وجود

... loading ...

وجود

مسلم لیگ (ن) نے چیف جسٹس کے ریمارکس کا معاملہ ایوان میں اٹھا دیا

جمعه 10 فروری 2023 مسلم لیگ (ن) نے چیف جسٹس  کے ریمارکس کا معاملہ ایوان میں اٹھا دیا

پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر سعدیہ عباسی نے چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے دیے گئے ریمارکس کا معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے نہ کہ عدلیہ اور افواج پاکستان۔ ہم نے اس وقت بھی عدلیہ کا احترام کیا جب عدلیہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی اور چار چار مارشل لاؤں کو توسیع دی، آج بھی قومی اسمبلی میں اکثریت قائم ہے، سینیٹ بھی مکمل طور پر کام کر رہا ہے، پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کو بھی عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے، گزشتہ دوتین دنوں سے سپریم کورٹ سے جو بیان آیا ہے وہ جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے جبکہ اپوزیشن اراکین ایک بار پھر حکومت پر برس پڑے اور کہا ہے کہ نو اپریل کو خرید و فروخت کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت برہنہ ہو گئی ہے، نااہل لوگوں سے چھٹکارے کے لیے صاف و شفاف الیکشن ضروری ہے، ملک میں جمہوریت کو بچانے اور عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی کیلئے آئین پر عمل کرنا ہو گا، چاہے بارش ہو دھوپ ہو یا جنگ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ جمعہ کو سینٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ گزشتہ دوتین دنوں سے سپریم کورٹ سے جو بیان آیا ہے وہ جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ آئین کے تحت ہر ادارے کی حدود واضح ہے، آئین کا نچوڑ آئین کے ابتدائیہ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار اعلیٰ اللہ تعالی کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ آج کل بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں،آزادی اطہار رائے پر قدغن لگائی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نو اپریل کو خرید و فروخت کے ذریعے قائم ہونیوالی حکومت برہنہ ہو گئی ہے۔ انہوں کہا کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورا نظام برہنہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی انا نے ایک جمہوری حکومت کو ڈی ریل کیا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ عمران خان پاپولر لیڈر ہیں،25مئی کو عوام بغیر کسی کی کال پر خود سڑکوں پر نکل آئے ۔ انہوں نے کہا کہ نااہل لوگوں سے چھٹکارے کیلئے صاف و شفاف الیکشن ضروری ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ایک سال سے لٹکائے ہمارے استعفے اپنے سیاسی مفاد کے تحت منظور کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جمہوریت کو بچانے اور عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی کے لیے آئین پر عمل کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ رجیم چینج کے اہم کردار کو پنجاب کا نگراں وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کٹھ پتلی چاہے گورنر پنجاب ہو یا گورنر خیبر پختونخوا دونوں آئین کی اپنے طور پر تشریح کر رہے ہیں، جو افسران الیکشن کمیشن جا کر اپنی معذوری ظاہر کررہے ہیں وہ آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں،آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ الیکشن نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے بارش ہو دھوپ ہویا جنگ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ عرفان صدیقی سپریم کورٹ کے ریمارکس کو پارلیمنٹ کی حرمت پر حملہ قرار دے رہے ہیں،عرفان صدیقی صاحب! آپ عمر کے ایک اہم حصے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی حرمت کی باتیں کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے جب آپ نے نیب قوانین ختم کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس الیکشن کرانے کیلئے پیسے نہیں مگر کابینہ کی فوج بھرتی کرنے کیلئے پیسے موجود ہیں،اس وقت ملک میں سول ڈکٹیٹرشپ موجود ہے۔ عرفا ن صدیقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شبلی فراز نے مجھے شرم وحیا دلائی، مجھے یاد ہے کہ ان کے دور میں انسانی حقوق کی کتنی پاسداری ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کس طرح افیون و چرس کے مقدمات قائم کیے جاتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کچھ ایسے بیانات دیے جس کا کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے عمران خان کو واحد صادق و امین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا احترام لازم ہے میں بھی عدلیہ کے احترام کا قائل ہوں۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ ہم نے اس وقت بھی عدلیہ کا احترام کیا جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت بھی عدلیہ کا احترام کیا جب عدلیہ نے چارچار مارشل لاؤں کو توسیع دی۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ ہم نے اس وقت بھی عدلیہ کا احترام کیا جب ایک باوردی شخص کو صدر مملکت کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کی اجازت دی۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ آئین میں ریاست کے تینوں ستونوں کے اختیارات کا آئین میں واضح تعین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ملک میں تجاوزات ہو رہی ہے اس طرح اختیارات کی تقسیم میں بھی توسیع ہو رہی ہے۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ ہر تجاوز کا رخ پارلیمنٹ کی جانب ہے، اس ریمارکس کو میری گزارش پر سینیٹ کی قانون و انصاف کی کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی جانب سے یہ کہنا کہ پارلیمنٹ نامکمل ہے انتہائی نامناسب ہے۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ آج بھی قومی اسمبلی میں اکثریت قائم ہے، سینیٹ بھی مکمل طور پر کام کر رہا ہے، پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کو بھی عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم نے کہا کہ دو الفاظ کا چرچہ ہے ایک عزت اور دوسرا توہین، عزت کرانا اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اورخیبر پختونخوا میں نوے روز میں الیکشن کرانا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں جوکچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آجکل رائے دینے پر بھی مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تنقید کرے تو اس کو اصلاح کے ذمرے میں لیں، توہین کے ذمرے میں مت لیں۔ انہوں نے کہاکہ عزت کیلئے درخواست کرانے ضرورت نہیں ہوتی ،عزت رویوں سے ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پر عمل نہ کیا گیا تو ملک خانہ جنگی کی جانب جا سکتا ہے۔ شہزاد وسیم نے کہا کہ پوری کوشش ہو رہی ہے کہ پی ٹی آئی کے بحال ہوئے ممبران حلف نہ لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبران نے قومی اسمبلی آنے کا ارادہ کیا تو آناً فاناً ایوان کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔ شہزاد وسیم نے کہا کہ ہیلتھ کارڈز کے پروگرام کو بھی ختم کیا جا رہا ہے، اس کی وجہ ہے کہ ان کی ہمدردیاں الیکشن میں عمران خان کی طرف نہ جائیں۔ سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد غیر آئینی نہیں اس تحریک سے متعلق سابق اسپیکر اورسابق ڈپٹی اسپیکر کے اقدامات غیر آئینی تھے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اسمبلی تحلیل کی ایڈوائس غیر آئینی تھی، صدر کا سابق وزیراعظم عمران کی ایڈوائس پر عمل کرنا غیر آئینی تھا۔ سینیٹر آصف کرمانی نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ دس دنوں سے پیٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے، ییٹرول مافیا کے سامنے حکومت بے بس ہوگئی ہے، مجھے خود پیٹرول کے لیے تین تین پمپس پر جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومتی رٹ بالکل نہیں ہے، حکومت سے مٹھی بھر پٹرولیم مافیا کنٹرول نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ان مافیاز کو پکڑ کر مچھ جیل بھیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ بوجھ مڈل کلاس پر ڈالاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت قربانیاں دیں مڈل کلاس نے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صاحب کی قائم کردہ کمیٹی نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کمی کی سفارش کی ہے، بے شک کم کرے مگر خدا کے واسطے ہماری تنخواہوں کو پبلک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ افسران کی تنخواہوں کو بھی پبلک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تو لاکھوں میں پنشن لینے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف نائن پاک میں ایک بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ابھی تک ملزمان کو پکڑنے میں ناکام ہے، معاملے کو داخلہ کمیٹی میں بھیج کر آئی جی اسلام آباد کوبلایا جائے۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ 75 سالوں میں سیاست دانوں، بیورو کریسی اور ججز نے بائیس کروڑ عوام کیلئے کیا کیا؟ سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ حکومت نے گریڈ سترہ سے اوپر کے افسران کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا، مگر ججز اور جرنیلوں کو استثنیٰ دیا گیا، کیا ججز اور جرنیل اس زمین کی مخلوق نہیں۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر سہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر