وجود

... loading ...

وجود

تاجروں کاسیلز ٹیکس جمع کرانے سے گریز ‘ایف بی آر قابل عمل حکمت عملی سے محروم

بدھ 20 ستمبر 2017 تاجروں کاسیلز ٹیکس جمع کرانے سے گریز ‘ایف بی آر قابل عمل حکمت عملی سے محروم

وزیر خزانہ نے قومی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے انسانی استعمال کی کم وبیش ہر شے پر سیلز ٹیکس نافذ کردیا ہے جو ہر شہری سے اس کی خریداری کے ساتھ ہی وصول کرلیاجاتاہے لیکن اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ ریونیو بورڈ میں سیلز ٹیکس اداکرنے والوں کی حیثیت سے اپنی رجسٹریشن کرانے والے تاجروں کی بہت کم تعداد باقاعدگی سے سیلز ٹیکس ادا کررہی ہے،فیڈرل ریونیو بورڈ کے پاس موجود اعدادوشمار اور ریکارڈ کے مطابق2016-17 کے دوران ایف بی آر کے پاس سیلز ٹیکس جمع کرانے والوں کی حیثیت سے ناموں کا اندراج کرانے والے تاجروں اور صنعت کاروں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ27 ہزار268 تھی لیکن ان ایک لاکھ 27 ہزار سے زاید رجسٹرڈ تاجروں ،ٹھیکیداروں اور صنعت کاروں میں سے صرف 20 ہزار 700 نے سیلز ٹیکس جمع کرایا جبکہ بقیہ 80 فیصد سے زیادہ رجسٹرڈ افراد نے سرکاری خزانے کی مد میں ایک روپیہ بھی جمع نہیں کرایا،جس سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ہمارے ایف بی آر کے حکام سیلز ٹیکس کی وصولی کا کوئی موثر اور جامع طریقہ کار وضح کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ قومی خزانے کو اس کی اس آمدنی سے محروم کررہے ہیں جو وہ عوام سے پہلے ہی وصول کرچکے ہیں ۔ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطا بق2016-17 کے دوران مجموعی طورپرایک لاکھ 27 ہزار268 رجسٹرڈ سیلز ٹیکس ادا کرنے والوں میں سے صرف ایک لاکھ 14 ہزار102 افراد یافرموں نے اپنے سیلز ٹیکس کے گوشوارے جمع کرائے یعنی 13 ہزار166 رجسٹرڈ فرموں یعنی 11 فیصدنے سرے سے اپنے گوشوارے ہی جمع نہیں کرائے سیلز ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے والے 40 ہزار اداروں افراد یا ٹھیکیداروں نے اپنے گوشواروں میں سیلز ٹیکس صفر میں ظاہر کیا یعنی انھوں نے کسی طرح کا سیلز ٹیکس واجب الادا ہونے سے ہی انکار کیا،اور اپنے گوشواروں میں لکھ دیا کہ زیر نظر سال کے دوران انھوں نے کوئی ایسا کاروبار نہیں کیا یا خدمات انجام نہیں دیں جن پر سیلز ٹیکس نافذ کیاجاسکتاہو،ایف بی آر کے اندرونی ذرائع کاکہناہے کہ یہ ممکن ہے کہ سیلز ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے والے بعض اداروں نے واقعی ایسا کوئی کاروبار نہ کیا ہو یا ایسے سیکٹر میں خدمات انجام نہ دی ہوں جہاں سیلز ٹیکس واجب الادا ہوتاہو لیکن ایف بی آرکے ریجنل ٹیکس افسران اور لارج ٹیکس پیئر یونٹ کے افسران کافرض ہے کہ وہ جمع کرائے گئے گوشواروں کی چھان بین کریں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ سیلز ٹیکس نافذ العمل نہ ہونے کے اس دعوے میں حقیقت کتنی ہے، اسی طرح جن لوگوں نے گوشوارے جمع نہیں کرائے ان کے معاملات کی بھی چھان بین کی جائے کہ ان کی جانب سے گوشوارے جمع نہ کرائے جانے کی بنیا دی وجہ کیاہے۔
ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق55 ہزار یونٹس یعنی مجموعی طورپر 48 فیصد اداروں نے یہ ظاہر کیاہے کہ زیر نظر سال کے دوران انھوں نے کوئی کام ہی نہیں کیا۔ان میں سے بعض کاسبب ادارے بندکردئے جانے یعنی کاروبار ختم کردیاجانا بھی ہوسکتاہے لیکن ایف بی آر کی جانب سے تفصیلی چھان بین اور انکوائری کے بعد ہی ان کی اصلیت کاعلم ہوسکتاہے ۔ایف بی آر کے ذرائع کاکہناہے کہ جو ادارے یا لوگ گوشوارے جمع نہیں کراتے وہ دراصل قومی خزانے میں کوئی رقم جمع نہیں کرارہے ہوتے ہیں ۔ایف بی آر کے موجود اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ ٹیکس بیس کو وسعت دینا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ایک مشکل کام ہے اس کے لیے بھرپور توجہ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے،صرف تجارتی اداروں کی رجسٹریشن کرلینے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ ٹیکس نیٹ میں شامل کیے جانے والے اداروں کے جمع کردہ گوشواروں کی چھان بین اور ان کی اصل آمدنی اور قابل ادا ٹیکس کاتعین کرنا بھی ایف بی آر کے متعلقہ حکام کاہی فرض ہے لیکن ایف بی آر کے گزشتہ مالی سال کے ریکارڈ سے ظاہرہوتا ہے کہ ایف بی آر کے حکام نے اب تک اس حوالے سے کاغذی خانہ پری کے سوا عملا ً کچھ نہیں کیا۔جس کی وجہ سے ٹیکس وصولی میں خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوسکا اور ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی تخمینے سے بہت کم رہی ، یہی وہ صورت حال تھی جس کی وجہ سے وزارت خزانہ کو جاریہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا سہارالینے پر مجبور ہونا پڑا۔
ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق 2016-17 کے دوران ٹیکسوں کے گوشوارے جمع کرانے والوں میں بڑی تعداد ایسے اداروں اور افراد کی ہے جنھوں نے زیر نظر سال کے دوران اپنے کاروبار اورکام سے ہونے والی آمدنی کو قابل ٹیکس قرار نہیں دیاہے جبکہ ان میں سے بہت سوں نے زیر نظر سال کے دوران کسی طرح کی کاروباری سرگرمی سے ہی انکار کیاہے اور یہ ظاہر کیاہے کہ زیر نظر سال کے دوران انھوں نے کوئی کاروبار ہی نہیں کیا۔تاہم اس کے باوجود یہ بات خوش آئند ہے کہ رجسٹرڈ ٹیکس پیئرز کی اتنی بڑی تعداد کی جانب سے قابل ٹیکس ہونے سے انکار اور ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرائے جانے کے باوجود زیر نظر سال کے دوران سیلز ٹیکس کی وصولی کی شرح اس سے قبل والے سال کے مقابلے میں کچھ بہتر رہی ہے اور اعدادوشمار کے مطابق2016-17 کے دوران مجموعی طورپر سیلز ٹیکس کی مد میں 628.63 بلین یعنی 628 ارب 63 کروڑ روپے وصول کیے گئے تھے جبکہ اس سے قبل والے سال کے دوران اس مد میں وصول کی جانے والی رقم میں 624.1 بلین روپے یعنی 624 کروڑ 10 لاکھ روپے تھی اس طرح زیر نظر سال کے دوران کاروباری سرگرمیاں تیز رہنے کے باوجود سیلز ٹیکس کی مد میں وصولی کی شرح میں صرف 0.74 فیصد کااضافہ کیاجاسکا،خیال کیاجاتاہے کہ اگر ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے گوشواروں کی چھان بین اور گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے بارے میں تفتیش کاموثر اور جامع نظام وضح کرلیاہوتاتو یہ وصولی تصور سے کہیں زیادہ ہوتی۔
ایف بی آر کے پاس موجود ریکارڈ سے پتہ چلتاہے کہ سیلز ٹیکس کی مد میں سب سے زیادہ رقم کراچی سے وصول کی گئی جبکہ سیلز ٹیکس میں لاہور میں کاحصہ محض28 فیصد رہا جبکہ بقیہ رقم 13 شہروں سے وصول کی گئی جن میں کوئٹہ،پشاور ، اسلام آباد ، راولپنڈی، فیصل آباد ، گوجرانوالہ،ملتان، ایبٹ آباد، سکھر، حیدرآباد اور سیالکوٹ سے وصول کی گئی۔اعدادوشمار سے یہ بھی ظاہرہواہے کہ ایسا معلوم ہوتاہے کہ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کی وصولی کے لیے صرف چند مخصوص اشیا کواپنا ہدف بنایاہواہے جس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ زیر نظر سال کے دوران وصول ہونے والے سیلز ٹیکس کا بڑا حصہ یعنی کم وبیش73 فیصد حصہ 10 اشیا پر وصول کیے جانے والے سیلز ٹیکس سے حاصل ہوا ہے جس میں پیٹرولیم مصنوعات سے 43.8 فیصد،قدرتی گیس سے 8.9 فیصد، کھاد سے 4.8 فیصد،سیمنٹ سے 2.8 فیصد،بجلی سے 2.4 فیصد ، سگریٹ سے 2.6 فیصد،چینی سے 2.1 فیصد،چائے سے 1.3 فیصداور اشیائے خوراک سے 0.8 فیصد وصول کیاگیا۔
ایف بی آر کے ایک سینئر افسر کاکہنا ہے کہ سیلز ٹیکس وصولی کاکوئی موثر نظام تشکیل نہ دیے جانے کے سبب سیلز ٹیکس کی مد میں وصولیوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا ہے تاہم اگر اس نظام کو زیادہ موثر بنادیاجائے تو اس مد میں وصولی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوجائے گا جس سے اس ملک کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے رقم کی کمی پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اب دیکھنایہ ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ کو خود کو نیب عدالتوں سے متوقع سزاؤں سے بچانے کی سرگرمیوں سے کب وقت ملے گا اور وہ ملک میں ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے پر کب توجہ دیں گے ، تاہم واقف حال حلقوں کاکہناہے کہ وزار ت خزانہ کے ارباب اختیار ملک میں ٹیکس وصولی کاکوئی ایسا موثر نظام قائم کرنا ہی نہیں چاہتے جس کے شکنجے میں ہر ایک پھنس جائے اور کسی استثنیٰ کے بغیر ہر ایک کو واجب الادا ٹیکس ادا کرنا پڑے کیونکہ اس طرح کے نظام سے تمام بڑے سیاستدان اور سیاسی جماعتوں کو مالی امداد فراہم کرنے والے بڑے سرمایہ داروں ،تاجروں اور صنعت کاروں کو بھی پورا پورا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا اور جب ان کے پاس کالا دھن باقی نہیں بچے گا تو وہ سیاسی جماعتوں کو اس فراخدلی کے ساتھ چندے فراہم نہیں کرسکیں جن کی بنیاد پر سیاسی رہنما اپنی انتخابی اور عوام رابطہ مہم کے دوران لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کردیتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر