... loading ...
ڈاکٹر سلیم خان
اسرائیل کے سیاسی مقتدرہ کا خواب تھا کہ ایران اور خلیجی ریاستوں آپس میں لڑا کر انہیں ایک دوسرے کے ذریعہ تباہ کردے ، لیکن
امریکہ اس کی مرضی کے خلاف امن مذاکرات کے لیے راضی ہوگیا اور اس کی ایک نہیں چلی ۔لاغر و مفلوک الحال اسرائیل میں فی الحال کوئی
بڑی رکاوٹ ڈالنے کی جرأت نہیں ہے ۔وہ لبنان اور غزہ میں جارحیت کو تیز کرکے مذاکرات کے ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کررہاہے
لیکن اب مسلمانوں نے یہ طے کرلیا ہے کہ و ہ دشمنانِ اسلام کی سازشوں کا شکار ہوکر آپس میں خون خرابہ نہیں کریں گے ۔ موجودہ جنگ کے
دوران سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات نے یہ واضح پیغام دیا کہ امریکہ اور ایران کے ممکنہ
مذاکرات کے لیے اہم مقام اسلام آباد ہوگا ۔ اس کوشش میں انہیں کامیابی ملی۔ اسرائیل نے یہ کہہ کر پاکستان پر مسلمانوں کے اعتماد کو بڑھا
دیا کہ وہ اس پر بھروسا نہیں کرتاکیونکہ اگر وہ اس کے برعکس موقف اختیار کرتا تو شہباز شریف اور عاصم منیر کی شخصیت مشکوک ہوجاتی۔
پاکستان ویسے تو مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی تجویز دیتا ہے مگر ہنوز اس نے سفارتی طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ ایسے میں اسرائیلی
وفد کے پاکستان جانے میں جومشکلات تھیں اس تناظرمیں بلومبرگ کے ترجمان نے اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن سے پوچھا تھا
کہ اسرائیل پاکستان میں اپنا وفد کیوں نہیں بھیج رہا۔اس پرجواب ملا ‘ہم امریکہ پر اعتبار کرتے ہیں۔’ یعنی امریکہ کے بغل بچہ ہیں۔
ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر رووین آزار نے تو جنگ بندی میں پاکستان کے ‘ثالثی کے کردار’ پرہی سوالات اٹھادئیے اور کہہ دیا کہ
اسرائیل پاکستان کو ‘ایک قابلِ اعتماد ملک نہیں سمجھتا۔’اس کے جواب میں پاکستانی وزیرِ دفاع نے ایکس پر الزام عائد کردیا کہ ‘جب اسلام
آباد میں بات چیت جاری ہے ایسے وقت میں لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے ۔معصوم شہری اسرائیلی کارروائیوں میں مارے جا رہے ہیں،
پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان میں خونریزی کا نہ رُکنے والا سلسلہ جاری ہے ‘۔اس تناظر میں خواجہ آصف نے اسرائیلی ریاست کو ‘کینسر
زدہ’ قراردے دیا اور اس کے قیام سے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے ۔
پاکستانی وزیردفاع کی اس صاف گوئی سے اسرائیل کو خوب مرچی لگی اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے
ہوئے پاکستانی وزیرِ دفاع کی اسرائیل کے تباہ کرنے کی اپیل کو نہایت اشتعال انگیزبتایا اورکہاکہ کسی بھی حکومت کی جانب سے ایسا بیان
قابلِ برداشت نہیں، خاص طور پر ایسی حکومت کی طرف سے جو خود کو امن کے لیے غیر جانب دار ثالث قرار دیتی ہو۔اسرائیل کے وزیرِ
خارجہ جدعون ساعر نے بھی پاکستانی وزیرِ دفاع کی پوسٹ پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہودی ریاست کو کینسر زدہ قرار دینا اس کی تباہی
کی اپیل کرنے کے مترادف ہے ۔’انھوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ: ‘اسرائیل ان دہشتگردوں کے خلاف اپنا دفاع
کرے گا، جو اس کی تباہی چاہتے ہیں۔’ لیکن اب دنیا جان چکی ہے کہ فی الحال اسرائیل سے بڑا دہشت گرد کوئی اور ملک نہیں ہے ۔ اسرائیل
کو پریشانی یہ ہے کہ پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے لبنانی ہم منصب نواف سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرنے کے بعد اسرائیلی
‘جارحیت’ کی مذمت کیوں کی؟ حالانکہ وہ جنگ بندی مذاکرات کے دوران حزب اللہ کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اسرائیل ایران سے جنگ بندی کو لبنان پر لاگو کرنے کا قائل نہیں ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کا تسلسل اس معاہدے کی ‘سنگین خلاف ورزی’ ہے ۔
جنگ بندی کی مذاکرات میں اسرائیل تو دور امریکہ نے بھی ابتداء میں ایران کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں اور بعد میں بھاگ کھڑا
ہوا۔ امریکہ کے ابتدائی رویہ کو مبصرین سیز فائر کے بجائے سرینڈر کہاتو اسے شرم آئی۔ لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے پر اسرائیل کو
بہت اعتراض تھا مگر امریکہ نے اسے مان لیا تووہ منہ دیکھتا رہ گیا۔ اس کے بعد ایران نے کہا کہ اس کے جو ٦ بلین ڈالر قطری بنک میں منجمد
کرکے رکھے ہوئے ہیں اسے لوٹا دئیے جائیں امریکہ وہ شرط بھی مان گیا۔ آبنائے ہر مز کے معاملے میں گفت شنید سے پہلے ہی امریکہ نے
تسلیم کرلیا کہ وہ اس کی ملکیت ہے ۔ ایران وہاں کا انتظام اومان کے ساتھ مل کر آپسی مفاہمت سے کرے یعنی اب ایران اپنی کرنسی میں ٹول
وصول کرنے کا حقدار ہوگیا۔ صدر ٹرمپ کے انتظامیہ میں وِچکروفٹ کو اسرائیل کا حامی اور داماد کشنر تو یہودی ہی ہے ۔ ایران نے ان کے
بجائے جنگ مخالف نائب صدروینس کو گفتگو کے لیے بھیجنے کا مطالبہ کیا کیونکہ وہ ایک اہم ترین عہدے پر فائز ہیں۔ امریکہ نے اس مطالبے
کو تسلیم کرتے ہوئے جی ڈی وینس کو اسلام آباد روانہ کیا ۔ ایران نے یہ بتانے کے لیے کہ وہ معاہدے کے لیے تڑپ نہیں رہاہے امریکی
نائب صدر کو ٢ گھنٹے انتظار کروایا۔ اس سے امن بات چیت کو امریکہ کی ضرورت یا مجبوری بنادیا۔یہ کوئی معمولی نہیں بلکہ بہت بڑی کا میابی
ہے ۔ وینس کو چونکہ فیصلے کے اختیارات نہیں دئیے گئے اس لیے مذاکرات ناکام ہوگئے ۔
عالمی سطح پر نازک ترین صورتحال میں جبکہ تیسری جنگ عظیم کے اندیشے دستک دے رہے تھے پاکستان کا انتہائی غیر مستحکم ماحول میں ایک
قابل اعتماد سہولت کار کے طور پر ابھرنامسلم دنیا کے غیر متزلز ل حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔اس وسیع تر سفارتی ماحول کی تشکیل میں سعودی
عرب کے اہم اور مرکزی کردار کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے ۔ مملکت سعودیہ نے براہ راست حفاظتی دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے کمال تحمل
کا مظاہرہ کیا ۔ امریکی فوجی اڈوں پر حملے دوران اس کا اہم انفراسٹرکچر بھی زد میں آیا۔ میزائل اور ڈرون کے علاوہ سمندری راستوں کے
لیے بھی وسیع خطرات رونما ہوگئے مگر اس کے باوجود سعودی عرب نے استحکام اور سفارتی حل پر توجہ دیتے ہوئے براہ راست کشیدگی سے
گریز کیا ہے ۔ بیجنگ معاہدے کے ذریعہ ایران کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والے سعودی عرب نے جینیوا میں عمان کے ذریعہ
سفارتی کوششوں کی حمایت کی اور کشیدگی میں اول تا آخر ہر مرحلے میں ثابت قدم رہا۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ جنگ نے امت
مسلمہ کے اندر اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کی ۔
اس کے برعکس یوروپ کے اندر اس جنگ نے زبردست انتشار پیدا کیا۔ سب سے پہلے یوروپی ممالک اور امریکہ کے درمیان تعلقات
کشیدہ ہوئے اور صدر ٹرمپ نے یوروپی ممالک کو بہت کھری کھوٹی سنائی۔اس کے بعد امریکہ کی سیاسی جماعتوں میں بے چینی بڑھی پہلے
ڈیموکریٹ اور پھر ریپبلکن بھی آپس میں بھِڑ گیے ۔بات یہیں نہیں رکی بلکہ امریکہ میں نوے ّ لاکھ یہ نعرہ لگا کر میدان میں اترے کہ ‘انہیں
بادشاہ نہیں چاہیے ‘۔ اسرائیل کے اندر بھی جنگ کے خلاف لوگ احتجاج کرنے کے لیے میدان میں آئے تو پولیس کو ان سے الجھنا پڑا۔
امریکی و اسرائیلی عوام و خواص کے اس بوکھلاہٹ کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ کو بہت زیادہ گمراہ کیا تھا کہ ان کے
ہاں انقلاب کو ختم کرنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا ۔ وہ شیخ چلی تو اگلے حکمران کی پیشنگوئی کررہا تھا۔ ایران کے لیے ایک بادشاہت کے مردہ
گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اندرونِ ملک منافقین کو نوازنے کے منصوبے بننے لگے ۔ انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ جو
لوگ47سالوں سے باہر ہیں، انہیں ایران پر کیسے مسلط کیا جاسکتا ہے ؟ ایک ایرانی خاتون سے جب پوچھا گیا کہ آپ کی شہزادے کے
بارے میں کیا رائے ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ وہ شہزادہ نہیں بلکہ چاہزادہ ہے ، یعنی کنویں کا مینڈک ہے ، اس کی حیثیت ہی نہیں کہ ایران
کی عظیم ملت پر حکمرانی کرے ۔
جنگ بندی کے بعد جہاں ایک طرف اسرائیل کے اندر صفِ ماتم بچھی ہوئی اور عوام و حکومت آپس میں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار
ہیں ۔ دوسری جانب ایران کے اندر جشنِ فتح منایا جارہا ہے ۔ مشرق و مغرب میں اس عظیم کامیابی کا ڈنکا بج رہا ہے ۔ چالیس دنوں تک
مسلسل دو ایٹمی طاقتوں اور ان کے سہولت کاروں کو جواب دیناکوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ امریکہ کی جانب سے کئی بار سرزمین اسلامی
جمہوریہ ایران پر فوج اتارنے کے ارادے کا اظہار کیا گیا مگر وہ اس کی جرأت نہیں کرسکے ۔ ایران کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ کرنے میں
انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ اس حقیقت نے دنیا کو حیران کر رکھا ہے کہ جو دشمن قبضے کرنے کے آنا چاہتا تھا، وہ ایران کو آبنائے ہرمز دے کر
رخصت ہوا۔ امریکہ بہادر نے بلا واسطہ یہ تسلیم کرلیا ہے کہ یہ علاقہ ایران اور عمان کا ہے ۔ وہ دونوں وہاں جو نظام چاہیں، بنا لیں۔ امت کی
اس جنگ میں عراق، لبنان اور یمن کے علاوہ دنیا بھرکے دیوبندی، بریلوی غرض تمام مسالک کے اہل ایمان رو رو کر اسلامی جمہوریہ ایران
کے لیے دعائیں کر رہے تھے ۔ رہبر معظم کی شہادت اور ایک سربراہ شہرام ایرانی کی قیادت میں ایرانی بحریہ کے تقرر نے ملی اختلافات اور
فرقہ پرستی کا زہر پوری طرح زائل کردیا۔ایسے میں علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے
کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا