وجود

... loading ...

وجود

امریکا عرب،اسلامی کانفرنس کا سبق مضبوط خارجہ پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت

جمعه 26 مئی 2017 امریکا عرب،اسلامی کانفرنس کا سبق مضبوط خارجہ پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز سعودی سرزمین پر کھڑے ہوکر امریکا عرب اسلامی سربراہ کانفرنس سے خطاب کے دوران ایران کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینے پر پورا زور صرف کیا جبکہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات کی مکمل تائید اور تصدیق کرتے ہوئے امریکا اورڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مکمل وفاداری کا ثبوت دیا۔ انہوں نے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی کہ دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان آپ کے خیالات کی تائید کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا عرب اسلامی سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران دہشت گردی کا مرکز ہے‘ لبنان سے لے کر عراق اور یمن تک ایران نہ صرف دہشت گردی کے لیے فنڈز فراہم کررہا ہے بلکہ وہ دہشت گردوں کی تربیت کرنے سمیت انہیں اسلحہ بھی فراہم کررہا ہے۔ ریاض میں منعقدہ امریکا‘ عرب اسلامی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران پر یہ بھی الزام عاید کیا کہ ایران خطے میں افراتفری پھیلانے اور عدم استحکام لانے کے لیے انتہا پسند گروپ بنا رہا ہے۔ انہوں نے تمام مسلم ممالک سے اپیل کی کہ جب تک ایرانی حکومت امن کے لیے ساتھ دینے پر رضامند نہیں ہوتی‘ اسے عالمی طور پر تنہاکردیں۔ ان کے بقول ایران اسرائیل کو تباہ کرنے اور امریکا مردہ باد کی بات کرتا ہے۔ امریکا نائن الیون اور بوسٹن حملوں جیسے واقعات کا نشانہ بنتا رہا اور یورپی اقوام نے بھی ناقابل یقین خوف برداشت کیا جبکہ افریقی ممالک حتیٰ کہ سائوتھ امریکا‘ بھارت‘ روس‘ چین اور آسٹریلیا بھی دہشت گردی کا شکار ہیں اور دہشت گردی سے متاثر ہونیوالے مسلمان خود بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان فورسز بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کررہی ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں دہشت گردی کاشکار ہونے والے دنیا کے مختلف ممالک کے نام لیتے ہوئے پاکستان کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیںسمجھا اور کہا کہ دنیا میں قیام امن اولین ترجیح ہے۔ تاہم انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہشت گردی کیخلاف مسلم ممالک کو متحد کیا ہے اوراب اس سلسلہ میں نئے دور کا آغاز ہورہا ہے‘ وہ امریکا سے دوستی‘ محبت اور امن کا پیغام لے کر آئے ہیں اور امن ان کی پہلی ترجیح ہے۔ قبل ازیں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعمیری تعاون سے انتہاپسندی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دہشت گردی اور انتہاپسندی کیخلاف متحد ہونا ہوگا۔ اسلام رواداری کا دین ہے اور شریعت کا سب سے اہم مقصد انسانی جان کا تحفظ ہے‘ بدی کی قوتوں سے لڑنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران دیگر ملکوں کے معاملات میں مداخلت کررہا ہے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب طویل عرصے سے دہشت گردی سے متاثر ملک ہے‘ ہم نے دہشت گردی کی بہت سی کوششیں ناکام بنائی ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ دیگر ممالک بھی اسلامی فوجی اتحاد میں شامل ہونگے۔ عرب اور مسلمان ملکوں کے رہنما امریکی صدر کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران دنیا میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مضبوط خارجہ پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے اورپاکستان کے لیے یہی امریکا عرب،اسلامی کانفرنس کا سبق ہے۔کیونکہ کانفرنس میں پاکستان سے مکمل بے اعتنائی،دہشت گردی کیخلاف فرنٹ لائن اتحادی کا عدم تذکرہ اوررقیب روسیاہ بھارت سے ہمدردری جیسے معاملات وزیر خارجہ نہ ہونے کا نتیجہ ہیں۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کی لہر میں سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا جس نے امریکی نائن الیون کے بعد افغان دھرتی پر امریکی نیٹو فورسز کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکی اتحادی افواج سے بھی زیادہ جانی اور مالی نقصانات اٹھائے ہیں جبکہ امریکی ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے تین ایئربیسز امریکا کے حوالے کرکے اسے پاکستان ہی کی سرزمین پر دہشت گردوں کے تعاقب کے نام پر ڈرون حملوں اور دوسرے زمینی و فضائی آپریشنز کا موقع فراہم کیا تو اس کے ردعمل میں بھی پاکستان کو بدترین دہشت گردی اور خودکش حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان ہنوز دہشت گردی کی جنگ کے الائو میں دہک رہا ہے اور اپنی سیکورٹی فورسز کے ذریعے دہشت گردوں کیخلاف برسرپیکار ہے اور دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑنے کے عزم پر کاربند ہے۔ اس تناظر میں بجاطور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ دہشت گردی کے خاتمہ کی کسی مشترکہ حکمت عملی کے تعین کے لیے سعودب عرب کی میزبانی میں منعقد کی جانیوالی عرب امریکا اسلامی سربراہی کانفرنس میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو فوکس کیا جائیگا اور اس کے لیے کانفرنس میں شریک وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کی رائے سنی جائیگی اور انہیں دہشت گردی کے خاتمے کی ممکنہ حکمت عملی کے لیے پاکستان کے تجربات کی روشنی میں تجاویز پیش کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائیگا جس کے لیے وزیراعظم پاکستان مکمل تیاری بھی کرکے گئے تھے مگر یہ طرفہ تماشا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے دہشت گردی کی جنگ میں بے پناہ قربانیاں دینے والے اپنے فرنٹ لائن اتحادی پاکستان کا نام لینا بھی گوارا نہ کیا اور قربانیوں کے حوالے سے نہ صرف بھارت کا بطور خاص تذکرہ کرکے پاکستان کے زخموں پر نمک پاشی کی بلکہ انہوں نے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے ممالک میں مصر‘ چین‘ روس اور آسٹریلیا تک کا ذکر کردیا۔ اگر کسی ملک کا نام ان کی زبان پر نہیں آیا تو وہ پاکستان تھا جو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتے ہوئے اے پی ایس پشاور‘ واہگہ بارڈر‘ گلشن اقبال پارک لاہور اور دربار سخی لال شہباز قلندر میں ہونیوالی دہشت گردی جیسے بدترین سانحات سے دوچار ہوچکا ہے اور جسے اس کا ازلی دشمن بھارت اپنے جاسوس دہشت گرد کلبھوشن اور اس قبیل کے دوسرے دہشت گردوں کے ذریعے مسلسل اپنے ہدف پر رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان بھارت کی ایسی گھنائونی سازشوں سے اقوام متحدہ اور امریکی دفتر خارجہ کو ایک ڈوزیئر کے ذریعے مکمل طور پر آگاہ بھی کرچکا ہے۔ اسی طرح کانفرنس میں مصر‘ ملائشیااور انڈونیشیا تک کو خطاب کا موقع فراہم کیا گیا اور نظرانداز ہوئے تو صرف وزیراعظم پاکستان۔
اس حقیقت حال کے باوجود ٹرمپ کا دہشت گردی سے متاثر ہونیوالے ممالک کے حوالے سے پاکستان کا تذکرہ نہ کرنا اور برادر سعودی عرب کی میزبانی میں منعقدہ سعودی‘ امریکا سربراہ کانفرنس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سرگرم اور اسلامی دنیا کے پہلے ایٹمی ملک پاکستان کے وزیراعظم کو اپنے ملک کی نمائندگی کے قابل بھی نہ سمجھنا ہلکے سے ہلکے الفاظ میں بھی پاکستان کی توہین سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرز تغافل میں ’’جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے‘ باغ تو سارا جانے ہے‘‘ والا معاملہ ہی نظر آتا ہے۔ یقیناً اس سے بڑی منافقت اور ریاکاری اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ امریکی صدر ٹرمپ کی زبان مبارک پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کے حوالے سے افغانستان‘ متحدہ عرب امارات‘ ترکی اور بحرین تک کا نام آگیا‘ اگر کسی ملک کا نام ان کی زبان پر نہ چڑھ سکا تو وہ دہشت گردی کی جنگ میں ان کا فرنٹ لائن اتحادی پاکستان تھا۔ اور تو اور‘ کانفرنس کے میزبان برادر سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے بھی دہشت گردی کی
جنگ میں پاکستان کا تذکرہ کرنا مناسب نہ سمجھا اور اس کے برعکس انہوں نے ایران کو دہشت گردی کے فروغ کے لیے موردالزام ٹھہرانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جس سے مسلم دنیا میں لامحالہ منافرت اور کشیدگی کی ایک نئی صورتحال پیدا ہوگی۔
ایران نے اسی تناظر میں ریاض کانفرنس میں اپنے فوری اور سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب اپنے ملکی‘ علاقائی اور یمن کے حوالے سے پیدا ہونیوالے مسائل کے باعث تنہائی محسوس کررہا ہے‘ جس نے اس کانفرنس کے ذریعے انتہاپسند نظریات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے اس سلسلہ میں گزشتہ روز تہران میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاض سعودی سربراہ کانفرنس علاقے میں یہودی پالیسیوں اور منصوبوں کی عکاس ہے اور اس سے مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایران کے اس مؤقف کو یقیناً امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر سے بھی تقویت حاصل ہوئی ہے جنہوں نے دہشت گردی کے فروغ کے حوالے سے براہ راست ایران کو موردالزام ٹھہرایا اور بالخصوص بھارت کو دہشت گردی کا شکار قرار دیا۔ اس کانفرنس کے بعد اب سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل دیے گئے اسلامی فوجی اتحاد کے اصل مقاصد و محرکات پر بھی ازسرنو انگلیاں اٹھیں گی کیونکہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ایران کو دوسرے ممالک میں مداخلت کا موردالزام ٹھہرا کر اور دہشت گردی کے فروغ کے الزامات میں بھی ایران ہی کو فوکس کرکے یہ واضح عندیہ دے دیا ہے کہ اسلامی نیٹو اتحاد کو ایران کیخلاف بروئے کار لایا جائیگا جس کے لیے انہوں نے امریکا کی سرپرستی حاصل ہونے کا بھی عندیہ دے دیا۔ اس حوالے سے اسلامی نیٹو اتحاد میں پاکستان کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھ سکتی ہیں اور اس پر ایران کیخلاف جانبداری کا الزام لگ سکتا ہے کیونکہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف حکومت پاکستان کی جانب سے باضابطہ طور پر این او سی ملنے کے بعد اسلامی نیٹو اتحاد کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں جو گزشتہ روز سعودی‘ امریکا اسلامی سربراہی کانفرنس میں موجود بھی تھے اور اس کانفرنس کے شرکاکی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
جب کچھ عرصہ قبل جنرل راحیل شریف کے اسلامی نیٹو افواج کے سربراہ بننے کی افواہیں گرم ہوئیں تو پاکستان کے مختلف حلقوں کی جانب سے اسی تناظر میں اسلامی اتحادی افواج کے لیے جنرل راحیل شریف کی قیادت پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کہ یہ افواج ایران یا کسی دوسرے برادر مسلم ملک کی سلامتی کیخلاف استعمال ہوئیں تو پاکستان قطعی طور پر جانبدار ہو جائیگا اور اس کا ایٹمی ملک ہونے کے ناطے اسلامی دنیا کی قیادت والا تشخص جانبداری کے لیبل کے نیچے دفن ہو جائیگا۔ یہ صورتحال یقیناً حکومت پاکستان کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی بے پناہ قربانیوں اور جاندار کردار کے باوجود اور بھارتی جاسوس دہشت گرد کلبھوشن یادیو کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی گھنائونی بھارتی سازشوں کو بے نقاب کرکے بھی ہم ایک جانب عرب امریکا سربراہی کانفرنس میں عالمی اور عرب قیادتوں کی بے اعتنائی کا شکار ہوئے اور اسلامی نیٹو افواج کی سربراہی کی بنیاد پر ہم پر جانبداری کا لیبل لگنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رہی۔ یقیناً اس سے قوم کے ذہنوں میں مزید تجسس اور استفسارات پیدا ہونگے،ریاض میں ہونے والی امریکا عرب اسلامی سربراہ کانفرنس میں پاکستان کو جس رسوائی کاسامنا کرناپڑا اور واحد ایٹمی اسلامی ریاست کے سربراہ کے ساتھ جس طرح بے اعتناعی برتی گئی اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وزیر اعظم گزشتہ4سال کے دوران ملک کے لیے کسی کل وقتی وزیر خارجہ کا انتخاب کرنے میں ناکام رہے اور وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری کوئی واضح خارجہ پالیسی نہیں بلکہ صورتحال اور ضرورت کے مطابق ہم مختلف ممالک کے ساتھ معاملات میں پالیسی بنالیتے ہیں ،ریاض کی امریکا عرب اسلامی سربراہ کانفرنس وزیر اعظم کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونی چاہیے اور انہیں وطن واپس آکر اپنی واضح خارجہ پالیسی کے اعلان کے ساتھ اپنے کسی بااعتماد ساتھی کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپنے پر غور کرناچاہیے۔وزیر اعظم نواز شریف کو یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ ریاض میں جو کچھ ہوا پوری قوم نے اسے بری طرح محسوس کیاہے اور پوری قوم اسے اپنی اجتماعی بے عزتی تصور کرتی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اپنی پہلی فرصت میں عرب امریکا اسلامی سربراہ کانفرنس کے حوالے سے اصل حقائق سے قوم کو پارلیمنٹ کے ذریعے آگاہ کریں اور قومی خارجہ پالیسیاں ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کی جائیں۔ اگر قوم کے سامنے تمام حقائق کھول کر بیان نہیں کیے جائیں گے توپھر قوم کو اپنے حکمرانوں کے کڑے احتساب اورمواخذے کا بھی مکمل حق حاصل ہوگا۔وزیر اعظم نواز شریف کو یہ بات بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ اگر عوام اس مسئلے پر اٹھ کھڑے ہوئے تو پھر پاناما کیس اور ڈان لیکس سب کچھ دھرے کادھرا رہ جائے گا اور وزیر اعظم کے وہ بڑبولے وزیر اور ارکان پارلیمنٹ جو ہر بات پر بلند بانگ دعوے کرتے اور زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے نظر آتے ہیں ، اپنی شکل چھپانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر