وجود

... loading ...

وجود

عمران خان کی نتھیا گلی میں مصروفیات‘ پنجاب کی سیاست میں زبردست ارتعاش

هفته 03 جون 2017 عمران خان کی نتھیا گلی میں مصروفیات‘ پنجاب کی سیاست میں زبردست ارتعاش


پاکستان کو فطرت نے بے پناہ حسن اور رعنائی عطا کی ہے ۔ملک کے شمالی علاقے خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ گلیات میں جھینگا گلی اور نتھیا گلی کے علاقے آب و ہوا اور ماحول کی خوبصورتی کے حوالے سے خصوصی شہرت رکھتے ہیں ۔ موسم گرما خصوصاً رمضان المبارک میں خیبر پختونخوا اور ملک کے دوسرے کئی علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعدا وادیٔ کاغان اور گلیات کا رخ کرتی ہے ۔ برفیلے پہاڑوں، شورمچاتی آبشاروں اور سرسبز و شاداب ماحول میں رمضان المبارک کی ساعتیں پر کیف بن جاتی ہیں ۔ عمران خان گزشتہ کئی دنوں سے نتھیا گلی میں قیام پذیر ہیں ۔
عمران خان کی نتھیا گلی آمد کے ساتھ ہی وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کی اُن سیاسی سر گرمیوں نے بھی اس پُر فضا علاقے کا رخ کر لیا ہے جن کا بیس کیمپ بنی گالہ ہوا کرتا تھا ۔ سیاسی سرگرمیوں کی گہما گہمی جے ،آئی ٹی اور دیگر معاملات کی وجہ سے قومی ماحول کا ٹمپریچر اگرچہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان پر سکون ماحول میں بظاہرمطمئن انداز میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔نتھیا گلی میں قیام کے دوران ان کی سیاسی جماعت کے ذمہ داران سے ہٹ کر ان کے ذاتی دوستوں اور بہی خواہوں کی ایک بڑی تعداد ان سے ملاقاتیں کر رہی ہے ۔ عمران خان نتھیا گلی میں بھی اپنے معمول کے مطابق صبح سویرے اُٹھتے ہیں ۔ سحری اور معمول کی ورزش کے بعد دوپہر کے قریب ان کی سیاسی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں ۔ اس سے پہلے وہ نتھیا گلی کے مختلف مقامات پر جاگنگ اور سیر کرتے دیکھے جاتے ہیں ۔
نتھیا گلی میں قیام کے دوران عمران خان سے ملاقات کرنے والوں میں کے پی کے کے صوبائی وزراء شاہ فرمان اور عاطف خان بھی شامل تھے ۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کے ارکان میں سے شاہ فرمان سب سے زیادہ متنازع وزیر سمجھے جاتے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے پرانے اور نظریاتی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو ان سے بہت سی شکایتیں ہیں جن کا وقتاً فوقتاً مختلف طریقوں سے اظہار بھی ہوتا رہتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق دونوں وزراء سے عمران خان کی ملاقاتوں میں صوبہ خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال ، صوبائی حکومت کی کارکردگی اور آنے والے انٹرا پارٹی الیکشن کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا ہے ۔
عمران خان کے نتھیا گلی قیام کے دوران ان کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی پنجاب کے ضلع سیالکوٹ سے پیپلز پارٹی کی ایک اہم وکٹ کاحاصل کر نا ہے ۔ منگل کو سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے جہانگیر خان ترین ، عبد العلیم خان اور عمر ڈار کے ہمراہ عمران خان سے ملاقات کی اس موقع پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پاکستان تحریک انصاف میں غیر مشروط طور پر شامل ہونے کا اعلان کیا ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا معاملہ گزشتہ ایک ماہ سے میڈیا کا موضوع بنا ہوا تھا ۔ اس دوران ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے دو سے زائد مرتبہ پی ٹی آئی میں شمولیت کے امکانات کی خودتر دید بھی کی تھی ۔ لیکن باخبر ذرائع کا کہنا ہے ایک ماہ قبل سیالکوٹ میں تحریک انصاف کے جلسے سے ایک روز قبل ایک بیوروکریٹ کی جانب سے عمران خان کے نوٹس میں لایا گیا تھا کہ فردو عاشق اعوان پی ٹی آئی میں شمولیت کے لیے تیار ہیں ۔ اگر آپ چاہیں تو وہ کل کے جلسے میں اپنی شمولیت کا اعلان کر سکتی ہیں ۔ عمران خان نے معاملہ مؤخر کردیا تھا ۔اگلے دن پی ٹی آئی نے اپنے بل بوتے پر ایک کامیاب جلسہ کرکے سیالکوٹ پر اپنی گرفت واضح کی تھی ۔ مبصرین کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت فردوس عاشق اعوان کی شمولیت قبول کر لی جاتی تو تحریک انصاف مخالف قوتیں عمران خان کے سیالکوٹ کے کامیاب جلسے کو فردوس عاشق اعوان کی شمولیت کا نتیجہ قرار دے سکتی تھیں ۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اپنے والد پیپلز پارٹی کے معروف رہنما عاشق اعوان کے سیاسی ورثے کی امین اور سیالکوٹ کے ایک مضبوط سیاسی دھڑے کی سربراہ ہیں۔ ان کی تحریک انصاف میں شمولیت سے پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے آئندہ انتخابات میں مشکلات پیدا ہونے کا قوی امکان ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض صوبائی قائدین کی جانب سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے رابطہ کرکے پیپلز پارٹی نہ چھوڑنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ بعض ذرائع مبینہ طور پر اس سلسلہ میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا نام بھی لے رہے ہیں کہ ان کی جانب سے بھی فردوس عاشق اعوان سے رابطہ کرکے اپنا نیا سیاسی فیصلہ مؤخر کرنے کے لیے کہا گیا تھا ۔ لیکن ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پی پی پی کی قیادت کی جانب سے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی وجہ سے خاصی برہم نظر آتی تھیں ۔
سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے نئے فیصلے نے پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے صوبہ پنجاب میں مشکلات بڑھا دی ہیں ۔ سینٹرل پنجاب اور شمالی پنجاب پہلے ہی پیپلز پارٹی کی گرفت سے نکل چُکے ہیں ۔ جنوبی پنجاب جو کبھی پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اب وہاں بھی پاکستان تحریک انصاف اپنے لیے جگہ بنانے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے ۔ مستقبل کے سیاسی خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو اپنا زیادہ وقت پنجاب کو دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اس سلسلہ میں وہ آٹھ جون سے ملتان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ملتان میں اپنے دورے کے دوران وہ جنوبی پنجاب کی پارٹی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران پارٹی کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے مشاورت بھی کریں گے، جس کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے ۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے جاوید ہاشمی اور پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین بھی اپنی اپنی جماعتوں کے لیے ہوم ورک میں مصروف ہیں ۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہناہے ان کی قیادت پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کو پنجاب میں ٹف ٹائم دینے کی حکمت علمی بھی ترتیب دے رہی ہے اس سلسلہ میں پارٹی کے بعض ذمہ داروں کی طرف سے سابق وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور نوابزادہ ملک عماد خان آف کالاباغ سے رابطہ کرکے انہیں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 71( میانوالی ون) سے عمران خان کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ یاد رہے کہ سابق گورنر مغربی پاکستان نواب ملک امیر محمد خان آف کالاباغ کا خاندان اس وقت سیاسی طور پر دو حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے ایک دھڑا نوابزادی عائلہ ملک کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہے جبکہ نوابزادہ ملک اسد خان اور ان کے بیٹوں نے آئندہ عام انتخابات کے لیے ابھی تک اپنی سیاسی سمت واضح نہیں کی ہے ،ماضی میں عمران خان کی جانب سے چھوڑی گئی قومی اسمبلی کی نشست پر انہوں نے مسلم لیگ ن کے امید وار کا ساتھ دیا تھا ۔
رمضان المبارک کے دوران سیاسی سرگرمیاں ایک خاص ردھم اور رفتار کے ساتھ جاری رہیں گی جبکہ عید الفطر کے فوری بعد ان سرگرمیوں سے تیزی آنے کا امکان ہے۔ خیال یہی کیا جا رہا ہے کہ عید الفطر کے فوری بعد سے آئندہ انتخابات کی مہم شروع ہو جائے۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر