وجود

... loading ...

وجود

دلتوں کی بھارت بندتحریک شرو ع،مودی سرکارشدیددبائومیں

جمعرات 05 اپریل 2018 دلتوں کی بھارت بندتحریک شرو ع،مودی سرکارشدیددبائومیں

بھارت میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہندوں کی نچلی ذات دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے پر تشدد مظاہروں کے باعث 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جب کہ مختلف شہروں میں اسکول بند اور ٹرین سروس معطل ہو گئی ہے۔بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے ملک میں رہنے والے نچلی ذات کے لوگوں کے لیے قوانین کو کمزور کرنے کا کہا تھا۔بھارتی عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں میں دلت برادری سے تعلق رکھنے والے ہندو سڑکوں پر نکل آئے اور ٹرین سروس معطل اور سڑکیں بلاک کر دیں جب کہ کچھ مقامات پر احتجاج پرتشدد شکل بھی اختیار کر گیا۔پولیس حکام کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہونے والے پر تشدد فسادات میں 6 افراد ہلاک ہوئے جب کہ ایک شخص بھارتی ریاست راجستھان میں ہلاک ہوا۔پر تشدد فسادات کے بعد بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں کرفیو نافذ کر کے کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بھارتی ریاست پنجاب میں ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں اور تعلیمی ادارے، بینکس اور دفاتر کو بھی بند کر دیا گیا ہے جب کہ مقامی حکومت نے انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے۔پنجاب میں سینکڑوں کی تعداد میں دلت مظاہرین تلواریں اور ڈنڈے لے کر سڑکوں پر نکل آئے اور زبردستی دکانیں بند کروا دیں۔اس کے علاوہ اتر پردیش، جھار کھنڈ اور بہار کی ریاستوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

متعدد دلت تنظیموں نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے خلاف ملک گیر بند کا انعقاد کیا جس میں پرتشدد واقعات ہوئے۔ مظاہرین اور پولیس میں تصادم کے دوران کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ مدھیہ پردیش اور پنجاب میں فوج بلا لی گئی ہے۔ پنجاب ایک طرح سے ٹھپ ہو گیا ہے کیونکہ پوری ریاست میں گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہیں۔

متعدد شمالی ریاستوں میں مظاہرین سے ریل کی پٹریاں اور سڑکیں جام کر دیں جس کے سبب نقل و حمل کی خدمات بری طرح متاثر ہو گئیں۔ دارالحکومت دہلی میں پارلیمنٹ کے نزدیک جنتر منتر پر زبردست مظاہرہ ہوا جس کی وجہ سے پوری دہلی میں ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

سپریم کورٹ نے چند روز قبل دلتوں اور قبائلیوں سے متعلق قوانین کے سلسلے میں ایک فیصلہ سنایا تھا جس میں اس نے ایس سی ایس ٹی قانون کے تحت درج ہونے والے معاملات میں پولیس کارروائیاں نرم کر دی ہیں۔ دلتوں کا الزام ہے کہ ان کے حقوق کے تحفظ کے قوانین میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔جنتر منتر پر دھرنے میں شامل آل انڈیا دلت مسلم مہا سنگھ کے صدر سریش کنوجیا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فیصلہ نہیں بدلا گیا تو ہم لوگ تین ماہ تک پورے ملک میں احتجاجی تحریک چلائیں گے اور 120 ایس سی ایس ٹی ممبران پارلیمنٹ کا علامتی جلوس جنازہ نکالیں گے اور پھر جنتر منتر پر لا کر ان کی آخری رسوم اد کریں گے۔
سریش کنوجیا کے مطابق جس جج نے یہ فیصلہ سنایا ہے وہ پہلے بی جے پی صدر امت شاہ کے وکیل تھے۔ ان کو بطور انعام جج بنا دیا گیا۔ ان کے بقول یہ فیصلہ حکومت کے دباؤ میں دیا گیا ہے۔کانگریس نے فیصلے کی مخالفت کی تھی اور حکومت سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔دلت تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے دباؤ میں مودی سرکارنے بھارتی سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ماضی میں نچلی ذات اور نچلے قبائل سے متعلق قوانین کا غلط استعمال کیا گیا ۔ آل انڈیا ایسوسی ایشن فار لوور کاسٹس کے جنرل سیکریٹری کے پی چوہدری نے کہا کہ ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ بھارت میں دلتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی تفریق سے بچاؤ کو یقینی بناتا تھا لیکن سپریم کورٹ کے نئے فیصلے نے ان قوانین کو ختم کر دیا ہے، عدالت کا یہ فیصلہ ہمارے لیے حیران کن ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل بھی بھارتی ریاست گجرات میں گھوڑا رکھنے پر ایک دلت نوجوان کو تشدد کر کے قتل کر دیا گیا تھا جب کہ گزشتہ برس اکتوبر میں بھی ایک دلت نوجوان کو روایتی ہندو ڈانس کرنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد راجستھان ، مدھیہ پردیش ، بہار ، اتر پردیش سمیت کئی صوبوں میں دلتوںکے زبردست احتجاج کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ بھارتی پنجاب میں سی بی ایس سی بورڈ کے امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں۔کئی شہروں میںمظاہرین نے چلتی ریل گاڑیاں روک لیں‘درجنوں گاڑیوں اوراملاک کونذرآتش کردیا۔ دوروزسے جاری احتجاج کے دوران مودی سرکار کو بھارتی نقصا ن کاسامنا کرنا پڑا ہے ۔ بھارت کے مختلف علاقو ں میں جاری فسادات کاجائز ہ ذیل پیش کیاجارہاہے ۔

مدھیہ پردیش
مدھیہ پردیش کے شمالی علاقے میں میں پرتشدد واقعات میں 5افرادہلاک اور درجنو ں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔مرینا اورگوالیارمیں احتجاج کے دوران پرتشددواقعات ہوگئے۔مرینا میں ایک نوجوان گولی لگنے سے لگنے کے باعث ہلاک ہوگیا جس کے بعد ضلع ہیڈکوارٹرپر کرفیو نافذ کر دیا گیاہے۔ ضلع کے تمام حساس علاقوں میں پولس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے ۔بھنڈ ضلع میں بھی مظاہرے کے دورا ن ایک شخص کی گولی لگنے سے ہلاکت کی اطلاع ملی ہے ۔بھنڈ کے کئی علاقوں اورساگرضلع ہیڈکوارٹرپر کرفیو نافذ کر دیا گیاہے۔اس کے علاوہ اندور، سیونی، رتلام، اجین، جھابوا،جبل پورمیں بھی حالات کشیدہ ہیں۔

راجستھان کے کئی اضلاع
میں انٹرنیٹ کی سروس بند
راجستھان میں جگہ جگہ پرتشدد واقعات کے دوران الورکے داؤد پور پھاٹک پرریل پٹری اکھاڑنے،پولس پر حملے اورتھانوں پرپتھراؤجیسے واقعات رونما ہوئے ہیں۔جگہ جگہ پر پرتشددواقعات ‘ آتشزدنی اور پتھراؤ کے باعث انتظامیہ باڑھ میرکیسیوانی اورجالور کے سانچور میں کرفیونافذ کردیا گیا ہے۔ساتھ ہی کئی اضلاع میں انٹرنیٹ کی سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔کشید ہ حالات کے پیش نظرٹرین سروس معطل ہے۔

پنجاب میں بھی حالات کشیدہ
پنجاب میں دلت تنظیموں کی جانب سے زبردست احتجاجی مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے ۔ کئی علاقوں میں پولیس کی جانب سے مظاہرین پرلاٹھی چارج وآنسوگیس کے استعمال کی اطلاعات ملی ہیں ۔ صوبے میں ریل سروس اور سڑکوں پر آمدورفت متاثررہی۔موصولہ اطلاعات کیمطابق مظاہرہ کی وجہ سے پاک بھارت‘دہلی لاہور بس سروس سرہندمیں پھنسی رہی۔ پٹیالہ فیروز پور سمیت کئی ٹریکوں پرجام کی وجہ سے ٹرین سروس معطل دی گئی ۔ فیروزپور میں ڈی ایم یو ٹرین روک دی گئی۔ گرداس پور میں ہنگامہ آرائی کے باعث پٹرول پمپ سمیت تمام دفاتر اور کاروباری ادارے بند رہے۔فگواڑا ضلع میں پولس نے فلیگ مارچ کیا۔لیکن کاروباری ادارے بند رہے۔صوبے میں اسکول، بینک بھی بندرہے‘کسی علاقے میں کوئی بس نہ چل سکی اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی اور میٹرک اورانٹرکے امتحانات ملتوی کر دئے گئے۔ہریانہ میںبھی ہڑتال کے باعث تمام کاروباری مراکز بندرہے اوردلتوں کی بڑی تعداد نے ضلع ہیڈکوارٹرپراحتجاجی مظاہرہ کیا۔ روہتک، بھوانی، کرنال ، رواڑی اور انبالہ میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مہاراشٹر میں کئی مقامات پر جھڑپیں
دلتو ں کے احتجاج کے باعث مہاراشٹرمیں سب سے زیاد ہ حالات کشیدہ ہیں ۔ کئی مقامات پرد لت تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کیااورجلوس نکالا۔ پونے ، کولہاپور،ناگ پوراورممبئی سے بھی مظاہرے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ جہاں مظاہرین اورپولیس کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاع بھی موصول ہوئی ۔ دلتوں کے احتجاج کے پیش نظرپورے صوبے میں سخت کشیدگی اورخوف وہراس کی فضاء پائی جاتی ہے ۔

دہلی میں کئی مقامات پراحتجاج
بھارتی دارالحکومت دہلی میں بھی دلتوں نے کئی مقامات پراحتجاجی مظاہرہ کیا۔اصل مظاہرہ پارلیمنٹ کے سامنے کیاگیا۔اس کے علاوہ شہرمیں مختلف مقامات پر دلتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

جنوبی ہندوستان میں عام زندگی متاثر
جنوبی ہندوستان سے بھی بھارت بند کے اثرات کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔چنئی، وشاکھاپٹنم، وجیواڑا، حیدرآباد، بنگلورو،تروننت پورم اورگواوغیرہ میں بھی بھارت بند کی وجہ سے عام زندگی متاثرہوئی ۔ تلنگانہ کے کئی ضلعوں میں آمدورفت متاثرہ رہی ۔ کئی مقامات پرمظاہرین نے بسوں کوسڑکوں پرآنے ہی نہیں دیا۔

مودی کے صوبے گجرات
میں بھی زبردست ہنگامہ
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اوربی جے پی کے اکثریتی صوبے گجرات میںبڑے پیمانے پردلتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ‘مشتعل افرادنے پتھرائوکرکے زبردستی دکانیں بند کرادیں۔کئی مقامات پرگاڑیوں کو نذر آتش کرنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں ۔ ٹرانسپورٹرزنے اپنی گاڑیاں سڑکوں پرلانے سے گریزکیا۔

دلتوں نے کچ ضلع کے گاندھی دھام شہر میں سرکاری گاڑیوں پرپتھراؤکیا۔ مشتعل ہجوم نے جونا گڑھ ، راجکوٹ ، راجولا سمیت مقامات پر توڑپھوڑبھی کی ، مظاہرین اور پولس کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔مظاہرین نے احمدآباداور دیگر شہروں میں 20سیزائدسٹی بسوں کے علاوہ مختلف گاڑیوںکوآگ لگادی ۔ دلتوں نے پاٹن، ہمت نگر، تھراد، بھروچ، گھنیرا، بھاؤنگر، جام نگر گونڈل ، امریلی ، تاپی اور سارند کے علاوہ مختلف مقامات پر احتجاجی ریلیاں نکالیں۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

قیمتی یا ضروری؟ وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
قیمتی یا ضروری؟

عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر