... loading ...

تصور کریں کہ ٹی وی اینکر کسی فوجی افسر سے پوچھے کہ آپ کے علاقے میں سرحد پار سے دراندازی ہوئی تو آپ نے اسے روکا کیوں نہیں؟اس کے بعد آٹھ کھڑکیوں میں بیٹھے طرح طرح کے لوگ ایک ساتھ چلانے لگیں۔ اگر آگے چل کر ایسا ہوا تو تعجب کی بات نہیں ہوگی۔اس سمت میں بڑھنے کا آغاز 15 جنوری 2017 ء کو ملٹری ڈے کے موقع پر ہی ہو گیا تھا جب آرمی چیف جنرل بپن راوت نے دوردرشن اور ریڈیو سے ملک کے عوام کو براہ راست خطاب کیا تھا۔ اسے جمہوری بھارت کی تاریخ کا ’ٹرننگ پوائنٹ‘ کہا جانا چاہیے۔23 مئی 2017 ، آزاد بھارت میں پہلی بار کسی میجر سطح کے افسر نے پریس کانفرنس کی۔ میجر گوگوئی نے بتایا کہ انہوں نے ایک کشمیری کو جیپ پر کیوں باندھا تھا۔ یہ پریس کانفرنس جمہوری حکومت کی رضامندی سے ہوئی۔اس کے بعد جنرل راوت نے 28 مئی کو پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’کشمیر میں لوگ پتھر پھینکنے کے بدلے گولیاں چلاتے تو ہمارے لیے اچھا رہتا، پھر ہم بھی وہ کر پاتے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔‘
اس سے چند روز قبل ملک کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ’وہ مسئلہ کشمیر کا مستقل حل نکالیں گے‘۔ کیا جس مستقل حل کی وہ بات کر رہے تھے وہ جنرل نکالیں گے یا حکومت نکالے گی؟ کشمیر جیسے سیاسی مسئلے پر کسی جنرل کے بولنے پر حکومت کو کافی غیر آرام دہ محسوس کرنا چاہیے تھا۔ہندوستانی فوج سیاسی طور پر نیوٹرل آرمی رہی ہے، حکومت کے ساتھ اس کا ایسا تعلق پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ایسا لگنے لگا ہے کہ مودی حکومت فوج کی طاقت اورحب الوطنی دونوں کو اپنی سیاسی طاقت بنانے میں مصروف ہے۔کہانی کچھ اس طرح بنتی جا رہی ہے، مودی حکومت فوج کے ساتھ ہے اور فوج مودی حکومت کے ساتھ۔ پہلی بار حکومت فوج کے ساتھ ایک طرح کا اتحاد بنانے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہے۔بھارت میں فوج وہ ادارہ ہے جس کی شبیہہ عوام کی نظروں میں بہت بہتر ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت دکھانا چاہتی ہے کہ اسے فوج کی حمایت حاصل ہے۔اگر قوم پرستی صرف سیاسی نہیں ہوتی تو ملک میں ایک فل ٹائم وزیر دفاع ہوتا۔ مارچ میں منوہر پاریکر کے گوا کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے ارون جیٹلی پارٹ ٹائم وزیر دفاع کی طرح کام کر رہے ہیں۔ پہلے ہی ان پر بھاری بھرکم وزارت خزانہ کی ذمہ داری ہے۔جو کام اب تک ملک کا وزیر دفاع یا ترجمان کرتے رہے ہیں وہ اب فوج کے جنرل اور میجر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
کارگل کی لڑائی کے وقت کے آرمی چیف جنرل وی پی ملک نے برطانوی خبررساں ادارے سے بات چیت میں میجر گوگوئی کی پریس کانفرنس کو غلط قرار دیا۔انہوں نے کہا ’کشمیر جیسے سیاسی اور پیچیدہ مسئلے پر بولنا جنرل کا ذاتی فیصلہ نہیں ہو سکتا، اس کے پیچھے ایک سوچی سمجھی پالیسی کام کر رہی ہے۔ اس سے پہلے جنرل تو کیا، دونوں شعبوں کے مارشل کریپپا اور مانیک شانے بھی کبھی سیاسی امور پر منہ نہیں کھولا۔‘
جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ نے 1971ء کی جنگ جیتنے کے بعد، جنرل سندرجی نے آپریشن بلیو سٹار کے بعد یا جنرل ملک نے کارگل کی جنگ کے بعد بھی پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔
اب تک کے انٹرویوز اور پریس کانفرنس ’ٹوٹلی مینیجڈ‘ یعنی مکمل طور پر کنٹرولڈ تھے۔ اس کی عادت اور ٹریننگ نہ ہونے کے باوجود فوجی افسر اپنی بات کہہ کر نکل تو گئے لیکن اس نے فوج کو نیچے اتار کر عوام کے درمیان لا کھڑا کیا ہے۔بھارت ماتاکی تمام حکومتیں میڈیا میں شبیہہ کی لڑائیاں لڑتی رہی ہیں لیکن اس حکومت نے جنگ میں فوج کو اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان دنوں تعلیم، ثقافت سے لے کر فوج تک، ہر جگہ ’نئے تجربے‘ کیے جا رہے ہیں۔ پوچھنے والے معصومیت سے پوچھتے ہیں کہ ’اس میں کیا غلط ہے؟‘
جمہوری طریقے سے ملک چلانے کے کچھ اصول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ فوج کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھا جائے لیکن قوم پرستی کو سیاسی مسئلہ بنانے والی حکومت کو اس سے پرہیز نہیں ہے۔جو فوج بحث مباحثے کا موضوع نہ ہوکر، احترام کی مستحق تھی وہ ’میرا ملک بدل رہا ہے‘ کی منصوبہ بندی کے تحت ٹی وی چینلز پر جنگ لڑنے کے لیے اتاری جا رہی ہے۔کسی بھی جمہوریت میں ہر سرگرمی بنیادی طور سیاسی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’شہری‘ اور ’سروس مین‘ کا فرق بالکل صاف رہا ہے۔بھارت میں یہ بات واضح رہی ہے کہ تینوں افواج کا کمانڈر ان چیف صدر مملکت ہے، وزیر دفاع فوج کی سرگرمیوں کے لیے جوابدہ ہے اور فوج جمہوری طور پر منتخب حکومت کے تابع کام کرتی ہے۔
سنجیدہ وجوہات کے سبب یہ ایک ایسا رسمی نظام ہے پر جس پر اس حکومت سے پہلے تک عمل ہوتا رہا ہے۔ مودی حکومت کا وزیر دفاع یا ان کا ترجمان عوام سے فوج کے بارے میں بات کرتا ہے، اور فوج صرف غیر ملکی دشمنوں سے ملک کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔لوگوں کی رائے بنانے اور اسے بگاڑنے میں ٹی وی چینلز کے کردار اور ملک کے شہریوں سے لڑنے کے لیے فوج کا اتارا جانا، یہ دو ایسی چیزیں ہیں جنہوں نے حالات کو اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ ایسے میں حکومت پر جس ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے وہ نظر نہیں آرہی ہے۔
2017 ء کے مئی کو بھی بھلانا مشکل ہوگا۔
فوج کے ایک میجر نے کشمیر میں ایک نوجوان کو اپنی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر گھمایا، اسے انسانی ڈھال کی طرح استعمال کیا، میجر کا دعویٰ ہے کہ وہ انتخابی عملے اور اپنے جوانوں کی جانیں بچا رہے تھے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اس نوجوان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور فوج کو میجر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔لیکن فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے اس میجر کو ایک فوجی اعزاز سے نوازا ہے اور اب ایک غیر معمولی انٹرویو میں کہا ہے کہ کشمیر میں فوج ایک ’گندی جنگ‘ لڑ رہی ہے اور اسے ’انوویٹو‘ یا غیر روایتی طریقوں کا سہارا لینا ہوگا۔انہوں نے بنیادی طور پر تین چار اہم باتیں کہی ہیں جن پر بحث شروع ہوگئی ہے اور آسانی سے ختم نہیں ہوگی کیونکہ ان کے بیانات سے فوج کو یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس کی اعلیٰ قیادت کن خطوط پر سوچ رہی ہے۔میجر کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ: ’انہیں کس بات کی سزا دیں؟‘میجر کے خلاف انکوائری مکمل ہونے سے قبل ہی انہیں اعزاز دینے کا مقصد نوجوان افسران کا حوصلہ بلند کرنا تھا جو مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں۔’لوگ ہمارے اوپر پتھر، پیٹرول بم بھینک رہے ہیں۔ کیا میں ان سے (اپنے افسران سے) کہوں کہ وہ مرنے کا انتظار کریں؟‘
اس انٹرویو پر اخبار ہندوستان ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ’جنرل کا نظریہ غلط ہے۔‘اخبار کے مطابق جنرل راوت کے اس بیان سے جوانوں کا حوصلہ بلند ہونے کے بجائے فوج کے امیج کو نقصان پہنچے گا اور وادی کی صورتحال مزید خراب ہوگی۔اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس ایک افسر کا دفاع کرنا جس نے بظاہر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے، احتیاط برتنے والے ان ہزاروں افسران کو یہ پیغام دینے کے مترادف ہے کہ ان کی احتیاط غیر ضروری ہے۔’سینا ٹھوکنے والے کاغذی قوم پرستوں کی بات الگ ہے، لیکن فوج کے سربراہ کی جانب سے اس پیغام کے خطرناک مضمرات ہو سکتے ہیں۔‘جنرل راوت کا بیان پڑھ کر ہاشم پورہ اور ملیانا کی خونریزی یاد آگئی۔ پہلے جب لوگ ڈرتے تھے تو فوج کا انتظار کرتے تھے، اب بظاہر پیغام ذرا مختلف ہے۔سیاسی مبصر پرتاپ بھانو مہتا کا کہنا ہے کہ فوج کو سامنے سے پتھر پھینکنے والے ہجوم کے مقابلے میں (فوج کے) پیچھے کھڑے ہوکر نعرے لگانے والے ہجوم سے خطرہ زیادہ ہے۔
راجیش پریادرشی
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...
صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...
ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...
مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...
سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...
سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...
گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...
سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...