وجود

... loading ...

وجود

تاریخ آگے بڑھانے کی تجویز مسترد، 23 مارچ کو حکومت مخالف مہنگائی مارچ کا اعلان

بدھ 26 جنوری 2022 تاریخ آگے بڑھانے کی تجویز مسترد، 23 مارچ کو حکومت مخالف مہنگائی مارچ کا اعلان

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے مہنگائی مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کے خلاف مہنگائی مارچ 23 مارچ کو ہرصورت ہوگا اور حکمرانوں کے خاتمے کیلئے آخری کیل ثابت ہوگا، عدم اعتماد کیلئے بھرپور تیاری ہونی چاہیے ،جب تک تمام جماعتیں متفق نہیں ہوتیں اس وقت تک عدم اعتماد نہیں ہوسکتا، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے مصنوعی ایمانداری کا آئینہ دکھا دیا ہے،اگر ان میں کچھ بھی شرم اور حیا ہوتی تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے تھا، یہ پورا ٹبر کرپٹ ہے،عمرا ن خان نے 22اکاؤنٹس چھپائے ہیں ،الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے اور عمران خان کو نااہل قرار دے، مری سانحہ پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو استعفیٰ دینا چاہیے، منی بجٹ سے مہنگائی کا بوجھ کئی گناہ بڑھ گیا ہے، منی بجٹ واپس لیا جائے، اب حکومت مشینوں کا سہارا لیکر دھاندلی کا سوچ رہی ہے، قوم بیدار ہے ان کو مکھی کی طرح انگلی سے پکڑ کر باہر پھینک دیں گے، صدارتی طرز حکومت ہمیں کسی صورت بھی قابل قبول نہیں، ریکوڈک کے معاملے پر خفیہ معاہدہ کیا جارہا ہے وہ سامنے لایا جائے، حکومت کا خاتمہ لازمی ہے ورنہ تقسیم اور بغاوت کے اثرات سامنے آئیں گے، آصف علی زر داری سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ منگل کو مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ مسلم لیگ (ن )کے نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں 8 سفارشات پیش کیں جس میں لانگ مارچ کی تاریخ 23 مارچ سے تبدیل نہ کرنے، پیپلزپارٹی کو لانگ مارچ میں شرکت کی اجازت دینے کی تجویز کی گئی۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہ کرنے پراتفاق کیا اور ہر صورت 23 مارچ کو مختلف شہروں سے اسلام آباد پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ پی ڈی ایم نے غیرملکی (فارن) فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے اور عمران خان کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تجویز دی کہ اگر اتحادی ایوان میں اپوزیشن کے موقف کی حمایت کرتے ہیں تو عدم اعتماد کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ میاں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کی اتحادی جماعتوں سے فوری رابطے کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مولانافضل الرحمن نے کہاکہ پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوا ،دو دن قبل اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اس کمیٹی کی سفارشات اجلاس میں پیش کی گئیں ۔ انہوں نے کہاکہ 23 مارچ کو مہنگائی مارچ ہوگا، تمام جماعتوں کی ذیلی تنظیموں کو ہدایت دی جارہی ہیں،اپنی تمام تر توانائیاں اس مارچ کو کامیاب بنانے کیلئے صرف کریں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے کونے کونے سے عوام مارچ میں شریک ہوں گے اور حکمرانوں کے خاتمے کیلئے آخری کیل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منی بجٹ سے مہنگائی کا بوجھ کئی گنا بڑھ گیا ہے ،پی ڈی ایم نے اس بجٹ کو مسترد کرکے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس حکومت نے معیشت کو بھی کھلونا بنا دیا ہے، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو بھنور میں پھنسا دیا ،عوام کی چیخیں انہیں سنائی نہیں دے رہیں ،بڑے بڑے محلات عام آدمی کی آواز نہیں سن رہے ،سارے سیاستدانوں کے خلاف کرپشن اور ہر سیاستدان کو چور چور کہا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک خود مختاری کے نام پر مالیاتی بین الاقوامی اداروں کا غلام بنا دیا گیا ہے، آزاد ریاست کی بجائے ہم ایک کالونی کا روپ دھار رہے ہیں ،ہم اپنی آزادی کا سودا کرنے کی اجازت کسی حکمران کو نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہاکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے مصنوعی ایمانداری کا آئینہ دکھا دیا ہے کیونکہ درجہ بندی میں پاکستان 117سے140پرچلا گیا،اس حکومت نے ہر سیاست دان کو چور کہا اور اپنی کارکردگی پر کوئی توجہ نہیں دی،اگر ان میں کچھ بھی شرم اور حیا ہوتی تو ان کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورا ٹبر کرپٹ ہے ،عمران خان فارن فنڈنگ میں مجرم قرار پاچکے ہیں ،اس نے بائیس اکاؤنٹس چھپائے ہیں،تنخواہ چھپانے والے کو تو اقتدار سے باہر کیا گیا مگر اکاؤنٹ چھپانے والے کو تحفظ دیا جا رہا ہے، الیکشن کمیشن روانہ کی بنیاد پر سماعت کرے اور عمران خان کو نااہل قرار دے ۔ انہوں نے کہاکہ اب یہ حکومت مشینوں کا سہارا لیکر دھاندلی کا سوچ رہے ہیں ہے ،قوم بیدار ہے ان کو مکھی کی طرح انگلی سے پکڑ کر باہر پھینک دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ای وی ایم مشین ناکام عمل ہے ہم ایسے الیکشن کو تسلیم نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ آج کل ملک میں خلائی تجویز گشت کررہی ہے ،صدراتی نظام آمریت کا دوسرا نام رہا ہے ،آئین کے ایک بنیادی ڈھانچے کوتبدیل کرنے کی یہ سازش ہے ،ہم اس سازش کو ناکام بنائیں گے ،صدارتی طرز حکومت ہمیں کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔ سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ کھاد ناپید ہوچکی ہے اس نااہل حکومت کے دور میں کسان پریشان ہیں 23مارچ میں کسانوں کا بھرپور حصہ ہوگا اس جدوجہد میں شریک رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی ذخائر پر وہاں کے بچوں کا حق ہے، بلوچستان اور سندھ کے ذخائر پر وہاں کے عوام کا حق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ریکوڈک کے معاملے پر خفیہ معاہدہ کیا جارہا ہے وہ سامنے لایا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ فاٹا کا انضمام کیا گیا ،آج چار سال ہوگئے ہیں اب تک صرف ساٹھ ارب روپے دئیے گئے ،نہ وہاں کے عوام کو نظام دیا گیا نہ اصلاحات کے اثرات بظاہر نظر نہیں آرہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کا خاتمہ لازمی ہے ورنہ تقسیم اور بغاوت کے اثرات سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مری میں سانحہ ہوا نظام سویا رہا ،پنجاب میں رپورٹ مرتب کی اس پر سرکاری عہدیداروں کو معطل کیا گیا ،اس پر عمران خان اور بزدار کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ 23مارچ کی صبح سے ظہر تک ہوتی ہے ،ہمارا لانگ مارچ ظہر کے بعد آئے گا۔ انہوں نے کہاکہ عدم اعتماد کیلئے بھرپور تیاری ہونی چاہیے ،جب تک تمام جماعتیں متفق نہیں ہوتیںاس وقت تک عدم اعتماد نہیں ہوسکتا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ 23مارچ کے بعد کسی اور مارچ کی بات نہیں ہونی چاہئے،امید رکھیں گے 23 مارچ کو تمام سیاسی جماعتیں شریک ہوں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میرا آصف زرداری صاحب سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ انہوںنے کہاکہ بلدیاتی انتخابات میں صرف کے پی کے کا دوسرامرحلہ لانگ مارچ کے قریب ہوگا،جہاں انتخاب ہوچکا وہاں سے دوگنا لوگ نکالیں گے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر