس واقعے سے اس سازش کا بھانڈہ پھوٹا ہے جس کے بارے میں کچھ لوگ تو جانتے تھے تاہم جو لوگ ناواقف تھے ان کے سامنے بھی سب کچھ واضح ہوچکا ہے کہ انصاف کے دو معیار ہیں۔ ایک مسلم لیگ (ن) کے لیے اور ایک دوسری جماعت کے لیے۔عدلیہ کے محاسبے سے متعلق انہوںنے کہاکہ عوامی محاسبہ اس لیے ضروری ہے کہ جب تک عوام میں آگاہی نہیں تھی تو کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی۔ انصاف کے جو دو معیار ہیں اس کی نشاندہی کرنا ہمارا کام ہے۔ اس ملک کی قسمت سیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام کے ہاتھ میں ہیں۔ لوگوں کو سب پتا ہونا چاہیے کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے۔ جب عوامی سطح پر کوئی بات آجاتی ہے تو پھر اس سے آپ بھاگ نہیں سکتے،پھر اداروں پر بھی اس چیز کا دبائو پڑتا ہے اور پڑنا بھی چاہیے کہ جو اداروں کو بدنام کرنے والی کالی بھیڑیں ہیں ان کا احتساب کیا جائے،کوئی بھی سزا اور جزا سے اوپر نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کو قیمت ادا کرنا ہوگی۔اس سوال پر کہ ثاقب نثار، جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید سے کبھی ملاقات ہوئی تو مریم نواز نے کہا کہ ان کی ثاقب نثار سے تو شاید کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تاہم جنرل باجوہ صاحب سے ایک ملاقات ضرور ہوئی تھی جب وہ چیف بنے تھے،پہلی مرتبہ چیف بننے کے بعد جب وہ وزیرِاعظم ہائوس تشریف لائے تھے تو میری ان سے ملاقات ہوئی تھی اور اس وقت ان کی فیملی بھی ساتھ تھی۔مریم نواز نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو قوم کا سب سے بڑا مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی متحرک ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان (ثاقب نثار) کا بیان دیکھ رہی تھی اور جس طرح کی اب وہ باتیں کررہے ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ آج بھی متحرک ہیں اور وہ اس وقت جتنا بھی جھوٹ بول لیں، قوم ان کے بارے میں سب کچھ اچھی طرح جانتی ہے تاہم میں یہ سمجھتی ہوں کہ ثاقب نثار صاحب اس قوم کے سب سے بڑے مجرم ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انصاف کی سب سے بڑی کرسی پر بیٹھے تھے مگر ایک کرنل اور ایک بریگیڈیئر ان کو ہدایات دیا کرتے تھے۔ جنرل فیض ان کو ہدایات دیتا تھا اور انہوں نے اس سے ملاقات سے انکار نہیں کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ ثاقب نثار نے قوم پر جو ظلم کیا اور جو کچھ انہوں نے ایک منتخب وزیرِاعظم نواز شریف کے ساتھ کیا اس سے بڑا ظلم یہ تھا کہ انہوں نے ایک نااہل، نالائق اور ہر طرح سے بدکردار شخص کو لاکر قوم پر مسلط کردیا۔ پھر صرف مسلط نہیں کیا بلکہ اس کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ بھی دیدیا۔ انہوں نے کہا کہ ثاقب نثار اب عوامی اجتماع میں جانے کے قابل نہیں ہیں،وہ شادیوں پر جب جاتے ہیں تو چھپتے پھرتے ہیں اور شاید یہی ان کیلئے سب سے بڑی سزا ہے تاہم میں یہ سمجھتی ہوں کہ ایسے کرداروں کو عبرت کا نشان بنائے بغیر یہ قوم ترقی نہیں کرسکتی اور نہ اس ملک کی سمت درست ہوسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر