... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
ایک صبح دنیا نے ایک عجیب خبرکے ساتھ آنکھ کھولی،اعلان ہوا کہ اب انسان اپنی یادداشتیں فروخت کرسکتے ہیں، ایک نیا بازار قائم ہو چکا تھا۔ وہاں سونا، چاندی، زمین یا جائیداد نہیں بکتی تھی، وہاں یادیں بکتی تھیں۔ خوشیاں، غم، محبتیں، جدائیاں، کامیابیاں، ناکامیاں، سب کی قیمت مقررتھی۔ لوگ لمبی قطاروں میں کھڑے تھے ، کسی نے اپنی غربت کے دن بیچ دیے ، کسی نے اپنے امتحانوں کی ناکامیاں، کسی نے محبوب کی بے وفائی کی یاد فروخت کر دی، کسی نے باپ کی ڈانٹ اور استاد کی سختی۔ بازار کے باہر ایک بورڈ آویزاں تھا”۔ درد سے نجات حاصل کریں، اپنی تلخ یادیں بیچیں، نئی زندگی شروع کریں ”۔لوگ خوش تھے ، وہ سمجھ رہے تھے کہ اب زندگی آسان ہو جائے گی۔ اب نہ کوئی پرانا زخم ستائے گا، نہ کوئی بچھڑنے والا یاد آئے گا، نہ کوئی ناکامی دل دکھائے گی، چند ہی گھنٹوں میں لاکھوں یادداشتیں فروخت ہو گئیں۔ اور شام تک دنیا پہلے سے زیادہ ہلکی محسوس ہونے لگی، لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اصل کہانی اب شروع ہوئی ہے ۔
چند دنوں تک سب کچھ حیرت انگیز حد تک اچھا محسوس ہوتا رہا۔ وہ شخص جو برسوں سے کسی بچھڑے ہوئے عزیز کے غم میں جیتا تھا، اب ہنستا پھرتا تھا۔ وہ عورت جس نے زندگی میں دھوکے سہے تھے ، اب بے فکری سے مسکراتی تھی۔ وہ بوڑھا جو اپنی ناکامیوں کو یاد کرکے ہررات جاگتا تھا، اب سکون سے سونے لگا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے ، دیکھا؟ ہم نے درد کو شکست دے دی، اب زندگی کتنی آسان ہو گئی ہے ، کاش یہ بازارپہلے آ جاتا۔ مگرآہستہ آہستہ عجیب تبدیلیاں ظاہر ہونے لگیں۔ ایک نوجوان نے نوکری چھوڑ دی کیونکہ اسے یاد ہی نہیں تھا کہ بے روزگاری کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے ۔ ایک تاجر نے دوبارہ وہی غلطیاں دہرانی شروع کردیں جنہوں نے کبھی اسے دیوالیہ کیا تھا، کیونکہ وہ اپنی ناکامی کی یاد بیچ چکا تھا۔ ایک شخص نے اپنے دوست پرپھراعتماد کر لیا، حالانکہ وہی دوست پہلے اسے دھوکا دے چکا تھا، مگردھوکے کی یاد اب اس کے پاس نہیں تھی۔ لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ صرف اپنے زخم نہیں بیچ رہے تھے ، وہ ان زخموں سے حاصل ہونے والی حکمت بھی کھو رہے تھے ۔ درد چلا گیا تھا، مگر اس کے ساتھ احتیاط بھی چلی گئی تھی۔ غم ختم ہو گیا تھا، مگر اس کے ساتھ انسان کی گہرائی بھی۔ ناکامی مٹ گئی تھی، مگراس کے ساتھ تجربہ بھی دفن ہو گیا تھا۔
پھر ایک دن ایک ماں بازار کے دروازے پر کھڑی رو رہی تھی، اس نے اپنے جوان بیٹے کی موت کی یاد فروخت کردی تھی تاکہ دل کا بوجھ کم ہوجائے ، اب وہ تکلیف تو محسوس نہیں کرتی تھی، مگرایک اورمصیبت آ گئی تھی، وہ اپنے بیٹے کا چہرہ بھولنے لگی تھی، اس کی آواز، اس کی ہنسی، اس کی شرارتیں، سب دھندلی ہوتی جا رہی تھیں، وہ بار بار خود سے پوچھتی،” میں نے غم تو بیچ دیا۔ مگر کیا میں نے اپنے بیٹے کو بھی بیچ دیا؟ ” اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ اوراسی دن پہلی بار لوگوں کو شک ہونے لگا کہ شاید ہردرد دشمن نہیں ہوتا، شاید کچھ زخم انسان کے وجود کا حصہ ہوتے ہیں، شاید کچھ آنسو صرف دکھ نہیں، محبت کی گواہی بھی ہوتے ہیں، مگراب بہت دیرہو چکی تھی۔ کیونکہ یادداشتوں کا بازار روز بروز زیادہ آباد ہو رہا تھا۔ اورانسان روز بروز اپنے ماضی سے زیادہ غریب ہوتا جا رہا تھا۔
کچھ ہی مہینوں بعد دنیا بدلنے لگی، لوگ پہلے سے زیادہ خوش نظر آتے تھے ، مگر پہلے سے زیادہ خالی بھی، ان کے چہروں پر مسکراہٹیں تھیں، لیکن آنکھوں میں وہ گہرائی نہیں رہی تھی جو انسان کو انسان بناتی ہے ۔ شاعروں نے شکایت کی کہ اشعار مر رہے ہیں، مصوروں نے کہا کہ رنگ بے جان ہو گئے ہیں، موسیقارحیران تھے کہ دھنیں دل کو چھوتی ہی نہیں۔ کیونکہ محبت کی شدت، جدائی کا کرب، انتظار کی اذیت اور خواب ٹوٹنے کا درد، یہ سب وہ آگ تھی جس میں تخلیق کا سونا پگھل کر نکھرتا تھا۔ اب آگ بجھ چکی تھی، کیونکہ انسان صرف گوشت، ہڈیوں اور سانسوں کا نام نہیں، انسان اپنی یادوں کا مجموعہ بھی ہوتا ہے ، اس کی شناخت اس کے تجربات سے بنتی ہے ، اس کے فیصلے اس کی ٹھوکروں سے جنم لیتے ہیں،اس کا شعوراس کے زخموں میں پروان چڑھتا ہے ، اورجب زخم ہی نہ رہیں تو شعور کہاں سے آئے ؟
پھر ایک دن ایک اورخوفناک خبرپھیلی، یادداشتوں کے تاجروں نے صرف تلخ یادیں خریدنا بند کر دیں، اب وہ خوبصورت یادوں کی بھی قیمت لگانے لگے تھے ۔ کسی نے بچپن بیچ دیا، کسی نے ماں کی لوری، کسی نے پہلی محبت کی مسکراہٹ، کسی نے اپنے والد کے کندھے پر بیٹھ کر دنیا دیکھنے کی یاد، قیمتیں بہت اچھی تھیں۔ اورانسان ہمیشہ کی طرح فوری فائدے کے سامنے کمزور ثابت ہوا، لوگ بیچتے گئے ، بازارامیرہوتا گیا، انسان غریب ہوتا گیا۔چند دنوں بعد لوگوں کواحساس ہونے لگا یادداشتیں صرف ماضی نہیں ہوتیں، وہ رشتوں کی روح بھی ہوتی ہیں۔ اور جب روح چلی جائے تو تصویر، تصویر رہ جاتی ہے ، انسان نہیں۔
اسی رات شہر کے چند دانشوروں، شاعروں اور عام لوگوں نے ایک خفیہ اجلاس بلایا، وہ فیصلہ کرنا چاہتے تھے کہ آیا یادداشتوں کا یہ بازار واقعی نعمت ہے ۔ یا انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی؟ اجلاس شروع ہوا، ہر شخص نے اپنی کہانی سنائی، کسی نے کہا، ہم نے دکھ بیچا تھا، مگر اس کے ساتھ صبر بھی چلا گیا۔ دوسرے نے کہا، ہم نے ناکامی بیچی تھی، مگر اس کے ساتھ سیکھنے کی صلاحیت بھی ختم ہو گئی۔ تیسرے نے کہا، ہم نے جدائی کا غم بیچا تھا، مگراس کے ساتھ محبت کی قیمت کا احساس بھی کھو دیا۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک سفید بالوں والا بوڑھا اٹھا، اس نے لرزتی آواز میں کہا ہم ایک بہت بڑی غلط فہمی کا شکارہو گئے تھے ، سب نے اس کی طرف دیکھا، وہ بولا!! ہم سمجھتے رہے کہ انسان کو اس کے زخم تکلیف دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زخم ہی انسان کو گہرا بناتے ہیں، جس شخص نے کبھی ناکامی نہ دیکھی ہو، وہ کامیابی کی قدر نہیں جان سکتا، جس نے کبھی کسی کو کھویا نہ ہو، وہ محبت کی عظمت نہیں سمجھ سکتا۔ اورجس نے کبھی آنسو نہ بہائے ہوں، وہ مسکراہٹ کی اصل قیمت نہیں جان سکتا۔ کمرے میں بیٹھے لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں، اگلے دن انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یادداشتوں کا بازار بند کیا جائے ۔لیکن بازار ایک بڑی صنعت بن چکا تھا،عوام کومطالبہ مسترد کردیا گیا۔ اس بازار کا ایک خوفناک قانون تھا، انسان اپنی غلطیوں کو دوبارہ خرید نہیں سکتا تھا۔ تب لوگوں کو سمجھ آنے لگی کہ دنیا کی سب سے قیمتی دولت سونا نہیں، زمین نہیں، دولت نہیں، بلکہ وہ یادیں ہیں جو انسان کو وہ بناتی ہیں جو وہ ہے ۔ اورشاید سب سے بڑی غربت جیب کی نہیں، یادداشت کی ہوتی ہے ۔
وقت گزرتا رہا، یادداشتوں کا بازار پہلے سے بھی زیادہ وسیع ہو گیا، مگر اس کی چمک دمک کے پیچھے ایک عجیب ویرانی پھیلنے لگی، لوگ ہنستے تھے ، مگران کی ہنسی میں کہانی نہیں تھی، وہ محبت کرتے تھے ، مگر اس محبت میں گہرائی نہیں تھی، وہ جیتے تھے ، مگرزندگی میں وہ رنگ نہیں رہے تھے جو کبھی خوشیوں اور غموں کے ملاپ سے بنتے تھے ۔ پھرایک دن ایک بچہ اس بازار میں آیا، اس نے ایک سادہ سا سوال پوچھا، اگر ہم اپنی تمام بری یادیں بیچ دیں، تو اچھا انسان بننا کہاں سے سیکھیں گے ؟ بازارخاموش ہوگیا،کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، کیونکہ بعض سوالات کتابوں میں نہیں، ضمیرمیں جواب مانگتے ہیں۔ بچے نے دوبارہ پوچھا۔اوراگر ہم اپنی تمام اچھی یادیں بھی بیچ دیں، تو پھرہمارے پاس بچے گا کیا؟ اب خاموشی اورگہری ہو گئی۔ اس دن پہلی بار لوگوں نے محسوس کیا کہ یادداشتیں بوجھ نہیں ہوتیں، وہ انسان کے وجود کی اینٹیں ہوتی ہیں، ان سے ہی شخصیت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے ، انہیں نکال دیا جائے تو عمارت شاید کھڑی تو رہ جائے ، مگر اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے ، اسی شام بازار میں آنے والوں کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئی، کچھ لوگ واپس اپنے زخموں کے ساتھ جینا سیکھنے لگے ،سب کو سمجھ آ گئی تھی کہ ہر درد سزا نہیں ہوتا، کچھ درد دعائیں ہوتے ہیں، کچھ زخم استاد ہوتے ہیں۔ اورکچھ یادیں ایسی امانت ہوتی ہیں جنہیں کھونا، خود کو کھو دینے کے برابر ہوتا ہے ۔انسان کی اصل دولت اس کے بینک اکاؤنٹ میں نہیں، اس کی یادداشتوں میں ہوتی ہے ،کیونکہ دولت کھو جائے تو دوبارہ کمائی جا سکتی ہے ، مگر وہ یادیں جو انسان کو انسان بناتی ہیں، ایک بارنیلام ہو جائیں تو پھرکبھی واپس نہیں ملتیں۔
٭٭٭٭