وجود

... loading ...

وجود

دنیا کے امیر ترین کفایت شعار افراد

جمعرات 27 جولائی 2017 دنیا کے امیر ترین کفایت شعار افراد

دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کا غلبہ ہے اور لوگ دن رات دولت کمانے میں صرف کر دیتے ہیں اور امیر بن کر ہر طرح کی پرتعیش زندگی گزارنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔دنیا بھر میں امیر ترین افراد کے پرتعیش طرز زندگی کی داستانیں عام ہیں جیسے ان کی کشتیاں اور بلند و بالا محل سے لے کر ان کے کپڑے، زیورات اور دیگر اشیا سب کچھ مہنگے سے مہنگا ہوتا ہے۔تاہم ایسے ارب پتی حضرات کی بھی کمی نہیں جو اربوں ڈالرز کے مالک ہونے کے باوجود عام سادہ سی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کو دیکھ کر کسی کو بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔
ہم یہاں دنیا کے ایسے ہی کچھ افراد کے طرز زندگی کی جھلک دکھاتے ہیں، جنھوں نے کروڑوں بلکہ اربوں ڈالرز کمائے ہیں مگر اپنی کفایت شعاری کے ساتھ فلاحی کام کرتے ہوئے زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مارک زکربرگ

مارک زکربرگ لگ بھگ 70 ارب ڈالرز کے مالک ہیں اور دنیا کے پانچویں امیر ترین شخص ہیں، ان کے اثاثے اتنے زیادہ ہیں کہ روزانہ ایک نئی فراری گاڑی خرید سکتے ہیں، مگر فیس بک کے بانی ایک سستی واکس ویگن جی ٹی آئی چلاتے ہیں، جس کی مالیت 30 ہزار ڈالرز ہے۔اسی طرح جب انہوں نے شادی کی تو انہوں نے کسی جگہ کا انتخاب کرنے کی بجائے اپنے گھر کے احاطے کو ترجیح دی تاکہ خرچے سے بچا جاسکے، جبکہ ہنی مون کے دوران یہ جوڑا اٹلی میں میکڈونلڈ کے برگر کھا کر بچت کرتا رہا۔

بل گیٹس

بل گیٹس دنیا کے امیر ترین شخص ہیں مگر ان کی کلائی میں صرف 10 ڈالرز کی گھڑی ہے، جبکہ کفایت شعاری کے لیے وہ نئے فیشن یا آسان الفاظ میں مہنگے ملبوسات پہننا پسند نہیں کرتے۔اسی طرح وہ ہر رات اپنے گھر میں برتن دھونا پسند کرتے ہیں کیونکہ ڈش واشر کو استعمال کرنے سے آخر کار بجلی کا خرچہ جو ہوتا ہے۔

کارلوس سلم

کارلوس سلم میکسیکو کے امیر ترین شخص ہیں مگر اپنی پرانی گاڑی کو خود ڈرائیو کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ ڈرائیور کی تنخواہ کے پیسے بچائے جاسکیں۔اسی طرح اپنے ریٹیل اسٹور پر رکھے سستے ملبوسات خریدتے ہیں جبکہ چالیس سال سے زائد عرصے سے وہ اپنے درمیانے درجے کے گھر میں مقیم ہیں۔

ایمانسیو اورٹیگا

‘زارا’ جیسی دنیا بھر میں مقبول فیشن کمپنی کے ارب پتی مالک انتہائی کفایت شعاری سے زندگی گزارتے ہیں۔وہ نہ صرف ایک سستے اپارٹمنٹ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مقیم ہیں بلکہ اپنی جوانی کے زمانے سے ایک سستے کافی شاپ میں جاکر گرم مشروب پینا پسند کرتے ہیں۔فیشن کی دنیا میں ان کی کمپنی کا بڑا نام ہے مگر وہ خود عام طور پر انتہائی سادہ قسم کے لباس میں نظر آتے ہیں جبکہ پیسے بچانے کے لیے دوپہر کا کھانا بھی کمپنی کے کیفے ٹیریا میں کھاتے ہیں۔

ڈیوڈ کیروٹن

ڈیوڈ کیروٹن امریکا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور آریسٹا نیٹ ورک کے شریک بانی ہیں، وہ 1998 میں گوگل میں سرمایہ کاری کرنے والے اولین افراد میں سے ایک ہیں، جب دنیائے انٹرنیٹ پر حکمران سرچ انجن کے بانیوں لیری پیج اور سرگئی برن نے اپنے پراجیکٹ کے بارے میں ان سے تذکرہ کیا تھا۔اس وقت ایک لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری پروفیسر ڈیوڈ کے بہت کام آئی اور اگرچہ وہ ارب پتی بننے کے خیال کو پسند نہیں کرتے مگر اب ان کے اثاثوں کی مالیت 2.9 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔تاہم پروفیسر ڈیوڈ نے 2006 میں ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ پرتعیش طرز زندگی کے خلاف ہیں اور جو لوگ درجنوں باتھ رومز کے ساتھ محل نما گھر تعمیر کرتے ہیں اور دیگر لگڑری اشیاء کو ترجیح دیتے ہیں، ان کے اندر کچھ نہ کچھ غلط ہوتا ہے۔ارب پتی ہونے کے باوجود یہ پروفیسر اب بھی 1986 کی واکس ویگن ویناگون ڈرائیو کرتے ہیں اور گزشتہ 30 برس سے ایک ہی گھر میں رہتے آرہے ہیں، یہاں تک کہ اپنے بال بھی خود کاٹتے ہیں اور ٹی بیگز کو بھی کئی کئی بار دوبارہ استعمال کرلیتے ہیں۔تاہم 2012 میں اپنے بچوں کی فرمائش پر مجبور ہوکر انہوں نے ہنڈا اوڈیسے گاڑی خریدی تھی۔

جیک ما

علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ ایک چینی ای کامرس کمپنی ہے اور اس کے بانی و چیئرمین جیک ما، چین کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں مگر نمود و نمائش کے سخت مخالف اور اپنی ذاتی زندگی کو لوگوں کی نگاہوں سے دور رکھنے کے حامی ہیں۔جیک ما کی پرورش چین کے ایک غریب کمیونسٹ گھر میں ہوئی، وہ دو بار کالج میں داخلے کے امتحانات میں ناکام ہوئے اور انہیں درجنوں ملازمتوں سے برطرف کیا گیا۔ اب جبکہ وہ چین سمیت دنیا بھر میں ایک معروف شخصیت اور امیر ترین فرد بن چکے ہیں وہ اب بھی چوٹیوں کے اوپر مراقبے اور اپنے گھر میں دوستوں کے ساتھ پوکر کھیل کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ان کے ایک دوست اور کمپنی میں معاون چین نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ جیک ما کا طرز زندگی بہت سادہ اور متعدل ہے۔ ان کے پسندیدہ مشاغل میں اب بھی ٹائی چی اور کنگفو ناولز پڑھنا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ دنیا کے امیر ترین شخص بن کر بھی بدلیں گے کیونکہ ان کا انداز بدلنے والا نہیں یا وہ پرانی سوچ کے حامل شخص ہیں۔

ڈیوڈ کارپ

ڈیوڈ کارپ معروف بلاگنگ پلیٹ فارم ٹمبلر کے بانی اور سی ای او ہیں جن کی کمپنی کی مالیت اربوں ڈالرز ہے تاہم اس کے باوجود وہ سادہ طرز زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے اپنی دولت سے سب سے بڑی عیاشی جو کی وہ نیویارک کے علاقے بروکلین میں 1700 اسکوائر فٹ کا گھر تھا جس کے لیے 16 لاکھ ڈالرز خرچ کیے تاہم اب بھی اس کا آدھا حصہ خالی پڑا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیوڈ اپنی دولت اتنی کفایت شعاری سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے پاس پہننے کے لیے زیادہ کپڑے تک نہیں۔فوربس کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس کوئی کتاب نہیں اور میرے پاس زیادہ کپڑے بھی نہیں۔ڈیوڈ کے بقول میں ہمیشہ اس وقت حیران رہ جاتا ہوں جب لوگ اپنے گھروں کو اْن چیزوں سے بھر لیتے ہیں جن کا کوئی زیادہ فائدہ بھی نہیں ہوتا۔

عظیم پریم جی

ٹیکنالوجی سروسز فراہم کرنے والی بڑی کمپنی ویپرو کے چیئرمین عظیم پریم جی بھارت کے دولتمند ترین افراد میں سے ایک ہیں، مگر وہ دولت خرچ کرنے سے نفرت کرتے ہیں۔16.1 ارب ڈالرز کے مالک عظیم پریم عام طور پر فضائی سفر کے دوران سستی ترین کلاس کا انتخاب کرتے ہیں اور ایئرپورٹ سے اپنے دفتر جانے کے لیے آٹو رکشہ لینا پسند کرتے ہیں۔وہ اپنے دفاتر میں اتنی کفایت شعاری سے کام لیتے ہیں کہ ٹوائلٹ پیپر تک کی مانیٹرنگ کرتے ہیں اور اکثر اپنے ملازمین کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ دفتر سے جانے سے قبل تمام اضافی لائٹس بند کرکے جائیں۔ان کی کمپنی کے ایک عہدیدار کے مطابق عظیم پریم جی نے انکل اسکروج (معروف کارٹون جو بطخ کی شکل کا امیر ترین فرد ہوتا ہے) کو سانتا کلاز جیسا بنا دیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ عظیم پریم جی چاہیں تو ایک جیٹ طیارہ بھی خرید سکتے ہیں مگر وہ گاڑی تک خریدنے کے روادار بھی نہیں۔

جان کوم

واٹس ایپ جیسی کامیاب سوشل میڈیا سائٹ کے بانی جان کوم اب اربوں ڈالرز کے مالک ہیں تاہم آغاز میں وہ بہت غریب تھے۔جان کوم کی پیدائش یوکرائن کے شہر کیف میں ہوئی اور وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اْس وقت امریکا منتقل ہوئے جب ان کی عمر 16 سال تھی جہاں اس خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور گزر بسر کے لیے حکومتی امداد لینا پڑی۔جان کوم لڑکپن سے ہی پیسہ بچانے کے عادی تھے اور جب ان کی ویب سائٹ واٹس ایپ کو فروری 2014 میں فیس بک نے 19 ارب ڈالرز کے عوض خریدا تو انہوں نے فیس بک پر دبائو ڈالا کہ وہ ان کی بارسلونا جانے والی پرواز سے پہلے معاہدے کرلے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اس پرواز کا ٹکٹ رعایتی اسکیم میں لیا تھا جسے وہ ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔

ٹم کوک

ایپل کمپنی کے سی ای او ٹم کوک کو کون نہیں جانتا اور اب بھی وہ امریکا کی سیلیکون ویلی کے سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے چیف ایگزیکٹو ہیں مگر ان کے طرز زندگی کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ وہ کروڑوں ڈالرز کے مالک ہیں۔ٹم کوک عام لوگوں کی نظروں سے دور رہ کر زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں، انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں 19 لاکھ ڈالرز کے عوض گھر خریدنے کے سوا آج تک کسی پرتعیش چیز پر زیادہ رقم خرچ نہیں کی۔ان کا کہنا ہے، میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے ایسے فرد کے طور پر جانیں جو جہاں سے تعلق رکھتا تھا وہی رہا اور اپنی ذات کو یہاں کے ماحول میں رکھنے سے مجھے ایسا کرنے میں مدد ملے گی، دولت کبھی بھی میرے لیے آگے بڑھنے کا عزم نہیں رہی۔ٹم کوک نے گزشتہ دنوں یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی دولت کا زیادہ تر حصہ خیراتی اداروں کے نام کردیں گے اور بس اپنے بھتیجے کے تعلیمی اخراجات کو ہی اپنے پاس رکھیں گے۔

سرگئی برن

گوگل کے شریک بانی سرگئی برن دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں اور یہ کہنا کچھ عجیب سا لگے گا کہ متعدد نجی طیاروں کا مالک فرد کفایت شعار ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ سرگئی برن خود تسلیم کرچکے ہیں کہ انہیں دولت خرچ کرنا پسند نہیں۔اپنے ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اپنے والدین سے میں نے کفایت شعار رہنا سیکھا اور میں متعدد آسائشات کے بغیر بھی بہت خوش ہوں۔انہوں نے کہا کہ وہ موقع بہت دلچسپ ہوتا ہے جب میں پلیٹ میں ایک ذرہ تک چھوڑ کر اٹھنا پسند نہیں کرتا۔ میں اب بھی عام اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہوں اور خود کو مجبور کرتا ہوں کہ کم سے کم خرچ کروں اگرچہ میں کنجوس نہیں مگر متعدد آسائشات نہ ہونے کے باوجود خود کو خوش باش محسوس کرتا ہوں۔وہ اب بھی رعایتی قیمتوں پر اشیاء خریدتے ہیں اور فلاحی کام کرنا پسند کرتے ہیں، 2013 میں انہوں نے اور ان کی (سابقہ) اہلیہ این ووجکیکی نے 219 ملین ڈالرز اس مقصد کے لیے خرچ کیے۔
فیصل ظفر


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر