... loading ...
تحریکِ انصاف نے اقتدار ملنے کی صورت میں اپنی حکومت کے پہلے 100 روز کا مجوزہ پلان پیش کیا ہے، جس میں طرزِ حکومت میں تبدیلی اولین ترجیح قرار دی گئی ہے۔ دوسرے اہم نکات میں وفاقِ پاکستان کا استحکام، معیشت کی بحالی، زرعی ترقی‘ پانی کا تحفظ، سماجی خدمات میں انقلاب، قومی سلامتی کی ضمانت، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے اور نیب کو خود مختاری دینے جیسے نکات شامل ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم 2013ء میں حکومت میں آ جاتے تو شاید اس قدر تیار نہ ہوتے جس طرح اب ہیں، ہمارے پاس اب حکومت چلانے کا 5 سال کا تجربہ ہے۔ تحریکِ انصاف نے حکومت میں آنے کی صورت میں پہلے سو روز کا اپنا جو پروگرام پیش کیا‘ اس کے سارے ہی نکات اچھے ہیں اور ان پر ان کی روح کے مطابق عمل کیاجائے تو اس سے ملک میں یقینی طور پر ایک ایسی فضا بن جائے گی کہ گڈ گورننس کے امکانات پیدا ہو جائیں۔ معیشت کی بحالی کے آثار پیدا ہو جائیں، زرعی ترقی کی راہیں کھل جائیں‘ ضائع ہونے والے پانی کو محفوظ بنانے کا بندوبست کر لیا جائے‘ اور سماجی خدمات کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہو جائیں تو قومی معاملات بہتری کی جانب گامزن ہونا شروع ہو جائیں گے‘ لیکن صورتحال اتنی بھی سادہ نہیں‘ جتنی تحریکِ انصاف کی قیادت نے سمجھ لیا ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف پہلی سیاسی جماعت نہیں‘ جس نے پہلے سو دن کا مجوزہ پروگرام پیش کیا ہے۔ پہلے 100 دن کا پروگرام بیسویں صدی میں سب سے پہلے امریکہ کے صدر روزویلٹ نے دیا تھا۔ اس وقت امریکہ شدید اقتصادی بحران سے گزر رہا تھا۔ جتنا کام ان 100 دنوں میں امریکہ میں ہوا‘ اس کی مثال آج بھی دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی مختلف ادوار میں پہلے سو دنوں کے اہداف مقرر کیے جاتے رہے‘ لیکن کم ہی ایسا ہوا کہ یہ اہداف پورے ہوئے ہوں۔ ہمارے ہاں منشور میں دنیا کا ہر کام شامل کر دیا جاتا ہے‘ حالانکہ اسے مختصر اور دو ٹوک ہونا چاہیے۔ تحریکِ انصاف نے ہر ہدف شامل کر دیا لیکن یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا گیا کہ ایک کروڑ نئی ملازمتیں کیونکر فراہم کی جائیں گی۔
پھر یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں جو منشور عوام کے سامنے رکھیں اس پر عمل درآمد بھی کریں۔ چونکہ انتخابات کے بعد کوئی منشور کو نہیں پڑھتا‘ نہ وہ جنہوں نے دیا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ جن کا مقصد حکومت پر تنقید کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح منشور ایک غیرسنجیدہ کاوش بن جاتا ہے۔ بہرحال جہاں تحریکِ انصاف کے اس پروگرام کو سراہا جا رہا ہے‘ وہاں تنقید کرنے والے بھی بہت ہیں۔ جیسے مسلم لیگ ن‘ جس کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید نے عمران خان کی جانب سے سو دن کے پروگرام کو عوام کو بیوقوف بنانے کا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام دینے والے اپنے سامنے پانچ سالوں کی کارکردگی رکھتے تاکہ عوام کو پتا چلتا کہ ان کی اہلیت اور ان کی حکومت کی کارکردگی کیا ہے۔ کسی کی نیت پر شک کرنا مقصد نہیں لیکن وعدے اتنی مرتبہ اور ایسے تواتر سے کیے اور بھلائے جاتے رہے ہیں کہ اب بے یقینی ہماری قومی پہچان بن چکی ہے۔ اکثر اہداف اتنے مبہم ہیں کہ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کس شکل میں اور کیونکر حاصل ہوں گے۔ تحریکِ انصاف کے بعد دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے اپنے منشور پیش کرنے چاہئیں تاکہ عوام کو اپنے لیے بہتر حکومت کے انتخاب میں آسانی رہے۔
عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...
وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...
علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...
ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...
حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...
بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...
پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...
اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...
یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...
فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...
عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...