... loading ...
افغانستان کے صوبہ قندوز کے شہر دشت ارچی کے دینی مدرسہ پر، جب قرآن شریف حفظ کرنے والے معصوم بچوں کی دستار بندی کی تقریب ہو رہی تھی، کہ اس دوران ایک جامع مسجد پر وحشیانہ بمباری کر کے سیکڑوں حفاظِ قرآن ،دینی طالبعلموںکو شہید کر دیا۔بمباری پٹھان بازار کے علاقے میں واقع مدرسہ عاشمیہ عمریہ پرکی گئی۔ غیر جانبدار اخباری رپورٹر کے مطابق موقع پر ہی101؍ حفاظِ قرآن شہید ہو گئے۔200 کے قریب بچے، مرد اورعورتیں زخمی ہوئے جنہیں مقامی ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ افغان طالبان کے مطابق150 افراد اس بمباری میں شہید ہوئے۔افغان طالبان نے اس وہشت گری کا بدلہ لیا لینے کااعلا ن کردیا۔ اطلاعات کے مطابق مدرسے پربمباری افٖٖغان سیکیورٹی فورسزنے کی امریکا اس واقعے میں اپنے طیاروں کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے ؛ لیکن اس حقیقت سے انکارممکن نہیں امریکا اس افغانستا حملے سینکڑوں عام شہریوں کوشہید کرچکاہے جن میں خواتین اوربچوں کی بڑی تعدادشامل ہے ۔
قندوزکے مدرسے پربمباری افغان فورسزنے کی یا امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کی ہے اس میں مرنے والے تمام بے گناہ عام شہری تھے جن میں بڑی تعدادبچوں کی تھی جوقرآن حفظ کرنے کے بعد سندلینے آئے تھے ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ضلع دشت آرچی میں دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں 25 اسلام پسند ہلاک یا زخمی ہوئے تاہم قندوز کے ایک ڈاکٹر نے غیرملکی نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ ان کے ہسپتال میں لائے جانے والے زخمیوں میں سے افراد 50 شدید زخمی تھے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ اس مدرسے میں کوئی بھی جنگجو نہیں تھا اور مارے جانے والے عام شہری ہیں۔خیال رہے کہ یہ ضلع طالبان کے کنٹرول میں ہے اور ہسپتال میں موجود ایک ڈاکٹر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں شہری اور طلبا شامل ہیں۔مقامی پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان کے شہر کوئٹہ میں مقیم طالبان لیڈر شپ کی کونسل کے رہنما علاقے کے دورے پر تھے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں آگاہ ہیں تاہم کوئی تفصیل فراہم نہیں کر سکتے۔انھوں نے کہا کہ نشانہ بنائے جانے والے طالبان جنگجو تھے اور وہ آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اور 15 ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔کچھ مقامی رپورٹس کے مطابق حملے میں ایک مسجد نشانہ بنی تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ دینی مدرسہ مسجد کا حصہ تھا یا نہیں۔
ایک عینی شاہد محمد اسحاق نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دن 12 بجے جہاز آئے تو بچوں نے چلانا شروع کر دیا کہ ’وہ بم گرائیں گے تاہم بڑوں نے انھیں تسلی دی اور کہا کہ کچھ بھی نہیں ہوگا لیکن پھر ایک ہی لمحے میں مسجد پر بمباری ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ عمارت کے اندر موجود افراد میں مدرسے کے طلبا ان کے رشتے داراورعام شہری اسناد کی تقسیم کے لیے منعقدہ پروگرام میں شرکت کر رہے تھے۔طالبان کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ حملے میں 150 شہری مارے گئے ہیں۔افغانستان میں تعینات امریکی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کو قندوز میں ہونے والے حملے میں امریکی فضائیہ شامل نہیں تھی۔خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کے اعلان کے بعد سے افغانستان میں فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ادھر اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے کہ زیادہ فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں۔سنہ 2017 میں اقوام متحدہ نے حکومت کی حامی فوج کی جانب سے کیسے جانے والے فضائی حملوں میں 631 ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی تھی۔یہ تعداد 2016 میں سات فیصد زیادہ ہوئی۔ جس کے بعد اس قسم کے نقصانات میں نو فیصد کمی آئی ہے۔
مدرسے پرحملے میں حفاظ کی شہادت کی خبریں عالمی میڈیانے عمومی نشرکیں لیکن سوشل میڈیاپرشورمچنے کے بعد عالمی ادارے متحرک ہوئے اورواقعات کی تحقیقات شروع کردی گئی۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں مدرسے پر فضائی حملے میں شہریوں کو سنگین نقصان پہنچنے کی تکلیف دہ رپورٹس کی تحقیقات کر رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ حملے میں درجنوں بچے ہلاک و زخمی ہوئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ طالبان کے زیر قبضہ شمال مشرقی صوبے میں واقع مدرسے میں افغان فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کے حملے کے وقت گریجوایشن تقریب جاری تھی۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ ’انسانی حقوق ٹیم حقائق کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ تمام فریقین کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ وہ شہریوں کو مسلح تصادم کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے پابند ہیں۔ذرائع نے کہا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں بیشتر تعداد بچوں کی تھی۔
تاہم کابل اور قندوز میں موجود حکومتی عہدیداران نے حملے کے حوالے سے متضاد بیانات دیئے، جن میں سے چند نے حملے میں کسی شہری کی ہلاکت سے انکار کیا یا کسی نے مدرسے پر حملے سے ہی انکار کیا۔واضح رہے کہ افغان عہدیداران اس طرح کے حملوں میں عام شہریوں کے جانی نقصان کو چھپانے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔صوبائی دارالحکومت قندوز کے ہسپتال میں عبدالخلیل نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ’میں نے خود لاشوں کی گنتی کی‘، جہاں وزارت صحت کے حکام کے مطابق 57 زخمی لائے گئے۔یوسف نامی شخص کا کہنا تھا کہ ’میں فضائی حملے کے فوری بعد وہاں پہنچا، وہ جگہ کسی قصائی کی دْکان لگ رہی تھی جہاں ہر کوئی خون میں لت پت تھا اور زمین پر انسانی جسم کے اعضاء بکھرے ہوئے تھے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان محمد رَدمانِش نے حملے میں شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار فضائیہ کو قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے فورسز پر حملہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہسپتال میں زیر علاج شہریوں میں سے نصف کو ہلکے ہتھیاروں کی گولیوں کے زخمی آئے جو ہم نے کبھی استعمال نہیں کیے، ہم نے حملے میں ایم ڈی 530 ہیلی کاپٹرز سے راکٹ فائر کیے تو ان شہریوں کو گولیاں کیسے لگیں؟تاہم ہسپتال کے ڈاکٹر نعیم مَنگل نے کہا کہ ’حملے کے تمام متاثرہ افراد کو بم کے ٹکرے لگے۔
ایک روز بعد افغان وزارت دفاع کے حکام نے فضائی حملے میں شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کرلیا ہے جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے بھی مدرسے پر فضائی حملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔اس سے قبل حکومتی اہلکار مدرسے پر بمباری اور عام شہریوں و بچوں کی ہلاکت سے انکاری تھے اور متضاد بیانات دے رہے تھے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے 2 روز قبل قندوز میں مدرسے پر ہونے والے فضائی حملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ قندوز میں مدرسے پر فضائی حملے میں بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے بھی قندوزحملے میں شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...