وجود

... loading ...

وجود

سپر پاور امریکا کے 20فیصد بچے غذا سے محروم ‘بھارت میں غربت کی سطح تشویشناک

منگل 17 اکتوبر 2017 سپر پاور امریکا کے 20فیصد بچے غذا سے محروم ‘بھارت میں غربت کی سطح تشویشناک

امریکا خود دنیا کی سب سے بڑی یعنی سپر پاور قرار دیتاہے اور امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار کا اتنا نشہ چڑھا ہے کہ وہ اب خود کو پوری دنیا کاپالن ہار تصور کرنے لگے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جس ملک کو امریکی امداد بندکرنے کی دھمکی دی جائے گی ہمارے سامنے اوندھے منہ گر جائیں گے اور رحم کی بھیک مانگتے ہوئے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوجائیں گے جو ہم چاہیں گے ،لیکن دولت کی ریل پیل کا دعویٰ کرنے والے اس ملک امریکا کا یہ عالم ہے کہ اس ملک کے کم وبیش 25 فیصد بچوں کو مناسب خوراک میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی پرورش درست طریقے سے نہیں ہوپاتی ،بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے فنڈ اقتصادی اور سماجی پالیسی کے شعبے کے سربراہ ہوزے کویسٹا کا کہناہے کہ تمام 41 امیر ملکوں کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ کسی نہ کسی انداز میں بچوں کی فلاح وبہبود کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے ادارے یونیسیف کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں میں بھوک صرف غریب ملکوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ دنیا کے 41 امیر ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امیر ملکوں میں ہر5 میں سے ایک بچہ یعنی20فیصد بچے غربت کی زندگی گذار رہے ہیں، جب کہ ہر آٹھویں بچے کو پیٹ بھر کر کھانے کو نہیں مل رہا۔
یونیسیف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ زیادہ مالی وسائل اور آمدنی کے بچوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ اکثر ہوتا یہ ہے کہ اس سے امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھ جاتا ہے۔ بچوں کی بہتری کے لیے یونیسیف کے مقرر کردہ معیاروں کے مطابق 41 ملکوں کی فہرست میں دنیا کے پہلے سات ملکوں میں ناروے، ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈ، آئی لینڈ، جرمنی اور سوٹزرلینڈ شامل ہیں جب کہ اس فہرست کے آخری سات ملک چلی، میکسیکو، امریکا، بلغاریہ ، رومانیہ، اسرائیل اور ترکی ہیں۔ہوزے نے وائس آف امریکا کو بتایا کہ اس فہرست میں امریکا کا نمبر 37 واں ہے۔ وہ غربت، بھوک، اچھی صحت، اچھی پرورش اور اچھی تعلیم کے لیے بہت کچھ نہیں کررہا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف دولت اور اقتصادی ترقی ہی بچوں کی فلاح وبہبود کو یقینی بنانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ میں امیر ملکوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کی ضروریات کو اپنی پالیسی کے ایجنڈے کی ترجیحی بنائے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے دنیا میں خوراک کی کمی کے شکار افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016 میں دنیا بھر میں 81 کروڑ 50 لا کھ افراد کو مناسب غذا میسر نہیں تھی اور یہ تعداد 2015کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے۔اس رپورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار ایک گمبھیر صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں جو اس بات کا مظہر ہیں کہ ایک دہائی تک غذائی قلت سے متاثرہ افراد کی شرح کم سطح پر رہنے کے بعد ایک بار پھر اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پانچ اداروں کی مشترکہ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ غذائیت کی کمی دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی صحت اور مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔رپورٹ کے مطابق 15 کروڑ 50 لاکھ بچے ایسے ہیں جن کی جسمانی و ذہنی نشونما پر غذائیت کی کمی کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث وہ باقی کی زندگی میں بھی ان اثرات سے دوچار رہیں گے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یعنی یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انتھونی لیک کا کہنا ہے کہ غذائیت کی قلت کی وجہ سے لاتعداد بچوں کی زندگیاں اور مستقبل مخدوش ہو سکتا ہے اور ان میں سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار وہ ہیں جو تنازعات کے شکار علاقوں میں مقیم ہیں۔لیک نے کہا کہ “نائیجیریا، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور یمن میں کروڑوں بچے ایسے ہیں جو طویل عرصے سے جاری تنازعات کی وجہ سے نشانہ بن رہے ہیں۔”اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خواتین میں انیمیا یعنی خون کی کمی اورموٹاپے کا شکار بڑوں اور بچوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔یہ مطالعاتی رپورٹ 2030تک بھوک اور غذائیت کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے بارے میں کوئی امید افزا تاثر کا اظہار نہیں کرتی ہے۔اس رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے دنیا بھر کے ممالک کی حکومتوں کو غذائیت کی کمی کی سطح کو نیچے لانے اور صحت مند زندگی کے لیے کھانے پینے کی صحت مند عادات کے فروغ کے لیے اہداف مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی سے بڑھتی ہوئی طبقاتی تفریق کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔دنیا کے 118 ترقی پذیر ممالک میں بھوک کی صورتحال سے متعلق ترتیب دی گئی فہرست میںدنیا کے 119 ترقی پذیر ملکوں کی فہرست میں بھارت 100ویں مقام پر ہے؛ نیپال 72ویں، میانمار 77 ویں، بنگلہ دیش 88 ویں، سری لنکا 84 ویں اور چین 29 ویں مقام پر ہے۔ ہمسایہ ملکوں میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں کے حالات بھارت سے خراب ہیں۔ وہ 106 ویں مقام پر ہے غذائی پالیسی سے متعلق واشنگٹن کے ایک ادارے ’انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، بھارت غذائی قلت اور بھوک کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔ یہاں کے حالات کی ابتری کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ شمالی کوریا اور عراق کی صورت حال بھی بھارت سے بہتر ہے۔دنیا کے 119 ترقی پذیر ملکوں کی فہرست میں بھارت 100ویں مقام پر ہے۔ یہاں تک کہ ہمسایہ ملکوں کی کارکردگی بھی اس سے اچھی ہے۔ گزشتوں برسوں میں بھارت کی حالت میں کچھ سدھار ہوا ہے۔ 2008 میں اس کی ریٹنگ 35.6 تھی جو کہ رواں سال میں 31.4 پر آگئی ہے۔ لیکن بھارت جیسے ملک کے لیے جو کہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت بننے والا ہے، خوشی کا کوئی مقام نہیں؛ کیونکہ جبوتی اور یوگنڈا جیسے افریقی ممالک کے حالات بھی اس سے اچھے ہیں۔مذکورہ ادارے کے مطالعے سے بھارت میں بچوں کی انتہائی ابتر صورت حال سامنے آتی ہے۔ یہاں پانچ سال تک کے 21 فیصد بچے کم وزن اور ناقص غذائیت کے شکار ہیں۔ ان کے قد کے تناسب میں ان کا وزن نہیں ہے۔ ایک تہائی آبادی یا 38.4 فیصد بچے ایسے ہیں جن کا جسمانی فروغ عمر کے تناسب میں نہیں ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھوک سے متاثر ملکوں کی عالمی فہرست میں بھارت اس مقام پر ہے جسے سنگین قرار دیا گیا ہے۔تاہم، بھارت نے دو قومی پروگراموں کے ساتھ کچھ پیش رفت کی ہے۔ یہ پروگرام ہیں ’انٹگریٹیڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز‘ اور ’نیشنل ہیلتھ مشن‘۔ حکومت نے 2022 تک ملک کو ناقص غذائیت سے نجات دلانے کا ایک ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ پاکستان 107 نمبر پر ہے جب کہ افغانستان کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک میں صورتحال پاکستان سے بہتر بتائی گئی ہے۔امریکا میں قائم “انٹرنیشنل فوڈ ریسرچا انسٹیٹیوٹ” کی طرف سے گزشتہ روز “گلوبل ہنگر انڈیکس 2016جاری کیا گیا، جس کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو صفر سے 100 کے درمیان پوائنٹس دیتے ہوئے فہرست میں ان کی درجہ بندی کو ظاہر کیا گیا۔انڈیکس کے مطابق پاکستان 33.4 پوائنٹس حاصل کر سکا ہے جو کہ 9سال قبل کی شرح سے کچھ بہتر ہے۔خطے کے دیگر ممالک میں افغانستان 111، بھارت 97 اور چین 27 نمبر پر ہے۔ انڈیکس میں یہ بتایا گیا کہ عوام کو درپیش خوراک کی کمی اور بھوک کے خاتمے کی موجودہ شرح کے تناظر میں بھارت، پاکستان اور افغانستان دنیا کے ان 45 ممالک میں شامل ہیں جہاں بھوک کی صورتحال 2030 میں معتدل سے پریشان کن سطح تک پہنچ جائے گی۔ پاکستان کی موجودہ حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ غربت و افلاس کے خاتمے کے لیے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اقدام کیے گئے ہیں جن کے ثمرات معاشرے کے نچلے طبقے کو بھی پہنچیں گے۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی سے بڑھتی ہوئی طبقاتی تفریق کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔غربت کی شرح جانچنے کے لیے ایک نئے فارمولے کے تحت حکومت نے رواں سال کہا تھا کہ پاکستان کی 38.8 فیصد آبادی شدید غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔معاشی و سماجی امور کے ماہر عابد سلہری کہتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر امیر اور غریب طبقے میں بڑھتا ہوا فرق دیکھا جا رہا ہے ۔ لیکن پاکستان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتی اقدام غربت کی لکیر پر زندگی گزارنے والوں کے معیار زندگی کو تو بہتر بنا سکتے ہیں لیکن شدید بھوک و افلاس کے شکار طبقے کے لیے اسے مزید ٹھوس اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملکوں کو بھوک کے خاتمے کے لیے اقدام کی رفتار تیز کرنا ہو گی جس میں حکومتی و نجی اداوں کے علاوہ سماجی شعبے کو بھی اپنا سرمایہ اور وقت صرف کرنا ہوگا۔سابق مشیر خزانہ اور اقتصادی امور کے ماہر سلمان شاہ نے حال ہی میںوائس آف امریکا سے گفتگو میں کہا کہ یہ اعدادوشمار باعث تشویش ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے ہی لوگوں میں خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے جس کے لیے اقتصادی ترقی بہت اہم ہے۔پاکستان کی آبادی کا 38.8 فیصد حصہ شدید غربت کی زندگی گزار رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر10میں سے4 یعنی 40فیصد افراد اس زمرے میں آتے ہیں۔یہ بات سرکاری طور پر پہلی مرتبہ غربت سے متعلق کثیر الجہت رپورٹ میں بتائی گئی جس کے اجراکے موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس کی تیاری میں صرف آمدنی کو ہی نہیں بلکہ صحت اور تعلیم تک عدم رسائی جیسے عوامل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
جون 2013میں اقتدار میں آنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے، اقتصادی ترقی کی شرح کو بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے سمیت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اقدام کیے گئے ہیں۔لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہی غربت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔سابق مشیر خزانہ اور اقتصادی امور کے ماہر سلمان شاہ کاکہناہے کہ یہ اعدادوشمار باعث تشویش ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے ہی لوگوں میں خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔جس کے لیے اقتصادی ترقی بہت اہم ہے۔”اصل چیز تو لوگوں کی خوشحالی ہے جب وہ نہ آئے تو غیر ملکی سرمایہ کاری کا کیا فائدہ۔ اکنامک سروے میں اور بجٹ میں بھی بتایا گیا کہ اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوئے۔ جب تک اقتصادی ترقی نہیں ہوگی تو روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوں گے اور غربت براہ راست روزگار کے مواقع سے جڑی ہوئی ہے اگر آپ کے پاس پائیدار نوکری ہے یا کوئی مہارت ہے جس سے آپ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں تب ہی غربت میں کمی آتی ہے۔”وفاقی وزیر احسن اقبال نے صحافیوں سے گفتگو میں رپورٹ کے اعدادو شمار کو پالیسی سازی کے لیے معاون قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں تمام علاقوں میں وسائل اور ترقی کو مساوی طور پر تقسیم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔”جس سے تحفظ اور وقار پیدا ہوتا ہے وہ تمام اشاریے اس رپورٹ میں ہیں اس کے ذریعے پاکستان کے ہر ضلع کا غربت کا اسکور کارڈ سامنے آ رہا ہے جس سے ہمیں یہ پتہ لگانے میں مدد ملے گی کہ پاکستان کے کون سے اضلاع ہیں جو پسماندہ ترین ہیں لہذا ہم صوبوں کے اندر فیصلہ کرنے والے جو ہیں ان کی ذمہ داری ہوگی ان کا احتساب ہو گا کہ وہ ان علاقوں پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ ترقی ناہمواری کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔”اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے جس کے بعد شمال مغرب میں قبائلی علاقوں کا نمبر ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بنیادی تعلیم اور صحت تک رسائی غربت میں کمی کے لیے بہت ضروری ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان دونوں شعبوں میں مجموعی قومی پیداوار کا بہت ہی کم حصہ مختص کیا جاتا رہا ہے لیکن حالیہ برسوں میں ان میں ماضی کی نسبت بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

قیمتی یا ضروری؟ وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
قیمتی یا ضروری؟

عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر