وجود

... loading ...

وجود

شہری ماہانہ 2 ارب84 کروڑ کا مضر صحت گوشت کھانے پر مجبور

بدھ 10 مئی 2017 شہری ماہانہ 2 ارب84 کروڑ کا مضر صحت گوشت کھانے پر مجبور

غیر قانونی ذبح خانوں میں 800 بڑے اور 8000 چھوٹے جانور روزانہ کاٹے جاتے ہیں ، گائے کے نام پر بھینس کا گوشت فروخت ہوتا ہے‘ درجنوں علاقوں میں غیر قانونی ذبح خانے محکمہ ویٹنری کے افسران کی سرپرستی میں چل رہے ہیںجہاں مردار جانور بھی کاٹے جاتے ہیں

غیر قانونی ذبح خانوں میں کٹنے والے بیمار اور مردہ جانوروں کے مضر صحت گوشت سے بے نیاز شہر قائد کے باسی 18600گائے اور بکرے روزانہ کھا جاتے ہیں۔ سرکاری اور غیر قانونی ذبح خانوں سے شہر بھر میں گوشت کی دکانوں پر ماہانہ 15سو 48 ٹن گوشت فراہم کیا جاتا ہے۔اعدادو شمار کے مطابق کراچی کے شہری ماہانہ 7 ارب56 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کر کے ایک کروڑ پچاس لاکھ اڑتالیس ہزار کلو گرام گوشت خریدتے ہیں ۔ یعنی یومیہ 34 کروڑ 38 لاکھ روپے کے 68 لاکھ4000 کلو گرام چھوٹے بڑے گوشت کی خریداری پر خرچ کرتے ہیں۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ ویٹنری شہرمیں جاری غیر قانونی ذبیحہ کو روکنے میں ناکام ہے جسکے باعث غیر قانونی ذبح خانے شہر بھر میں جا بجا قائم ہیں ۔ ان میں بھینس کالونی،لا نڈ ھی ، ملیر، کورنگی بلال کالونی، کورنگی کلو چوک، لیاقت آباد، گلشن اقبال، سرجانی،بلدیہ ٹائون ، نیو کراچی، نارتھ کراچی، ناظم آباد، پاک کالونی، لیاری، صدر، برنس روڈ، کیماڑی، سمیت درجنوں علاقوں میں غیر قانونی ذبح خانے محکمہ ویٹنری کے افسران کی سرپرستی میں چل رہے ہیں ۔ جہاں بیمار ،نیم مردار اور بعض اوقات مردار جانور بھی کاٹ دیے جاتے ہیں اور پریشر والا گوشت بھی یہیں تیار کیا جاتا ہے۔ ایسے حرام (مردار)جانوروں کا گوشت شہریوں کی صحت کے ساتھ ساتھ ایمان کوبھی نقصان پہنچارہا ہے۔ متعلقہ محکمہ کے افسران نے ان غیر قانونی ذبح خانوں کو ہزاروں روپے ہفتہ وار وصولی کے عوض کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ان غیر قانونی ذبح خانوں میں جانور کے گلے پر چھری پھیرتے ہی ایک پائپ لگا کر پانی اس رگ میں داخل کیا جاتا ہے جو سیدھی دل کی طرف اور جانور کے پورے جسم میں پانی پہنچا دیتی ہے۔اس عمل سے جانور کے مثانے میں موجود پیشاب بھی گوشت میں داخل ہو جاتا ہے اس سے انسانی صحت اور ایمان دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔مگر لالچ میں اندھے لوگ شہریوں کی صحت اور ایمان سے بے پروا غیر قانونی ذبیحہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیوں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔بعض علاقوں میں اس گھناؤنے کاروبارکو با اثر سیاسی افراد کی سرپرستی بھی حاصل ہے ۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ ویٹنری سے حاصل کردہ عدادو شمار کے مطابق 2800 بڑے جانور جن میں گائے بھینسیں اور 7000 چھوٹے جانور جن میں بکرے و بکریاں شامل ہیں کے۔ایم۔سی کے سرکاری ذبح خانوں میں ذبح کیے جاتے ہیں۔ جبکہ بعض ذرائع کے مطابق شہر بھر کے غیر قانونی ذبح خانوں میں 800 بڑے اور 8000 چھوٹے جانور روزانہ کاٹے جاتے ہیں۔ شہری یومیہ20لاکھ 8000 کلو غیر قانونی ذبح شدہ گوشت کھا جاتے ہیں اور انجانے میں اپنی صحت و ایمان دائو پر لگا دیتے ہیں۔اسی طرح 45 لاکھ 76 ہزار کلو گرام مضر صحت گوشت خریدنے کے لیے شہری ماہانہ 2 ارب83 کروڑ 80 لاکھ روپے بھی خرچ کر ڈالتے ہیں۔ دھوکہ دہی کے تحت شہر بھر میں گائے کے نام پر بھینس کا گوشت بھی فروخت ہوتا ہے۔ جبکہ غیر قانونی ذبح خانوں میں بھینس کے نو مولود 2 روز سے 8 روز کے کٹّے کاٹ کر انہیں بکرے کا گوشت ظاہر کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔ عموماً بکرے کے نام پر کٹّے کا گوشت چھوٹے بڑے ہوٹلوں کو فروخت کیا جاتا ہے اور ہوٹلوں میں معصوم شہری بکرے کا گوشت سمجھ کر بڑے مزے سے کھا جاتے ہیں۔ اس نسل کشی پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ بلکہ پولیس اور ویٹنری افسران نومولود کٹّوں کی نسل کشی کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں۔بعض ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ بھینسوں کے مردار کٹّوںکو بھی کاٹ کر فروخت کردیا جاتا ہے۔
سرکاری ذبح خانوں میں ذبح ہونے والے جانوروں کا معائنہ سرکاری ویٹنری ڈاکٹرز کرتے ہیں اور صحت مند ہونے پر ہی جانور کو کاٹنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ اگر غلطی سے بھی کوئی بیمار جانور ذبح کردیا جائے گا تو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر ذمہ دار ہوگا ۔ جبکہ ایسے گوشت سے نقصان پہنچنے کی صورت میں صارف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کے۔ایم۔سی پر ہرجانے کا د عویٰ کر سکتا ہے۔ معصوم صارفین کو معلوم ہی نہیں کہ وہ مردار جانور کا گوشت کھا رہے ہیں یا بیمار جانور کا ۔ بکرے کا گوشت ہے یا کٹّے کا ۔ عام گوشت ہے یا پریشر والا؟ پریشر والے گوشت میں پانی ڈالنے کا مقصدفروخت کے وقت اس کا وزن بڑھانا ہے لیکن ایک کلو گوشت پکنے کے بعد تین پائو رہ جاتا ہے۔ صارفین کو ایک کلو گوشت پر 112 روپے تک کا نقصان پہنچتا ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ ویٹنری میں ہر 3 سے 6 ماہ میں سینئر ڈائریکٹر تبدیل ہوتے رہتے ہیں اگر تبدیل نہیں ہوتے تو غیر قانونی ذبح خانوں کی سرپرستی کرنے والا نظام کہ جس کی سرپرستی محکمے کے ویٹنری ڈاکٹرز اور افسران کرتے ہیںچلتارہتاہے ۔ کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے متعدد با رنوٹس لیا اور سینئر ڈائریکٹر ویٹنری کو طلب کر کے کارروائی کی ہدایات دیں تاہم اس پر کرپٹ افسران مختلف بہانے بنا کرعمل درآمدہونے نہیں دیتے۔ افسران کا کہنا ہے کہ علاقہ پولیس اور اسسٹنٹ کمشنرز تعاون نہیں کرتے۔ جب بھی کارروائی کے لیے درخواست دی ہے علاقہ اے۔سی اور پولیس ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ افسران نے الزام لگایا کہ علاقہ اے سی اور پولیس غیر قانونی ذبح خانوں سے مبینہ حصہ وصول کرتے ہیں ۔ اسی لیے کارروائی میں تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ میڈیا پر بار بار نشاندہی کیے جانے کے باوجود بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اعلیٰ افسران، حکومت سندھ اس صورت حال کا نوٹس نہیں لیتے۔ غیر قانونی ذبیحہ سے بلدیہ عظمیٰ کروڑوں روپے آمدنی سے بھی محروم ہو رہا ہے۔ جبکہ پہلے ہی کے۔ایم۔سی مالی بحران کا شکار ہے ۔ ویٹنری ذرائع کے مطابق اوسطاً800 بڑے جانور سرکاری ذبح خانوں میں یومیہ کاٹے جاتے ہیں ۔ جن سے 392000 کلو گرام گوشت حاصل ہوتا ہے۔ جو ہفتہ وار دو روزہ گوشت کے ناغے کے باعث ماہانہ کم و بیش 22 روز فروخت ہوتا ہے اور ماہانہ 8624000 کلو گرام لگ بھگ فروخت ہوتا ہے۔جس کی مالیت یومیہ 16 کروڑ 66 لاکھ روپے اور ماہانہ کم و بیش 3 ارب 66 کروڑ 52 لاکھ ہے۔ اسی طرح چھوٹا گوشت یعنی بکرے 7000 یومیہ کاٹے جاتے ہیں جن سے تقریباً 84000 کلو گرام گوشت حاصل ہوتا ہے جس کی مالیت 5 کروڑ روپے بنتی ہے ۔ اور ماہانہ 1848000 کلو گرام گوشت بکرے کا حاصل ہوتا ہے جس کی مالیت ماہانہ کم و بیش ایک ارب 20 کروڑ 46 لاکھ روپے ہے۔ اگر شہریوں کو فروخت کیے جانے والے قانونی اور غیر قانونی گوشت کا جائزہ لیا جائے تو چھوٹا گوشت 3 ہزار 9 سو 60 ٹن ماہانہ فروخت کیا جاتا ہے جس کی مالیت کم و بیش 2 ارب 57کروڑ 40 لاکھ روپے ہے ۔ یعنی 11کروڑ70 لاکھ روپے یومیہ۔ جبکہ بڑا گوشت یعنی گائے کا گوشت 504 ٹن یومیہ فروخت ہوتا ہے ۔ مالیت 22 کروڑ 68 لاکھ روپے بنتی ہے۔ جس کا ماہانہ تخمینہ 11 ہزار 88 ٹن ہے ۔ اور ماہانہ رقم 4 ارب98کروڑ96 لاکھ روپے ہے ۔ صارفین کو قصابوں سے یہ بھی شکایت ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کا ذرا بھی خیال نہیں رکھتے ۔ ذبح خانوں سے دکانوں تک گاڑیوں میں گوشت اکثر کھلا لایا جاتا ہے ۔ دکانوں پر مکھیاں بڑی تعداد میں گوشت پر بھنبھناتی نظرآ رہی ہوتی ہیں ۔ قصاب قیمہ کرتے وقت مکھیاں بھی کوٹ دیتے ہیں۔ اور مشین سے نکالے گئے قیمے میں چھیچھڑے بھی کوٹ دیے جاتے ہیں ۔ بلا جواز چربی گوشت کے ساتھ وزن کی جاتی ہے ۔ ضرورت سے زائد ہڈیاں وزن کے دوران گوشت میں ملادی جاتی ہیں ۔ کوئی صارف شکایت کرے تو اسے انتہائی بدسلوکی کے ساتھ جواب ملتا ہے، بعض اوقات گالم گلوچ بھی کی جاتی ہے۔ بعض دکانوں پر باسی اور بدبو دار گوشت جس کا رنگ بھی ہرا اور نیلا سا ہونے لگتا ہے، وہ کچھ کم قیمت پر رعائتی سیل کا بینر لگا کر فروخت کیا جاتا ہے ۔ مگر صارفین کے حقوق کی پاسداری کرنے والاکوئی نہیں ہوتا ۔ یہی قصاب ہوٹلوں پر باسی نلّیاںاور بھیجہ بھی فروخت کر دیتے ہیں جس میں سے بعض اوقات تعفن بھی اٹھ رہا ہوتا ہے۔ شہر بھر میں پھیلی اس معاشرتی نا انصافی اور بے رحمانہ کرپشن کو روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔ نہ ہی کوئی ملکی اداراہ اس بہیمانہ ظلم کا نوٹس لینے کو تیار ہے ۔ حد تویہ ہے کہ 2 کروڑ سے زائد عوام اپنے اوپر ہونے والے کسی بھی ظلم پر آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔
ّ؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍

پریشر والا گوشت ۔۔۔۔۔!!

پریشر والے گوشت کی واضح پہچان یہ ہے کہ یہ گوشت سوکھتا نہیں ہے اور اکثر اس میں سے پانی ٹپک رہا ہوتا ہے۔ یہ گوشت دیکھنے میں صاف ستھرا اور ہر وقت تازہ نظر آتا ہے جبکہ بغیر پریشر والے گوشت کو دیکھا جائے تو اس کا رنگ سیاہی مائل سرخ ہوتا ہے ۔ خریداروں کو چاہیے کہ گوشت خریدتے وقت اس بات کا اطمینان ضرور کر لیں کہ یہ پریشر والا گوشت تو نہیں ۔ اگر شک ہو تو اپنے علاقے کے ڈپٹی یا اسسٹنٹ کمشنر کو تحریری شکایات ضرور درج کرادیں اور میڈیا کو اس کی کاپی تفصیلات کے ساتھ ارسال کردیں۔

صارف حقوق؟؟

حکومت صارفین کے حقوق کے تحفظ میں مکمل ناکام نظر آتی ہے کیوں کہ دکاندار گوشت کے ساتھ زبردستی بھاری ہڈی، چھیچھڑا، اور چکنائی تول دیتے ہیں ۔ اس حوالے سے حکومت نے کوئی پالیسی واضح نہیں کی ہے ۔ صارفین کا یہ حق ہے کہ انہیں مناسب مقدار یا وزن کی ہڈی اور بغیر ہڈی کا گوشت طلب کرنے پر صرف گوشت دیا جائے نہ کہ اس میں چھیچھڑے اور چکنائی بھی تول دی جائے جو سراسر نا انصافی ہے۔

گوشت و دودھ کی پیداوارمیں اضافے کی ضرورت
محکمہ لائیو اسٹاک منصوبہ بندی میں ناکام

حکومت کے محکمہ لائیواسٹاک نے گوشت اور دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی اگر اس حوالے سے بیرون ملک خصوصاً یورپی ممالک سے جلد تیار ہونے والے جانوروں کی نسل پاکستان خصوصاًکراچی میں افزائش کی جائے تاکہ دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافے کے نتیجے میں گوشت اور دودھ کی قیمتیں کم ہو سکیں۔
عمران علی شاہ


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر