وجود

... loading ...

وجود

شمالی کورین سفارتکار پر تشدد ،صوبائی حکومت کے اقدامات کا انتظار

اتوار 07 مئی 2017 شمالی کورین سفارتکار پر تشدد ،صوبائی حکومت کے اقدامات کا انتظار

محکمہ ایکسائزکے افسرنے جرائم پیشہ افرادوخاتون کے ساتھ سفارتکار کے گھر پر دھاوا بول دیا‘ سفارتکار کی اہلیہ کو بھی زدوکوب کیاگیا‘ ای ٹی او نے کارروائی سے مکرنے کی بھی کوشش کی،خفیہ کیمرے کی ویڈیو کے بعد اعتراف کیا،شراب کی کھیپ کی اطلاع تھی،شا ہجہاں بلوچ

سرکاری ادارے جب بے لگام حکمرانوں کو دیکھتے ہیں تو وہ خود بھی مطلق العنان بن جاتے ہیں اور پھر وہ ایسی حرکتیں کرجاتے ہیں جس سے نہ صرف جگ ہنسائی ہوتی ہے بلکہ ملک کی بدنامی بھی ہوتی ہے۔9اپریل2017ء کو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر (ای ٹی او) نے شمالی کوریا کے سفارتکار کے گھرپر دس افراد کی ٹیم کے ساتھ چھاپامارا ،گھر میں گھس کر سفارتکار اور ان کی اہلیہ پر تشدد کیا، ان کے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں جس نے سفارتکار کی اہلیہ کے منہ پر پسٹل اور بندوق کے بٹ مار کر چہرہ زخمی کردیا۔ ان کو بالوں سے گھسیٹا گیا ،ان پر ایسا وحشیانہ تشدد کیا کہ وہ لاغر ہوگئیں۔ اسی طرح باقی8 اہلکار بھی سفارتکار پر تشدد کرتے رہے مگر ان کوکوئی یہ نہیں بتارہا تھا کہ آخر ان کو کیوں تشدد کا نشانہ بنایاگیا؟ ایک سے سوا گھنٹے تک گھر کی تلاشی لی گئی اور ان کو کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس کی ان کو تلاش تھی۔ بالآخر گھر کی چابیاں‘ موبائل فون‘ ایک خفیہ کیمرہ اپنے ساتھ لے کر مسلح عملہ واپس چلاگیا۔ سفارتکار اور ان کی اہلیہ پر ایسا ذہنی وجسمانی تشدد کیاگیا کہ ان کے حواس خطا ہوگئے اور پھر سفارتکار نے اسلام آباد میں واقع اپنے ملک کے سفارتخانے کو آگاہ کیا۔ سفارتخانہ نے پہلے وفاقی وزارت خارجہ اور وفاقی وزارت داخلہ سے بات کی، پھر وفاقی اداروں نے حکومت سندھ سے بات کی، اور پھر سفارتکاروں نے آخر محکمہ ایکسائز کے اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کیں اور ان کو سفارتکار کے گھر کے خفیہ کیمرے کی ریکارڈنگ فراہم کی۔ ریکارڈنگ دیکھنے کے بعد انکشاف ہوا کہ یہ کارروائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر شاہ جہاں بلوچ نے کی تھی۔ جب اعلیٰ حکام نے شاہ جہاں بلوچ کو طلب کیا تو پہلے وہ مکرگیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کو تو کچھ پتہ نہیں ہے جب ان کو سفارتکار کے گھر کی خفیہ ریکارڈنگ کا بتایاگیا تو وہ پھٹ پڑا، اس نے حکام کو بتایا کہ شہر میں غیر ملکی شراب شوکت نامی ایک شخص فراہم کرتا ہے۔وہ اپر کلاس‘ مہنگے ہوٹلوں‘ اعلیٰ افسران‘ بااثر سیاسی رہنمائوں‘ پوش علاقوں میں غیرملکی شراب فراہم کرتا ہے اور متعلقہ قانونی اداروں کے نیچے سے لے کر اوپر تک ہر ماہ بھتہ دیتا ہے۔ غیرملکی شراب شمالی کوریا کے سفارتکار کے گھر سے لیتا ہے ،ان کو جب اطلاع ملی تو سفارتکار کے گھر پر چھاپا مارا مگر اس کو وہاں کچھ نہ ملا۔ حکام نے شاہ جہان بلوچ سے سوال کیا کہ آپ کو پتہ ہے کہ سفارتکاروں کو جنیوا کنونشن کے تحت تحفظ حاصل ہے، ان کے گھر یا پھر سفارتخانے پر یا ان کی گاڑی پر چھاپا نہیں مارا جاسکتا، تو اس کا جواب تھا کہ اس کو صرف اتنا پتہ ہے کہ سفارت خانے یا ان کی گاڑی پر چھاپا نہیں مارا جاسکتا۔ ان کے گھروں کو حاصل تحفظ کے بارے میں وہ لاعلم ہے ،ان سے پوچھا گیا کہ باقی9 اہلکار بشمول خاتون کون تھے؟ وہ کس جگہ ڈیوٹی دیتے ہیں؟ اس پر شاہ جہان بلوچ نے چونکا دینے والا انکشاف کیا جس پر محکمہ ایکسائز کے اعلیٰ حکام انگشت بدنداں رہ گئے ،اس نے انکشاف کیا کہ محکمہ ایکسائز کے انسپکٹرز اور ای ٹی اوز جب کوئی کارروائی کرنے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ غیر سرکاری لوگ ہوتے ہیں جو اکثرجرائم پیشہ ہوتے ہیں اور شمالی کوریا کے سفارتکار کے گھر پر چھاپے کے لیے بھی غیر سرکاری افراد یا جرائم پیشہ افراد استعمال کیے گئے اور خاتون بھی جرائم پیشہ افراد کی ساتھی تھی۔ اعلیٰ افسران سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور پھر27 اپریل کو شمالی کوریا کے سفارتکار نے ایک مکتوب محکمہ ایکسائز حکومت سندھ کو لکھ دیا جس میں بہت سخت زبان استعمال کی گئی، مکتوب میں بتایاگیا کہ ایک حملہ آور کو اسکے ساتھی حنیف کے نام سے پکار رہے تھے، ایسے تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ محکمہ ایکسائز کے ان اہلکاروں کا عمل جنیوا کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور یہ عمل دونوں ممالک کے خوشگوار تعلقات میں بگاڑ پیدا کرسکتاہے، اس لیے دونوں ممالک کے تعلقات کو مدنظر رکھ کر ایکسائز اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مکتوب میں کہاگیا ہے کہ مسلح ایکسائز عملہ بدترین تشدد کے بعد سفارتکار اور ان کی اہلیہ سے پیسے طلب کرتے رہے مگر یہ نہیں بتایا کہ ان کو پیسے کیوں چاہئیں؟ ایک سوا گھنٹے کی کارروائی کے بعد اہلکار چلے گئے تو سفارتکار اور ان کی اہلیہ ذہنی دبائو کا شکار رہیں اور ان کی طبیعت بھی خراب ہوگئی ہے، ایکسائز عملہ ایسے کارروائی کررہا تھا جیسے گینگسٹر کرتے ہیں۔ کیا ان کو پتہ نہیں کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور دوسرا یہ کہ سفارتی آداب کے منافی ہے اور یہ جنیوا کنونشن سے انحراف بھی ہے۔ یہ سنگین جرم ایکسائز اہلکاروں نے کیوں کیا؟ اس کی تحقیقات کرکے ملوث اہلکاروں کے خلاف کارووائی کی جائے۔ سفارتکاروں کی ملاقات اور مکتوب کے بعد صوبائی محکمہ ایکسائز حرکت میں آگیا ہے اور فوری طور پر ڈائریکٹر جنرل ایکسائز نے ایک سمری بناکر منظوری کے لیے وزیرایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش چائولہ کو بھیج دی ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈائریکٹر ایکسائز کنور عامرجمیل کی سربراہی میں چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں صوبائی انٹیلی جنس افسر ریاض احمد کھوسو‘ ڈپٹی ڈائریکٹرایکسائز ضلع جنوبی کراچی کریم داد عباسی اور ای ٹی او ملیر کلیم اللہ وسان کو شامل کیا جائے ۔تاہم صوبائی وزیرایکسائز نے تحقیقاتی کمیٹی کی منظوری نہیں دی لیکن اس واقعہ نے دو دوست ممالک کے مابین تعلقات میں دراڑ ڈال دی ہے جس کا اظہار شمالی کوریا کے سفارتخانے کی جانب سے لکھے گئے مکتوب میں سخت زبان کی صورت میں کردیاگیا ہے۔ ایک ایکسائز افسر کی ناسمجھی کی وجہ سے دو دوست ممالک کے تعلقات پر فرق پڑا ہے، اب یہ دیکھنا ہے کہ حکومت سندھ اس پورے عمل پر کیا کارروائی کرتی ہے؟ اور دوست ملک کو راضی کرنے میں اپنا کیا کردار ادا کرتی ہے؟ لیکن اس واقعہ نے سفارتکاروں کو سخت ناراض کردیا ہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر