وجود

... loading ...

وجود

ہم اپنے بچوں کو پولیو کے قطروں کی شکل میں زہرتو نہیں پلارہے ؟

بدھ 26 اپریل 2017 ہم اپنے بچوں کو پولیو کے قطروں کی شکل میں زہرتو نہیں پلارہے ؟

پاکستان میں ڈرگ ایکٹ تو بنا ہوا ہے لیکن اس کے لیے ملک بھر میں کوئی ایک بھی اپ گریڈڈ لیبارٹری موجود نہیںجہاں انکا معیار ٹیسٹ کیا جاسکے جس طرح ماتا(چکن پوکس) اور دیگر بیماریوں کا جڑ سے خاتمہ ہوا اسی طرح پولیو کا خاتمہ بھی ضروری ہے،لیکن کسی کو بھی نہیں پتہ کہ ان قطروں میں کیا ہے

پوری دنیا کا ایک اصول ہوتا ہے کہ کوئی بھی دوائی اگر بنتی ہے تو اس کو دنیا بھر میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور پھر اس کے فائدوں اور مضمرات پر بحث ہوتی ہے اور آخر میں ایک متفقہ فیصلہ کیاجاتا ہے، ایسا بھی ہوا کہ اگر کسی دوائی پر کسی نے تجربہ کیا اور قابل استعمال ہونے کاسرٹیفکیٹ دیا لیکن دس سال بعد کسی تجربہ کی روشنی میں اس دوائی میں تبدیلی کی گئی تو اس کو خوش دلی سے قبول کیاگیا کیونکہ یہ انسانی صحت کا معاملہ ہے۔ پاکستان میں بھی ڈرگ ایکٹ 1967ء میں بنا ہوا ہے لیکن آج تک اس ڈرگ ایکٹ پر عمل نہیں کیا جاتا۔شاید اس ایکٹ کے تحت اب تک کسی ایک بھی دوائی کو ٹیسٹ نہیں کیاگیا۔
پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ ڈرگ ایکٹ تو بنا ہوا ہے لیکن اس کے لیے ملک بھر میں کوئی ایک بھی اپ گریڈڈ لیبارٹری موجود نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کا بھلا کیا جاتا ہے ان کو نزلہ بھی ہو تو وہ امریکا یا برطانیہ میں علاج کرانے چلے جاتے ہیں، ان کے بچے بیرون ملک سے نہ صرف تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ وہ بیرون ملک میں اپنا علاج بھی کراتے ہیں ۔پاکستان میں پولیو کی مہم کو اس وقت مشکوک سمجھاگیا جب خیبرپختونخوا کے ایک سرکاری ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جعلی پولیو مہم چلائی اور ایبٹ آباد کے ایک گھر کے بچوں کا پولیو ٹیسٹ کرایا اور ان بچوں کا ٹیسٹ اساما بن لادن سے میچ کرگیا اور پھر یکم مئی کی شب امریکی طیاروں نے رات کی تاریکی میں ایبٹ آباد کے اس گھر پر حملہ کرکے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کو ماردیا لیکن آج تک اس آپریشن کی ویڈیو بھی منظر عام پر نہیں لائی گئی اور ان کے جسدخاکی کی تدفین کو بھی منظر عام پر نہیں لایاگیا۔اس آپریشن کے بعد وفاقی حکومت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتارکیا جو تاحال پشاور جیل میں بند ہے۔
ڈاکٹرشکیل آفریدی کے اس اقدام کے بعد ملک بھر میں پولیو ورکرز پر230حملے ہوئے اور اب تک اس میں280افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام سے اپیل کررہی ہیں کہ وہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں، محترمہ بینظیربھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری پولیومہم کی نگراں چیئرپرسن اور سفیر ہیں۔ سیاسی پارٹیاں بھی عوام سے اپیل کررہی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں اور ان کو معذور ہونے سے بچائیں۔ یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے کیونکہ جس طرح ماتا(چکن پوکس) اور دیگر بیماریوں کا جڑ سے خاتمہ ہوا ہے اسی طرح پولیو کا بھی خاتمہ ضروری ہے۔ پولیس‘ رینجرز‘ پاک فوج نے اس پر سیکورٹی پلان بنائے ہیں اور اب ان کی سیکورٹی ایس او پی میں پولیو بھی شامل ہے لیکن کسی کو بھی پتہ نہیں ہے کہ پولیو کے قطروں میں کیا ہے؟ پانی ہے‘ زہر ہے‘ کیمیکل ہے‘ خطرناک اجزا ہیں‘ دیگر خطرناک بیماریاں پھیلانے والے جراثیم ہیں؟ پاکستان میں کسی کو بھی اس کا کوئی تسلی بخش علم نہیں ہے۔ یہ اس ملک کے18کروڑ عوام کے ساتھ عجب تماشا ہے۔ پولیو کے قطروں کی آج تک اس ملک میں کوئی تحقیقات نہیں ہوئی ہے۔پاکستان کو90فیصد پولیو کی ویکسین اور قطرے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن فراہم کرتی ہے اور10فیصد ویکسین اور قطرے حکومت پاکستان خریدتی ہے لیکن آج تک کسی حکومتی ادارے نے عالمی ادارہ صحت کے فراہم کردہ قطروں اور ویکسین کا لیبارٹری سے ٹیسٹ کرایا ہے اور نہ ہی پاکستانی حکومت نے جو دس فیصد ویکسین اور قطرے خریدتی ہے اس کی کسی لیبارٹری سے ٹیسٹ تصدیق کرائی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان ہمارے لاکھوںبچوں کی زندگیوں کے ساتھ یا تو کھیل رہی ہے یا پھروہ اس کے لیے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل ناکام ہے۔
ہم یہاں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بیماری کوئی بھی ہو اس کا علاج کرانا ضروری ہے اور پولیو ایک مہلک بیماری ہے جس کا علاج کرانا لازم ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ادویات بچوں کو دی جارہی ہیں اس کے بارے میں کسی حکومتی ادارے کو پتہ نہیں ہے ہم یہاں حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ کر پوچھ رہے ہیں کہ کہ اگر ہم کوئی دوائی تیار کریں اور یورپ کو فروخت کریں، کیا یورپ کے لوگ اس دوائی کو بغیر ٹیسٹ کیے استعمال کرسکیں گے؟ پہلی جنگ عظیم سے پہلے ہی یورپ نے یہ فیصلہ کرلیا تھاکہ غریب اور پسماندہ ممالک میں وہ ادویات فراہم کی جائیں گی جو وہاں بیماریاں کم کرنے کے بجائے بیماریوں میں اضافہ کریں گی اور آج سائنسی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اکثر ادویات جن بیماریوں کے خاتمہ کے لیے فروخت کی جاتی ہیں اصل میں وہی ادویات ان بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ ملک کے نونہالوں پر رحم کرے اور فوری طور پرملک کے اندر عالمی معیار کی جدید لیبارٹری قائم کرے اور اس لیبارٹری میں ایسی تمام ادویات کو ٹیسٹ کرے تاکہ پتہ چل سکے کہ ہم جو ادویات بیماریوں کے خاتمہ کے لیے استعمال کررہے ہیں وہ واقعی ان بیماریوں کے خاتمہ کے لیے ہیں یاان بیماریوں میںاضافہ کا سبب بن رہی ہیں؟ پولیو جیسی بیماری کے خاتمہ کی ادویات کو بھی ٹیسٹ کرایاجائے ،کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ دوائی بیماریوں کی محرک بن جائے!


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر