وجود

... loading ...

وجود

برلن، ڈبلیو 20سمٹ ایوانکا کی جانب سے ٹرمپ کے دفاع پر خواتین کا شورشرابا

جمعه 28 اپریل 2017 برلن، ڈبلیو 20سمٹ ایوانکا کی جانب سے ٹرمپ کے دفاع پر خواتین کا شورشرابا

خواتین صنعت کاروں پر ہونے والے ڈسکشن میں جب خواتین سے متعلق ٹرمپ کے رویے کا دفاع کیا تو حاضرین نے ایوانکا کیخلاف نعرے لگائے ایوانکا کی اپنے شوہر کے ساتھ وہائٹ ہائوس منتقلی اور ان کو وہائٹ ہائوس میں دفتر اور عملے کی فراہمی پر امریکی عوام نے شدید احتجاج کیاتھا

جرمنی کے دارالحکومت برلن میںدنیا کے طاقتور ترین ممالک کی خواتین کی ایک کانفرنس گزشتہ دنوں منعقد ہوئی جس میں دنیا کے سب سے امیر 20 ممالک کی نمائندہ خواتین نے شرکت کی۔چونکہ یہ صرف خواتین سے متعلق کانفرنس ہے اسی لیے اسے ڈبلیو 20 یا وومن 20 سمٹ کہا جار رہا تھا۔ اس کانفرنس کی میزبانی جرمن چانسلر انگیلا مرکل کر رہی تھیں اور اس میں شرکت کرنے والے دیگر اہم ترین ناموں میںآئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈے اور نیدرلینڈز کی ملکہ میکسیما کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ بھی شامل ہیں۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایوانکا ٹرمپ ملک سے باہر سرکاری طور پر کسی بین الاقوامی اجلاس میں شریک ہوئیں۔
ایوانکا ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’میرا اپنا ذاتی تجربہ اور ساتھ ہی ٹرمپ کاروبار میں طویل عرصے سے ملازمت کرنے والی متعدد دیگر خواتین کا تجربہ اِسی بات کا غماز ہے کہ صدرِامریکا خواتین کے باصلاحیت ہونے پر یقین رکھتے ہیں، جو کسی مرد کی طرح عمدگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتی ہیں‘‘ امریکی صدر کی دختر نے خواتین سے متعلق اُن کے والد کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں خواتین کے بارے میں صدر کے رویے کو درست طور پر اجاگر نہیں کیا گیا۔ اْنہوں نے یہ بیان ’جی 20‘ خواتین سربراہ اجلاس ’ڈبلیو 20‘کے دوران ایک مباحثے میں شرکت کے دوران دیا، جس کا عنوان تھا کاروباری صلاحیت کی مالک ابھرتی ہوئی خواتین کی کس طرح حمایت کی جا سکتی ہے۔ تقریب میں جرمن چانسلرانگیلا مرکل اور ورلڈ بینک کی منتظم اعلیٰ کرسٹین لے گارڈے شامل تھیں۔ایوانکا نے یہ بات تسلیم کی کہ وہ ابھی سیکھ رہی ہیں کہ دنیا بھر کی خواتین کی زندگی میں مثبت کردار کس طرح ادا کیا جا سکتا ہے۔بقول اُن کے’’میں اِس بات کی جستجو کر رہی ہوں کہ دنیا بھر کی خواتین کو معیشت اور داخلی امور میں کس طرح مزید با اختیار بنایا جا سکتا ہے‘‘۔امریکا کی مثال پیش کرتے ہوئے، ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ خواتین ساجھے داروں کے لیے کاروباری ماحول ’’بہترین نوعیت کا ہے‘‘؛ ایسے میں جب خواتین کی ملکیت والا نجی کاروبار صرف 30 فی صد ہے، جب کہ اُن کی آبادی نصف کے برابر ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے، جب کہ ہمیں ابھی جس مقام پر پہنچنا ہے، وہاں نہیں پہنچے‘‘۔
خواتین کے جی -20 اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے جب خواتین سے متعلق اپنے والد کے رویے کا دفاع کیا تو انہیں شدید شور شرابے کا سامنا کرنا پڑااور حاضرین نے ایوانکا کے خلاف نعرے لگائے۔ایوانکا ٹرمپ خواتین صنعت کاروں پر ہونے والے پینل ڈسکشن میں جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی صدر کرسٹین لیگارڈ کے ساتھ شریک تھیں۔جب انہوں نے اپنے والد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرنا شروع کی تو وہاں موجود لوگوں کو یہ ناگوار گزرا۔جب انہوں نے کہا کہ ان کے والد خواتین کی عزت کرتے ہیں اور خاندان کے تصور پر یقین رکھتے ہیں تو خواتین نے شور مچا کر ان سے اختلاف کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو خواتین کے متعلق ان کے رویے کے لیے کافی بار تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔گزشتہ سال امریکی صدارتی انتخاب کے لیے مہم کے دوران ان کا ایک پرانا ٹیپ ریلیز ہوا تھا جس میں وہ خواتین کے لیے نامناسب بات کہتے ہوئے نظر آئے تھے۔برلن میں ایوانکا ٹرمپ کے دورہ پر مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔اس کے بعد امریکا کے علاوہ دنیا بھر میں ان کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔لیکن جی 20 کے خواتین اجلاس میں ایوانکا نے کہا: ‘میں نے اپنے والد پر ہونے والی تنقید سنی ہے، لیکن میں انہیں اس طور پر نہیں جانتی۔ میں نے ہی کیا، وہ تمام خواتین جو ان کے ساتھ، ان کی کمپنی میں کام کر چکی ہیں وہ ان پر ہونے والی اس قسم کی تنقیدوں سے، ان باتوں سے اتفاق نہیں رکھتیں۔ایوانکا نے مزید کہا کہ ان کے والد نے ہمیشہ آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی اور ان کے خاندان میں کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔خیال رہے کہ مارچ میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ایوانکا اپنے والد کی بلا معاوضہ اسسٹنٹ کے طور پر کام کریں گی۔ اس سے قبل ایوانکا کی اپنے شوہر کے ساتھ وہائٹ ہائوس منتقلی اور ان کو وہائٹ ہائوس میں دفتر اور عملے کی فراہمی پر امریکی عوام نے شدید احتجاج کیاتھا جس کے نتیجے میں حکومت کو یہ وضاحت کرنا پڑی تھی کہ ایوانکا اپنے والد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بلامعاوضہ معاون کے طورپر خدمات انجام دیں گی اور ان خدمات کے عوض انہیں کسی طرح کا معاوضہ ادا نہیں کیاجائے گا ۔
ایک طرف پوری دنیا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ناپسندیدگی کا اظہار کیاجارہاہے، دوسری جانب جنوبی کوریا کے عوام نے بھی شمالی کوریا کے حملوں سے بچائو کے لیے نصب کیے جانے والے امریکی تھاڈ میزائلوں کی تنصیب کے خلاف احتجا ج شروع کردیاہے ، خبروں کے مطابق جنوبی کوریا کے جنوبی علاقے میں سیکڑوں افراد نے اس نظام کی تنصیب کے خلاف مظاہرے کیے ہیں اور اس دوران ان کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔جنوبی کوریا میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں کے نتیجے میں دس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ نظام 200 کلومیٹر تک کے فاصلے میں کام کرتا ہے اور 150 کلومیٹر بلندی تک اثر کرتا ہے۔ادھر چین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تھاڈ نظام کی تنصیب خطے میں سیکورٹی کو غیر مستحکم کرے گی۔خیال رہے کہ امریکا نے حالیہ دنوں میں شمالی کوریا کی جانب سے مزید میزائل یا جوہری تجربات کی منصوبہ بندی کرنے کے خدشات کے باعث جزیرہ نما کوریا میں جنگی جہاز اور آبدوز تعینات کی ہیں۔تھاڈ میزائل سسٹم کے نظام کے ذریعے درمیانے فاصلے تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلیسٹک میزائل کو اس وقت مار گرایا جا سکتا ہے جب وہ اپنی پرواز کے آخری مرحلے میں ہو۔اس نظام میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ یہ کسی بھی ٹیکنالوجی مثلاً جنگی ہتھیاروں کو تباہ کر سکتا ہے۔ یہ نظام 200 کلومیٹر تک کے فاصلے میں کام کرتا ہے اور 150 کلومیٹر بلندی تک اثر کرتا ہے۔جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور جنوبی کوریا تھاڈ سسٹم کی ابتدائی آپریشنل صلاحیت کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر