وجود

... loading ...

وجود

بجٹ خسارہ کم کرنے کی کوششیں حکومت ماری پیٹرولیم کے 18.3 فیصد شیئر ز فروخت کرے گی

منگل 25 اپریل 2017 بجٹ خسارہ کم کرنے کی کوششیں حکومت ماری پیٹرولیم کے 18.3 فیصد شیئر ز فروخت کرے گی

نجکاری کمیشن کے حکام کاخیال ہے کہ کابینہ کی مقرر کردہ قیمت پر شیئرز کی فروخت سے حکومت کو مجموعی طورپر 25 ارب روپے مل جائیں گے کابینہ سے نجکاری کی منظوری کے دن ماری پیٹرولیم کے شیئرز کی قیمت ایک ہزار 427 روپے تھی،5فیصد رعایت میں فروخت کا فیصلہ ہوا کمپنی کے 40 اور 20 فیصد شیئرز رکھنے والی دوکمپنیوںفوجی فائونڈیشن اور اوجی ڈی سی کا شیئرز خریدنے سے انکار،مہنگا قراردے دیا ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ تیل اور گیس کی تلاش میں مصروف ایک بڑی کمپنی ہے جو فی الوقت سندھ کے علاقے گھوٹکی میں کام کررہی ہے

حکومت نے بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے دیگر ذرائع سے وافر فنڈز کے حصول میں ناکامی کے بعد اب ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے 18.3 فیصد شیئر ز فروخت کرنے کافیصلہ کرلیاہے اوراطلاعات کے مطابق کابینہ کی کمیٹی نے اس فروخت کی منظوری بھی دے دی ہے۔یہ بھی اطلاعات ملی ہیں کہ اس کمپنی کے بالترتیب 40 فیصد اور 20 فیصد شیئرز رکھنے والی دوکمپنیوں نے کابینہ کمیٹی کی جانب سے اس کے شیئرز کی منظور کردہ قیمت پر اس کے مزید شیئرز خریدنے سے انکار کردیاہے اور ان کے اس انکار کے بعد اب اس کمپنی کے 18.3 فیصد شیئرز اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے یا بین الاقوامی منڈی میں فروخت کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
نجکاری کمیشن کے ذرائع کے مطابق ان دوکمپنیوں کی جانب سے ماری پیٹرولیم کے مزید شیئرز خریدنے سے انکار کے بعد اب نجکاری کمیشن کے بورڈ نے اس کے شیئرز کی فروخت کیلئے مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دیدی ہے جو ان شیئرز کی فروخت کے انتظامات کرے گا۔نجکاری کمیشن کے ذرائع کے مطابق فوجی فائونڈیشن کے پاس ماری پیٹرولیم کے 40 فیصد شیئرز موجود ہیں جبکہ اس کے 20 فیصد شیئرز آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (اوجی ڈی سی) کے پاس ہیں حکومت نے قانون اور اصول کے مطابق پہلے ان دوکمپنیوں کو اس کے شیئرز خریدنے کی پیشکش کی تھی ان دونوں کمپنیوں نے کابینہ کی جانب سے اس کے شیئرز کی منظور کردہ قیمت کو بہت زیادہ قرار دے کر مزید شیئرز خریدنے سے انکار کردیا، ان دونوں کمپنیوں کی جانب سے کورا جواب مل جانے کے بعد اب حکومت کے پاس یہ شیئرز فروخت کیلئے کھلی منڈی میں پیش کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا،کیونکہ نجکاری کمیشن کاابھی تک کوئی نیا چیئرمین مقرر نہیں کیاجاسکا ہے اس لئے شیئرز کی فروخت کیلئے مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری موجودہ سربراہ عزیز نشتر کی زیر صدارت اجلاس میں ہی کیاگیاتاکہ شیئرز کی فروخت کے فیصلے پر پیش رفت ہوسکے ۔
اگرچہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیاگیاہے کہ ماری پیٹرولیم کے یہ شیئرز مقامی اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے فروخت کئے جائیں گے یا انھیں بین الاقوامی منڈی میں فروخت کیلئے پیش کیاجائے گا لیکن چونکہ یہ کمپنی لندن یا کسی اور غیر ملکی اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ نہیں ہے اس لئے غالب امکان یہی ہے کہ یہ شیئرز مقامی اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ہی فروخت کیلئے پیش کئے جائیں گے۔
ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ تیل اور گیس کی تلاش میں مصروف ایک بڑی کمپنی ہے جو فی الوقت سندھ کے علاقے گھوٹکی میں کام کررہی ہے۔گزشتہ دنوں ایک ہی دن کے دوران اسٹاک ایکسچینج میں اس کے شیئرز کی قیمت میں 41.49 روپے کی شرح سے اضافہ ہوگیاتھا اور اس طرح اس کے شیئرز کی قیمتیںایک ہزار 585.66 روپے فی شیئر تک پہنچ گئی تھیں،کابینہ کی نجکاری سے متعلق کمیٹی نے گزشتہ دنوں اپنے اجلاس میں اس کے 18.3 فیصد شیئرز کی فروخت کیلئے قیمت کاپیمانہ اسٹاک ایکسچینج میں موجود قیمت ہی کو مقرر کیاتھا تاہم اس کے خریداروں کو اسٹاک ایکسچینج کی قیمت سے 5 فیصد کی شرح سے رعایت دینے کافیصلہ کیاتھا تاکہ شیئرز کے خریدار کو فوری طورپر 5 فیصد کامنافع حاصل
ہوسکے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے کئے گئے اس فیصلے کے دن اسٹاک ایکسچینج میں ماری پیٹرولیم کے شیئرز کی قیمت ایک ہزار 427 روپے تھی اس مناسبت سے کمپنی کے پہلے سے بالترتیب 40 فیصد اور 20 فیصد شیئرز رکھنے والی دوکمپنیوں فوجی فائونڈیشن اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (اوجی ڈی سی)کوایک ہزار 355 روپے فی شیئر کی شرح سے شیئر خریدنے کی پیشکش کی گئی لیکن دونوں کمپنیوں نے خریداری سے انکار کردیاان دونوں کمپنیوں کاموقف یہ تھا کہ حکومت نے شیئرز کی قیمتیں بہت زیادہ مقرر کی ہیں۔
جہاں تک حکومت کاتعلق ہے تو نجکاری کمیشن کے حکام کاخیال ہے کہ کابینہ کی مقرر کردہ قیمت پر شیئرز کی فروخت سے حکومت کو مجموعی طورپر 25 ارب روپے مل جائیں گے اور یہ رقم بجٹ کے خسارے میں کمی کرنے کیلئے استعمال کی جاسکے گی۔ارباب اختیار کاخیال ہے کہ اگر اسٹاک ایکسچینج مندی کاشکار ہوجائے توبھی حکومت ایک ہزار 355 روپے فی شیئر کی شرح سے کم قیمت پر شیئرز فروخت نہیں کرے گی،کابینہ کی نجکاری کمیٹی کے اجلاس میںاس بات پر بھی غور کرلیاگیاتھا کہ اگر پہلے سے کمپنی کے شیئرز کی بڑی تعداد رکھنے والی کمپنیوں نے مقررہ قیمت پر شیئرز خریدنے سے انکار کیاتو حکومت اپنی اس مقررہ قیمت سے کم پر یہ شیئرز فروخت کیلئے پیش نہیں کرسکے گی۔
جہاں تک حکومت کے نجکاری پروگرام کا تعلق ہے تو ابھی تک اس کی سرگرمیاں ملک میں منافع پر چلنے والے سرکاری اداروں کو فروخت کرنے تک محدود رہی ہیں،پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں اب بینکنگ، اور تیل وگیس کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے کم وبیش 5 اداروں کے شیئرز کی فروخت کے ذریعے 1.7 بلین ڈالر مالیت کی رقم حاصل کرچکی ہے یہ رقم مختلف عالمی مالیاتی اداروں سے کڑی شرائط پر حاصل کئے جانے والے عربوں ڈالر مالیت کے قرضوں اور پاکستانی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ اندرونی قرضوں کے علاوہ ہے۔اب چونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک دفعہ پھر اضافے کارجحان شروع ہوچکاہے اس لئے خیال کیاجاتاہے کہ حکومت کو ماری پیٹرولیم کے شیئرز اچھی قیمت پر فروخت کرنے کاموقع مل جائے گا اور ان شیئرز کی فروخت سے حکومت کو توقع سے کچھ زیادہ رقم مل جائے گی۔اسٹاک مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں ماری پیٹرولیم کے شیئرز فروخت کیلئے پیش کئے جاتے ہی ان کے فوری فروخت ہوجانے کا قوی امکان ہے کیونکہ اس کمپنی کے مستقبل کے توسیعی پروگراموں کی وجہ سے سرمایہ کار اس کے شیئرز میں سرمایہ کاری کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔تاہم اس حوالے سے ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ کمپنی نے اپنے مستقبل کے منصوبوں کیلئے رقم میں خود کفالت پیدا کرنے کیلئے 2024 تک ایک محدود شرح سے زیادہ شرح پر منافع تقسیم نہ کرنے کافیصلہ کررکھا ہے جبکہ بعض ذرائع کاکہناہے کہ کمپنی کی جانب سے محدود شرح سے زیادہ شرح پر منافع ادا نہ کئے جانے کا بڑاسبب حکومت کی جانب سے کمپنی کی دریافت کردہ گیس اور تیل پر ٹیرف کی بہت زیادہ شرح مقرر کیاجانا ہے۔
ماری پور پیٹرولیم کمپنی کاانتظام اس وقت فوجی فائونڈیشن کے پاس ہے حالانکہ اس کے پاس اس کے صرف 40 فیصد شیئرز ہیں اس حوالے سے فوجی فائونڈیشن کی انتظامیہ کاموقف یہ ہے کہ 1985 میں کئے گئے معاہدے کی رو سے حکومت کی جانب سے کمپنی کے مزید شیئرز فروخت کئے جانے کے باوجود اس کاانتظام فوجی فائونڈیشن کے پاس ہی رہے گا،جبکہ بورڈ کے ارکان فوجی فائونڈیشن کی انتظامیہ کا یہ موقف تسلیم کرنے کوتیار نہیں ہیں ان کا کہناہے کہ کمپنی کا انتظام اسی کو ملے گا جس کے پاس شیئرز کی اکثریت ہوگی اور اس حوالے سے کوئی
تنازعہ پیدا ہونے کی صورت میں مروجہ قانون کے مطابق اس کا فیصلہ کیاجائے گا۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر