وجود

... loading ...

وجود

ارشد شریف کے قتل کی سازش پاکستان میں ہوئی، فیصل واوڈا کا دعویٰ

بدھ 26 اکتوبر 2022 ارشد شریف کے قتل کی سازش پاکستان میں ہوئی، فیصل واوڈا کا دعویٰ

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ سینئر صحافی ارشد شریف کا قتل ہوا ہے جس کی سازش پاکستان میں ہوئی، ارشد شریف اسٹیلشمنٹ سے رابطے میں تھا اور پاکستان آنا چاہتا تھا ،ارشد شریف کا کوئی ثبوت لیپ ٹاپ یا موبائل نہیں ملے گا، شواہد مٹا دیے گئے ہیں، ارشد شریف کا اس ملک اور دنیا سے جانا غیرت کی بات ہے، کوئی کھڑا ہو یا نہیں، کوئی ڈرے یا مرے میں ضرور کھڑا ہوں گا، لانگ مارچ میں خون ہی خون ،جنازے ہی جنازے نظر آرہے ہیں، لاشوں اور خون کا کھیل ملک میں بند ہونا چاہیے، میں نے ویڈیو بھی بنائی ہے اور نام بھی دے دیے ہیں، مجھے کچھ ہوا تو سازشی شخصیات بھی ماری جائیں گی۔بدھ کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ ارشد شریف کا اس ملک اور دنیا سے جانا غیرت کی بات ہے، کوئی کھڑا ہو یا نہیں، کوئی ڈرے یا مرے میں ضرور کھڑا ہوں گا، میرا وہ دوست0 بھی تھا اور میرا میزبان بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شہادت وہ ایک حادثہ نہیں ہے، آنے والے دنوں میں بہت کچھ بتاتا رہوں گا اب میں نہیں رکوں گا، اگر ارشد شریف کو گول لگ سکتی تو پھر گولی کسی کو بھی آپ اور مجھے بھی لگ سکتی ہے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ ارشد شریف کا قتل ہوا ہے اور اس کی سازش پاکستان میں ہوئی ہے، ارشد شریف کا کوئی ثبوت لیپ ٹاپ یا موبائل نہیں ملے گا، شواہد مٹا دئیے گئے ہیں، اس کی تحقیقات کہاں پہنچتی ہے، خاص طور پر ہمارے نظام میں انصاف کا تو سب کو پتا ہے،جہاں حادثہ ہوا ہے ، وہاں کے حالات پاکستان یا پاکستان سے بدتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 20گولیاں چلیں اور ارشد شریف کو 20 گولیاں ماری گئیں ایسا نہیں ہے، میرے خیال میں گاڑی کے اندر یا بہت قریب سے مارا گیا ہے، ارشد شریف کو دو گولیاں لگیں، جو سینے اور سر پر ہیں۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ کہانی بنائی گئی بچہ اغوا ہوا اس کیلئے گولی ماری گئی، اس گاڑی کے اندر منصوبہ بندی سے قتل صرف ارشد شریف کا ہوا ہے کسی اور کا نہیں ہوا، جو خرم اور وقار نامی شخص آ رہے ہیں، یہ میرے اور آپ کے بس کا کام نہیں اور نہ پاکستان میں کسی اور سیاسی شخصیت کام ہو کہ وہ کینیا کے شہر میں دو گھنٹے دور ایک فارم ہاؤس کا انتظام کرے اور اس میں چھپائے اور دنیا میں کسی کو پتا نہ ہو اور یہ حادثہ پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں نے ویڈیو بنا کر ان لوگوں کے نام دے دیے ہیں، میں نے ویڈیو بھی بنائی ہے اور نام بھی دے دیے ہیں، بین الاقوامی اور قومی سطح پر دے دیے ہیں اور مجھے کچھ ہوا اور مارا گیا تو جو شخصیات اس سازش کا حصہ ہیں وہ بھی 3 گھنٹے کے اندر اسی طرح ماری جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کتنے بھی بڑے طاقت ور لوگ ہوں ان کو میرا بڑا واضح پیغام ہے، مجھے گولی لگی اور مرا تو تین سے 5 گھنٹے میں تمہیں بھی گولی لگے گی اور تم بھی مروگے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سازش اور ٹولہ بنایا گیا، ارشد شریف نہ بھاگنے والا اور نہ ملک چھوڑنے والا آدمی تھا، ان پر ایف آئی آرز کٹیں تاہم ارشد شریف ملک چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو سازشیوں نے ڈرایا، بتایا اور مجبور کیا اور وہ شخصیت تھی، جن پر یقین کرنا بنتا ہے اور ان کو یہاں سے نکال دیا گیا، جب نکال دیا گیا تو وہ دبئی پہنچا۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ جب وہ دبئی پہنچا تو کہا گیا کہ کسی اسٹیبلشمنٹ یا کسی نامعلوم ادارے نے دبئی سے نکالنے کیلئے دباؤ اور وہاں سے نکال دیا، یہ بھی بالکل بے بنیاد اور جھوٹ ہے، جتنے دن ویزا تھا وہ اتنے دن دبئی میں رہا، جب ویزا ختم ہوگیا تو ان کو دبئی چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بتایا گیا کہ لندن چلے گئے ہیں تاہم وہ لندن بھی نہیں گئے تھے، پھر اس شخص نے جس پر وہ بھروسہ کر رہا تھا اور جو منصوبہ بندی کر رہا تھا اور سازش کر رہا تھا اور جس سازش کے حصے کے اندر آج پورا پاکستان پھنسا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس کو کہہ کے تھک گیا ہوں، آستینوں کے سانپ کے بارے میں بتا چکا ہوں، اپنے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو بتا چکا ہوں کہ یہ جو سازش رچائی جا رہی ہے، اس کے تانے بانے اور سازش کے فائدے اور مقاصد کچھ اور ہیں، سب کو الٹی پٹڑی پر چڑھا دیا گیا ہے۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان پرامن مارچ کرنے جا رہے ہیں، جو ہمارا جمہوری حق ہے لیکن میں واضح طور پر بتا رہا ہوں مجھے اس مارچ کے اندر خون ہی خون، موت ہی موت اور جنازے ہی جنازے نظر آرہے ہیں اور وہ جنازے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں معصوم پاکستانیوں کو چند لوگوں کی سازش کے تحت مرنے نہیں دوں گا اپنے آخری وقت تک کوشش کروں گا کہ ملک میں یہ خون اور لاشوں کا کھیل بند ہو۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف اپنے مقصد، بیانیے اور سوچ میں ایمان داری سے کھڑا تھا، اس کو موت کا ڈر تھا نہ اس کو پیسے سے خریدا جاسکتا تھا لیکن ان کو جو مقاصد بتائے گئے اس کے پیچھے سازش تھی۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ میں آئندہ دنوں میں ہفتوں میں نہیں وہ سب پردے چاک کردوں گا، مجھے اب فکر نہیں ہے، اپنے گھر والوں، بیوی بچوں اور ماں باپ کو بتا کر آیا ہوں اگر مجھے کچھ ہوگیا تو تحفے میں ان کی لاشیں بھی ملیں گی، میں حلف میں بتا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو تحفے میں ان کی لاشیں بھی ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو دبئی سے کینیا کوئی عام آدمی نہیں بھیج سکتا، کینیا میں وہ کیا کرتا رہا اس میں سازشی لوگ ہیں جو ملک کو توڑنا چاہتے ہیں اور میری پارٹی کو توڑنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک قتل ہے اور اس کو ڈراما کی شکل نہ دیں، دعوے سے کہہ رہا ہوں، کوئی ثبوت نہیں ملے گا۔ فیصل واڈا نے کہا کہ مارچ میں لوگوں کا خون دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں تھا اور وہ پاکستان آنے کو تیار تھا لیکن سازش کے تحت اس کی ذہن سازی کی گئی۔انہوں نے کہاکہ میں ارشد شریف سے اس دن سے مسلسل رابطے میں تھا جب وہ ملک سے باہر چلے گئے، میرا موبائل حاضر ہے۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ جو طاقت ور شخصیات اس میں ملوث ہیں وہ مجھ سے دور نہیں ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں سارے نام سال یا مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں بتاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر چند لوگ ہیں جو اس سازشی بیانیے کو مانتے ہیں تاہم وہ تحریک انصاف کا بیانیہ اور سازش نہیں ہے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ اس وقت میں کسی کی جان بچا رہا ہوں لیکن میں ان سب کا نام لوں گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جن کی جان کو خطرہ ہے، ان کا تعلق تحریک انصاف سے باہر کے لوگ بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں ہے، جو بھی ملوث ہیں آنے والے دنوں میں سب سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو فائدہ اٹھا رہے ہیں، انہی کیلئے یہ پریس کانفرنس کی ہے۔


متعلقہ خبریں


کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ وجود - بدھ 11 فروری 2026

جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی وجود - بدھ 11 فروری 2026

امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع وجود - بدھ 11 فروری 2026

پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

مضامین
نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے! وجود بدھ 11 فروری 2026
نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!

وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی وجود بدھ 11 فروری 2026
وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی

مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر