وجود

... loading ...

وجود

بجٹ خسارہ کم کرنے کی کوششیں حکومت ماری پیٹرولیم کے 18.3 فیصد شیئر ز فروخت کرے گی

منگل 25 اپریل 2017 بجٹ خسارہ کم کرنے کی کوششیں حکومت ماری پیٹرولیم کے 18.3 فیصد شیئر ز فروخت کرے گی

نجکاری کمیشن کے حکام کاخیال ہے کہ کابینہ کی مقرر کردہ قیمت پر شیئرز کی فروخت سے حکومت کو مجموعی طورپر 25 ارب روپے مل جائیں گے کابینہ سے نجکاری کی منظوری کے دن ماری پیٹرولیم کے شیئرز کی قیمت ایک ہزار 427 روپے تھی،5فیصد رعایت میں فروخت کا فیصلہ ہوا کمپنی کے 40 اور 20 فیصد شیئرز رکھنے والی دوکمپنیوںفوجی فائونڈیشن اور اوجی ڈی سی کا شیئرز خریدنے سے انکار،مہنگا قراردے دیا ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ تیل اور گیس کی تلاش میں مصروف ایک بڑی کمپنی ہے جو فی الوقت سندھ کے علاقے گھوٹکی میں کام کررہی ہے

حکومت نے بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے دیگر ذرائع سے وافر فنڈز کے حصول میں ناکامی کے بعد اب ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے 18.3 فیصد شیئر ز فروخت کرنے کافیصلہ کرلیاہے اوراطلاعات کے مطابق کابینہ کی کمیٹی نے اس فروخت کی منظوری بھی دے دی ہے۔یہ بھی اطلاعات ملی ہیں کہ اس کمپنی کے بالترتیب 40 فیصد اور 20 فیصد شیئرز رکھنے والی دوکمپنیوں نے کابینہ کمیٹی کی جانب سے اس کے شیئرز کی منظور کردہ قیمت پر اس کے مزید شیئرز خریدنے سے انکار کردیاہے اور ان کے اس انکار کے بعد اب اس کمپنی کے 18.3 فیصد شیئرز اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے یا بین الاقوامی منڈی میں فروخت کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
نجکاری کمیشن کے ذرائع کے مطابق ان دوکمپنیوں کی جانب سے ماری پیٹرولیم کے مزید شیئرز خریدنے سے انکار کے بعد اب نجکاری کمیشن کے بورڈ نے اس کے شیئرز کی فروخت کیلئے مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دیدی ہے جو ان شیئرز کی فروخت کے انتظامات کرے گا۔نجکاری کمیشن کے ذرائع کے مطابق فوجی فائونڈیشن کے پاس ماری پیٹرولیم کے 40 فیصد شیئرز موجود ہیں جبکہ اس کے 20 فیصد شیئرز آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (اوجی ڈی سی) کے پاس ہیں حکومت نے قانون اور اصول کے مطابق پہلے ان دوکمپنیوں کو اس کے شیئرز خریدنے کی پیشکش کی تھی ان دونوں کمپنیوں نے کابینہ کی جانب سے اس کے شیئرز کی منظور کردہ قیمت کو بہت زیادہ قرار دے کر مزید شیئرز خریدنے سے انکار کردیا، ان دونوں کمپنیوں کی جانب سے کورا جواب مل جانے کے بعد اب حکومت کے پاس یہ شیئرز فروخت کیلئے کھلی منڈی میں پیش کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا،کیونکہ نجکاری کمیشن کاابھی تک کوئی نیا چیئرمین مقرر نہیں کیاجاسکا ہے اس لئے شیئرز کی فروخت کیلئے مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری موجودہ سربراہ عزیز نشتر کی زیر صدارت اجلاس میں ہی کیاگیاتاکہ شیئرز کی فروخت کے فیصلے پر پیش رفت ہوسکے ۔
اگرچہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیاگیاہے کہ ماری پیٹرولیم کے یہ شیئرز مقامی اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے فروخت کئے جائیں گے یا انھیں بین الاقوامی منڈی میں فروخت کیلئے پیش کیاجائے گا لیکن چونکہ یہ کمپنی لندن یا کسی اور غیر ملکی اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ نہیں ہے اس لئے غالب امکان یہی ہے کہ یہ شیئرز مقامی اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ہی فروخت کیلئے پیش کئے جائیں گے۔
ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ تیل اور گیس کی تلاش میں مصروف ایک بڑی کمپنی ہے جو فی الوقت سندھ کے علاقے گھوٹکی میں کام کررہی ہے۔گزشتہ دنوں ایک ہی دن کے دوران اسٹاک ایکسچینج میں اس کے شیئرز کی قیمت میں 41.49 روپے کی شرح سے اضافہ ہوگیاتھا اور اس طرح اس کے شیئرز کی قیمتیںایک ہزار 585.66 روپے فی شیئر تک پہنچ گئی تھیں،کابینہ کی نجکاری سے متعلق کمیٹی نے گزشتہ دنوں اپنے اجلاس میں اس کے 18.3 فیصد شیئرز کی فروخت کیلئے قیمت کاپیمانہ اسٹاک ایکسچینج میں موجود قیمت ہی کو مقرر کیاتھا تاہم اس کے خریداروں کو اسٹاک ایکسچینج کی قیمت سے 5 فیصد کی شرح سے رعایت دینے کافیصلہ کیاتھا تاکہ شیئرز کے خریدار کو فوری طورپر 5 فیصد کامنافع حاصل
ہوسکے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے کئے گئے اس فیصلے کے دن اسٹاک ایکسچینج میں ماری پیٹرولیم کے شیئرز کی قیمت ایک ہزار 427 روپے تھی اس مناسبت سے کمپنی کے پہلے سے بالترتیب 40 فیصد اور 20 فیصد شیئرز رکھنے والی دوکمپنیوں فوجی فائونڈیشن اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (اوجی ڈی سی)کوایک ہزار 355 روپے فی شیئر کی شرح سے شیئر خریدنے کی پیشکش کی گئی لیکن دونوں کمپنیوں نے خریداری سے انکار کردیاان دونوں کمپنیوں کاموقف یہ تھا کہ حکومت نے شیئرز کی قیمتیں بہت زیادہ مقرر کی ہیں۔
جہاں تک حکومت کاتعلق ہے تو نجکاری کمیشن کے حکام کاخیال ہے کہ کابینہ کی مقرر کردہ قیمت پر شیئرز کی فروخت سے حکومت کو مجموعی طورپر 25 ارب روپے مل جائیں گے اور یہ رقم بجٹ کے خسارے میں کمی کرنے کیلئے استعمال کی جاسکے گی۔ارباب اختیار کاخیال ہے کہ اگر اسٹاک ایکسچینج مندی کاشکار ہوجائے توبھی حکومت ایک ہزار 355 روپے فی شیئر کی شرح سے کم قیمت پر شیئرز فروخت نہیں کرے گی،کابینہ کی نجکاری کمیٹی کے اجلاس میںاس بات پر بھی غور کرلیاگیاتھا کہ اگر پہلے سے کمپنی کے شیئرز کی بڑی تعداد رکھنے والی کمپنیوں نے مقررہ قیمت پر شیئرز خریدنے سے انکار کیاتو حکومت اپنی اس مقررہ قیمت سے کم پر یہ شیئرز فروخت کیلئے پیش نہیں کرسکے گی۔
جہاں تک حکومت کے نجکاری پروگرام کا تعلق ہے تو ابھی تک اس کی سرگرمیاں ملک میں منافع پر چلنے والے سرکاری اداروں کو فروخت کرنے تک محدود رہی ہیں،پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں اب بینکنگ، اور تیل وگیس کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے کم وبیش 5 اداروں کے شیئرز کی فروخت کے ذریعے 1.7 بلین ڈالر مالیت کی رقم حاصل کرچکی ہے یہ رقم مختلف عالمی مالیاتی اداروں سے کڑی شرائط پر حاصل کئے جانے والے عربوں ڈالر مالیت کے قرضوں اور پاکستانی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ اندرونی قرضوں کے علاوہ ہے۔اب چونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک دفعہ پھر اضافے کارجحان شروع ہوچکاہے اس لئے خیال کیاجاتاہے کہ حکومت کو ماری پیٹرولیم کے شیئرز اچھی قیمت پر فروخت کرنے کاموقع مل جائے گا اور ان شیئرز کی فروخت سے حکومت کو توقع سے کچھ زیادہ رقم مل جائے گی۔اسٹاک مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں ماری پیٹرولیم کے شیئرز فروخت کیلئے پیش کئے جاتے ہی ان کے فوری فروخت ہوجانے کا قوی امکان ہے کیونکہ اس کمپنی کے مستقبل کے توسیعی پروگراموں کی وجہ سے سرمایہ کار اس کے شیئرز میں سرمایہ کاری کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔تاہم اس حوالے سے ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ کمپنی نے اپنے مستقبل کے منصوبوں کیلئے رقم میں خود کفالت پیدا کرنے کیلئے 2024 تک ایک محدود شرح سے زیادہ شرح پر منافع تقسیم نہ کرنے کافیصلہ کررکھا ہے جبکہ بعض ذرائع کاکہناہے کہ کمپنی کی جانب سے محدود شرح سے زیادہ شرح پر منافع ادا نہ کئے جانے کا بڑاسبب حکومت کی جانب سے کمپنی کی دریافت کردہ گیس اور تیل پر ٹیرف کی بہت زیادہ شرح مقرر کیاجانا ہے۔
ماری پور پیٹرولیم کمپنی کاانتظام اس وقت فوجی فائونڈیشن کے پاس ہے حالانکہ اس کے پاس اس کے صرف 40 فیصد شیئرز ہیں اس حوالے سے فوجی فائونڈیشن کی انتظامیہ کاموقف یہ ہے کہ 1985 میں کئے گئے معاہدے کی رو سے حکومت کی جانب سے کمپنی کے مزید شیئرز فروخت کئے جانے کے باوجود اس کاانتظام فوجی فائونڈیشن کے پاس ہی رہے گا،جبکہ بورڈ کے ارکان فوجی فائونڈیشن کی انتظامیہ کا یہ موقف تسلیم کرنے کوتیار نہیں ہیں ان کا کہناہے کہ کمپنی کا انتظام اسی کو ملے گا جس کے پاس شیئرز کی اکثریت ہوگی اور اس حوالے سے کوئی
تنازعہ پیدا ہونے کی صورت میں مروجہ قانون کے مطابق اس کا فیصلہ کیاجائے گا۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر