... loading ...
اسرائیلی کمپنی کے سافٹ وئیر سے دنیا بھر میںپاکستانی وزیر اعظم عمران خان و دیگر اہم شخصیات سمیت پچاس ہزار سے زائد افراد کی جاسوسی کا انکشاف ہوا ہے ۔یہ سنسنی خیز انکشافات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ ، برطانوی اخبار گارجین اور دیگر خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں کئے گئے ۔رپورٹس کے مطابق انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ فوربڈن سٹوریز کو پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد فون نمبرز سمیت 50 ہزار سے زیادہ فون نمبرز پر مشتمل ریکارڈز تک رسائی حاصل ہوئی جن کو ہیکنگ کا ہدف بنانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور اس میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے زیر استعمال رہنے والا ایک پرانا موبائل نمبر بھی شامل ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ فوربڈن سٹوریز کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق اس فہرست میں شامل فون نمبروں کو اسرائیلی کمپنی این ایس او کے جاسوسی کے سافٹ ویئر پیگاسس کو استعمال کرتے ہوئے نگرانی کا ہدف بنایا گیا تھا۔فہرست میں شامل نمبروں میں سے دو نمبر انڈیا کی دوسری سب سے بڑی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی نگرانی کے ممکنہ اہداف میں شامل تھے ۔اس کے علاوہ راہول گاندھی کے پانچ قریبی دوست اور کانگریس سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے نمبر بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیلی جاسوس سافٹ ویئر این ایس او کی مدد سے صارف کسی بھی فون نمبر کے ذریعہ اپنے ممکنہ ہدف کے فون تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اس کی مدد سے فون کے تمام ڈیٹا کو حاصل کر سکتا ہے اور فون استعمال کرنے والے کی نقل و حرکت کو بھی جانچ سکتا ہے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور’فوربڈن سٹوریز’ کی جانب سے اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ این ایس او کا سافٹ ویئر استعمال کرنے والے 12 صارف ممالک نے نہ صرف 21 ممالک میں کام کرنے والے کم از کم 180 صحافیوں کی نگرانی کرنے کے لیے ان کے نمبرز منتخب کیے تھے بلکہ فون نمبرز کی اس فہرست میں حکومتی عہدے داروں، کاروباری شخصیات، جج، اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں کے نام بھی شامل ہیں۔تحقیق کے مطابق این ایس او کا استعمال کرنے والے صارف ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈیا، بحرین، ہنگری، آذربائیجان، میکسیکو اور دیگر ممالک شامل ہیں۔اس تحقیق کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فوربڈن سٹوریز نے 16 مختلف صحافتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جن میں واشنگٹن پوسٹ، گارجئین، دا وائیر، ہاریٹز اور دیگر ادارے شامل ہیں۔تحقیق کی تفصیلات کے مطابق انڈیا سے تعلق رکھنے والے ہزار سے زیادہ نمبر جن کو جاسوسی کے لیے بطور ہدف چنا گیا تھا ان میں کشمیری حریت پسند رہنماوں، پاکستانی سفارتکاروں، چینی صحافیوں، سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنان اور کاروباری افراد شامل ہیں۔امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ، جو کہ اس تحقیقی منصوبے کا حصہ ہے ، کے مطابق انھوں نے پاکستان وزیر اعظم عمران خان سے رد عمل لینے کے لیے رابطہ کیا لیکن انھیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب این ایس او کا پاکستان سے تعلق جوڑا گیا ہو۔دسمبر 2019 میں برطانوی اخبار گارجئین کی ایک خبر کے مطابق اس سال اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔انڈین صحافی سمیتا شرما کو حال ہی میں یہ معلوم ہوا کہ سنہ 2018 اور سنہ 2019 کے درمیان ان کا فون ہیک کیے جانے اور جاسوسی کا ہدف تھا۔ دفاعی اور خارجہ امور پر کام کرنے والی صحافی کہتی ہیں کہ اگر ان کے فون کی ہیکنگ کامیاب ہو جاتی تو اس سے ان کے سورسز یعنی ذرائع کی زندگیوں کو خطرہ ہو سکتا تھا۔سمیتا شرما تو اس حوالے سے خوش قسمت رہیں کہ ان کا فون ہیک نہیں ہوا لیکن آذربائیجان کی خدیجہ اسماعیلیوا کے ساتھ ایسا نہ ہو سکا۔آذربائیجان حکومت نے ان پر پانچ سال کی سفری پابندی عائد کر دی تھی اور ان کے خلاف اس قدر سخت جاسوسی کی جا رہی تھی کہ ان کے گھر میں خفیہ کیمرے نصب کر دیے اور ان کی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ سیکس کی ویڈیوز بھی ان کو بدنام کرنے کے لیے شائع کر دیں، اور پھر انھیں سات سال جیل کی قید سنا دی۔تاہم 18 ماہ بعد ضمانت پر رہا ہونے اور پھر سفری پابندی ہٹ جانے کے بعد خدیجہ نے جب مئی 2021 میں ملک سے روانہ ہوئیں تو ان کا خیال تھا کہ وہ اب آزاد ہو جائیں گی لیکن یہ ان کی بھول تھی کیونکہ گذشتہ تین برسوں سے ان کا فون اسرائیلی کمپنی این ایس او کے بنائے ہوئے جاسوس سافٹ وئیر کی مدد سے مسلسل نگرانی کا شکار تھا۔اس سافٹ وئیر کی مدد سے خدیجہ کے فون کا تمام مواد، ان کی نقل و حرکت، ان کے فون کا کیمرا اور مائیک کا کنٹرول سافٹ ویئر کے استعمال کرنے والے کے پاس تھا۔انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ ‘فوربڈن سٹوریز’ کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق خدیجہ اسماعیلیوا کا شمار دنیا بھر کے ان ہزاروں انسانی حقوق پر کام کرنے والے سرگرم کارکنوں، صحافیوں اور وکلا میں سے ہے جن کو اسرائیلی کمپنی این ایس او کے جاسوسی کے سافٹ وئیر ‘پیگاسس’ کو استعمال کرتے ہوئے نگرانی کا ہدف بنایا گیا تھا۔انڈیا میں کام کرنے والے صحافی جن کے نمبر اس ریکارڈ میں ملے ہیں ان کا تعلق انڈیا کے بڑے اور معتبر میڈیا اداروں جیسا کہ دا ہندو، دا وائیر، انڈیا ایکسپریس، انڈیا ٹوڈے اور دیگر سے ہے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور’فوربڈن سٹوریز’ نے یہ ابھی تک واضح نہیں کیا کہ یہ لسٹ کہاں سے آئی ہے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فہرست میں دیے گئے نمبرز میں سے 67 سمارٹ فونز کا جائزہ لیا جن پر شبہ تھا کہ ان کو جاسوسی کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ان میں سے 23 فونز میں تو یہ واضح طور پر نظر آیا کہ ان پر ہیکنگ کے حملے کامیاب ہوئے جبکہ 14 فونز ایسے تھے جن پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئی۔دوسری جانب بقیہ 30 نمبرز پر کیے گئے تجزیے مکمل نہ ہو سکے کیونکہ ان کے فونز تبدیل کر دیے گئے تھے ۔اب تک کی شائع کی گئی معلومات کے مطابق اس فہرست میں کم از کم 180 صحافیوں کے نمبر شامل ہیں جن کا تعلق دنیا کے چند معتبر اداروں جیسے اے ایف پی، سی این این، نیو یارک ٹائمز، الجزیرہ اور دیگر مختلف اداروں سے ہے ۔اس کے علاوہ فہرست میں بڑی تعداد میں انسانی حقوق کے سلسلے میں کام کرنے والے کارکنوں کے نمبر ہیں اور ساتھ ساتھ 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں ہلاک کیے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی اہلیہ اور منگیتر کے نمبر بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فہرست میں کئی ممالک کے سربراہوں اور اعلی حکومتی عہدیداروں کے بھی نمبر شامل ہیں اور اس کے علاوہ چند عرب ممالک کے شاہی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور معروف کاروباری شخصیات کے بھی نمبر شامل ہیں۔ان نمبروں کے بارے میں تفصیلات آنے والے چند دنوں میں شائع کی جائیں گی۔اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ نے فوربڈن سٹوریز اور دیگر میڈیا اداروں کو جمع کرائے اپنے جواب میں کہا کہ یہ تحقیق مغالطوں اور غیر مصدقہ مفروضوں پر مبنی ہے اور انھوں نے زور دیا کہ این ایس او تو لوگوں کی زندگیاں بچانے کے مشن پر کاربند ہے ۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا سافٹ ویئر جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور وہ پیگاسس سافٹ ویئر صرف اور صرف ان ممالک کے عسکری اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کو فروخت کرتے ہیں جن کا انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا ہوتا ہے ۔ادھر انڈین حکومت نے بھی ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان دعوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ انڈین حکومت چند مخصوص لوگوں کی نگرانی کر رہی تھی۔ہم اس بات پر پورا یقین رکھتے ہیں کہ آزادی اظہار رائے بنیادی حق ہے اور ہمارے جمہوری نظام کی بنیاد ہے ۔واضح رہے کہ ماضی میں انڈین حکومت نے اس دعوی کی تردید کی تھی کہ وہ این ایس او کے صارف ہیں۔ تاہم اس سے قبل پیگاسس کے بارے میں کی گئی رپورٹنگ سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ 2019 میں کم از کم 121 افراد کو انڈیا میں نگرانی کی لیے نشانہ بنایا گیا تھا۔واٹس ایپ نے بھی 2019 میں این ایس او کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی تھی جس میں انھوں نے الزام لگایا تھا کہ کمپنی نے 1400 موبائل فونز کو اپنے پیگاسس سافٹ وئیر کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔دسمبر 2019 میں برطانوی اخبار دی گارجئین کی ایک خبر کے مطابق اس سال کے اوائل میں اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔خبر کے مطابق یہ واضح نہیں تھا کہ اس حملے میں کون ملوث ہے لیکن خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ممکن ہے کہ پاکستان کا روایتی حریف انڈیا اس کے پیچھے ہو۔اس خبر کی تصدیق کے لیے جب برطانوی نشریاتی ادارے نے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ اس ہیکنگ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔اس واقعے سے ایک ماہ قبل نومبر 2019 میں پاکستانیِ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کی جانب سے جاری کیا گیا ایک خفیہ مراسلہ منظر عام پر آیا جس میں کہا گیا کہ وہ سینیئر حکومتی اہلکار جو کہ حساس عہدوں پر فائز ہیں وہ میسیجنگ ایپ واٹس ایپ پر سرکاری دستاویزات نہ بھیجیں، اپنے واٹس ایپ کو تازہ ترین اپ ڈیٹ کے ساتھ استعمال کریں اور 10 مئی 2019 سے پہلے خریدے گئے اپنے فون کا استعمال ترک کریں۔اس مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں نے ایسی صلاحیت حاصل کر لی جس کی مدد سے موبائل فون تک رسائی ہو سکتی ہے اور کہا گیا کہ ایک اسرائیلی کمپنی این ایس او کے سپائی ویئر کی مدد سے 20 سے زائد ممالک میں صارفین متاثر ہوئے ہیں جس میں پاکستانی صارفین بھی شامل ہیں۔مراسلے کی اشاعت کے چھ ہفتے بعد، 20 دسمبر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پریس ریلیز جاری کی جس میں میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پی ٹی اے نے پاکستان میں متاثرہ صارفین کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے نہ صرف واٹس ایپ انتظامیہ کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے بلکہ واٹس ایپ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کیے گئے حفاظتی اقدامات جن کے ذریعے مستقبل میں ہیکنگ کی روک تھام کی جا سکتی ہے کے بارے میں آگاہی حاصل کی جا سکے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ان انکشافات پر ردعمل میں کہا کہ اس رپورٹ پر انتہائی تشویش ہے ، مودی حکومت کی غیر اخلاقی پالیسیوں سے بھارت اور پورا خطہ خطرناک حد تک پولرائز ہوگیا ہے ۔وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹوئٹ میں کہا کہ بھارتی حکومت کی اسرائیلی این ایس او پیگاسس کیذریعے جاسوسی کرنے والی آمرانہ حکومتوں میں شامل ہونے کی نشان دہی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دوسرے حصے میں مودی حکومت کی جانب سے اپنے وزرا کی نگرانی کا انکشاف ہوا ہے ، این ایس او فروخت کے لیے بظاہر اسرائیلی حکومت سے منظوری لیتی ہے اور رابطے واضح ہیں۔
قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...
شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...
ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...
عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...
آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...
ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...