... loading ...
قطر نے گزشتہ روز ایران سے سفارتی تعلقات مکمل طورپر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے،اور اس اعلان کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان سفارتکاروں کاتبادلہ بھی کرلیاگیا ہے،قطر کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے اس اعلان سے سب سے زیادہ دھچکہ سعودی عرب کو پہنچاہے،کیونکہ قطر کے اس اعلان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ سعودی عرب کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ اور اس سے سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے کا نہ صرف یہ کہ قطر پر کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ سعودی عرب سے مفاہمت کیلئے اس کی شرائط تسلیم کرنے پر رضامند نہیں ہوا بلکہ ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا اعلان کرکے اس نے سعودی عرب اور اس کی حمایت میں قطر سے تعلقات منقطع کرنے والے ممالک کو یہ پیغام دیاہے کہ آج کی دنیا میں کسی بھی ملک کو خواہ وہ کتناہی چھوٹا کیوں نہ معمولی سمجھ کر اس پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوششیں نہیں کرنی چاہئیں ۔
قطر کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے اس اعلان کو اس اعتبار سے خوش آئند قرار دیاجاسکتا ہے کہ اس سے خلیجی ممالک اور ایران کے مابین دوری کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ قطر نے گزشتہ سال سعودی عرب کی پیروی میں ایران سے اس وقت تعلقات منقطع کیے ۔ جب جنوری 2016 میں سعودی عرب میں ایک شیعہ رہنما کو پھانسی دی گئی تھی اور جس کے ردعمل میں تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کیا گیا تھا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ مسلمان ممالک کے درمیان اندرونی کشمکش کا فائدہ ہمیشہ دشمنوں نے اٹھایا ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان مخاصمت کو 4 دہائیاں گزر چکی ہیں جس کا دونوں اطراف کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ عراق ایران جنگ ایک دہائی جاری رہی بعد ازاں تعلقات میں بہتری آئی مگر دیرپا خوشگوار تعلقات قائم نہ رہ سکے۔ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک نے ایران کو خطرہ قراردیکر سعودی عرب و دیگر خلیجی ممالک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور خلیجی ممالک کو غیر ضروری طورپر اسلحہ خریدنے پر مجبور کیا۔ بارک اوباما کے دور میں امریکا ایران تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی تو یہ نئی پیش رفت بھی خلیجی ممالک کے لئے تشویش سے کم نہ تھی۔ انہوں نے بہت واویلا کیا مگر اوبامہ انتظامیہ نے ایران سے ایٹمی معاہدہ کرنے کی ٹھان لی اور وہ ایسا کرکے رہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد ایران پر سے اٹھائی گئی پابندیاں دوبارہ عاید کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور کچھ پابندیاں لگانے کااعلان بھی کرچکے ہیں لیکن ایرانی قیادت کی جانب سے انتہائی سخت موقف اختیار کیے جانے کے بعد امریکا نے اس معاملے میں خاموش ہوجانے ہی میں مصلحت سمجھی اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی ایران ان پابندیوں سے بڑی حد تک آزاد ہے ،ایران نے اب تک کھلے عام ایسا کوئی قدم اٹھانے سے گریز کیا ہے جس سے یہ تاثرلیا جاسکے کہ وہ خلیجی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کررہا ہے۔ خلیجی ممالک میں یہ تشویش پائی جاتی تھی کہ ایران اپنے منجمد اثاثے بحال ہونے اور خام تیل کی برآمد کے بعد اپنے وسائل کو عدم استحکام پھیلانے کیلئے استعمال کرے گا۔ ایران نے اب تک انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خلیجی ممالک کے خدشات درست نہیں ہیں ۔ جبکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب’ خلیجی ممالک سے توقعات رکھتا ہے کہ وہ اہم علاقائی مسائل میں اس کی رائے کا احترام کریں ،اور یہ توقعات پوری نہ ہونے پربعض ممالک سے اس کے گلے شکوے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ قطر کے ساتھ بھی اس کا یہی مسئلہ ہے۔ قطری قیادت نے اپنی خودمختاری دکھانے کی جب بھی کوشش کی سعودی عرب سے اس کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ سعودی قیادت کو یہ بات ناگوار ہے کہ خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تعلقات رکھیں ۔
جہاں تک قطر اور ایران کے درمیان تعلقات کا سوال ہے تو اس ضمن میں یہ بات مدنظر رکھی جانی چاہئے کہ ان دونوں ملکوں کی گیس فیلڈ مشترکہ ہے اور دونوں بعض نظریاتی حوالوں سے بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔ ایک معاملہ اخوان المسلمین کا ہے۔ ایران نے مصر میں اخوان کی حکومت کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کے قیام کے بعد کوئی ایرانی صدر طویل عرصے کے بعد مصر کے دورے پر گیا تھا۔ قطر نے مصر میں اخوان حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی مخالفت کی اور کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ قطر کی قیادت کی یہ جرات سعودی عرب کو پسند نہیں آئی اور اس نے قطر کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا۔ سعودی عرب نے قطر پر اب بھی یہی الزام لگایا ہے کہ قطر اخوان المسلمین کی حمایت کرتا ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ مصر میں جس انداز میں اخوان المسلمین کی حکومت کاتختہ الٹا گیا پاکستانی عوام کی اکثریت نے اسے پسند نہیں کیا اور اخوان المسلمین کے حوالے سے سعودی پالیسی پر پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت کو تحفظات ہیں ،یہاں تک کہ قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کو منقطع کرنے کوبھی پاکستان کے عوام نے پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا ۔پاکستانیوں کی ہمیشہ سے ایک رائے ہے کہ مسلم ممالک کو اپنے تمامتر اختلافات کے باوجود ان اختلافات کو منظر عام پر لانے سے گریز کرنا چاہئے، پاکستانی عوام اتحاد امت کے داعی ہیں اور ہمیشہ سے وہ اس کے خواہاں بھی رہے ہیں ،اس لئے جب بھی کسی مسلمان ملک کی جانب سے دوسرے مسلمان ملک کے ساتھ کشیدگی کی خبریں آتی ہیں تو پاکستانی پریشان ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان کے عوام سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی تو خطے میں جاری کشیدگی بھی ختم ہوجائے گی اور مسلمان ممالک میں جاری ان کی پراکسی جنگ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ قطر اگر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرتاہے تو بجائے اس پر ناراضگی کااظہار کرنے کے سعودی عرب و دیگر خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ مسلمان ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات کی بحالی کے عمل کا حصہ بنیں اور اپنی سخت پالیسی ترک کرکے مسلم اْمہ کے وسیع تر اتحاد کے لئے کام کریں ۔
حرمین شریفین یعنی مکہ اور مدینہ کی وجہ سے سعودی عرب کو عالم اسلام میں خصوصی مرکزی حیثیت ہے سعودی عرب دنیا بھر کے مسلمانوں کاروحانی مرکز ہے قدرتی وسائل تیل وغیرہ اور جغرافیائی لحاظ بھی اس کی اہمیت، حیثیت اور مقام ہے ماضی میں سعودی عرب کا عالمِ اسلام میں مرکزی کلیدی کردار رہا دنیا بھر کے مسلمانوں کی مدد راہنمائی اور ترجمانی کرنے والا امام ملک سعودی عرب جہاں شاہ فیصل جیسے درد دل رکھنے والے دانشور قسم کے حکمران نے پوری زندگی عالمِ اسلام کو متحد کرنے میں گزار دی،لیکن آج کی صورت حال اس کے بالکل برعکس نظر آرہی ہے اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ موجودہ سعودی حکمران اپنے ماضی کے فریضے اور ذمہ داریوں کو فراموش کرچکے ہیں ، عالمِ اسلام کی تنظیم او آئی سی کو غیر موثر اور غیر فعال بنادیا گیاہے اورایسا معلوم ہوتاہے کہ امریکا کی ایما پر عالمِ اسلام کو شیعہ اور سنی 2گروپوں میں تقسیم کرکے جنگی حالات پیدا کیے جارہے ہیں اور یہ صاف محسوس ہورہاہے کہ یہ سب کچھ امریکا کے اشارے پر اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کیاجارہاہے ، مئی 2017کے آخر میں سعودی عرب میں مسلم ممالک کے اجلاس میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی بطور مہمان خصوصی شرکت اور خطاب تاریخ کا ایک بڑا سانحہ یا المیہ ہے اس اجلاس میں امریکی صدر نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی موجودگی میں بھارت میں دہشت گردی کی مذمت کی اوربا الفاظ دیگر پاکستان کے خلاف اور مسئلہ کشمیر کے خلاف بات کی لیکن دنیائے اسلام کے ایک معتبر ملک اور واحد اسلامی ایٹمی ملک کے وزیر اعظم کو تقریر کا بھی موقع نہیں دیا گیا ، مسئلہ کشمیرکی حمایت میں بات کرنے کے بجائے بھارت کے حق میں اور مظلوم کشمیریوں کے خلاف بات کی گئی فلسطین کے مظلوم مسلمان بھائیوں کی آزادی پر تو کسی نے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کیا اس طرح امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی شاہ کی امامت میں یہ کانفرنس صرف اور صرف امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کو تباہ کرنے کی بنیاد بنی۔ سعودی حکمرانوں نے اس کانفرنس کے اختتام پر ٹرمپ کو ڈیڑھ ارب ڈالرز مالیت کے تحائف سے نواز کر تاریخ اسلام اور تاریخ عالم میں نئی تاریخ رقم کی ہے ٹرمپ کو انعام میں ملنے والی دیگر اشیاکے ساتھ 20کلو سونے کی تلوار بھی شامل ہے،اس کانفرنس میں بھی قطر کے حوالے سے کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جس سے یہ اندازا ہوتاکہ سعودی عرب یا کسی اور خلیجی ملک کو قطر کی کسی پالیسی سے کوئی اختلاف ہے لیکن کانفرنس کے فوری بعد سعودی شاہ نے اچانک قطر کے خلاف کارروائی کااعلان کرکے عملاً اس کی ناکہ بندی کردی ،سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا قطر یا ایران کے خلاف صف بندی کرکے عالم اسلام کی خدمت کی جا رہی ہے ؟ یقینا ایسا ہرگز نہیں ہے،بلکہ دراصل یہ عالم اسلام کو تباہ کرنے کی صف بندی کا آغاز ہے اس عالم اسلام کو جس صورت حال کاسامناہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے بجائے افہام و تفہیم کی راہ اپنائیں ۔ قطرہمیشہ سے سعودی عرب کا اتحادی رہا ہے اس کی فوج یمن میں سعودی عرب کے اتحادی کے طور پر لڑ رہی تھی سوال یہ ہے کہ پھر اچانک ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے قطر نے آخر کیا جرم کیابظاہر نظر یہی آتاہے کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حداد نے بس یہ جرم کیا کہ اس نے سعودی بادشاہ کی طرف سے ٹرمپ کو دئیے جانے والے تحائف پر شدید تنقید کی تھی دوسرا یہ بھی کہا کہ ایران اسلامی دنیا کا ایک طاقتور ملک ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، قطر کے ایران سے دوستانہ تعلقات ہیں قطر کے امیر کا یہ بیان سعودی عرب اور امریکا کو پسند نہیں آیا اور اس کی ناکہ بندی کر دی گئی،قطرکے خلاف اس کارروائی کا جواز یہ پیش کیاگیا کہ قطر اخوان المسلمین کی مالی مدد کرتا ہے یہ الزام ثابت کرنے کیلئے سعودی عرب سمیت کسی بھی ملک کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے 1950اور 1960کی دہائی میں سعودی عرب خود اخوان المسلمین کا مددگار رہا ہے ریاض میں اس کا دفتر قائم تھا۔امید کی جاتی ہے کہ سعودی فرمانروا حقیقی معنوں میں حرمین شریفین کے والی ہونے کاکردار ادا کرنے پر توجہ دیں گے اور امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے متحد اور منظم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ پوری دنیا پر یہ ثابت ہوسکے کہ پوری دنیا کے مسلمان متحد ہیں ان کی سوچ ایک ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آسکتاہے، اگر مسلم امہ یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے تو دنیا کے مختلف ممالک میں اس وقت مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں کاسلسلہ بڑی حد تک رک جائے گا۔
امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...
فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...
حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...
جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...
ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...
حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...
شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...
محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...
ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...
جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...
مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...