... loading ...
جب حکومتیں کمزور ہو جاتی ہیں تو پھر ادارے اور محکمے خود سر بن جاتے ہیں اور تنازعات ایک جنگ کی شکل اختیار کر جاتے ہیں پھر انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہی صورتحال آج کل سندھ کے شہری اور صوبائی اداروں کی ہے’ ایک تماشہ لگا ہوا ہے لیکن مجال ہے کہ حکومت سندھ اس پر کچھ بولے ’حکومت سندھ کو اس سے کیا واسطہ کہ ادارے آپس میں لڑیں ‘حکومت سندھ کو تو بس اس بات کی فکر ہے کہ کس طرح آصف زرداری اور فریال تالپر کو راضی رکھا جائے؟ ان دنوں ایک طرف کے ایم سی کے میئر وسیم اختر اپنے کونسلرز کوساتھ لے جاکر سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں ،یقیناً وہ فوجی آمر پرویز مشرف دور کے جیسے اختیارات لینا چاہیے ہیں۔وسیم اختر تو اتنے متنازع ہیں کہ اس کی تفصیل شروع کی جائے تو تحریرطویل ہو جائے گی۔ دوسری جانب کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) نے تہلکہ مچایا ہوا ہے اور مختلف صوبائی اور شہری اداروں کے ساتھ تنازع کھڑا کیا ہوا ہے۔ سب سے پہلے کے ڈی اے نے سوک سینٹر سے سرکاری اداروں کے دفاتر خالی کرائے اور عدالتوں تک جاپہنچی، کے ایم سی کے میئر، میونسپل کمشنر کے دفاتر خالی کرالیے گئے اور پھر آہستہ آہستہ دیگر صوبائی اور شہری اداروں کے دفاتر خالی کرانا شروع کیے گئے۔ بلآخر ایک درجن صوبائی اور شہری اداروں کے دفاتر خالی کرائے گئے ۔اب ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے نے دو الگ الگ لیٹر لکھے ہیں ،ایک لیٹر سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کو لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ 30 جون تک سوک سینٹر سے اپنے دفاتر کریم آباد اور گرومندر میں منتقل کرلیں۔ لیٹر میں کہا گیا ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن فوری طور پر سوک سینٹر میں دفاتر کا 4 کروڑ 70 لاکھ 25 ہزار روپے رینٹ اور بجلی کا بل ایک کروڑ62 لاکھ 67 ہزار 799 روپے ادا کرے۔ اور چونکہ پہلے ہی محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ساتھ طے ہوا تھا کہ وہ اپنے دفاتر کا دو ماہ کا کرایہ 10 لاکھ 45 ہزار روپے اور بجلی کا بل 2 لاکھ 20 ہزار روپے دیں گے ،وہ بھی دیا جائے۔ اس لیٹر میں کیا گیا ہے کہ محکمہ صحت نے اپنے دفاتر کا بجلی کا بل ایک کروڑ76 لاکھ روپے ادا کر دیا ہے تو محکمہ اسکول ایجوکیشن بھی یہ بل ادا کرے۔ لیکن تاحال محکمہ اسکول ایجوکیشن نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ دوسرے لیٹر میں کے ڈی اے کی جانب سے ایس ایس پی شرقی کو بتایا گیاہے کہ سوک سینٹر کے ڈی اے کی ملکیت ہے جو 1980 میں اپنے وسائل سے تعمیر کرایا گیا تھا اب سوک سینٹر میں کے ایم سی کے چند افسران نے قبضہ کر لیا ہے جن سے قبضہ چھڑایا جائے۔ خط میں ایس ایس پی شرقی کو بتایا گیا ہے کہ اب کے ایم سی کے کچھ افسران الٹا کے ڈی اے افسران کے خلاف مقدمہ بازی کی کوششیں کر رہے ہیں اگر ایسا کیا گیا تو پولیس کو علم ہونا چاہیے کہ حقائق کیا ہیں؟ کے ڈی اے کی مرکزی آفس پر قبضہ غیر قانونی ہے۔ ان دونوں لیٹرز کے بعد صوبائی اداروں اور شہری اداروں میں نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ کیونکہ ایک سرکاری ادارے کا دوسرے سرکاری ادارے سے دفاتر کے لیے کرایہ طلب کرنا عجیب و غریب معاملہ ہے کیونکہ یہ کوئی ذاتی نوعیت کے یا پھر غیر سرکاری، کاروباری، کمرشل ادارے نہیں ہیں اگر کسی عمارت میں سرکاری دفاتر بنائے گئے ہیں تو یہ حکومتی فیصلہ ہے جس کو اس طرح کمرشل انداز میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ کے ڈی اے نے جس طرح صوبائی اور شہری محکموں سے تنازع شروع کر دیا ہے اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ مگر اس صورتحال پر حکومت سندھ کو کوئی اقدام اٹھانا چاہیے ورنہ پھر کل واٹر بورڈ کی انتظامیہ سپریم کورٹ کو لیٹر لکھ کر کرایہ طلب کرے گی کیونکہ سپریم کورٹ جس عمارت میں واقع ہے وہ کراچی واٹر بورڈ کی ملکیت ہے۔ یا پھر ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں میونسپل کمشنرز اور ضلعی چیئرمین بیٹھتے ہیں ان سے بھی کرایہ طلب کیا جاسکتا ہے۔ حکومت سندھ کو سنجیدگی سے مداخلت کرنی ہوگی اور تمام صوبائی اور شہری اداروں کو آمنے سامنے بٹھا کر معاملات ٹھیک کرنے چاہیں تاکہ یہ تنازعہ شدید جنگ کی شکل اختیار نہ کر جائے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...