وجود

... loading ...

وجود

برلن، ڈبلیو 20سمٹ ایوانکا کی جانب سے ٹرمپ کے دفاع پر خواتین کا شورشرابا

جمعه 28 اپریل 2017 برلن، ڈبلیو 20سمٹ ایوانکا کی جانب سے ٹرمپ کے دفاع پر خواتین کا شورشرابا

خواتین صنعت کاروں پر ہونے والے ڈسکشن میں جب خواتین سے متعلق ٹرمپ کے رویے کا دفاع کیا تو حاضرین نے ایوانکا کیخلاف نعرے لگائے ایوانکا کی اپنے شوہر کے ساتھ وہائٹ ہائوس منتقلی اور ان کو وہائٹ ہائوس میں دفتر اور عملے کی فراہمی پر امریکی عوام نے شدید احتجاج کیاتھا

جرمنی کے دارالحکومت برلن میںدنیا کے طاقتور ترین ممالک کی خواتین کی ایک کانفرنس گزشتہ دنوں منعقد ہوئی جس میں دنیا کے سب سے امیر 20 ممالک کی نمائندہ خواتین نے شرکت کی۔چونکہ یہ صرف خواتین سے متعلق کانفرنس ہے اسی لیے اسے ڈبلیو 20 یا وومن 20 سمٹ کہا جار رہا تھا۔ اس کانفرنس کی میزبانی جرمن چانسلر انگیلا مرکل کر رہی تھیں اور اس میں شرکت کرنے والے دیگر اہم ترین ناموں میںآئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈے اور نیدرلینڈز کی ملکہ میکسیما کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ بھی شامل ہیں۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایوانکا ٹرمپ ملک سے باہر سرکاری طور پر کسی بین الاقوامی اجلاس میں شریک ہوئیں۔
ایوانکا ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’میرا اپنا ذاتی تجربہ اور ساتھ ہی ٹرمپ کاروبار میں طویل عرصے سے ملازمت کرنے والی متعدد دیگر خواتین کا تجربہ اِسی بات کا غماز ہے کہ صدرِامریکا خواتین کے باصلاحیت ہونے پر یقین رکھتے ہیں، جو کسی مرد کی طرح عمدگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتی ہیں‘‘ امریکی صدر کی دختر نے خواتین سے متعلق اُن کے والد کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں خواتین کے بارے میں صدر کے رویے کو درست طور پر اجاگر نہیں کیا گیا۔ اْنہوں نے یہ بیان ’جی 20‘ خواتین سربراہ اجلاس ’ڈبلیو 20‘کے دوران ایک مباحثے میں شرکت کے دوران دیا، جس کا عنوان تھا کاروباری صلاحیت کی مالک ابھرتی ہوئی خواتین کی کس طرح حمایت کی جا سکتی ہے۔ تقریب میں جرمن چانسلرانگیلا مرکل اور ورلڈ بینک کی منتظم اعلیٰ کرسٹین لے گارڈے شامل تھیں۔ایوانکا نے یہ بات تسلیم کی کہ وہ ابھی سیکھ رہی ہیں کہ دنیا بھر کی خواتین کی زندگی میں مثبت کردار کس طرح ادا کیا جا سکتا ہے۔بقول اُن کے’’میں اِس بات کی جستجو کر رہی ہوں کہ دنیا بھر کی خواتین کو معیشت اور داخلی امور میں کس طرح مزید با اختیار بنایا جا سکتا ہے‘‘۔امریکا کی مثال پیش کرتے ہوئے، ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ خواتین ساجھے داروں کے لیے کاروباری ماحول ’’بہترین نوعیت کا ہے‘‘؛ ایسے میں جب خواتین کی ملکیت والا نجی کاروبار صرف 30 فی صد ہے، جب کہ اُن کی آبادی نصف کے برابر ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے، جب کہ ہمیں ابھی جس مقام پر پہنچنا ہے، وہاں نہیں پہنچے‘‘۔
خواتین کے جی -20 اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے جب خواتین سے متعلق اپنے والد کے رویے کا دفاع کیا تو انہیں شدید شور شرابے کا سامنا کرنا پڑااور حاضرین نے ایوانکا کے خلاف نعرے لگائے۔ایوانکا ٹرمپ خواتین صنعت کاروں پر ہونے والے پینل ڈسکشن میں جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی صدر کرسٹین لیگارڈ کے ساتھ شریک تھیں۔جب انہوں نے اپنے والد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرنا شروع کی تو وہاں موجود لوگوں کو یہ ناگوار گزرا۔جب انہوں نے کہا کہ ان کے والد خواتین کی عزت کرتے ہیں اور خاندان کے تصور پر یقین رکھتے ہیں تو خواتین نے شور مچا کر ان سے اختلاف کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو خواتین کے متعلق ان کے رویے کے لیے کافی بار تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔گزشتہ سال امریکی صدارتی انتخاب کے لیے مہم کے دوران ان کا ایک پرانا ٹیپ ریلیز ہوا تھا جس میں وہ خواتین کے لیے نامناسب بات کہتے ہوئے نظر آئے تھے۔برلن میں ایوانکا ٹرمپ کے دورہ پر مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔اس کے بعد امریکا کے علاوہ دنیا بھر میں ان کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔لیکن جی 20 کے خواتین اجلاس میں ایوانکا نے کہا: ‘میں نے اپنے والد پر ہونے والی تنقید سنی ہے، لیکن میں انہیں اس طور پر نہیں جانتی۔ میں نے ہی کیا، وہ تمام خواتین جو ان کے ساتھ، ان کی کمپنی میں کام کر چکی ہیں وہ ان پر ہونے والی اس قسم کی تنقیدوں سے، ان باتوں سے اتفاق نہیں رکھتیں۔ایوانکا نے مزید کہا کہ ان کے والد نے ہمیشہ آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی اور ان کے خاندان میں کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔خیال رہے کہ مارچ میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ایوانکا اپنے والد کی بلا معاوضہ اسسٹنٹ کے طور پر کام کریں گی۔ اس سے قبل ایوانکا کی اپنے شوہر کے ساتھ وہائٹ ہائوس منتقلی اور ان کو وہائٹ ہائوس میں دفتر اور عملے کی فراہمی پر امریکی عوام نے شدید احتجاج کیاتھا جس کے نتیجے میں حکومت کو یہ وضاحت کرنا پڑی تھی کہ ایوانکا اپنے والد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بلامعاوضہ معاون کے طورپر خدمات انجام دیں گی اور ان خدمات کے عوض انہیں کسی طرح کا معاوضہ ادا نہیں کیاجائے گا ۔
ایک طرف پوری دنیا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ناپسندیدگی کا اظہار کیاجارہاہے، دوسری جانب جنوبی کوریا کے عوام نے بھی شمالی کوریا کے حملوں سے بچائو کے لیے نصب کیے جانے والے امریکی تھاڈ میزائلوں کی تنصیب کے خلاف احتجا ج شروع کردیاہے ، خبروں کے مطابق جنوبی کوریا کے جنوبی علاقے میں سیکڑوں افراد نے اس نظام کی تنصیب کے خلاف مظاہرے کیے ہیں اور اس دوران ان کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔جنوبی کوریا میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں کے نتیجے میں دس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ نظام 200 کلومیٹر تک کے فاصلے میں کام کرتا ہے اور 150 کلومیٹر بلندی تک اثر کرتا ہے۔ادھر چین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تھاڈ نظام کی تنصیب خطے میں سیکورٹی کو غیر مستحکم کرے گی۔خیال رہے کہ امریکا نے حالیہ دنوں میں شمالی کوریا کی جانب سے مزید میزائل یا جوہری تجربات کی منصوبہ بندی کرنے کے خدشات کے باعث جزیرہ نما کوریا میں جنگی جہاز اور آبدوز تعینات کی ہیں۔تھاڈ میزائل سسٹم کے نظام کے ذریعے درمیانے فاصلے تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلیسٹک میزائل کو اس وقت مار گرایا جا سکتا ہے جب وہ اپنی پرواز کے آخری مرحلے میں ہو۔اس نظام میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ یہ کسی بھی ٹیکنالوجی مثلاً جنگی ہتھیاروں کو تباہ کر سکتا ہے۔ یہ نظام 200 کلومیٹر تک کے فاصلے میں کام کرتا ہے اور 150 کلومیٹر بلندی تک اثر کرتا ہے۔جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور جنوبی کوریا تھاڈ سسٹم کی ابتدائی آپریشنل صلاحیت کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر