وجود

... loading ...

وجود

اہل کراچی کے الیکٹرک کے ’’رمضان پیکج ‘‘سے نڈھال ، انتظامیہ کی طفل تسلیاں

جمعرات 01 جون 2017 اہل کراچی کے الیکٹرک کے ’’رمضان پیکج ‘‘سے نڈھال ، انتظامیہ کی طفل تسلیاں


شدید گرمی اور رمضان میں سحر اور افطار کے اوقات میں طویل بجلی کی بندش کے باعث ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی کئی جگہ کے الیکٹرک کے خلاف مظاہرے بھی شروع ہوچکے ہیں ۔ماہ رمضان کی تیسری سحری کے دوران شہر قائد میں ہونے والے بریک ڈاؤن کے بعد کمشنر کراچی اعجاز احمد نے کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی موجودہ صورتحال کا نوٹس لے لیااور کے الیکٹرک انتظامیہ کو اپنے دفتر میں طلب کرلیا۔کمشنر کراچی اعجاز احمد کا کہنا تھا کہ ’ کے الیکٹرک وضاحت کرے اور صورتحال بہتر بنائے‘۔واضح رہے کہ گزشتہ شب بریک ڈاؤن کے بعد بجلی کی بندش کے سبب شہریوں کو ماہ رمضان کی تیسری سحری بھی اندھیرے میں کرنی پڑی تھی۔
دوسری جانب ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ ایکسٹرا ہائی ٹینشن کی تاروں کے ٹرپ کرجانے کی وجہ سے بریک ڈاؤن ہوا، جس سے شہر کے ’کچھ حصے‘ میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔کے الیکٹرک انتظامیہ کے مطابق بجلی کی بندش کا شکار ہونے والے علاقوں میں پی ای سی ایچ ایس، گلشن اقبال اور ناظم آباد شامل تھے۔تاہم 10 گھنٹے سے زائد گزرنے کے بعد بھی ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن میں ہونے والی خرابی کا کام مکمل نہ کیا جاسکا تھاجس کی وجہ سے کراچی کے 4 گرڈ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی آب بھی متاثر ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق لوڈمینجمنٹ کے تحت کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی بند کی جارہی ہے جبکہ تکنیکی خرابی دور کرنے کے لیے عملہ موجود، اور متاثرہ علاقوں میں بجلی جلد بحال کردی جائے گی۔خیال رہے کہ ایک روز قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی نیشنل پاورگرڈ کی کمزور اور ناقابل بھروسہ ٹرانسمیشن پر وفاقی وزیرپانی و بجلی خواجہ آصف کو باقاعدہ شکایت کی تھی۔مرادعلی شاہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو بجلی کے طویل بریک ڈاون سے نازک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لوگوں کی زندگیوں پر اثر پڑتا ہے جبکہ امن و امان کی صورت حال بھی خراب ہوجاتی ہے۔
کراچی کو بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کے نیٹ ورک میں ہونے والے بڑے پاور بریک ڈاؤن کے بعد شہر میں فراہمی آب کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوگیا۔بجلی کی طویل بندش کے سبب پہلے روزے کے موقع پر شہر کو روزمرہ معمول کے مطابق 50 کروڑ گیلن پانی کے بجائے صرف 15 کروڑ گیلن پانی فراہم کیا جاسکا۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ پانی کی سپلائی میں ہونے والی واضح کمی کی وجہ سے اتوار کے روز شہر کے مختلف علاقوں میں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر پانی فراہم کیا جاسکا۔واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے شہریوں کو ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پانی کا استعمال احتیاط سے کرنے کا مشورہ بھی دیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اتوار کی شب 2 بج کر 40 منٹ پر ہونے والے بریک ڈاؤن کے نتیجے میں واٹر بورڈ کا نظام متاثر ہوا اور دھابیجی، گھارو، حب، سمیت متعدد فلٹر پلانٹس نے کام کرنا بند کردیا۔ان فلٹر پلانٹس پر بجلی کی فراہمی کا آغاز بعد ازاں 5 سے ساڑھے پانچ بجے صبح شروع ہوا جبکہ گھارو پمپنگ اسٹیشن کو اتوار کی صبح 8 بجے بجلی کی فراہمی دوبارہ معطل ہوگئی۔واضح رہے کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے کہا تھا کہ ماہ رمضان میں شہریوں کو بلاتعطل فراہمی آب کا پلان تشکیل دیا جاچکا ہے تاہم ماہ مقدس کے پہلے ہی روز یہ پلان بری طرح متاثر ہوگیا۔
کراچی میں مسلسل تیسری سحری اندھیروں کی نذر ہونے کے بعد شہر قائد کے شہری مشتعل ہوگئے اور شہر کے مختلف حصوں میں احتجاج کیا۔لیاقت آباد میں چونا ڈپو کے قریب لوڈ شیڈنگ کے ستائے مظاہرین نے کار کو آگ لگا دی دوسری جانب مشتعل شہریوں نے ناظم آباد میں بھی کے الیکٹرک کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور دفتر کو آگ لگانے کی کوشش کی۔
کے الیکٹرک کے ترجمان کادعویٰ تھا کہ شہریوں کوبس ایک دن اور لوڈ شیڈنگ کی یہ صعوبت برداشت کرنا پڑے گی اس دوران تمام فالٹ دور کردیے جائیںگے اور شہریوں کومعمول کے مطابق بجلی کی فراہمی شروع کردی جائے گی۔ملک بھر میں جاری توانائی کے بحران کے حوالے سے ادارہ برائے پائیدار ترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہم کو یقینی بنانے کے لیے پیداوار سے زیادہ ٹرانسمیشن لائنز کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جاسکے۔نجی چینل کے پروگرام ’نیوز آئی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عابد سلہری کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤنز کی وجہ خراب ٹرانسمیشن لائنز اور ٹرانسفارمرز ہیں، کیونکہ سسٹم میں چاہے جتنی بھی بجلی آجائے، جب تک اس بارے میں نہیں سوچا جائے گا، اُس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ تین یا چار سالوں میں ہماری توجہ بجلی بنانے پر مرکوز رہی اور اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ اس بجلی کو آگے پہنچانے کا نظام بھی درست ہے یا نہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’گرمی بڑھتے ہی عام طور پر بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے اور جیسا کہ ہمارے بہت سے یونٹس پہلے ہی غیر فعال ہیں تو اس طلب کو پورا کرنا بھی ایک طرح سے چیلنج ہے، جس کے باعث لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا ہے‘۔اس سوال پر کہ رمضان المبارک میں بجلی کی فراہم کو یقینی بنانے کے لیے ایسے کون سے اقدامات کرنے چاہئیں تھے، جن سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے ؟ عابد سلہری نے کہا کہ اگر پہلے ہی خراب لائنز اور فیڈرز کو چیک کرلیا جاتا تو لوڈ بڑھنے کی صورت میں یہ حالات پیدا نہ ہوتے، کیونکہ یہی بنیادی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’عام دنوں میں اگر رات کے اوقات میں بھی کوئی خرابی آجائے تو لائن مین اسے دور کرنے پہنچ جاتے ہیں، مگر رمضان میں وہ بھی اپنے گھروں میں ہوتے ہیں جس کہ وجہ سے اس میں تاخیر پیش آتی ہے‘۔خیال رہے کہ رمضان المبارک میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے حکومتی دعوے دھرے رہ گئے، جبکہ توانائی بحران کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔حالیہ دنوں میں صوبہ خیبر پختونخوا میں غیر اعلانیہ بجلی کی طویل بندش کے خلاف صوبے کے مختلف اضلاع میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔گزشتہ روز بھی مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور مالاکنڈ میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 6 زخمی ہوگئے۔دوسری طرف کراچی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی سحری کے اوقات میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن نے شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے۔رواں ہفتے کے دوران کے۔الیکٹریک کے سسٹم میں کئی بڑے بریک ڈاؤن ہوئے جس کے باعث ادارہ اب تک شہر میں بجلی کی صورتحال پر قابو پانے میں بظاہر ناکام ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر