وجود

... loading ...

وجود

گجرات کے الیکشن میں کامیابی کے لیے نریندرا مودی کے ہتھکنڈے

پیر 23 اکتوبر 2017 گجرات کے الیکشن میں کامیابی کے لیے نریندرا مودی کے ہتھکنڈے

بھارت میں حکمراں جماعت نے گجرات کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردئے ہیں اور اطلاعات یہ ہے کہ وزیرا عظم نریندر مودی جو خود بھی اسی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں اس میں ذاتی دلچسپی لے رہے اور ان کے دبائو کی وجہ سے الیکشن کمیشن گجرات میں الیکشن کے شیڈول کااعلان کرنے میں غیر معمولی تاخیر پر مجبور ہوگیاہے، بھارت کے معروف صحافیوں کاکہناہے کہ بھارت کے الیکشن کمیشن نے ایسا پہلے کبھی نہیں کیا ،بھارتی صحافیوں کاکہناہے کہ چیف الیکشن کمشنر ٹی این سیشان کے بعد سے کمیشن نے آزاد و خود مختار حیثیت اختیار کر لی تھی اور کمیشن کو ایک ایسا درجہ دیدیا گیا تجا جسے رائے دہندگان نے بہت سراہا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے جس انداز سے گجرات کے الیکشن کی تاریخوں میں رد و بدل کیا ہے اس پر بہت سے اعتراضات اٹھنا شروع ہوگے ہیں۔ بعض لوگ تو اس میں وزیراعظم نریندر مودی کا ہاتھ دیکھ رہے ہیں جن کا اپنا تعلق بھی ریاست گجرات سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو کمیشن کی آزادی اور خود مختار حیثیت پر شبہ پیدا ہو گیا ہے۔
گجرات اسمبلی کی مدت 22 جنوری 2018کو ختم ہو رہی ہے، جب کہ ہماچل پردیش کی یہ مدت 7 جنوری کو مکمل ہو گی۔ گزشتہ ہفتے چیف الیکشن کمشنر اے کے جیوتی نے صرف ہماچل پردیش کے انتخابات کے لیے شیڈول کا اعلان کیا لیکن کسی کو علم نہیں کہ گجرات کے انتخابات کے لیے کن تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس بات سے متنازعہ گفتگو نے جنم لیا ہے جس کو بہتر انتظامی صلاحیت کے ذریعے ٹالا جا سکتا تھا۔ سابقہ چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پہلے تمام ریاستی انتخابات کی تاریخوںکا اعلان مشترکہ طور پر کیا جاتا تھا لیکن اب ان تاریخوں کے لیے 6 ماہ کی مدت مقرر کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور غیر جانبداری کے حوالے سے ’’سنجیدہ سوالات‘‘ اٹھ رہے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر جیوتی نے کہا ہے کہ گجرات کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام جاری ہے جس کی وجہ سے انتخابی تاریخ کو موخر کیا گیا ہے، لیکن ان کی اس وضاحت کو کوئی بھی قبول نہیں کر رہا بلکہ سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی ایس کرشنا مورتی نے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کے لیے بحالی کا کام سرکاری افسروں کا ہے نہ کہ سیاست دانوں کا لہٰذا ہنگامی بنیادوں پر ریلیف اور بحالی کا کام کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ سے موجودہ منصوبوں پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بس نئے منصوبوں کا اس دوران اعلان نہیں کیا جانا چاہیے۔
ہنگامی صورت حال کے دوران ہر ایک کو برابر کی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو اور سرکاری اہلکاروں کو ان کے اپنے فرائض کے بارے میں ہدایات جاری کرنے کا کام بھی الیکشن کمیشن کے ذمے ہوتا ہے۔ کرشنا مورتی نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں الیکشن کمیشن کو گجرات اور ہماچل پردیش کے لیے انتخابات کا اعلان اکٹھا ہی کرنا چاہیے تھا یا زیادہ سے زیادہ دونوں میں ایک ہفتے کا فرق ڈالا جا سکتا تھا۔ میں اس بات کا جائزہ نہیں لے رہا کہ اس فیصلے کے پیچھے کونسی قوت کا ہاتھ ہے بلکہ مجھے جس بات کا زیادہ خیال ہے وہ اس فیصلے کی انتظامی اہمیت ہے جسے مقدم رکھا جانا چاہیے۔
سابقہ چیف الیکشن کمشنر کے تبصرے سے انتخابات کے بارے میں ایک سوالیہ نشان پیدا ہو گیا ہے حالانکہ الیکشن کمیشن کو چلانے والے سرکاری اہل کار مرکزی حکومت سے ہدایات لیتے ہیں مگر غلط اور امتیازی فیصلوں سے کمیشن کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ بھارت کے معروف صحافی کلدیپ نیئر نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال اٹھایاہے کہ گجرات کی حکومت نے انتخابی تاریخوں کے بارے میں اندازہ لگا کر کیا اقدامات کیے۔ان کاکہناہے کہ مقامی میونسپل کمیٹی ڈیڑھ گھنٹے تک مختلف اعلانات کرتی رہی جب کہ وزیراعلیٰ وجے روپانی نے 780 کروڑ روپے کی مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ شہر میںشری روی شنکر کی لاجسٹک سروسز کے تحت دیوالی کی تقریبات منائی گئیں اس کے لیے علیحدہ فنڈز مختص کیے گئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ احمد آباد میونسپل کونسل نے شہری غریب کلیان میلہ میں 3262 کٹس، چیک اور فنڈز اور بانڈاز کے علاوہ مختلف تحائف اور انعام و اکرام تقسیم کئے۔عوام کو دیے جانے والے عمومی تحائف میں سلائی مشینیں‘ گھریلو استعمال کے برتن‘ تین پہیوں والی سائیکلیں‘ ڈیری کی مصنوعات‘ گلیوں بازاروں میں سودا سلف فروخت کرنے کے لیے ریڑھیاں اور دوسری گھریلو استعمال کی اشیا شامل تھیں۔ مجموعی طور پر 165کروڑ روپے کی اشیاتقسیم کی گئیں۔ جو چیک دیے گئے ان میں اسکول کی لڑکیوں کے لیے 2 ہزار روپے فی کس رکھے گئے جنھیں وجے لکشمی کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرنا تھا جب کہ ایسے والدین کے لیے جن کی دو بچیاں اسکول جاتی تھیں لیکن بعدازاں انھوں نے نس بندی کرا لی ان کو 5 ہزار روپے دیے گئے جب کہ اردو بولنے والے معاشرے کی ترقی کے لیے 50, ہزار روپے کا فنڈ مختص کیے گئے۔
کلدیپ نیئر کے مطابق دوسری ذاتوں میں شادیاں کرنے والوں کے لیے بھی اس فنڈ میں حصہ رکھا گیا۔ مزید براں 165 ارب اور 75 کروڑ روپے کی رقم شہر میں پینے کے پانی کے منصوبے لگانے کے لیے رکھے گئے۔ یہ پانی دریائے ماہی سے ڈیڑھ کروڑ لیٹر روزانہ کے حساب سے فراہم کیا جائے گا۔ سْرساگر کی جھیل کی تزئین و آرائش کے لیے 38کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس مثالی جھیل کی تزئین و آرائش 2012 کے اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی کے مرکزی اور صوبائی وزرا جن ریاستوں پر حکومت کر رہے ہیں انھوں نے گجرات کی تعمیر و ترقی کو اپنا ماڈل قرار دیتے ہوئے اپنی ریاستوں میں بے شمار ترقیاتی اسکیمیں جاری کر دی ہیں۔ وزیراعظم نریندرا مودی نے آیندہ انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم کا آغاز نہرو گاندھی خاندان پر شدید تنقید اور نکتہ چینی سے کیا۔ انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ متذکرہ حکمران خاندان گجرات کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا کیونکہ وہ گجرات اور گجراتیوں سے نفرت کرتے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ریاست کے لیے اپنے انتخاب کو ’’تعمیر و ترقی اور خاندان‘‘ کے درمیان جنگ کا نام دیا ہے۔ ایک پرانا سوال اس موقع پر بھی کھڑا ہو رہا ہے کہ کیا انتخابی کمیشن کا رکن سرکاری ملازمین کو بھی بنایا جانا چاہیے یا نہیں؟ اس سلسلے میں رکاوٹ یہ ہے کہ چونکہ الیکشن کے تمام ارکان تمام مرکزی حکومت کے ملازم ہیں لہٰذاوہ اپنے افسروں کے اثرورسوخ سے باہر نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ سیشان خود ایک بیوروکریٹ تھے لیکن وہ خود ہی اس نظریے کا کو یہ کہہ کر مسترد کرتے ہیں کہ ہر کوئی سیشان نہیں ہو سکتا۔
کلدیپ نیئر کہتے ہیں کہ ہم سب کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ سابقہ چیف الیکشن کمشنر این گوپال سوامی نے سؤ موٹو نوٹس لے کے صدر مملکت کو ایک سفارش بھیجی کہ الیکشن کمشنر نوین چاؤلہ کو ان کے منصب سے برطرف کر دیا جائے جس سے زبردست سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ گوپال سوامی کے اس اقدام سے حکومتی حلقوں میں بھی بہت سے بھویں تن گئیں اور حکومت کو عوام کے موڈ کے مطابق اقدام کرنا پڑا جسکی آئینی شقوں میں اجازت ہے۔ بعدازاں چاؤلہ کو چیف الیکشن کمشنر کے منصب پر ترقی دیدی گئی جب کہ گوپال سوامی نے اس کو عہدے سے ہٹانے کی صدر مملکت کو سفارش کی تھی مگر حکومت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشنر کے خلاف کسی الزام کا ثبوت نہیں ملا لہٰذا انھیں معزول نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک آئین کا تعلق ہے تو کسی الیکشن کمشنر کو منصب سے ہٹانا کسی شور و غوغا کا متقاضی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ ایک آئینی عہدہ ہے لہٰذا حکومت کو خود ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کی یک جہتی اور آزادی پر کوئی حرف آتا ہو۔ اور کمیشن کو بھی اس انداز سے کام کرنا چاہیے کہ کسی اختلافی بحث کو ہوا نہ مل سکے۔ لیکن جب خود وزیر اعظم گجرات میں انتخابی شیڈول میں تاخیر کے خواہاں ہوں تاکہ وہ انتخابات جیتنے کے لیے صوبے کے مختلف علاقوں میں طویل عرصے سے رکے ہوئے اور عوام کی برہمی کاسبب بننے والے منصوبوں پرکام شروع کراکے یا کم از کم کام شروع کرنے کااعلان کرکے عوام کے غصے کوٹھنڈا کرسکیں اوران منصوبوں کی بنیاد پر ایک دفعہ پھر بی جے پی کے امیدواروں کی کامیابی کویقینی بناسکیں۔ ا ب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندرا مودی اس معاملے میں اپنی مداخلت کے الزامات غلط ثابت کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی وجود - جمعرات 12 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع وجود - جمعرات 12 فروری 2026

سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا وجود - جمعرات 12 فروری 2026

ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے وجود - جمعرات 12 فروری 2026

دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو وجود - جمعرات 12 فروری 2026

شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ وجود - بدھ 11 فروری 2026

جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی وجود - بدھ 11 فروری 2026

امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع وجود - بدھ 11 فروری 2026

پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

مضامین
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

بونوں کا راج وجود جمعرات 12 فروری 2026
بونوں کا راج

مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق وجود جمعرات 12 فروری 2026
مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق

نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے! وجود بدھ 11 فروری 2026
نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!

وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی وجود بدھ 11 فروری 2026
وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر