... loading ...
اگرآپ اپنے بچے کا نام لیں اور وہ بہت کم ردعمل ظاہر کرے، جب دوسرے لوگ اس سے بات کرنے یا اس کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کریں تو وہ لاپروا سا رہے۔ وہ دوسروں کی توجہ کا طالب نہ ہو یا بہت کم ہو، اس کا کھلونوں سے کھیلنے کا طریقہ عام بچوں سے ہٹ کر ہو یا کھلونوں میں دلچسپی ہی نہ لے یا ایک ہی کام بار بار کرتا رہے تو ممکن ہے کہ وہ آٹزم (خودتسکینی) کا شکار ہو۔آٹزم کی دیگر علامات میں بول چال میں دشواری، بے ربط الفاظ میں مدعا بیان کرنا، لوگوں سے نظریں چارکرنے سے گریز، کچھ آلات یا اشیا مثلاً بجلی کے سوئچ، پنکھے اور گھومنے والے پرزے یا کھلونوں کے ساتھ غیر معمولی لگاو، کسی کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش نہ کرنا، کسی سنی ہوئی بات یا جملے کو بغیر کسی وجہ کے دہراتے رہنا اور گرمی اور سردی کے احساس سے عاری ہونا شامل ہیں۔آٹزم میں مبتلا فرد اپنی دنیا میںگم رہتا ہے۔ اسے اپنی توجہ مرکوز کرنے میں دشوار ی ہوتی ہے اور اس کی حرکات و سکنات میں ہم آہنگی نہیں ہوتی۔ ان علامات کا مشاہدہ کرتے ہوئے خود ہی یہ یقین مت کر لیجیے کہ بچے کوآٹزم ہی ہے۔آٹزم کی تشخیص پیچیدہ ہے اور صرف ظاہری علامات کی بنیاد پر کسی کو آٹسٹک نہیں کہا جا سکتا۔ اگرآپ کوشک گزرے کہ کسی بچے کو آٹزم ہے توڈاکٹر سے رابطہ کیجیے اور مسئلہ بیان کیجیے۔ کسی ماہر نفسیات سے مشاورت کی ضرورت بھی ہو گی۔آٹزم میں مبتلا افراد اردگرد کی دنیا کا ادراک مختلف انداز سے کرتے ہیں اور ان کا دوسرے سے تعلق اور رابطہ ا?ٹزم کی وجہ سے متاثر ہوتاہے۔یہ افراد دنیا کو مختلف انداز سے دیکھتے، سنتے اور محسوس کرتے ہیں۔
آٹزم روایتی معنوں میں کوئی بیماری نہیں اور نہ ہی اس کا ’’علاج‘‘ موجود ہے۔ البتہ ان افراد کی صورت حال میں بہتری لائی جا سکتی ہے جس کے نتیجے میں وہ بہتر طور پر زندگی گزارنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ آٹزم کی آمد میں جینیاتی اور ماحولیاتی عناصر کا عمل دخل ہوتا ہے۔آٹزم ایک طرح کا نہیں ہوتا بلکہ اس کی کئی اقسام ہیں۔ اسی وجہ سے تمام آٹسٹک افراد کو ایک ہی طرح کی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا نہیں ہوتا۔ ان کی صورت حال میں بہتری کے لیے ان کے آٹزم کی نوعیت اور شدت کو سمجھنا ضروری ہے۔ بچوں میں آٹزم کی شناخت کے لیے والدین کا مشاہدہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ جتنا جلد اس کا پتا چلا لیا جائے اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ابتدائی عمر میں والدین ہی سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ آٹزم کی زیادہ واضح علامات دو سے تین سال کی عمر میں ظاہر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
بعض معاملوں میں اسے 18 ماہ کی عمر میں بھی پہچانا جا سکتا ہے۔والدین کی لاپروائی یا غفلت بچوں میں ا?ٹزم کی وجہ شمار نہیں ہوتی یعنی اس مسئلے کی بنیاد ان کا رویہ نہیں لیکن اگر وہ تشخیص اور انتظام وانصرام میں لاپروائی برتیں تو بچے کو ا?ئندہ کی زندگی میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ذمہ داری صرف والدین کی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔
اس معاملے میں متعلقہ ریاستی اداروں کا کردار بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ آٹزم نشوونما سے منسلک عمر بھر ساتھ رہنے والی ’’معذوری‘‘ ہے۔ ا?ٹزم کی نوعیت اور شدت پر منحصر ہے کہ تربیت و تعلیم اور تھراپی کے بعد کیا متاثرہ فرد اپنے طور پرآزادانہ زندگی گزار سکتا ہے یا اسے تاعمر مدد کی ضرورت رہے گی۔ یہ مسئلہ دنیا کے تمام خطوں کے افراد میں موجود ہے اور اس میں رنگ، نسل اور سماجی پس منظر کی کوئی قید نہیں۔آٹزم کا کوئی مکمل طبی علاج نہیں ہے یعنی یہ سر درد کی نوع جیسا کوئی مسئلہ نہیں جسے ادویات کے استعمال سے دور کیا جا سکے۔ آٹزم میں مبتلا افراد کی تھراپی اورمینجمنٹ سے ان کے رویوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور زندگی گزارنے کے لیے لازمی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم آٹزم کی چند خصوصیات عمر بھر ساتھ رہتی ہیں۔
ان میں پائی جانے والی بعض علامات کے لیے ادویات کا سہارا بھی لیا جاتا ہے جیسا کہ بے چینی کے لیے۔ بدقسمتی سے دنیا میں ا?ٹزم میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
لڑکیوں کی نسبت لڑکے اس کا چار سے پانچ گنا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی آبادی میں ہر ایک ہزارافراد میں ایک سے دوآٹسٹک ہیں۔ یوں تو دنیا بھر میںآٹزم کے بارے میں آگاہی کی کمی ہے لیکن پاکستان میں اس کمی کا احساس زیادہ شدت سے ہوتا ہے۔
آگاہی اور انتظام کی کمی کی وجہ سے اآٹزم میں مبتلا افراد نہ صرف خود مشکلات بھری زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ ان کے اہل خانہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے آٹزم میں مبتلا افراد کی صورت حال اور ان کے دکھ درد کو کم سمجھا جاتا ہے اور شاید اسی لیے وہ ذہنی امراض کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ سویڈن میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق آٹزم کے شکار افراد کی اوسط عمر کم ہوتی ہے۔
ان میں دل کی بیماری کے بعد اموات کی عام وجہ خودکشی پائی گئی۔آٹزم میں مبتلا بچوں کو عموماً ان کے رویے کی وجہ سے شرارتی، الگ تھلگ رہنے والا اور خاموش کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ بچے بہت ذہین بھی ہو سکتے ہیں۔آٹزم سے متا ثر بچے بعض غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل بھی ہو سکتے ہیں۔
مثلاً ان کی یادداشت بہت اچھی ہو سکتی ہے، وہ ریاضی میں مہارت رکھ سکتے ہیں یا گانے بجانے اور موسیقی کے آلات استعمال کرنے میں اپنے ہم عمر بچوں سے بہت زیادہ باصلاحیت ہو سکتے ہیں۔ اس امر سے اندازہ لگا لیجیے کہ مشہور سائنسدان نیوٹن اورآئن سٹائن آٹزم کا شکا ر تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...