وجود

... loading ...

وجود

اکیسویں صدی میں اردو نعت

اتوار 27 مئی 2018 اکیسویں صدی میں اردو نعت

غزل کی ہیت میں نعت گوئی کے ساتھ ساتھ جدید شعراء نے آزاد نظم کی صورت میں بھی محبت وسیرت ِرسول ؐکے چراغ روشن کیے ہیں اور پابند نظم بھی کہی ہے۔ہائیکو بھی لکھی گئی اور ماہیے بھی ،قطعہ بھی کہا گیا اوررباعی بھی ۔سہ حرفیاں بھی منظر عام پر آئیں اور یک مصرعی نظمیں بھی:

جس نے سوچا انہیںؐ
وہ خدا کی قسم
ماورائے زمان و زمیں ہو گیا
جس نے لکھا انہیںؐ
اس کا معجز قلم
شہپرِجبرائیلِ امیں ہو گیا
جس نے چاہا انہیں ؐ
اس کی چاہت
بقا کی نگارش ہوئی
اس پہ دن رات پھولوں کی بارش ہوئی
جس نے چا ہا انہیںؐ
اس کو چاہا گیا
اس کی دہلیز تک ہر دوراہا گیا
( شبنم رومانی)
تنک مزاجوں کی سلطنت میں
بتایاجس نے
سخن حدود ِ دعا میں کرنا
لباس نا آشنا رواجوں کی سلطنت میں سکھایا جس نے
نمو کی مشتاق بے ہنر خوئے شعلگی کو
طریق ِ قطع وبرید ِجامہ
حریم ِ شمع ِ صفات ہونا
مکاشفے میں،مباحثے میں،مباہلے میں
دلیل ِ قاطع،دعائے فاتح،ثبوتِ آخر کو اپنے اوزان کی صداقت میں تولتا تھا
وہ نرم لہجے میں بولتاتھا
(اختر حسین جعفری)
جنگ ِحنین کے موقع پر
جب حضرتؐ
مال ِ غنیمت بانٹتے
آپؐ انصار کو کچھ بھی نہ دیتے
ہم اپنی کم سمجھی،کم علمی کے سبب
حصہ نہ ملنے پر اپنی محرومیوں کا کرتے شکوہ
اور تب مرے اپنے پیارے آقاؐ فرماتے
اے انصار
تم اس پر کیوں راضی نہیں ہوتے
کوئی تو اونٹ سنبھالے اور کوئی بکری
لیکن تم اللہ کے رسولؐ کو لیے گھر جائو
یہ سن کر ،پھر دیر تلک ہم سب کے آنسو
آپ ؐ کی خاکِ پا پہ شکر کا سجدہ کرتے
اس نادر بخشش پر میں بھی دل وجان سے راضی ہوتی
(کاش میں طیبہ کے انصار میں شامل ہوتی)
( ناہید قاسمی)
کاش ہو یوں انجام
دل میں انﷺ کی یاد بسی ہو
لب پر ان ﷺ کا نام
(سرشار صدیقی)
یا محمد ﷺ ترے فقیروں کی
شان و شوکت عجیب دیکھی
ان کی ٹھوکر میں بادشاہی ہے
(اکرم کلیم)
ان کی تعریف میں کروں کیسے
نعت لکھوں تو کس طرح لکھوں
مجھ کو الفاظ ہی نہیں ملتے
(رضی الدین رضی)
قیام پا کستان سے لے کر آج تک جہاں غزل کے مضامین اور موضوعات میں بے شمار جدتیںپیدا ہوئیں وہیں نعت میں بھی تازگی اور فنی تجربے کے خوبصورت نمونے سامنے آئے،نیا اسلوب،نئے تشبیہ واستعارات، ندرت ِ فکر وخیال،قلبی عقیدت کا والہانہ اظہار،جذبہ و احساس کی رفعت،جمالِ سرکارؐ کا ذکرِ نکہت افزا، حسنِ سیرت ِرسولؐکی ضو باریاں،فریاد واستغاثہ کی پر سوز لے ،تہذیب اسلامی کی رعنائی اور حرف ومعنی کی تابندگی نے جس نئے طرزِاحساس کو جنم دیا وہ بیسویں صدی کی آخری نصف دہائی کا طرئہ امتیاز ہے ،بلاشبہ یہ عرصہ نعت کا سنہری دور کہا جاسکتا ہے ۔

بیسویں صدی کی آخری دہائی اور اکیسویں صدی کے پہلے پندرہ سالوں میں تخلیقی تسلسل اور فنی ارتقا کے ساتھ جس طرح غزل میں نئے مضامین ،موضوعات اور جدید تر لب ولہجہ کی چمک دمک نے فروغ پایا اسی طرح نعت میں بھی نئی دنیا ئیں دریافت کرنے کا عمل بتدریج آگے بڑھا اور تخلیقی تسلسل کی جاندار روایت بھی پروان چڑھی۔ اس عرصہ میں اردو نعت میں فکروخیال اور اظہارو ابلاغ کے جوزاویے سامنے آئے اور جس طرح نعت کے کینوس میں وسعت پیدا ہوئی اسے الگ سے پہچاننا مشکل نہیں۔اکیسویں صدی کی نعت بھی قیام پاکستان کے بعد لکھی گئی نعت کی طرح اس بات کی غماز ہے کہ آج بھی محبتِ رسول ؐ اور عشقِ مصطفےؐکے چراغ ضو فشاں ہیں،نئی نعت میں جمالِ مصطفے ؐ کی ثناء بھی ہے اورسیرتِ مصطفےؐ کی ضیا بھی، سرکار ِدوعالم ؐ سے عقیدت کا اعتراف بھی ہے اور قلبی تعلق کا انکشاف بھی،قومی وملی مسائل کا بیان بھی ہے اور ذاتی الجھنوں کا اظہار بھی،عصری معاملات بھی ہیں اور کائناتی مسائل کا ادراک بھی،دامان ِرحمت پناہؐ کی وسعتوں کا تذکرہ بھی ہے اور عفو و در گزرطلبی بھی،الغرض جدید نعت ہر زاویے سے ارتقا کی نئی منزلیں بھی سر کررہی ہے اور بشارتیں تحریر کرنے کا کیف آورکام بھی سر انجام دے رہی ہے۔معروف نعت نگار ریاض حسین چودھری لکھتے ہیں ’’اکیسویں صدی کا آغاز کائنات ِ نعت میں اظہار وابلاغ کے نئے آفاق کی تسخیرکے عزمِ نو اور ولولۂ تازہ کے ساتھ ہوا ہے،اس تخلیقی،تہذیبی،روحانی اور وجدانی سفر کے ابتدائی مراحل ہی میں تفہیم ِنعت کے امکانات کی نئی دنیائوں کی دریافت کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں،افق ِ دیدہ و دل پر جدید حسیت کا بھر پور احساس نئے امکانات کو واضح اور روشن کر رہا ہے‘‘۔

(جدید اردو نعت کی صورت پذیری کا موسم۔نعت رنگ۔شمارہ 17ص۔63)
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں نعت جن نئے ذائقوں کے ساتھ صورت پذیر ہوئی وہ اکیسویں صدی کا ابتدائیہ کہا جا سکتا ہے،نئی نعت صرف لسانی اورہیتی تجربوں کی حامل ہی نہیں بلکہ حرف و معنی،مضامین و مفاہیم، فکرو نظر اور فنی وتکنیکی ارتقا کے حوالے سے بھی نئے اور روشن تر راستوں سے مزین ہے ،نئی نسل روایت سے اکتساب کے ساتھ ساتھ نئے موسموں سے بھی رنگ و بو کشیدبھی کررہی ہے۔سوچ،زبان وبیان اور ڈکشن میں نیا پن بھی نمو پا رہا ہے اور کا ئناتی سچائیوں کے ساتھ حقیقت پسندی کا اظہار بھی پوری توانائی کے ساتھ ہو رہا ہے۔نئی نعت کے منظر نامے میں عہد ِحاضر کی سسکتی اور بلکتی انسانیت کی آہیں بھی موجود ہیں اور معاشرے میں پھیلتی ناانصافی اور ظلم وجبر کے خلاف احتجاج کی صدا ئیںبھی ،جدید تر نعت میں مسلم امہ کی محرومیوں اور عصرِ موجود کی زوال آمادہ ساعتوں کا نوحہ بھی رقم ہو رہا ہے اور تہذیبی،اخلاقی ،انسانی ،معاشرتی،معاشی،سیاسی اور نظریاتی عمارت کی سلامتی کی دعا بھی مانگی جارہی ہے۔ توہیں آمیز خاکوں کے خلاف صدائے احتجاج اور نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال بھی نعت کے موضوعات میں شامل ہے ، گویا نئی نعت موضوعات اور مضامین ِنو کا ایک سیل ِبے پناہ ہے جس میں الفاظ ومعانی، نئے رنگ،نئے ڈھنگ،علامت،تراکیب، ،تشبیہات،استعارے،تلازمے اور فکر وخیال کی نئی جہتیںنکھر نکھر کر جدید تر نعت کا حصہ بنتی چلی جارہی ہیں۔اکیسویں صدی کی نعت اسوہ ِحسنہ،جذبہ و احساس،عصرِحاضرکے اضطراب اور انسانی رویوں کی تہذیبی صورت گری کی خواہش و کوشش کا جدید علامتی اور استعاراتی منظر نامہ بن گئی ہے:

یاں مشرق و مغرب کا تفاوت نہیں کشفی
دامانِ رسالت کی ہوا سب کے لیے ہے
(ابوالخیر کشفی)
زمین ثابت قدم ہے اور آسمان روشن
گزر رہی ہے ابھی جو ساعت ظہور کی ہے
(توصیف تبسم)
بستی بستی قریہ قریہ صحرا صحرا خون
امت والے امت کا ہے کتنا سستا خون
( نعیم صدیقی)
بغیر حبِ نبیؐ حسنِ آرزو کیا ہے
بجز ثنائے نبیؐ لطفِ گفتگو کیا ہے
(بشیر حسین ناظم)
وہ فکرِ نو کہ جسے آپؐ سے نہیں نسبت
ہے اس کا سود بھی دل کے لیے زیاں کی طرح
( حفیظ الرحمٰن احسن)
خالد احمد تیری نسبت سے ہے خالد احمد
تُونے پاتال کی قسمت میں بھی رفعت لکھی
(خالد احمد)
شان انؐ کی سوچیے اور سوچ میں کھو جائیے
نعت کا دل میں خیال آئے تو چپ ہو جائیے
(خورشیدرضوی)
تختی لکھی تو اسیؐ نام سے آغاز کیا
جس کو معبود نے ہر نام سے اوپر رکھا
(افتخار عارف)
صدیاں طلوع ہوتی ہیں اس رخ کو دیکھ کر
کہتے ہیں جس کو وقت ہے صدقہ حضورؐ کا
(ریاض مجید)
ہم وہاں ہوتے رعایا کی قدم بوسی کو
آپؐ جس شہرِ محبت میں حکومت کرتے
(حلیم قریشی)
نام سرکارؐ پہ آنسو امنڈ آئے ہیں رشید
اپنے اجداد کی آنکھوں پہ گئی ہیں آنکھیں
( رشید ساقی)
پھر مجھے روضہِ اطہر سے بلاوا آیا
آیا آیا مرے سرکارؐ میں آیا آیا
(قمر رعینی)
رات بھر کہتے رہو نعتیں شہِ ابرارؐ کی
اک فقط صورت یہ ہے صبح کے آثار کی
(ہلال جعفری)
ہم مدینے کے مسافر رشک سے
میزبانوں کے مکاں دیکھا کیے
(عاصی کرنالی)
اہلِ ہنرنے نعتِ نبیؐ سے کیا کیا فیض اٹھائے ہیں
کسبِ ہنر سے عرضِ ہنر تک، عرضِ ہنر سے آگے بھی
(ماجدخلیل)
خدا دکھائے یہ منظر نبیؐ کی مسجد میں
ہو اعتکاف میسر نبیؐ کی مسجد میں
( آفتاب کریمی)
جو دیکھ پاتے انہیں ہم تو حال کیا ہوتا
نہ دیکھنے پہ یہ عالم کہ جیسے دیکھا ہے
(امید فاضلی)
ترےؐ بحرِ حقیقت میں نمود اپنی حبابی ہے
ترےؐ ہونے سے قائم ہوں مرا ہونا نہ ہونا کیا
( سید نصیرالدین نصیر)
اشکوں کو زمیں پر بھی میں گرنے نہیں دیتا
سرمایہ تیریؐ یاد کا ہے دیدۂ تر میں
( انور مسعود)
جس نے بھی دل میں بسا لی ہے محبت اسؐ کی
حشر کے روز وہ رسوا نہیں ہونے والا
(جلیل عالی)
ہوا کی خاموش سرسراہٹ میں نام تیراؐ
گھنے درختوں کی سبز چھائوں فزوں ہے تجھ سے
( خالد اقبال یاسر)
گیا تھا جب تو کوئی اور آدمی تھا میں
میں اپنے آپ سے واقف ہوا مدینے میں
(امجد اسلام امجد)
یہاں تو کوئی بات بھی نہ ڈھنگ سے ادا ہوئی
حضورؐ کی ثنا تو پھر حضورؐ کی ثنا ہوئی
( اسلم کولسری)
معجزہ بولتا ہے مٹھی میں
سنگریزے زباں نہیں رکھتے
(بشیراحمد مسعود)
اک نظر گنبدِ خضریٰ دیکھا
دل چمک اٹھا تمنائی کا
( ریاض حسین زیدی)
ارادہ گویا اشارہ تھا باریابی کا
میں یوں چلا ہوں کہ جیسے مجھے بلایا ہے
(سرشار صدیقی)
پائوں رکھ رکھ کے گھروندے وہؐ بنایا کرتا
میں خنک ریت کا بے نام سا ٹیلہ ہوتا
(ریاض حسین چودھری)
ورنہ سورج تو زمیں پر اُتر آتا کب کا
آپؐ کے نقشِ قدم بیچ میں آئے ہوئے ہیں
( سلیم کوثر)
اثر ذکرِ محمدؐ کا سحر ہوتا ہے یوں جیسے
کوئی گم گشتہ کشتی دامنِ ساحل میں آجائے
ك(سحر انصاری)
تسکینِ کائنات کا پیغام آ گیا
وہ آ گئے تو زیست کو آرام آ گیا
(انور جمال)
شگوفہ ہائے چمن بعد میں ہوئے بیدار
درود پڑھ کے پڑھی ہے صبا نے پہلے نعت
( افضال احمد نور)
غیب و ظاہر کے کناروں کو ملایا جس نے
تو وہ معراج کا رستہ ہے مدینے والے
(یاسمین حمید)
ترےؐ در کودیکھ کے اب نہیںکوئی آرزو مگر ایک ہے
کہ درودِ پاک پہ ختم ہو مری بات بات کا سلسلہ
(عزیز احسن)
جب کوئی ہم سے طلب کرتا ہے تحفہ نازش
ہم اسے نعت کے اشعار سنا دیتے ہیں
(حنیف نازش)
نعت کیا ہے کسی نے جب پوچھا
حرف میں ہم نے روشنی رکھ دی
(قیصر نجفی)
تیریؐ یاد کو تیرےؐ خواب کو میری آنکھ رکھے سنبھال کے
میری زندگی کا جواز ہیں یہی عکس تیرےؐ جمال کے
(محمد فیروز شاہ)
آنسوئوں سے نہ ہو وضو جب تک
آپؐ کی نعت ہی نہیں ہوتی
( احمد جلیل)
حدِ امکان میں ہے جو بھی صفت
وہ مدینے کے تاجدار میں ہے
( گستاخ بخاری)
کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنا
رہنما آپؐ کی سیرت کو بنا رکھا ہے
( طاہر سلطانی)
نبیؐ کی نعت کی صورت میں عابد
متاعِ بے بہا پہنچی ہے مجھ تک
(عابد سعید عابد)
خدا کا گھر ہے ترےؐ ذکرِ پاک سے معمور
خدا کے گھر میں ہیں روشن ترےؐ بیاں کے چراغ
(شاہ محمد سبطین شاہجہانی)
ہجر کے غارِ حرا میں دیکھتے اجمل کو تم
قریہِ عشق ِمحمدؐ میں کہیں رہتا ہے وہ
( اجمل نیازی)
زباں ملی ہے مجھے مدحتِ نبی ؐ کے لیے
ہر ایک لفظ ہے میرا بس آپ ؐہی کے لیے
(ریاض ندیم نیازی)
انؐ کی نسبت سے دعائوں کا شجر سبز ہوا
ورنہ ٹلتا ہی نہ تھا بے ثمری کا موسم
(صبیح رحمانی)
یہ بھی ہے عشقِ محمدؐ کا کرشمہ خالد
میری پلکوں کے افق پر ہے ضیا ریز شفق
(خالد علیم)
جس طرح ملتے ہیں لب نامِ محمدؐ کے سبب
کاش ہم مل جا ئیں سب نامِ محمدؐ کے سبب
( یعقوب پرواز)
بیگانہ سنتوں سے جو ہو، وہ مرا نہیں
کیوں اس حدیثِ پاک سے صرف نظر کریں
(عرش ہاشمی)
جنہیں حضورؐ نے بخشا شرف زیارت کا
زہے نصیب کہ ان راستوں میںہم پہنچے
(رضا اللہ حیدر)
جو بھی لکھا ہے وہ انوار صفت لکھا ہے
اسمِ احمدؐ نے یہ اعجاز قلم میں رکھا
( نورین طلعت عروبہ)
اور بوصیریؒ جو کبھی جائیں قصیدہ پڑھنے
اپنے مصرعوں میں کہیں بُن کے مجھے لے جائیں
(اخترعثمان)
مدینے جا کے پو چھیں گے دل و جان و جگر سے ہم
یہی رہتا ہے رنگِ درد یا کچھ اور ہوتا ہے
( فیض رسول فیضان)
کیا کیا کرم خدا نے مدینے میں رکھ دیا
یادِ نبیؐ کو خلق کے سینے میں رکھ دیا
(احمد محمودالزماں)
دین و دنیا کی بھلائی کے لیے
پیروی کو انؐ کی سیرت چاہیے
(شاعر علی شاعر)
جب دعا کو ہاتھ اٹھا ئے بابِ اطہر پر سخن
میری پلکوں پر ندامت کے دیے روشن ہوئے
(سجاد سخن)
محبت ہی محبت تھی ، حکیمانہ رویہ تھا
وہ جس نے ایک عالم کو نبیؐ کی سمت کھنچا تھا
(ضیاء الدین نعیم)
آپؐ کی ذاتِ پاک سے دونوں جہاں میں روشنی
آپؐ یہاں کے بادشاہ، آپؐ وہاں کے بادشاہ
(محمد حنیف)
ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا
پائیں مرے لب نعت کی رفعت تو عجب کیا
(عقیل عباس جعفری)
درود کیمیا ہے قلب و جاں کے اطمینان کو
لبوں پہ آ گیا تو دور ہر ملال ہو گیا
( مجتبیٰ حیدر شیرازی)
میں کاش! سنگ ہی ہوتا تو زندہ رہ جاتا
نقوشِ پائے پیمبرؐ دوام کرتا ہوا
(سعودعثمانی)
روشنائی قلم سے پھوٹ پڑی
دل کی تختی پہ جب لکھا ہے اسےؐ
(طاہر شیرازی)
اس وادیِ مدحت میں کہاں تک چلا جائے
چاہے تو کوئی حدِ بیاں تک چلا جائے
( ادریس بابر)
ترےؐ کمال کا سورج ہے جاوداں روشن
کہ ایک وقت میں ہیں تجھؐ سے دو جہاں روشن
(شہاب صفدر)
خزاں رتوں میں کھلے ہیں کھجور کے پتے
ہمیشہ سبز رہے ہیں کھجور کے پتے
(قاسم یعقوب)
معراجِ مصطفےؐ کی حقیقت سمجھ کے آج
تسخیرِ کائنات کی خواہش ہوئی مجھے
( رشید امین)
کچھ تو ہو پاس کہ جب آپؐ کے در پر آئوں
روک لیتا ہوں اگر آنکھ میں آنسو آئے
(علی یاسر)


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر