وجود

... loading ...

وجود

الزائمر یادداشت کو متاثر کرنے والامرض

منگل 17 اپریل 2018 الزائمر یادداشت کو متاثر کرنے والامرض

الزائمر ڈیمنشیا کی بہت عام قسم ہے تا ہم اسے شدید امراض میں شمار کیا جاتا ہے۔ الزائمر کا سب سے پہلے ذکر جرمن سائیکاٹرسٹ اور نیوروفزیالوجسٹ ایلو ٹس الزائمر نے 1906 میں کیا جس کے نام پر اس بیماری کو الزائمر کہتے ہیں۔ الزائمر عام طور پر 65 سے زائد العمر افراد پر اثر انداز ہوتا ہے تا ہم نو جوانوں کو بھی اس میں مبتلا ہوتے دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ڈاوٴن سینڈرم میں مبتلا ہوتے ہیں ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں 26 ملین افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہیں بہت سی مشہور شخصیات الزائمر میں مبتلا رہ چکی ہیں۔ جن میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن آئرش مصنف آئرس مردوخ، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ہیرالڈو نس اسپین کے ایڈولف سور یز‘ ادکارہ ریٹا ہیورتھ نوبل پرائز یافتہ فزیشن چارلس کے کاؤ شامل ہیں۔ الزائمر ڈیزیز جسے عرف عام میں AD بھی کہا جاتا ہے۔ انسان کو عاجز کر دینے والا مرض ہے۔AD میں مبتلا ہونے والے افراد میں خواتین کی اکثریت شامل ہے۔ خاص طور پر بیماری اس وقت نہایت تیزی سے بڑھتی ہے جب کسی مریض کے شریک حیات کی موت واقع ہو جائے۔ بوڑھے افراد کی تعداد میں اضافے سے اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ بھی دیکھا جارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2050 تک الزائمر میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد ہر 85 میں سے ایک فرد ہو جائے گی دیکھا جائے تو الزائمر کسی بھی خاندان سماج اور اقوام کے لیے ایک مہنگا ترین مرض ہے۔ الزائمر ہر مریض میں الگ طرح سے وارد ہوتا ہے اور یہ بہت سست رفتاری سے اثر انداز ہوتا دیکھا گیا ہے برسوں تک اس مرض کی شناخت ہی نہیں ہو پاتی۔ اس کی ابتدائی علامات کو اکثر بڑھاپے کمزوری اور دباؤ کی علامات کے طور پر لیا جاتا ہے۔ الزائمر کا مریض نئی باتوں کو یاد رکھنے سے قاصر رہتا ہے۔ وہ حال ہی میں ہوئے مختلف واقعات کو بھولنے لگتا ہے جب الزائمر شدت اختیار کرتا ہے تو مریض کنفیوژ‘ نا قابل برداشت اور کبھی کبھی شدت پسند ہو جاتا ہے۔ اس کے موڈ میں مسلسل اتار چڑھاوٴ آتا رہتا ہے۔ ان کی زبان ہے ربط ہونے لگتی ہے اور وہ اپنے ماحول خاندان اور سماج سے کٹ جاتا ہے آہستہ آہستہ الزائمر کے مریض کے جسمانی افعال بھی الزائمر سے متاثر ہونے لگتے ہیں اور بالآ خر وہ موت کے منہ میں پہنچ جاتا ہے الزائمر میں مبتلا مریض کی زندگی تشخیص کے بعد صرف سات برس رہ جاتی ہے۔ صرف تین فیصد سے کم افرا تشخیص کے 14 برس بعد تک زندہ رہ پاتے ہیں الزائمر بہت سست رفتاری سے بڑھنے والامرض ہے اور اسے چار مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے پہلے مرحلے میں تشخیص کی وضاحت سے قبل کا دورانیہ الزائمر کے مریض اس مرحلے پریادداشت میں خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ منصوبہ بندی نہیں کر پاتے۔ ان کی سوچیں منتشرا ل خیال ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے رشتہ داروں دوستوں کنبے کے افراد اور پالتو جانوروں سے لاتعلقی کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے۔ الزائمر کا مرض شدت اختیار کرنے لگتاہے۔ خاص طور پر سیکھنے اور یادداشت کا عمل متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی زبان دشوار ہو جاتی ہے۔ الزائمرکے ابتدائی مراحل میں ان کے الفاظ کا ذخیرہ محدود ہونے لگتا ہے اور وہ لفظ بھولنے لگتے ہیں۔ جس سے ان کی لکھنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ان ‘ڈرائنگ بنانا‘ مصوری کرنا دشوار ہو جاتا ہے جب الزائمر ابھی درمیانے درجے پر ہوتاہے تو مریض دوسروں کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔وہ کپڑے بدلنے‘ کھانے پینے ‘نہانے‘ شیو کرنے‘ کنگھی کرنے دانتوں کو برش کرنے جیسی روز مرہ کی عادات کے لیے بھی دوسروں کا دست نگر بن جاتا ہے۔ پڑھنے لکھنے اور بولنے کی صلاحیت اور زیادہ خراب ہو جاتی ہے وہ کوئی بھی کام درست ڈھنگ سے نہیں کر پاتے ہلنا جلنا تک محال ہو جاتا ہے اکثر الزائمر کے مریض گھر اور باہرمختلف چھوٹے بڑے حادثات سے متاثر ہونے لگتے ہیں مریض اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کو پہچان بھی نہیں پاتا۔ پرانی یادداشت خراب ہو جاتی ہے مریض نا قابل برداشت ہو جاتاہے یہاں تک کہ اسے اپنا گھر تک یاد نہیں رہتا ساتھ ہی مختلف جذباتی کیفیتیں وارد ہو جاتی ہیں مثلا رونا‘ جارحیت پسندی کے علاوہ اپنے دیکھ بھال کرنے والے شخص کی ہدایات کی خلاف ورزی الزائمر کے مریض کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے۔ اس مرحلے پر 30 فیصد مریض وہم اور فریب نظر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس دوران دیکھ بھال کرنے والے انسان رشتہ دار‘ خاندان کے لیے دباوٴ بڑھ جاتا ہے۔الزائمر کے آخری مرحلے میں مریض مکمل طور پر دیکھ بھال کر نے والے انسان پر انحصار کرنے لگتا ہے زبان سے الفاظ کی ادائیگی سکڑ جاتی ہے اکثر مریض صرف ہال یا ناں ہی بول پاتے ہیں۔ اکثر مریض بولنے سے مکمل معذور ہوتے ہی دیکھے گئے ہیں کچھ مریض شدت پسند ہوجاتے ہیں تا ہم الزائمر کے اکثر مریض ہر بات اور ہر انسان سے مکمل طور پر کنار کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ تاہم ان حالات کاتعلق الزئمر سے براہ راست نہیں ہوتا۔ الزئمر کے اسباب۔۔۔۔۔ اس مرض کے بنیادی سبب کے بارے میں حتمی معلومات اب تک سامنے نہیں آ سکی ہیں تا ہم مختلف ریسر چز کے دوران یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ اس مرض کے بنیادی اسباب دماغ کا الجھاوٴ اور پلیک (Placque) اہم کردار ادا کرتے ہیں یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اس مرض کی ایک اہم وجہ دماغی خلیات کا مردہ ہو جانا اور دماغ کا سکڑ جانا ہے۔ یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ مرض (amyloid beta ) نامی پروٹین کے خاتمے کی وجہ سے وقوع پزیر ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کے ایک اور گروپ کا کہنا ہے کہ دماغ میں عمر سے متعلقہ اورتوڑ پھوڑ کے بعد ہونے والی پیچیدگی اعصاب کے افعال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الزائمر پیدا ہونے میں تکسیدی دباوٴ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچاوٴ۔۔۔۔ الزائمر کی بڑھوتری کو روکنے کے لیے اب تک کوئی علاج سامنے نہیں آیا۔ تاہم بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ متوازن خوراک، ورزش، دماغ کو متحرک رکھنے کی ایکسر سائز مثلا پزلزز وغیرہ کھیلنا اس مرض میں مفیدہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی وجود - پیر 30 مارچ 2026

خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

مضامین
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو وجود پیر 30 مارچ 2026
میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو

تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر