وجود

... loading ...

وجود

سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج

اتوار 17 مئی 2026 سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

انہوں نے ہاتھ ملائے، طویل چہل قدمی کی۔ایک نے دوسرے کے بازو کو چھوا۔ پھر دوبارہ ایسا کیا۔بعد ازاں دونوں نے کئی بار ہاتھ ملائے۔دونوں رہنما ئوں میںکئی محاذوں پر اختلاف پایا جاتا ہے جن میں تائیوان،نایاب معدنیات کے وسائل شامل ہیں۔اس گزشتہ ہفتے میں صدر ٹرمپ اور چینی رہنما شی جن پنگ کے درمیان ملاقاتوںسے واضح ہے کہ وہ رقابت کو زیادہ دوستانہ بنانا چاہتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ باڈی لینگویج سے واضح ہے کہ ٹرمپ اورشی اپنے اپنے اسٹائل میں مصالحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے تھے اور اپنے ممالک کے پیچیدہ تعلق کو ظاہر کررہے تھے۔گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ کے چین کے خلاف جارحانہ تجارتی اقدامات اور چین کے جوابی اقدامات کے بعد سے دونوں ممالک نے عارضی مصالحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔
کیا امریکی فوجیں تائیوان کا دفاع کر سکیں گی؟
ایران میں جنگ نے امریکہ کی فائر پاور میں اتنی کمی کردی ہے کہ چینی تجزیہ کار کھلم کھلا تائیوان کا دفاع کرنے کی امریکی اہلیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال نے آنے والے دنوں میں چینی راہنما شی جن پنگ سے ملاقات میں صدر ٹرمپ کا اثر انداز ہونا کمزور پڑ جائے گا۔اس جنگ نے امریکہ کی برتری کے تصور کو چکنا چور کردیا ہے۔ چینی انتہا پسند تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر کبھی امریکہ اور چین کے درمیان تائیوان پر جنگ ہوئی تو امریکی فوجیں تائیوان کاموثر دفاع نہیں کر سکیں گی۔ان کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکہ ایران کے خلاف جلد فتح حاصل نہیں کر سکا جو ایک علاقائی فوجی قوت ہے تو وہ چین کے خلاف کم کامیابی حاصل کر سکے گا جسے تجزیہ نگار ہم رتبہ مدمقابل سمجھتے ہیں۔اس نقطہ نظر سے شی کے ساتھ مذاکرات میں ٹرمپ کی پوزیشن کمزور ہوگی۔ٹرمپ پہلے والے تکبر کا مظاہرہ نہیں کرسکیں گے۔
ٹرمپ چین کے ساتھ امریکی تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے شی کے ساتھ ڈیل کر نا چاہتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیںکہ چین زیادہ امریکی سویابین اور بوئنگ طیارے خریدے جبکہ ٹرمپ شی پر چین کی ایرانی تیل کی مسلسل خریداری کے بارے میں دبائو ڈالیںگے جبکہ چین ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتا ہے اور تجارتی صلح میں توسیع چاہتا ہے تاکہ اپنی معیشت پر توجہ مرکوزکرسکے اور اپنی ٹیکنالوجیز کو ترقی دے سکے۔چین ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ چاہتا ہے کہ وہ تائیوان کیلئے اپنی مدد میں کمی کرے۔ فروری میں شی نے ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ چین کبھی بھی تائیوان کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ چین سے الگ ہو جائے اور کہا تھا کہ وہ تائیوان کیلئے امریکی اسلحہ کی فروخت کے سلسلے میں محتاط رویہ اپنائیں۔
امریکہ لنگڑاتی چال والا دیو
ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل چینی تجزیہ نگار کھلم کھلاکہاکہ امریکہ میں تائیوان کا دفاع کرنے کی استعداد نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی گولہ بارود کے ذخائر ختم کر دیے ہیں۔جنگ نے امریکہ کی بالادستی کی فضا ختم کردی ہے۔چین کے قوم پرستوں کی منطق یہ ہے کہ چونکہ امریکہ علاقائی فوجی ظاقت ایران کے خلاف جلد فتح حاصل نہیں کرسکا ہے تو اسے چین کے خلاف کم کامیابی کا امکان ہے جو تجزیہ نگار ہم رتبہ مد مقابل سمجھتے ہیں۔کمیونسٹ پارٹی کے اخبار گلوبل ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھاہے کہ اگر امریکی فوج دنیا بھر میں اسلحہ بروئے کار لانے کے قابل نہیں ہے تو امریکہ لنگڑاتی چال والادیو ہوگا۔
ایرانیوں نے شاہ ایران کی حکومت زیادہ سستے خربوزوں کیلئے نہیں گرائی
10 مئی کوٹروتھ سوشل پوسٹ میں ٹرمپ نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی طرف سے ان کی امن تجاویز کے جواب کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔نیو یارک ٹائمز کے کالم نویس تھامس ایل فرائیڈ مین نے ٹرمپ سے پوچھا ہے، اگر وہ نام نہاد نمائندے ہیں تو آپ کئی ہفتوں سے ان سے کیوں مذاکرات کر رہے ہیں؟ اور کونسامثبت جواب اچھا ہوتا؟ اور ہو سکتا ہے وہ نام نہاد ہو ں، آپ نے اور نیتن یاہو نے ان کے نام نہاد رہنمائوں کو قتل کیا جن کے پاس سنجیدہ ڈیل کرنے کا اختیا رتھا۔ آپ نے سمجھا کہ حکومت گر جا ئے گی۔ اس کے بجائے آپ نے انہیں زیادہ سخت رویہ اپنانے پر مجبور کردیا۔
یہ امر حیران کن نہیں ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے رہنمائوں کو پاگل کہا ہے۔ فرائیڈ مین کا کہنا ہے کہ مسٹر پریزیڈنٹ ! آپ کو یہ جاننے میں اتنا عرصہ لگا۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا یہ اعلان کہ ایرانیوں نے 1979 میں شاہ ایران کی حکومت زیادہ سستے خربوزے حاصل کرنے کیلئے نہیں گرائی تھی۔
چین ایران کی مدد کو نہیں آیا
انٹر نیشنل انرجی ایجنسی کے ایکزیکٹو ڈائریٹر فاتح بیرول کا کہنا ہے کہ توانائی میں خلل کا عالمی زراعت پر اثر پڑ سکتا ہے جس میں مصنوعی کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمت سے مستقبل میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔آج اس مسئلے کا واحد حل مکمل اور غیر مشروط طور پر آبنائے ہرمز کا کھلنا ہے۔فاتح بیرول نے دی ٹائمز کو بتایا کہ ٹرمپ نے اس ہفتے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو لائف اسپورٹ پر بتایا۔ چین جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، ایران کی مدد کو نہیں آیا،نہ ہی اس نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے کوئی پلان کی پیش کش نہیں کی ہے۔ وجوہ واضح ہیں۔چین میں نصف سے زائد کار سیلز کی فروخت الیکٹرک گاڑیاں ہیں۔یہ توانائی کی واضح پالیسی ہے۔ چین کے پاس تیل کے ذخائر میں 1.2 بلین بیرل موجود ہے جو انٹر نیشنل انرجی ایجنسی کے رکن ممالک کی مجموعی سطح کے مساوی ہے۔
شی جن پنگ کی شخصیت کے مختلف پہلو
شی جن پنگ وہ رہنما ہیںجن کا چین میں پاور کیلئے کوئی قریبی حریف نہیں ہے۔ وہ کم طاقتور رہنمائوں کو لیکچر دینے سے نہیں ہچکچاتے۔ وہ قدیم چینی حکمرانوں کے سانچے میں اپنے آپ کو فلسفی بادشاہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔شی جن پنگ نے صدر بائیڈن سے کہا تھا کہ21 ویں صدی میں جمہوریتیں برقرار نہیں رہ سکتیں کیونکہ انہیں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے جس پر پہنچنا مشکل ہوتاہے۔2025 میں بیجنگ میں فوجی پریڈ میں شی جن پنگ اور پوٹن کیمرے پر بقائے دائمی اور بائیو ٹیکنالوجی میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کرتے دیکھے گئے۔ شی جن پنگ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اس صدی میں انسان150 سال تک زندہ رہ سکیں گے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
یہ کارکردگی ہے ؟ وجود اتوار 17 مئی 2026
یہ کارکردگی ہے ؟

سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج وجود اتوار 17 مئی 2026
سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی وجود اتوار 17 مئی 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی

فرق وجود هفته 16 مئی 2026
فرق

زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں! وجود هفته 16 مئی 2026
زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر