وجود

... loading ...

وجود

کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کی دوبارہ واپسی!!!!

بدھ 30 اگست 2017 کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کی دوبارہ واپسی!!!!

ملک کی سیاسی و فوجی قیادت نے مل کر جس طرح کراچی کا امن بحال کیا ہے اس کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کراچی میں 1984 کے بعد جو بدامنی پھیلی ہے اس کا اب کسی حد تک کا خاتمہ بھی ہوا ہے۔ اور اس کے لیے کراچی میں امن کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹیاں بنائی گئی ہیں تاکہ کراچی کی صورتحال کو مؤثر طریقے سے مانیٹر کیا جاسکے اور یہ سلسلہ مسلسل چل رہا ہے۔ ایپکس کمیٹیاں بن جانے کے بعد کراچی کے حالات کافی حد تک بہتر ہوئے ہیں ۔ اس ضمن میں سندھ پولیس، رینجرز اور حساس اداروں کی کاوشیں قابل ستائش ہیں ۔ اس کے علاوہ آئی جی سندھ پولیس نے جس طرح ٹیم ورک کیا ہے وہ بھی واقعی قابل تعریف ہے۔پھر کراچی پولیس چیف مشتاق مہر نے بھی کافی اچھے اقدامات کیے ان اقدامات کی بدولت کراچی کے شہری یہ تیسری عید بلا خوف و خطر منا نے کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ کوئی ان سے کھالیں ، چندہ ،فطرہ اور زکوٰۃ مانگنے نہیں آیا۔ لیکن گزشتہ ماہ حکومت سندھ نے اچانک کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کا تبادلہ کر دیا اور غلام قادر تھیبو کو چیئرمین محکمہ اینٹی کرپشن سے اٹھا کر کراچی پولیس چیف بنا دیا گیا۔
غلام قادر تھیبو نے جس طرح محکمہ اینٹی کرپشن میں گل کھلائے وہ سب کے سامنے عیاں تھے۔ اُن سے محکمہ پولیس میں بھی اسی کچھ کی توقع تھی۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اُن ’’توقعات‘‘ پر پورے بھی اُترے۔ اُنہوں نے آتے ہی 36 دنوں میں 65 سے زائد ایس ایچ اوز اور چوکی انچارج تبدیل کر دیے اس کی وجہ کیا تھی؟ وہ ہر ایک کو پتہ ہے ۔ محکمہ پولیس میں اس نوع کے تبادلے خوامخواہ نہیں ہوتے بلکہ اس کے پیچھے چمک کا عمل دخل ہوتا ہے۔اگر پولیس افسران کی تقرری میں ساکھ اور کارکردگی کے بجائے چمک کا عنصر کام کرے گا تو وہ کیونکر امن و امان کی بحالی میں دلچسپی لیں گے۔ ان عناصر کی پہلی ترجیح تویہ ہوگی کہ وہ اپنی سرمایہ کاری منافع سمیت وصول کریں ۔کیونکہ یہی منحوس چکر دوبارہ تعیناتیوں میں بھی چلتا ہے۔
نئے پولیس چیف کی تعیناتی کے فورا ًبعد ہی کراچی میں بینک ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بڑھ گئیں ۔قتل، اغوا کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوگیا اور سٹی پولیس چیف غلام قادر تھیبو خواب خرگوش کے مزے لوٹتے رہے ۔ جیسے ہی غلام قادرتھیبو سٹی پولیس چیف بنے تو بدنام زمانہ پولیس اہلکار وسیم بیٹر ملیشیا سے واپس کراچی آگیا۔ جس نے آتے ہی بھتے وصول کرنا شروع کر دیے۔ شہر میں جوئے اور سٹے کے اڈے دوبارہ کھلنا شروع ہوگئے۔ بکیز کا کاروبار تیز ہوگیا۔ منشیات اور عیاشی کے کاروبار میں بھی اضافہ ہوگیا۔ ریسٹ ہاؤس بھی کھلنا شروع ہوئے۔ جب یہ سب کچھ شروع ہوا اور اندھیر نگری چوپٹ راج بڑھنے لگا تو ایپکس کمیٹی کے اہم ارکان نے آنکھیں کھولیں اور وہ چوکس ہوگئے۔ اُنہوں نے فوری طور پر حکومت سندھ سے رابطہ کیا اور سوال کیا کہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟ یہ تماشا بند کیا جائے۔ اطلاعات کے مطابق ایپکس کمیٹی کے اہم ارکان نے آئی جی سے معلومات لی تو انہوں نے صاف گوئی سے کام لیا اور بتایا کہ کراچی پولیس چیف غلام قادر تھیبو اور ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس سردار عبدالمجید دستی کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ وہ چیف آف کمان کا بھی خیال نہیں کرتے اور بس چند افراد کو خوش کرنے کے لیے کراچی کے امن و امان کی بحالی پر توجہ بھی نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ پولیس ریفارم میں بھی پولیس افسران کے بجائے ایڈووکیٹ جنرل سندھ پر انحصار کیا جاتا ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔
اس پر ایپکس کمیٹی کے ارکان نے فوری طورپر حکومت سندھ سے رابطہ کیا ،حکومت سندھ کے ذمہ داروں کو بتایا گیا کہ کراچی کا امن کس طرح مشکل سے قائم کیا گیا ہے اور اس کو برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے ۔ اور اس پر کسی بھی قسم کی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔ چنانچہ ایک مرتبہ پھر پولیس کے سربراہ پر غور شروع کیا گیا۔اس موقع پر تین پولیس افسران کے نام سامنے آئے۔ پہلا نام معظم جاہ انصاری کا تھا ۔وہ گریڈ 21 کے افسر ہیں مگر ان کا نام بلوچستان کے آئی جی کے لیے لیا جا رہا ہے کیونکہ موجودہ آئی جی بلوچستان احسن محبوب ستمبر کے آخر میں ریٹائرڈ ہو رہے ہیں ۔ اس لیے معظم جاہ انصاری کو آئی جی بلوچستان بننے کی امید پر کراچی پولیس چیف بننے میں دلچسپی نہیں تھی۔ پھر دوسرا نام ڈاکٹر امیر شیخ کا تھاجو اس وقت گریڈ 20 میں سب سے سینئر ہیں لیکن ان کا گریڈ 21 کا پروموشن آئندہ ماہ متوقع ہے اس لیے انھوں نے بھی ایک ماہ کے لیے اوپی ایس پر ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس بننے سے احتراز کیا اور پھر تیسرا نام مشتاق مہر کا تھا جو دو سال تک کراچی پولیس چیف رہے اور بہتر انداز میں پولیس کے معاملات چلاتے رہے۔ جب مشتاق مہر سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے سب سے پہلے انکار کیا کہ وہ دوبارہ کراچی پولیس چیف بننے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ پہلے انہوں نے محنت کی اچھی ٹیم بنائی اور ان کو بلاوجہ ہٹایا گیا۔ وہ پروفیشنل افسر ہیں ان کے لیے عہدے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ وہ صرف عزت چاہتے ہیں اس لیے خود کو تنازعات سے دور رکھا ہوا ہے۔ جب ایپکس کمیٹی کے ارکان اور حکومت سندھ معظم جاہ انصاری اور ڈاکٹر امیر شیخ سے کورا جواب سن کر بیٹھے تو انہوں نے دوبارہ مشتاق مہر سے رابطہ کیا اور ان کو قائل کر لیا۔
آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ بھی ان کی تقرری سے خوش ہوئے کیونکہ ان کے ساتھ ان کی ہم آہنگی بہتر تھی اور بڑی بات یہ تھی کہ مشتاق مہر متنازع افسر نہیں ہیں اور انہوں نے پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ مل کرامن امان کی بحالی کے لیے دن رات محنت کی تھی۔ جب انہیں قائل کر لیا گیا تو وہ کراچی پولیس چیف بننے کے لیے راضی ہوئے یوں مشتاق مہر 36روز بعد دوبارہ کراچی پولیس چیف کے عہدے پر براجمان ہوگئے۔ مشتاق مہر آتے ہی سب سے پہلے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جن پولیس افسران نے امن امان کی بحالی کے لیے اچھا کردار ادا کیا ان کو دوبارہ ذمہ داریاں دینا شروع کر دی ہیں اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سچی نیت سے کام کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور ملتی ہے۔ دوسری طرف غلام قادر تھیبو نے دوبارہ اینٹی کرپشن چیئرمین بننے کی کوشش کی مگر حکومت سندھ نے ان سے معذرت کرلی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنا جادو دوبارہ کس محکمے کے لیے چلا پاتے ہیں ؟


متعلقہ خبریں


بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج وجود - جمعه 06 فروری 2026

ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل وجود - جمعرات 05 فروری 2026

پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان وجود - جمعرات 05 فروری 2026

ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ وجود - جمعرات 05 فروری 2026

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق وجود - بدھ 04 فروری 2026

پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک وجود - بدھ 04 فروری 2026

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل وجود جمعه 06 فروری 2026
مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل

'' ہم بے وقوف '' ۔۔۔۔ وجود جمعه 06 فروری 2026
'' ہم بے وقوف '' ۔۔۔۔

5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن وجود جمعرات 05 فروری 2026
5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن

بلوچستان حملے اورسازشیں وجود جمعرات 05 فروری 2026
بلوچستان حملے اورسازشیں

سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے ! وجود جمعرات 05 فروری 2026
سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر