وجود

... loading ...

وجود

کیا خطرناک ترین دہشت گرد قانون کی پکڑ میں آسکیں گے؟

جمعه 11 اگست 2017 کیا خطرناک ترین دہشت گرد قانون کی پکڑ میں آسکیں گے؟

کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی ) ان دنوں دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہے سی ٹی ڈی نے جس طرح دہشت گردوں کو پکڑا ہے یا ان کو مقابلوں میں مارا ہے اس کی مثال پہلے نہیں ملتی حال ہی میں سی ٹی ڈی نے 84 خطرناک ترین دہشت گردوں کی فہرست پر مشتمل ریڈ بک کا آٹھواں ایڈیشن شائع کر دیا ہے۔ اس ریڈ بک میں شکار پور، جیکب آباد، خان پور میں خود کش حملوں کے ماسٹر مائنڈ حفیظ بروہی عرف حفیظ پندھ رانی کا نام بھی شامل ہے۔ ریڈ بک میں شامل 70 خطرناک دہشت گردوں کا تعلق کا لعدم تنظیموں سے بتایا گیا ہے جبکہ 14 خطرناک دہشت گردوں کی ایک فہرست دکھائی گئی ہے تاہم ان کو کرائے کا قاتل بتایا گیا ہے ۔سی ٹی ڈی کی اس فہرست میں سنی گروپوں سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب ترین دہشت گردوں کی تعداد 49 ہے جبکہ شیعہ گروپوں سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب ترین دہشت گردوں کی تعداد 21 بتائی گئی ہے۔ 14 خطرناک دہشت گردوں کا کسی بھی کالعدم تنظیم سے تعلق نہیں بتایا گیا ان کو کرائے کا قاتل بتایا گیا ہے۔
’’وجود‘‘ کو موصول ہونے والی فہرست میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے 4 القاعدہ کے 9تحریک طالبان پاکستان کے 17، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ کے 11 جند اللہ کے 8 اور سپاہ محمد، تحریک جعفریہ پاکستان کے خطرناک دہشت گردوں کی تعداد22 بتائی گئی ہے۔ داعش کے عبداللہ یوسف پر 25 لاکھ روپے، داعش کے محمود پر 25 لاکھ روپے، لشکر جھنگوی کے مطیع الرحمان عرف حسین پر ایک کروڑ روپے، لشکر جھنگوی کے محمد علی عرف اختر پر 5 لاکھ روپے، قاری جمیل بروہی پر 5 لاکھ روپے، جند اللہ کے سید کاشف علی شاہ عرف شاہین پر 5 لاکھ روپے، حماد پر 5 لاکھ روپے، بلال پر 5 لاکھ روپے مہتاب پر 5 لاکھ روپے، رضا امام عرف منظر پر 10 لاکھ روپے، مولانا سید ذوالقرنین حیدر نقوی پر 10 لاکھ روپے، سید محب علی رضوی عرف یاور عباس پر 10 لاکھ روپ، سید محسن مہدی رضوی عرف گڈو پر 10 لاکھ روپے، علی مستحسن عرف سید وسیم احسن نقوی پر 5 لاکھ روپے، سید آصف حسین زیدی پر 5 لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے۔ ریڈ بک کے مطابق داعش کے عبداللہ یوسف، محمود، ذیشان، شرمیلا پٹھان، القاعدہ کے علی محسود عرف معاذ، فضل غنی، عبدالباط، مولوی اسلام عرف مولوی حمزہ، ابوبکر، فرحان یوسف، محمود برھی، خالد، طلعت محمود یوسف عرف عبداللہ، مصطفیٰ عرف حاجی، غلام اسحاق عرف موسیٰ،خضراب خان، شمس القیوم، محمد رحیم، سردار علی عرف سردار، سعید عالم محسود، منصور عرف ابراہیم، امجد ضمیر عرف حسرت، محمد اعظم، خان زماں محسود، فدا محسود، طیب محسود، لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ کے مطیع الرحمان، محمد علی عرف اختر، قاری جمیل برمی، مقصود احمد، فاروق احمد شاہ، عبدالحیفظ بروھی عرف عبدالحفیظ پندھرانی، حماد، جمیل ، دلدار حسین، گل زریں ، عبدالباسط، جند اللہ گروپ کے سید کاشف علی شاہ عرف شاہین، حماد، بلال، شہاب، غلام مصطفی، عجب خان، بادشاہ خان، اسحاق عرف گل خان، سپاہ محمد اور تحریک جعفریہ پاکستان کے رضا امام عرف منظر، مولانا سید ذوالقرنین حیدر نقوی، سید محب علی رضوی، علی مستحسن عرف سید وسیم احسن نقوی، سید آصف حسین زیدی عرف قریشی، مظفر علی عرف بلوچ، سید سلیم حیدر زیدی، سید معجز عباس رضوی، سید قلب عباس کاظمی، سید محمد عسکری عابدی، ہاشم رضا سید محمد علی رضوی، عمران عرف موٹا، نام نامعلوم عرف مچھڑ، عدنان عرف منجھن، نام معلوم عرف بچہ، گل عرف عبداللہ، ساجد ، کاشف عرف عارف، عباس عرف گورا جبکہ سنگین جرائم میں ملوث کرائے کے قاتلوں میں صفدر عباس، سید اظہر علی، حیدر عباس، ذیشان عرف بوبی، جیدی حسن، حسن رضا، عابد، محبوب، اعجاز، ضیاء احسن، صفدر عباس، حسین، عباس رضا اور کامران شامل ہیں ۔
سی ٹی ڈی نے جب یہ ریڈ بک جاری کی تو اس وقت بھی کراچی اور لاڑکانہ ڈویژن میں دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن جاری تھا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی سی ٹی ڈی نے ریڈ بک جاری کی ہے۔ ریڈ بک اصل میں خطرناک ترین دہشت گردوں کے لیے جاری کیا جاتا ہے ان پر انعامی رقم رکھی جاتی ہے تاکہ کوئی بھی ان کو پکڑے تو فوری طور پر انہیں انعام دیا جائے۔ سی ٹی ڈی نے اب تک 500 سے زائد خطرناک ترین دہشت گردوں کی فہرست جاری کر چکا ہے اور ان میں سے200 سے زائد دہشت گرد گرفتار اور ہلاک کیے جاچکے ہیں مگر چند نام ایسے ہیں جو حکومتی اداروں کے لیے چھلاوا بنے ہوئے ہیں اور وہ جب تک نہیں پکڑے جاتے اس وقت تک نئے دہشت گرد پیدا ہوتے رہیں گے ان میں سرفہرست نام ذوالقرنین حیدر کی ہے جس کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ اس وقت ایک پڑوسی ملک میں روپوش ہے اس طرح ماضی میں ریاض بسرا کی طرح دیگر درجنوں دہشت گرد بھی حکومتی اداروں کے لیے چیلنج بنے ہوئے تھے لیکن پھر ریاستی اداروں نے ان کا صفایا کیا تو کسی حد تک امن امان بھی بحال ہوا اور ملک بھر میں خود کش حملوں میں بھی کمی آئی اب سی ٹی ڈی نے بڑی محنت سے ان دہشتگردوں کی تفصیلات حاصل کی ہیں ان کے فوٹو بھی حاصل کیے ہیں اور تفصیلات بھی شائع کی ہیں تاکہ وہ جلد قانون کی گرفت میں آسکیں ۔


متعلقہ خبریں


ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر