... loading ...
جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے
ایران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اگر اس بار امریکہ نے جنگ شروع کی تو یہ پورے خطے تک پھیل جائے گی۔ اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی رد عمل دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ
تہران اپنی ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ ایران نے سعودی عرب کویت بحرین قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اہداف پر میزائل حملے کیے، ان ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور امریکی فوجی اہلکاروں کی موجودگی کوئی راز نہیں ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اگست 2024 میں بتایا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں ان کے تقریبا 40ہزار فوجی اہلکار موجود ہیں۔ قطر میں العدید ایئر بیس امریکہ کے زیر استعمال ہے جبکہ اردن
میں ٹاور 22پر بھی امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ امریکی فوجی قطر کے علاوہ بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، شام، اردن، مصر ،قبرص اور عراق میں بھی موجود ہیں ۔امریکہ کے کویت میں بھی متعدد فوجی اڈے ہیں جبکہ سعودی عرب میں بھی اس کے دو اڈے ہیں۔ ایرانی میزائل حملوں کی لپیٹ میں آنے والے خلیجی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی آف برمنگھم سے وابستہ پی ایچ ڈی محقق سمجھتے ہیں کہ فی الوقت مشرق کے ممالک خود کو صرف ایرانی حملوں کی مذمت تک ہی محدود رکھیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے امریکی یااسرائیلی حملے کی صورت میں وعدہ کیا تھا ۔ایران نے ان ممالک کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر وہ ٹرمپ انتظامیہ کو حملے سے باز رکھنے میں ناکام رہے تو پھر یہی کچھ ہوگا۔ ایران نے ہزاروں ڈرونز اور میزائل خلیجی تعاون کونسل جی سی سی کے رکن ممالک پر داغیں ہیں۔ ایران نے ماضی میں دھمکی دی تھی کہ وہ حملے میں امریکہ اڈوں کو ہدف بنائے گا اور اب ایسا لگتا ہے کہ اس کی خاص توجہ متحدہ عرب امارات پر ہے، جس کے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات مضبوط ہیں ۔ایران اس تنازع کا دائرہ وسیع کر کے فریقین کے لیے اس جنگ کی قیمت کو بڑھانا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ خلیجی ممالک اپنے اتحادی امریکی پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیں۔ الجزیرہ کے مطابق جنگ کے تنازع کے 11دنوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے تھے کہ اسرائیل تہران کا پہلا ہدف نہیں ہے اور ایران نے ان دنوں میں اسرائیل پر 433جبکہ عرب ممالک پر 3100حملے کیے ۔جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے متحدہ عرب امارات میں کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا جن میں حبشان گیس فیلڈ، باب فیلڈ، النظر ایئر بیس، فجیرہ بندرگاہ اور تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔ عراق کے شمال کردستان ریجن کے علاقے اربیل میں موجود امارتی کونسل خانے کے دفتر پر بھی دو ڈرون حملے کیے گئے ۔ایران نے متحدہ عرب امارات کے گنجان آباد علاقوں کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے بندرگاہوں ڈاکس امارتی شہروں تجارتی سینٹرمیں موجود امریکی ٹھکانوں سے دور رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو یہ جائزہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے امارات میں موجود امریکی میزائل لانچ سائٹس کو نشانہ بنائے۔ ایرانی حملوں کے نتیجے میں خلیجی منڈیوں میں سب سے زیادہ نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سیاحت اور ہوا بازی کے شعبوں کو بھی فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی کے باعث شدید نقصان پہنچا ہے۔ آبنائے ہرمزکی بندش کے باعث متحدہ عرب امارات کی یومیہ تیل کی پیداوار نصف سے بھی زیادہ کم ہو گئی ہے۔ سعودی عرب اور تہران کے درمیان 2021میں تعلقات کی بحالی کے آثار دکھائی دینا شروع ہوئے تھے اور یہ عمل مارچ 2023 میں چین کی ثالثی سے ہونے والے معاہدے کے بعد مزید تیز ہو گیا جس کے تحت ایران اور سعودی عرب کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات بحال ہوئے ،اس برف کا پگھلنا بڑی حد تک متحدہ عرب امارات کے اقتصادی مفادات اور ریاض کے ساتھ خاموش رقابت کے دوران خود کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی خواہش کے سبب تھا، لیکن موجودہ جنگ نے متحدہ عرب امارات اور ایران کے تعلقات پر گہرا اثر ڈالا ہے جس کے نتیجے میں باہمی الزامات اور دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔حالیہ کشیدگی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات نے اپنی سرزمین پر ایرانی حملوں کے بعد تہران نے اپنا سفارت خانہ بند کر دیا اور اپنے سفیر اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا۔ ابو ظہبی میں ایران کے سفیر کو بھی طلب کیا گیا تاکہ انہیں سخت الفاظ میں تحریر کردہ احتجاجی نوٹ دیا جا سکے۔ اماراتی حکام اور میڈیا نے خطے میں متحدہ عرب امارات کی حیثیت کو بطور محفوظ پناہ گاہ قرار رکھنے کی کوشش کی ۔اپنے عوام کے نام پہلے پیغام میں صدر محمد بن زید نے شہریوں اوررہائشیوں کو یقین دلایا کہ سب ٹھیک ہے اور کہا کہ ملک ابھرتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ امارات کے اندر ایرانی حملوں کی تصاویر اور ویڈیو کو بنانے شائع کرنے یا پھیلانے سے گریز کریں۔ اس ہدایت کے بعد کئی غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے ایرانی حملوں اور اس کے بعد کی صورتحال کی حقیقی یا مسخ شدہ فوٹیج شیئر کی تھی ۔ان پر ایسے الزامات عائد ہیں جن کے سزا کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ درہم جرمانہ ہے۔ امریکن اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہزاروں شیعہ افراد کو دبئی نے پاکستان ڈیپورٹ کر دیا جبکہ دوسری طرف ایرانی میڈیا جو خبریں دے رہا تھا اس کی اکثریت بالکل صحیح تھی ۔رپورٹ میں بتا گیا ہے کہ وہ کس نوعیت کے اسٹرکچرز ہیں یا ایکوپمنٹ ہے جس کو نشانہ بنایا گیا یا تو وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں یا وہ ڈیمج ہوئے۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا کے دوبڑے کمرشل امیجری پرووائڈرز ایک ویکٹر ایک پلینٹ یہ دو کمپنیز ہیں جو کمرشلی سیٹلائٹ امیجز فروخت کرتے ہیں اور امریکہ ان کا ایک بہت بڑا کسٹمر ہے ۔رپورٹ کہتی ہے کہ امریکہ نے ان دونوں کمپنیز کو منع کر دیا تھا کہ کسی کو بھی جاری نہیں کرو یعنی امریکہ یہ خوف رکھتا تھا کہ اگر یہ امیجز دنیا تک پہنچ گئے تو ہماری ساکھ متاثر ہوگی کہ ایران جیسے ملک نے 15امریکن بیسز کے 228اسٹرکچر کومکمل تباہ کر دیا یا نقصان پہنچا ۔امریکہ نے کوشش کی کہ کوئی خبر لیک نہ ہو، اس کے باوجود پھر صحافی کا کام کیا ہے صحافی اپنی جان پر کھیل کر بے خبر لوگوں کو باخبر کرتا ہے ۔یہ صحافت ہی ہے جو یہ ساری باتیں آپ تک پہنچا رہی ہے ورنہ دنیا جو کرتی ہے کیسے پتہ چلے گا۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے جن اسٹرکچرز کو نشانہ بنایا اس میں اینگرز جہاں فائٹر جیٹس کو پارک کیا جاتا ہے ،ریڈار ڈائرکس فوجیوں کی بیرکس کمیونی کیشن سسٹم فائٹر جیٹس ری فیولنگ ٹینکس، ڈیفنس سسٹم ،ہر نوعیت کا ایکوپمنٹ امریکہ کا اس جنگ کے اندر تباہ ہوا ہے اور ایک اور بڑی اہم خبر اسی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ امریکہ کیوں جنگ بند کرنے کے حق میں ہے؟ اس کی دو وجوہات ہیں ایک معیشت برباد ہو رہی ہے ،دوسرا فوج اور دفاع تباہ ہو رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران نے 190انٹرسپٹرفائر کیے اور 28فروری سے لے کر آٹھ اپریل تک 53فیصد تھاڈ انٹرپرز کا اسٹاک تھا ۔40 روزہ جنگ میں صرف 47فیصد باقی رہ گئے اور جو پیٹرو 45فیصد تھے 43فیصد استعمال کر دیے گئے۔ امریکہ میں تین اداروں نے سروے کیا ہے ۔ایکسٹراس اے بی سی نیوز اور واشنگٹن پوسٹ ،یہ دو میڈیا ہاؤسز ہیں، انہوں نے سروے کیا ہے، اس سروے میں 59فیصد امریکنزنے کہا ہے کہ ٹرمپ جسمانی اور ذہنی طور پر بطور صدر کام کرنے کے لیے ان فٹ ہو چکا ہے، جبکہ کسی ایک ایرانی شہری نے یہ نہیں کہا کہ ہمارا سپریم لیڈر ان فٹ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے ایران ایک قوم ہے ،کوئی لوگوں کا ہجوم نہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ 6 لاکھ 30 ہزار ایرانی جنگ کے دوران ایران واپس آئے ہیں۔ یہ وہ ایرانی ہیں جوامریکہ سے لے کر آسٹریلیا تک آباد تھے، یہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر ملک کی بقا و سلامتی کے لیے واپس آئے ہیں اوراب یہ لوگ جنگ کا حصہ بنیں گے۔
٭٭٭